لندن نامہ

حیدر طبا طبائی
کامل دس برس بیت گئے نیویارک کے علاقے مین ہیٹن میں واقع ورلڈ ٹریڈ سنٹر کو صہیونیوں اور دیگر فتنہ پرور ساز شکاروں کے ذریعہ زمین بوس ہوئے۔ 2002 تک یہ موجود تھا، میں نے اس کی بہار بھی دیکھی تھی اور خزاں بھی دیکھی۔ امریکہ دس سال سے دنیا بھر میں اپنی شکست کا پرچم اٹھائے نگری نگری، دوارے دوارے گھوم رہا ہے۔
ابھی تک واضح نہ ہوا کہ حملہ آور کون ہے۔ سارا الزام اسامہ بن لادن پر لگا دیا گیا۔ پھر نائن الیون کمیشن کی رپورٹ آئی جو پانسو صفحات پر مشتمل ہے، لیکن یہ رپورٹ صرف الف لیلوی داستان کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اس رپورٹ میں جو انیس پائلٹوں کا ذکر ہے، وہ سب کے سب امریکی بنائے گئے ہیں، ان میں سے کوئی عراقی یا افغانی نہیں ہے، لیکن حملہ عراق و افغانستان پر ہوا۔ اس حملے کی پلاننگ کے سلسلے میں نائن الیون کو وجود میں لایا گیا تھا، لیکن اس میں کام کرنے والے ساڑھے تین ہزار یہودی اُس دن موجود نہیں تھے۔ ہر چیز واضح ہے کہ سازش کس کی تھی۔ اب دس برس سے امریکہ اور اُس کے حواری افغانستان کی سنگلاخ پہاڑیوں پر اپنے سر پھوڑ رہے ہیں۔ اسامہ بن لادن مارا گیا، لیکن اس کی موجِ خوں ایک چمن ایجاد کر گئی، وہ ہے طالبان و القاعدہ۔ اب امریکہ کو جنگ ختم کرنے کا راستہ نہیں مل رہا ہے۔ اب یہ ترکیب سوچی جا رہی ہے کہ امریکی سپاہ افغانستان سے کسی طرح سے نکل بھاگے اور دنیا کو یہ احساس نہ ہو کہ امریکہ ہار کر بھاگا۔ اب نہ افغانستان، نہ عراق کی جنگ میں اُن کے سینوں کا فتح کا تمغہ تو نہ ہوگا، بلکہ ہر امریکی کی پیشانی پر شکست اور رسوائیوں کے داغ ملیں گے۔ نائن الیون کی کوکھ سے امریکہ نے عراق اور افغانستان کو تاراج کرنے کی راہ نکالی۔ لندن کی وزارتِ خزانہ نے بتایا کہ امریکہ ان جنگوں پر چوالیس کھرب ڈالر پھونک چکا ہے اور اتنی ساری رقم کے باوجود بھی ان بے ثمر جنگوں سے حاصل کچھ نہ ہوا۔ یہ ساری رقم ادھار کی ہے۔ شوقِ مسلم کشی میں ان قرضوں کا بوجھ تقریباً 145 کھرب ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جو اس کی مجموعی قومی پیداوار کا 96 فیصد ہے۔ برٹش ماہرین کا خیال ہے کہ بہت جلدی ان قرضوں کی شرح قومی پیداوار سے سو فیصد ہو جائے گی۔ اسے ہر سال 430 ارب ڈالر سود کی شکل میں ادا کرنا پڑ رہا ہے۔ اب امریکہ کا ہر شہری اوسطاً پچاس ہزار ڈالر کا مقروض ہو چکا ہے۔ اب تعلیم، صحت و تعمیر اور ترقی کے تمام منصوبے بری طرح سے متاثر ہو چکے ہیں، بے روزگاری بڑھ رہی ہے۔ امریکہ بظاہر اپنی بالادستی دکھانے کے لیے کمزور ترین ممالک سے برسر پیکار رہتا ہے، لیکن دراصل وہ اپنے اور اپنے عوام و ترقی کے راستوں سے جنگ آزما ہے۔ اس طرح امریکہ نہ صرف اپنے آپ کو کھوکھلا کر رہا ہے، بلکہ ساری دنیا میں اپنا چہرہ بھی مسخ کرنے میں مصروف ہے۔ چھوٹے بش نے نائن الیون کے فوراً بعد کہا تھا کہ نہ جانے دنیا ہم سے نفرت کیوں کرتی ہے، کبھی اسرائیل سے یہ بات نہیں پوچھی کہ وہ نجانے فلسطینیوں سے کیوں نفرت کرتا ہے !
ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اب برطانیہ کے اسکولوں میں فقط 7 سال کے لڑکے بھی چاقو سے مسلح ہوتے ہیں۔ گزشتہ روز جنوب مشرقی لندن کے علاقے ٹوٹینگ میں ایک 23 سالہ مرد اور ایک 15 سالہ لڑکے کو چاقو سے گود گود کر مار ڈالا گیا۔
آپ لوگوں نے فلموں میں (برٹش فلموں میں) ایک رول مسٹر بین کا دیکھا ہوگا۔ بین کے معنی ہیں کوڑا، جو فلم ایکٹر رون بنکس کیا کرتے تھے، لیکن اب انہوں نے مسٹر بین بننے سے صاف انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اب 56 برس کے ہو چکے ہیں، اس لیے اس طرح کے اوٹ پٹانگ رول نہیں کریں گے۔ مسٹر بین سیریز کی پہلی قسط برطانوی ٹیلی ویژن پر 1990 میں شروع ہوئی تھی اور آخری قسط یکم جنوری 1995 کو نشر کی گئی تھی۔
گزشتہ دنوں نارتھ ہمٹن کراؤن کورٹ نے 42 سالہ وکٹر چیک کو حراست میں لے لیا۔ وہ 2009 میں چین گیا تھا جہاں سے اس نے دس ہزار نقلی ویاگرا خریدا جو نامردی کا علاج ہوتا ہے۔ کورٹ میں سرکاری وکیل نے بتایا کہ جس ملک میں ہر طرح کی دوائیں جعلی ملتی ہیں، وہاں سے دوائیں لانا بند ہونا چاہیے۔
ایک امریکی خبر رساں ادارے نے اطلاع دی ہے کہ امریکی مالی مشکلات کی بناپر خلائی شٹل پروگرام بند کردیا گیا ہے۔ اس پروگرام کو جاری رکھنے کے لیے اب امریکہ کے پاس مزید فنڈ نہیں ہیں۔ امریکی ذرائع ابلاغ نے بتایا کہ ابھی ناسا کے ملازمین کی چھٹی نہیں ہوئی ہے۔
برطانیہ میں کرسمس کی آمد ماہِ ستمبر سے ہو جاتی ہے۔ سڑک،بازار اور گلی محلوں سب کی سجاوٹ شروع ہو جاتی ہے۔ اب کے برس کرسمس کے لیے قرضوں کے لیے درخواستیں دینے والوں میں اضافہ ہوا ہے۔ قرضہ حکومت سے، سرکاری ملازمین یا بینکوں سے مانگا جاتا ہے۔ لندن میں قائم سنٹر وار اکنامکس اینڈ بزنس ریسرچ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ غربت بڑھ رہی ہے اور عوام کو ٹریولنگ، قمار اور شراب نوشی کا شوق چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
برطانوی پارلیمنٹ نے شہزادی ڈائنا کی موت پر مبنی فلم پر پابندی عائد کردی ہے۔ اس فلم میں بتایا گیا ہے کہ وہ ایک مسلمان مصری محمد ال فائد کے لڑکے ڈو ڈی سے حاملہ ہو چکی تھیں، یعنی ایسی صورت میں جب پرنس آف ویلز سریر آرائے حکومت ہوتے تو کہا جاتا کہ بادشاہ کا ایک بھائی مسلمان ہے۔ فلم میں بتایا گیا ہے کہ ڈائنا کو صہونزا اور ایم آئی فائیو نے مارا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *