قرضوں نے امریکہ کو ہلاکر اور رلاکر رکھ دیا ہے

اسد مفتی
امریکہ میں قرض لینے کی حد میں اضافے سے متعلق بل پر ڈیموکریٹس اور ریپبلیکن راہنما متفق ہوگئے ہیں اور قرض بڑھانے سے متعلق معاہدے کو ایوان نمائندگان میں منظور کرلیا گیاہے۔ امریکی صدر باراک اوبامہ نے بتایا ہے کہ اس بل کے تحت اخراجات میں دس سال کے عرصے میں ایک ٹریلین ڈالر کی کمی کی جائے گی۔ قرض کی حد بڑھانے اور اخراجات میں 2.1کھرب ڈالر تک اضافے سے متعلق بل منظور کرلیاگیاہے۔ یہ بل 161کے مقابلے جس 269ووٹوں کی برتری سے منظور کیاگیاہے۔
اس وقت امریکہ دنیا کی سب سے بڑی فوجی اقتصادی اور سیاسی پاور ہونے کے ساتھ ساتھ دنیا کاسب سے بڑا مقروض ملک بن گیا ہے امریکی قرضے143 کھرب ڈالر سے تجاوز کرچکے ہیں اوراگر اب بھی امریکی حکومت کی قرض لینے کی حد میں اضافے کی منظوری نہیں دی جاتی تو امریکی وزارت خزانہ کے پاس ادائیگیوں کے لیے رقم تک نہ ہوتی یہی وجہ ہے کہ افغانستان میں بے مقصد لڑنے والے فوجیوں (امریکی) نے ایڈمرل مائیک مولن سے پوچھا ہے کہ کیا انہیں اس ماہ کی تنخواہ ملے گی؟ اس پر افغانستان کے دورےپر گیےہوئے امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کا کہنا تھا کہ اگر امریکی حکومت نے قرض لینے کی حد نہیں بڑھائی تو وہ نہیں جانتے کہ کیا ہوگا۔‘‘یہ سچ ہے اگر قرض کی حد بڑھانے سے متعلق بل ایوان نمائندگان میں منظور نہ کیاجاتا تو پوری دنیا ایک بار پھر اقتصادی بحران کی زد میں آسکتی تھی۔ امریکی اقتصادی بحران کا اندازہ اسی بات سے لگایاجاسکتا ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی اقتصادی طاقت مانے جانے والے امریکہ پر فی سیکنڈ40ہزار ڈالر کاقرض بڑھ رہا ہے آپ کو یاد ہوگا مجھے تو اچھی طرح یاد ہے کہ اس سے قبل 2008میں مالی اوراقتصادی بحران کاآغاز امریکہ سے ہوا تھا جس نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا، ایک کار خریدوتو ایک مفت میں ملتی تھی۔ مشرقی وسطیٰ میں لوگ اپنی کاریں ایرپورٹ پر چھوڑ کے بھاگ گیے تھے۔
امریکی وزارت خزانہ کی ایک رپورٹ کے مطابق حکومتی خزانے میں نقد رقم صرف 73ارب 70کروڑ ڈالر رہ گئی ہے اوراگر 2اگست تک امریکی حکومت کی قرض لینے کی حد میں اضافہ کی منظوری نہیں دی گئی ہوتی تو حکومت کو اپنے واجبات کی ادائیگی کے لیے رقم کی شدید کمی کا سامنا ہوتا منظوری نہیں دی گئی ہوتی تو حکومت دیوالیہ قرار دے کر نادھندہ ہوسکتی تھی۔ یہاں ایک دلچسپ بات بتانی ضروری ہے کہ دنیا کے امیر ترین ملک امریکہ کے خزانے میں (اگر آپ اسے خزانہ کہہ سکتے ہیں تو) اتنے ڈالر بھی نہیں ہیں جتنے ایپل کمپنی کے پاس ہیں۔ امریکی ریزروبینک میں 73.76ارب ڈالر رہ گئے ہیں جب کہ ٹکنالوجی کی دنیا میں ایک بڑا نام ایپل کمپنی کی تجوری میں نقد رقم 75.87ارب ڈالر جاپہنچی ہے۔
کچھ عرصے قبل سویت یونین کی خفیہ ایجنسی کے جی بی کے ایک اہم معاشی تجزیہ نگار ڈیگور پنیارین نے ریاست ہائے متحدہ کے بارے میںپیشن گوئی کی تھی کہ 2011سے2015تک امریکہ چھ خود مختار ریاستوں میں تبدیل ہوسکتاہے نیز روس اور چین دنیا کے نئے مگر اہم کھلاڑی ہوں گے۔ ماسکو میں ڈپلومنٹ اکیڈمی میں مستقبل کے سفارت کاروں سے اپنے خطاب میں اس تجزیہ نگار نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی صدر اوبامہ رواں سال میں مارشل لا کے نفاذ کا اعلان کرسکتے ہیں اور آئندہ سال سویت یونین کی طرح امریکہ کی بھی ٹوٹ پھوٹ شروع ہوجائے گی۔ امریکہ میں قرضوں کے بحران کی وجہ سے دیوالیہ ہونے کا خطرہ پہلی بار نہیں ہوا ایسا اس سے قبل 1790پھر1933پھر ایک جزوی بالی بحران 1979اور پھر سابق صدر جارج بش کے آخری دور2008میں اقتصادی بحران اپنے پنجے گاڑ چکا ہے اس بحران نے تو امریکی ٹیکس دہندگان کو گھروں سے بے گھر کر کے فٹ پاتھ پر لابٹھایا تھا لیکن جارج بش نے دنیا کو جنگوں کی ا ٓگ میںجھونکے رکھا یہی وجہ ہے کہ آج خود امریکی سیاستداں اپنے ملک کی ان جنگ جو قسم کی پالیسیوں سے بے زاری کا کھلم کھلا اظہار کررہے ہیں۔ امریکہ کے سابق انٹلی جینس چیف ونس بلیئر نے کہا ہے کہ محض 4ہزار دہشت گردوں کی پکڑ دھکڑکے لیے سالانہ 80ارب ڈالر خرچ کیے جارہے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ 9/11کے واقعہ کے بعد امریکہ میں کل 17شہری دہشت گردوں کا نشانہ بنے ہیں جب کہ اس عرصے میں ٹریفک کے حادثات 111دوسرے جرموں میں 15لاکھ امریکی مارے جاچکے ہیں۔ علاوہ ازیں امریکی فوج کی تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہاہے کہ امریکہ کی جانب سے افغانستان میں نقل و حمل کے لیے خرچ کیے جانے والے اربوں ڈالر بلاواسطہ طریقے سے طالبان کی جیبوں میں جارہے ہیں رپورٹ میں بتایاگیا ہے کہ افغانستان میں امریکی فوج کو بحفاظت رسد پہنچانے کے لئے آٹھ کانٹریکٹ کمپنیوں میں سے کم از کم چار کمپنیوں کا کچھ حصہ طالبان اور قبائلی سرداروں کو دیاجاتا ہے امریکہ کی جانب سے افغانستان کی معیشت کو فروغ دینے اپنے اور نقل وحمل کے لیے لگ بھگ تین ارب ڈالر کے معاہدے کیے گئے ہیں۔ گزشتہ ماہ شائع شدہ امریکی رپورٹ کے مطابق7.3 ٹریلین ڈالر یعنی قرض کے ایک تہائی حصے کو اگر سابق امریکی جنگجو صدر جارج بش غور وفکر اور تدبر وفراست اور صحیح انتظامی حکمت عملی سے کام لیتے تو بچایا جاسکتاتھا۔ امریکہ کی عراق اورافغانستان میں ’جنگ بازی‘ سے نہ صرف اس کی معیشت تیزی سے تباہی کی طرف گامزن ہے بلکہ اس کے اثرات (منفی) لگ بھگ پچاس امریکی ریاستوں پر بھی مرتب ہوں گے اور اس کی بنیادی وجہ اس کا قرض ہے اسی قرض کی وجہ سے بدانتظامی اور غلط طرز عمل کا اختیار کرنا اور فوجی کارروائیوں کو اپنی خارجہ پالیسی کا محور بنالینا ہے جس نے اس کے سینکڑوں ٹریلین سرمایہ کو بغیر ڈکارمارے ہضم کرلیا۔ میرے حساب سے اگر موجودہ حالات میں اس پر ناگفتہ بہ معیشت کو قابو نہیں کیاگیا تو اس آگ کی چنگاریاں دور دور تک پہنچیں گی اور اس کے اثرات پوری کائنات (جی ہاں پوری کائنات) کی اقتصادیات کو متاثر کیے بغیر نہیں رہ سکیں گے اگر میں یہ دعویٰ کروں کہ چین بھی اس کے منفی اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکے گا تو مبالغہ نہ ہوگا کہ امریکہ کی اقتصادیات دنیا کے بہت سے ملکوں کے لیے شہہ رگ ہے جس میں میرا پیارا اور دلارا کشور حسین شاد باد بھی شامل ہے جس کا کھانے پینے اوڑھنے بچھونے لڑنے بھڑنے حتیٰ کہ وجود کی بقا کا بھی امریکی امداد پر انحصار ہے اسی لیے جاننے والے کہتے ہیں کہ پاکستان امریکہ اور آئی ایم ایف کیاکی قسط کی مار ہے۔
میں نے کہیں پڑھا ہے کہ عقلمند وہ ہے کہ جب اس پر مصیبت نازل ہوتو وہ اول روز ہی وہی کرے جو وہ تیسرے روز کرے گااور جغرافیہ سے تو بالکل نہیں ڈرنا چاہیے کہ گردش ایام کے ساتھ ملکوں کے جغرافیے بدلتے رہتے ہیں۔ g

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *