رائٹ ٹوری کال اور رائٹ ریجیکٹ کے بغیر، یہ جمہوریت ادھوری ہے

ڈاکٹر منیش کمار
انا ہزارے بنیادی باتیں کہتے ہیں، اس لیے بڑے بڑے دانشور اُن سے بحث نہیں کر سکتے۔ ممبران پارلیمنٹ خادم ہیں اور ملک کے عوام مالک ہیں۔ اگر خادم مالک کی بات نہ مانے تو مالک کو یہ حق ہے کہ وہ اسے باہر کر دے۔ یہی دلیل انّا ہزارے کی ہے۔ ملک کو بدعنوان ممبران پارلیمنٹ سے چھٹکارہ دلانے کے لیے رائٹ ٹو ری کال اور رائٹ ٹو رِجیکٹ کے مطالبہ کو لے کر انا ہزارے اور ان کی ٹیم مہم چلانے والی ہے۔ ممبران پارلیمنٹ کو وقت سے پہلے برخاست اور انتخاب میں امیدواروں کو خارج کرنے کے حق کے لیے انا ہزارے تحریک شروع کرنے والے ہیں۔ سرکار بھی ان مانگوں کو لے کر فکرمند ہے۔ آنے والے وقت میں یہ موضوع بحث کا سب سے بڑا مدعا بن کر ابھرے گا۔ سارے وزیر، لیڈر اور الیکشن کمیشن کے پرانے اور موجودہ اہل کار ان دونوں مطالبات کو سرے سے خارج کر رہے ہیں۔ تعجب تو تب ہوتا ہے، جب جے پی تحریک سے نکلے لیڈر آج جے پی (جے پرکاش نارائن) کی مانگوں کو ہی خارج کر رہے ہیں۔ الیکشن کمیشن کے سابق کمشنر رائٹ ٹو ری کال اور رائٹ ٹو رِجیکٹ کو لاگو کرنے میں کئی پریشانیوں کا واسطہ دیتے ہیں۔ راہل گاندھی نے سرکاری خرچ پر الیکشن کرانے کی بات کہی۔ مشورہ غلط نہیں ہے، لیکن شرط یہی ہے کہ پورا خرچ سرکار برداشت کرے۔ آج ملک میں انتخاب لڑنے کے لیے کروڑوں روپے خرچ کرنے پڑتے ہیں۔ انتخاب میں حصہ لینے کا حق آئین نے دیا ہے، لیکن سیاسی پارٹیوں نے ایسا ماحول بنا دیا ہے کہ غریب اور ایماندار آدمی انتخاب لڑ ہی نہیں سکتا۔ ایسا کرکے سیاسی پارٹیوں نے ملک کے کروڑوں لوگوں کے جمہوری اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کی ہے۔
الیکشن کمیشن کی ایک دستاویز میں ایک انوکھی بات لکھی ہے۔ شہریوں کو کیوں ووٹ دینا چاہیے، اس سوال کے جواب میں الیکشن کمیشن کہتا ہے کہ جمہوریت میں ووٹ دینے کا حق سب سے اہم ہے۔ اس کے استعمال سے شہری ملک کی تقدیر لکھتے ہیں۔ وہ اپنے نمائندوں کا انتخاب کرتے ہیں، جو سرکار چلاتے ہیں اور ملک کے تمام باشندوں کی ترقی کے لیے اور ان کے حق میں فیصلے لیتے ہیں۔ الیکشن کمیشن کی باتیں تو صحیح ہیں، لیکن یہ پورا سچ نہیں ہے۔ صحیح اس لیے ہیں، کیوں کہ آئین سازوں نے تو یہی سوچ کر آئین کی تدوین کی تھی۔ آزادی کے لیے لڑنے والے مجاہدوں نے بھی یہی خواب دیکھا تھا، لیکن ایک کڑوا سچ بھی ہے، جسے آج کی نسل کو سمجھنا ضروری ہے۔ اگر ہم نہیں سمجھ سکے تو سنبھلنے کا موقع نہیں ملے گا۔ ملک میں تباہی اور تانا شاہی کا دور لوٹ آئے گا۔ ملک کے جمہوری نظام کی سچائی یہ ہے کہ ہماری جمہوریت کچھ خاندانوں اور چند لیڈروں کے کلب کی جاگیر بن گئی ہے۔ ایسے میں جب انا یہ اعلان کرتے ہیں کہ ان کی اگلی تحریک رائٹ ٹو ری کال اور رائٹ ٹو رِجیکٹ کے لیے ہوگی، تو سیاسی بھونچال آنا یقینی ہے۔ سمجھنے والی بات یہ ہے کہ عوامی جمہوریت پر سیاسی پارٹیوں کا ایسا شکنجہ ہے، اُن کا ایسا مینجمنٹ ہے کہ شہریوں کو یہ دونوں حقوق ملنے کے باوجود جمہوریت ان کے چنگل سے باہر نہیں نکل پائے گی۔
سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اگر منتخب عوامی نمائندہ نااہل، نکما، بدعنوان اور بے ایمان نکل جائے، سیاسی پارٹی کے کیڈرس دولت اور طاقت کے بل پر الیکشن جیت جائے تو ایسے شخص کو پانچ سال تک جھیلنا کیا عوامی جمہوریت کہلائے گا۔ فرض کیجئے، کوئی رکن پارلیمنٹ بدعنوانی کے معاملے میں پکڑا جاتا ہے یا پھر قتل کے کسی معاملہ میں اسے جیل جانا پڑتا ہے تو ایسے رکن پارلیمنٹ کا کیا کرنا چاہیے۔ پارلیمنٹ اگر عوامی جمہوریت کا مندر ہے تو اس مندر میں ایسے لوگوں کو کیسے بیٹھنے دیا جاسکتا ہے۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ اگر رکن پارلیمنٹ کسی جرم کی پاداش میں جیل چلا جاتا ہے تو اس کے پارلیمانی حلقہ کے لوگوں کی نمائندگی کون کرے گا۔ یہ سوال اس لیے اٹھتا ہے، کیوں کہ سریش کلماڑی کو عدالت نے پارلیمنٹ میں جانے سے منع کردیا۔ اے راجا بھی جیل میں ہیں۔ وہ بھی پارلیمنٹ کی کارروائی سے باہر ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کلماڑی اور اے راجا کے پارلیمانی حلقہ کے لوگ بغیر کسی نمائندہ کے ہیں۔ کیا یہ پُنے اور نیل گری کے لوگوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہے۔ کیا عوامی جمہوریت میں بنیادی حقوق کو مسترد کیا جا سکتا ہے۔ اس سوال کا جواب سیاسی پارٹیوں کو دینا چاہیے۔ جو لوگ رائٹ ٹو ری کال اور رائٹ ٹو رِجیکٹ کی مخالفت کر رہے ہیں، ان کی دلیل یہ ہے کہ اس کے نفاذ میں کافی دشواریاں ہیں۔ الیکشن کمیشن کو کافی مشکل ہوگی۔ تو سوال یہ ہے کہ الیکشن کمیشن یا سرکار کی مشکلیں اہم ہیں یا آئین کے بنیادی عناصر۔ کیا ہم نے اسے لاگو کرکے دیکھ لیا؟ اگر یہی دلیل ہے تو ملک کی اُن ساری اسکیموں کو بھی بند کر دینا چاہیے، جو ٹھیک سے لاگو نہیں ہو پاتیں یا پھر سرکار کی مشکلوں کی وجہ سے ناکام ہو جاتی ہیں۔
ووٹ دینے کا حق بنیادی حق ہے۔ اسے کوئی چھین نہیں سکتا ہے۔ ووٹ دینے کا مطلب کیا ہوتا ہے۔ عوامی جمہوریت کا مطلب ایسی سرکار سے ہے، جو عوام کے لیے کام کرتی ہے اور جو عوام کے ذریعے منتخب کی جاتی ہے۔ ہندوستان میں بھی پانچ سالوں کے لیے ممبران پارلیمنٹ اور ممبران اسمبلی کو منتخب کیا جاتا ہے۔ کیا یہ مان لینا چاہیے کہ ایک بار الیکشن جیت جانے کے بعد پانچ سال تک من مانی کرنے کا حق مل جاتا ہے۔ اگر نہیں تو عوامی نمائندوں کو ہٹانے کا حق کس کے پاس ہو؟ سیاسی پارٹیوں نے اپنی برتری کو قائم رکھنے کے لیے جمہوریت کو ہی الٹا ٹانگ دیا ہے۔ ہندوستان کی جمہوریت میں ایک انوکھا تضاد ہے۔ آئین میں تو یہ کہا گیا ہے کہ ممبران پارلیمنٹ اور ممبران اسمبلی عوام کے نمائندے ہیں، لیکن سیاسی پارٹیوں نے قانون میں اس طرح پھیر بدل کر دیا ہے کہ ممبران پارلیمنٹ یا ممبران اسمبلی کو عوام کے نمائندے کی بجائے پارٹی کا ایک پیادہ بنا دیا گیا۔ فرض کیجئے، کوئی قانون بنتا ہے، جس سے کسی رکن پارلیمنٹ یا رکن اسمبلی کے علاقہ کے لوگوں پر منفی اثر پڑے گا۔ اس کے علاقہ کے سارے لوگ اس قانون کی مخالفت کر رہے ہیں، لیکن اس رکن پارلیمنٹ یا رکن اسمبلی کی پارٹی اُس قانون کے حق میں ہے۔ جب ووٹنگ ہوگی تو اس کے سامنے دو اختیار ہوں گے، یا تو وہ عوام کی آواز سنے یا پھر پارٹی کی بات مانے۔ اگر وہ پارٹی کی بات مانتا ہے تو اسے اس کا حساب اگلے انتخاب میں چکانا ہوگا، اور اگر وہ عوام کی آواز سنتا ہے اور قانون کی مخالفت میں ووٹ ڈالتا ہے تو اس کی رکنیت ہی ختم ہو جائے گی۔ یہی ہے ہمارے ملک کے پارلیمانی نظام کا کردار۔ اب سوال یہ ہے کہ ایسے عوامی نمائندوں کا عوامی جمہوریت میں کیا جواز ہے، جن کے لیے عوام کی آواز کو اَن سنی کرنا ایک مجبوری بن جاتی ہے۔
اس بات کا کریڈٹ نتیش کمار کو دینا ہی چاہیے کہ انہوں نے بہار میں لوگوں کو میونسپل کونسلرس کو واپس بلانے کا اختیار دینے کا فیصلہ کیا۔ اس اختیار سے فائدہ یہ ہوگا کہ عوامی نمائندہ عوام کے تئیں جوابدہ بنیں گے۔ اس اختیار سے عوام بھی ہوشیار رہیں گے اور وہ سماج کے مسائل اور عوامی نمائندوں کے کام کاج پر نظر بھی رکھیں گے۔ اس سے سماج کو سیاسی قوت حاصل ہوگی۔ ملک کے ہر علاقے میں غریبوں، پچھڑوں اور محروموں کی تعداد زیادہ ہے، اس لیے عوامی نمائندوں کو واپس بلانے میں ان کی سب سے زیادہ حصہ داری ہوگی۔ اب یہ طے ہے کہ عوامی نمائندہ ان طبقوں کے مسائل کے تئیں بے پرواہ رہنے کا خطرہ نہیں اٹھائیں گے۔ اس اختیار کے بعد ہی جمہوریت کو صحیح معنوں میں عوام کی حکمرانی کہا جاسکتا ہے۔
آج جو حالت ہے، اس میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ جمہوریت سیاسی پارٹیوں کے ہاتھ کی کٹھ پتلی بن گئی ہے۔ برسر اقتدار پارٹی اپنی مرضی سے سرکاری مشینری کا جیسا استعمال کرنا چاہتی ہے، کر لیتی ہے۔ عوامی نمائندوں کو واپس بلانے کا اختیار ملک کے عوام کو مضبوط کرے گا۔ ممبران پارلیمنٹ اور ممبران اسمبلی کو عوام کے غصے کا ڈر بھی لگا رہے گا، لیکن اس سے مسئلہ کا حل نہیں نکلنے والا ہے، کیوں کہ ان کی جگہ جو بھی منتخب ہو کر آئے گا، وہ وہی کرے گا، جو پچھلے عوامی نمائندہ نے کیا۔ اس بیماری کی اصلی وجہ یہ ہے کہ ملک میں عوامی نمائندے عوام  کے ذریعے منتخب تو کیے جاتے ہیں، لیکن مقننہ میں یہ سیاسی پارٹیوں کے نمائندوں کی طرح کام کرتے ہیں۔ یہ ان کی عادت نہیں، مقننہ کے رکن بنے رہنے کی شرط ہے۔
جب انتخاب ہوتے ہیں تو ہر امیدوار کچھ وعدے کرتا ہے۔ جب وہ منتخب ہو جاتا ہے تو اپنے وعدوں کے مطابق کام نہیں کرپاتا ہے۔ دنیا کی زیادہ تر جمہوریتوں میں عوامی نمائندے اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں لگے رہتے ہیں۔ اگر کوئی اسکیم اسے غلط لگتی ہے تو وہ اپنی پارٹی کے خلاف بھی ووٹ کر سکتا ہے، اپنی رائے رکھ سکتا ہے۔ لیکن ہندوستان میں عوامی نمائندوں کو پارلیمنٹ میں اپنی پارٹی کی وہپ کے مطابق چلنا پڑتا ہے۔ کسی رکن پارلیمنٹ کا کسی موضوع پر کیا رخ ہوگا، یہ طے کرنے کا اختیار اسے نہیں ہے۔ اسے پارٹی کے مطابق ہی چلنا پڑتا ہے، ورنہ اسے باہر کا راستہ دکھا دیا جاتا ہے۔ ویسے مزیدار بات یہ ہے کہ وہپ کا مطلب بھی چابک ہوتا ہے۔ پارٹی چابک سے اپنے ممبروں کو ہانکتی ہے۔ یہ عوامی نمائندوں اور عوام کے جمہوری اختیارات کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ یہ جمہوری اقدار کی پامالی ہے۔ یہ روایت دل بدل قانون لاگو ہونے سے شروع ہوئی۔ ملک میں آیا رام گیا رام کی سیاست پر روک لگانے کے لیے 1985 میں دل بدل مخالف قانون لاگو کیا گیا تھا۔ اقتدار میں حصہ داری یا دوسرے فوائد حاصل کرنے کے چکر میں اپنی پارٹی کو دھوکہ دینے کی لیڈروں کی عادت پر لگام کسنے کے لیے یہ قانون عمل میں لایا گیا تھا۔
افسوس تو اس بات کا ہے کہ ملک کی سبھی پارٹیاں اپنی تنظیم کو چلانے میں جمہوری طرز اختیار نہیں کرتیں۔ ہندوستان میں کسی بھی پارٹی میں ووٹنگ کے ذریعے فیصلہ لینے کی روایت نہیں ہے۔ کارکنوں کی بات تو دور، ممبران پارلیمنٹ اور ممبران اسمبلی کی بھی کسی پارٹی میں کوئی سنوائی نہیں ہے۔ ہر پارٹی کے اوپر ایک گروپ بیٹھا ہے۔ ملک کی زیادہ تر پارٹیاں خاندانی پارٹیاں ہیں، اس لیے فیصلہ لینے کا اختیار پارٹی چلانے والے خاندان تک محدود ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی، کمیونسٹ پارٹیوں اور جے ڈی یو وغیرہ میں خاندانی چلن تو نہیں ہے، لیکن وہاں بھی فیصلہ لینے کا حق کچھ لوگوں تک محدود ہے۔ سیاسی پارٹیاں اگر ووٹنگ کرکے ممبران پارلیمنٹ اور ممبران اسمبلی کو ہدایت دیتیں تو بھی کچھ کہا جاسکتا تھا، لیکن یہاں تو ایک خاندان کی رائے ہی پارٹی کی رائے بن جاتی ہے اور اگر اسی پارٹی کی سرکار ہو تو ایک خاندان کی رائے سب کی رائے بن جاتی ہے۔ تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ ہندوستان میں سیاسی پارٹیاں غیر جمہوری ہیں اور وہ کسی خاندان یا کچھ خاص لوگوں یا گروہوں کی گرفت میں پھنس کر زمیندارانہ ذہنیت کی حامل ہوگئی ہیں۔ ہندوستان کی جمہوریت ایک عجیب طرح کے زمیندارانہ نظام کے جال میں پھنس گئی ہے۔ آئین کی تشکیل کرنے والی عظیم شخصیتوں نے شاید یہ سوچا بھی نہیں ہوگا کہ ہندوستان میں جمہوریت کی حالت اتنی خراب ہوجائے گی، ورنہ وہ اس کے علاج کا کوئی نہ کوئی طریقہ آئین میں ضرور تجویز کرتے۔ یہ ایک نئی صورت حال پیدا ہوئی ہے، اس لیے اس کا علاج بھی ضروری ہے۔ اگر ممبران پارلیمنٹ کو واپس بلائے جانے کا ڈر رہے گا تو وہ پارٹی بدلنے سے بچیں گے۔ اس لیے آج ضرورت اس بات کی ہے کہ رائٹ ٹو ری کال اور رائٹ ٹو رِجیکٹ کے ساتھ ساتھ پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں چیف وہپ کو ختم کیا جائے، تاکہ ملک کی جمہوریت کو پختہ ہونے کا موقع مل سکے۔ جب تک پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں وہپ کو نہیں ہٹایا جائے گا اور جب تک سیاسی پارٹیوں میں اندرونی طورپر جمہوریت نہیں ہوگی، تب تک ملک کی جمہوریت چند لوگوں کی جاگیر بنی رہے گی۔
دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا فخر تو ہر ہندوستانی کو ہے، لیکن جب پارلیمنٹ کے ممبران کی اصلیت کا پتہ چلتا ہے تو افسوس ہوتا ہے۔ عام انتخابی عمل مجرموں اور نااہل لوگوں کو الیکشن میں حصہ نہ لینے سے روک نہیں سکا۔ جب سے نیو لبرل ازم کی پالیسی سرکار نے اپنائی ہے، تب سے حالت اور بھی خراب ہو گئی ہے۔ بدعنوانی میں اضافہ ہوا، الیکشن جیتنے کے لیے امیدوار کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہوگیا۔ یہی وجہ ہے کہ الیکشن میں پیسے کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ ایسے امیدوار الیکشن جیتنے کے بعد اپنی ساری توانائی پیسہ کمانے میں لگا دیتے ہیں۔ ان کا مقصد پیسہ کمانا ہوتا ہے، نہ کہ سماج کی خدمت کرنا۔ جمہوری اداروں کو 60 سال کا وقت ملا کہ وہ خود کو باوقار کر سکیں، لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔ اب وقت آگیا ہے کہ ملک میں بڑے پیمانے پر سیاسی اور انتخابی اصلاح کی ضرورت ہے۔ اس سے پہلے کہ ملک کے عوام موجودہ نظام سے پوری طرح افسردہ ہو جائیں، ان کا اعتماد ختم ہو جائے، سبھی جمہوری اداروں، ان کے اراکین اور اہل کاروں کو ذمہ دار اور جوابدہ بننا ہوگا۔

عوامی نمائندے کو واپس بلانے اور خارج کرنے کا مطلب کیا ہے
رائٹ  ٹو ری کال کا مطلب ہے ممبران پارلیمنٹ اور ممبران اسمبلی کو واپس بلانے کا اختیار اور رائٹ ٹو رِجیکٹ کا مطلب ہے کہ انتخاب میں امیدواروں کو خارج کرنے کا اختیار۔ اسے سمجھنا ضروری ہے۔ ممبران پارلیمنٹ اور ممبران اسمبلی کو واپس بلانے کے اختیار کو ایسے سمجھا جاسکتا ہے کہ اگر کسی بھی علاقہ کے لوگوں کو لگتا ہے کہ ان کا ایم پی یا ایم ایل اے اپنی ذمہ داری نہیں نبھا پا رہا ہے یا پھر وہ بدعنوانی میں ملوث ہے یا پھر لوگوں کو لگتا ہے کہ جن مدعوں پر اس نے ووٹ لیا، ان پر وہ کام نہیں کر رہا ہے تو عوام کو یہ اختیار ہے کہ وہ اپنے ایم پی یا ایم ایل اے کو واپس بلا لے۔ یہ اختیار منتخب ممبران پارلیمنٹ یا ممبران اسمبلی کے خلاف استعمال کیا جاسکتا ہے۔ رائٹ ٹو رِجیکٹ اس سے تھوڑا الگ ہے۔ اس حق کا استعمال رائے دہندگان انتخاب کے دوران ہی کر سکتے ہیں۔ اگر کسی بھی علاقہ کے لوگوں کو لگتا ہے کہ سارے ہی امیدوار بدعنوان یا نااہل ہیں تو وہ اس حق کا استعمال کر سکتے ہیں۔ ہر ای وی ایم میں ایک ایسا بٹن ہوگا، جس سے ووٹر سبھی امیدواروں کو رِجیکٹ کر سکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہندوستان میں ایسا ممکن ہے، کیا قانون اس بات کی اجازت دیتا ہے۔ اگر واپس بلایا بھی جائے تو اس کا طریقہ کار کیا ہو، انتخاب میں سبھی امیدواروں کو رِجیکٹ کرنے کا طریقہ عمل کیا ہو۔ ایسی کئی ساری باتیں ہیں، جن کے بارے میں جاننا اور سمجھنا ضروری ہے۔
عوامی نمائندوں کو برخاست کرنے کی روایت قدیم ہے۔ سب سے پہلے یونان میں اس روایت کی شروعات ہوئی۔ دورِ جدید میں یہ پہلی بار سوئزرلینڈ میں شروع ہوئی۔ دنیا میں ایسے کئی ملک ہیں، جہاں شہریوں کو عوامی نمائندوں کو واپس بلانے کا اختیار حاصل ہے۔ امریکہ کے کئی صوبوں میں ایسا نظام ہے۔ ہندوستان میں لوک نائک جے پرکاش نارائن نے سب سے پہلے رائٹ ٹو ری کال کی مانگ کی تھی۔ 4 نومبر، 1974 کو مکمل آزادی کی تحریک کے دوران ممبران پارلیمنٹ کو واپس بلانے کی اپیل کی گئی تھی۔ اس کے بعد عوامی نمائندوں کو واپس بلانے کا اختیار صرف ایک موضوع کی شکل میں سیمیناروں اور کانفرنسوں تک محدود رہا۔ سیاسی پارٹیوں نے تو اس مدعے کو ہی دبا دیا۔

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Latest posts by ڈاکٹر منیش کمار (see all)

Share Article

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *