سونیا گاندھی کے سہارے کانگریس

میگھناد دیسائی
ممبران پارلیمنٹ سے پارلیمنٹ کے اندر بہتر رویہ کی توقع کم ہی کی جاتی ہے۔ گزشتہ 27اگست کو انا ہزارے کے ایشو پر یہ دیکھنے کو ملا۔ ممبران پارلیمنٹ نے بہتر رویہ کا مظاہرہ کیا اور سابقہ کی طرح ایک دوسرے پر چیختے چلاتے نظر نہیں آئے، بلکہ انھوں نے اتحاد کا مظاہرہ کیا، لیکن اس کے بعد پھر سے ایوان کی صورتحال وہی ہو گئی ہے۔ رام لیلا میدان اور پورے ملک میں ان لوگوں کے اوپر جوشک وشبہات ظاہر کیے گئے، اس کے بعد پارلیمنٹ ا وم پوری اور کرن بیدی کوخصوصی اختیارات کی ضابطہ شکنی کا نوٹس تھمانے کے ایشو کے ساتھ واپس آئے۔ پارلیمنٹ میں ایک دوسرے پر چیخنا، سامان پھینکنا اور صدر کی کرسی کے پاس چلے جانا معمولی بات ہو گئی ہے، لیکن یہ کوئی تفریح نہیں ہے اور نہ اسے تفریح سمجھنے کی بھول کرنی چاہیے۔ ممبران پارلیمنٹ کو اگر اپنی عظمت برقرار رکھنی ہے تو انہیں اس کے لیے جدوجہد کرنی ہوگی۔ کانگریس نے اس درمیان بہترطریقہ سے اپنا کام نہیں کیا۔ انا ہزارے کے ایشو پر بی جے پی اور کانگریس نے اتحاد کا مظاہرہ کیا ہے، لیکن اس کا حتمی نتیجہ کیا نکلا ؟
پارلیمنٹ نے انا کے مطالبات کو پوری طرح تسلیم نہیں کیا۔ انا نے بھی اسے ادھوری جیت کی شکل میں ہی تسلیم کیا۔ انا کی بھوک ہڑتال کو ختم کرنے کے لیے وزیر اعظم کا پیغام ولاس رائو دیشمکھ لے کرگئے۔ دونوں مراٹھی بولتے ہیں اور اس کے سبب کانگریس کو فائدہ ہوا اور دیشمکھ انا سے مل سکے۔ ٹیم انا کے دیگر ممبران کو درمیان میں آنے کا موقع نہیں ملا اور انا کے ذریعہ بھوک ہڑتال ختم کرنے کے فیصلہ نے ان کی ٹیم کو حیرت میں مبتلا کر دیا۔کانگریس نے بی جے پی کے خلاف پھر سے اپنی پرانی پالیسی اختیارکر لی ہے۔ایوان میں ارون شوری اور نریندر مودی کا ایشو ہی چھایا رہا۔ ایسا لگتا ہے کہ اس ایشو کے علاوہ اور کوئی ایشو پارلیمنٹ کے پاس ہے ہی نہیں۔ بہت سارے ایشوز ایسے ہیں، جن پر بحث کی فوری ضرورت ہے۔مثال کے طور پر تحویل اراضی بل کو لے سکتے ہیں۔ کانگریس نے یو پی کے دیگر معاونین کے خلاف بھی اپنا پتہ کھولا ہے۔اس نے کھیل تنظیموں کو آر ٹی آئی کے دائرہ میں لانے کی بات چھوڑ دی ہے۔اگر دیکھا جائے تو شرد پوار، پرپھل پٹیل اور فاروق عبد اللہ ، جو کچھ کھیل تنظیموں کے سربراہ ہیں، کی بات چھوڑ دی جائے تو یہ ایشو بھی اہم نہیں ہے۔ان لوگوں کا کھیل تنظیموں کا سربراہ بننا کوئی اچھی بات نہیں مانی جا سکتی، کیونکہ کسی بھی دوسرے ملک میں کسی مرکزی وزیر کو کھیل تنظیم کا سربراہ بنائے جانے کا قانون نہیں ہے، لیکن پھر بھی اسے کوئی بڑا ایشو نہیں مانا جاسکتا ہے۔
کانگریس نے جن مدعوں کو ترجیح دی ہے، اس سے ایسا لگتا ہے کہ ایشو کوپہچاننے کا اس کا سینس کمزور ہو گیا ہے۔دیکھا جائے تو ابھی بھی کئی ایسے بل پڑے ہیں، جن پر کارروائی کی اشد ضرورت ہے، لیکن کانگریس اس بات کو سمجھتی ہی نہیں ہے۔ یہ کانگریس کے لیے خوف پیدا کرنے والی بات ہو سکتی ہے۔ کانگریس نے بڑے پیمانے پر اپنی معتبریت کھو دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی 2014میں ہونے والے انتخابات میں اس کی حالت کمزور رہ سکتی ہے۔ نوجوان ووٹ انا ہزارے کے ساتھ ہے۔ ہمیں اتر پردیش میں ہونے والے انتخابات کا انتظار ہے، جو 2014میں ہونے والے لوک سبھا انتخابات کے لیے یہ طے کریں گے کہ نوجوان راہل گاندھی کی قیادت کریں گے یا نہیں، لیکن صورتحال کچھ ایسی ہی نظر آ رہی ہے۔ آندھراپردیش میں جگن موہن ریڈی نے کانگریس کو پریشانی میں ڈال رکھا ہے۔ مہاراشٹر میں اگر این سی پی نے کوئی واویلا کھڑا کیا تو وہاں سے بھی پریشانی ہو سکتی ہے۔ مغربی بنگال میں ممتا کا بول بالا ہے اور گزشتہ کچھ واقعات سے اتر پردیش میں بھی کانگریس کو دقت ہونے والی ہے۔ کانگریس کے لیے ضروری ہے کہ وہ دکھائے کہ اس نے اپنی غلطی کی تشخیص کر لی ہے۔ ساتھ ہی اس غلطی کی ذمہ داری بھی کسی کو لینی چاہیے، نہیں تو رائے دہندگان کو یہ لگے گا کہ کانگریس نے سدھار نہیں کیا ہے۔ جیسا دیکھا جا رہا ہے کہ ہندوستان کی معیشت ویسی نہیں ہے، جیسی بجٹ کے وقت بتائی گئی تھی۔ افراط زرمیں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ ہر بار یہ وعدہ کیا جاتا ہے کہ 6ماہ میں اس پر قابو پا لیا جائے گا۔ ایسے وعدے گزشتہ دو سالوں سے ہر مہینے کیے جا رہے ہیں۔
آج بدلائو کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ اس کی شروعات کب کی جائے گی اور کون کرے گا۔ سونیا گاندھی کو اگر 6 یا 12 مہینوں تک آرام کرنا پڑا اور اتنے دنوں تک وہ سیاست سے دور رہیں تو کانگریس کی پریشانی بڑھ جائے گی۔ اگر وہ پوری طرح ٹھیک ہو جاتی ہیں اور اس مہینہ کے درمیان میں اپنا کام کرنا شروع کر دیتی ہیں تو کانگریس اورکیبنٹ دونوں کو اس کا فائدہ ہوگا۔ راہل گاندھی کو حقیقی سیاسی عہدہ پر آنا ہوگا۔راہل گاندھی کو ایسا کرنا بھی چاہیے، جبکہ سونیا گاندھی سیاسی معاملوں میں ان کو راہ ہموار کر سکتی ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ کانگریس میں کوئی اور نہیں ہے، جو اس پارٹی کو صحیح ڈھنگ سے چلا سکے۔ وجہ واضح ہے کہ ساری طاقت ایک ہی شخص کے پاس ہے اور جب طاقت کی مرکزیت ہوتی ہے تو پھر ہمیشہ اس ایک مرکز کی ضرورت ہی محسوس کی جاتی ہے۔ کانگریس اور ہندوستان کے ساتھ یہی المیہ ہے۔g

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *