کرپشن کو ختم کرنا نہایت ضروری

میر شاہ حسین سنبھلی
بات چاہے سائنسی و تکنیکی ترقی کی ہو یا میدان معاشیت میں ترقی کی یا پھر کثرتِ آبادی کی، کسی بھی زوایے سے دنیا کے نقشے پر نظر آنے والے سات بڑے ممالک کی فہرست مرتب کی جائے تو ان سات ممالک میں ہندوستان کا نام ضرور آئے گا، اور اگر کرپشن کا تذکرہ کیا جائے تو دنیا کے اس وقت سب سے زیادہ کرپشن والے ممالک میں بھی ہندوستان ساتویں نمبر پر ہے ۔ یہ ایک ریڈیو سروے ہے۔ آج پورے ملک میں یہ بات عوام کو سوچنے کے لیے مجبور کر رہی ہے کہ آخر ترقی کے اس دور میں ہم کس راہ پر جا رہے ہیں۔ ہم نے اقتصادیات ، دفاع اور ٹیکنالوجی میں خوب ترقی کی، مگر ٹھیک اسی طرح ہم نے کرپشن میں بھی اپنی فتوحات کے جھنڈے گاڑ دیے ہیں ۔ حالت یہ ہے کہ کرپشن کا پودا اتنی جلدی ایک تناور درخت بن گیا ہے کہ اس نے ساری ترقی کی رفتار کو پیچھے چھوڑ دیا ہے ۔ مثال کے طور پر، پارلیمنٹ میں اچھا لی جانے والی نوٹوں کی گڈّیاں ایک ثبوت ہیں کہ کرپشن کی جڑیں کتنی گہری اور مضبوط ہیں ۔ ملک میں کرپشن کی گرفت میں قید ایک عام آدمی کتنا مجبور اور بے بس ہے کہ ایک راشن کارڈ بنوانے کے لیے ایک غریب انسان کو ہزاروں روپے خرچ کرنے پڑتے ہیں اور لا تعداد چکر دفتر کے لگانے پڑتے ہیں، تب جاکر کہیں ہمارے افسران اس پر یہ احسان کرتے ہیں کہ اسے رشوت دینے کے بعد یہ حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ اپنی پہچان کے طور پر راشن کارڈ حاصل کر سکتا ہے۔؎
راشن کی دکان پر دیکھ بھینکر بھیڑ
اس میں دھکا مارکر گھس گئے بل بیر
لالا سے بولے بند کرو یہ دھرم کا کانٹا
لالا بولے بھاگ جائو ختم ہو گیا اب آٹا
تو یہ بات ہوئی ایک عام آدمی کی۔ اب بات کرتے ہیں ہائی پروفائل لوگوں کی، تو اس دور میں یہ حضرات بھی اس وائرس سے متاثر ہیں۔ اگر کہیں کوئی بڑا کانٹریکٹ ہے اور آپ وزیر اور اس کے محکمے کے اعلیٰ افسران کو تن من دھن سے خوش کر سکتے ہیں تو کانٹریکٹ آپ کو ہی مل جائے گا، وہ سارے مطالبات جو کانٹریکٹ لینے کے لیے درکار ہیں، اگر آپ پورے بھی کر دیں اور آپ محکمے کو تحفہ نہ دیں تو آپ کی فائل میں ایسی خامی نکالی جائے گی کہ آپ اس خامی کو دور نہیں کر پائیں گے۔ مطلب صاف ہے کہ 100 فیصد میں سے 40 فیصد آپ کو خرچ کرنا ہے، باقی بات اس کے بعد کی ہے کہ 60  فیصد میں آپ کتنا خرچ کر سکتے ہیں، تعمیر ہونے والی عمارت پائدار ہوگی یا نہیں، وہ پل جو سرکارٹھیکے پر بنواتی ہے وہ اس وقت تک قائم رہے گا یا نہیں جس وقت پر اس کا افتتاح ہونا ہے، کیونکہ ایسا بھی دیکھا گیا ہے کہ ایک مرتبہ ایک پل تعمیر ہوا اور تعمیرات کے وزیر پل کا افتتاح کر رہے تھے، ابھی ربن کاٹ کر ان کا افتتاحی خطبہ ختم بھی نہیں ہوا تھا کہ پل زمیں بوس ہو گیا یعنی ترقی کے سارے کام اپنی جگہ اور کرپشن اپنی جگہ    ؎
اگر حرام ہے رشوت تو دیجئے ڈالی
بدل کے ساز یہی دھن سنائی جاتی ہے
کچھ احتیاط ہے واعظ تیری نصیحت کی
بجائے ڈھول کے پپیا بجائی جاتی ہے
آج پوری دنیا کرپشن کی گرفت میں ہے۔ لوگ سر براہان مملکت سے اس درجہ متنفّر ہو چکے ہیں کہ انہوںنے مجبور ہو کر اس قید سے نجات کا راستہ ڈھونڈ لیا ہے۔ دنیا میں تبدیلی اس بات کی علامت ہے کہ اقوام عالم کے صبر کا پیمانہ لبریزہو چکا ہے۔ مصر کے اہراموں سے چلنے والی سرد ہوائوںنے یمن کے پتھروں کو ہوا میں اڑا دیا ہے، تیونس ہو کر یہ ہوا اب لیبیاکے ریگستا نوں میں پہنچ چکی ہے اور اس ہوا کے سرد جھونکے اب اپنے ملک ہندوستان میں بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔
کرپشن کے خلاف ملک گیر پیمانے پر ہونے والے پر امن احتجاج پیغام ہیں، پیش خیمہ ہیں اس طوفان کا جس کے آنے سے پہل خاموشی چھا جاتی ہے۔ ملک میں ہر طرف لوگ آواز استغا ثہ بلند کر رہے ہیں یعنی حیدر آباد میں لوگ سیاہ پوش ہو کر احتجاج کر رہے ہیں تو کہیں دف بجا کر کرپشن کے خلاف آواز بلند کر رہیں ہے تو کہیں موم بتیاں جلا کر اپنے خیالات کی ترجمانی کر رہے ہیں۔ مفہوم واضح ہے کہ احتجاج کے طریقے جدا ہو سکتے ہیں مگر مقصد ایک ہی ہے کہ سماج میں زہر گھولتی ہوئی اس بیماری سے کیسے نجات حاصل ہو ۔ آج کے دور میں غریب اور زیادہ غریب ہوتا جا رہا ہے جبکہ دولت مند روز بہ روز اپنی دولت میں اضافہ کرتا جا رہا ہے اور اس کشمکش کے دور میں ملک کا غریب عوام چکّی کے دو پاٹوں میں پس رہا ہے ۔ مظلوم دہائی دے رہا ہے مگر غریب عوام کی آواز کی حیثیت ہی کیا ہے، بس جس طرح ربر کی گیند، یعنی دوران الیکشن ہمارے لیڈران عوام کی خوشنودی کے لیے پیسہ پانی کی طرح بہاتے ہیں مگر الیکشن کے بعد وہی پیسہ ہمارے لیڈران کے پاس واپس آجاتا ہے یعنی اگر ربر کی گیند کو آپ کہیں پھینکو گے تو وہ واپس آپ ہی کے پاس آئے گی ۔ کرپشن کو ختم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ عوامی سطح پر متحد ہو کر جدو جہد کی جائے، کیو نکہ ہم لوگ ہی سماج ہیں اور کہیں نہ کہیں ہم لوگوں نے رشوت خوروں کو رشوت دے کر ان کے حوصلے بڑھائے ہیں۔ صرف وقتی فوائد کے لیے اگر ہم لوگ رشوت دینا بند کر دیں تو کسی کی ہمت نہیں کہ ہم سے جبراً رشوت لے سکے۔ یہ حقیقت ہے کہ نگر پالیکا کے چیئرمین کے دفتر سے لے کر چیف منسٹر کے چیمبر تک پہنچتے پہنچتے انسان اپنی تمام تر توانائی صرف کر چکا ہوتا ہے اور اس کی قوتِ برداشت جو اب دے جاتی ہے۔ و زرا کے دفاتر کے باہر نو جوانوں کی خود سوزی کے مناظر یہ بتاتے ہیں کہ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے، مگر رشوت کا کار وبار کرنے والوں کو اب یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ   ؎
آسماں اب تیرے احساں کی ضرورت ہی نہیں
میں نے سب کر لی ہیں تیاریاں مرنے کے لیے
کرپشن ختم کرنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ ہمیں انتظامیہ میں کرن بیدی، ایشور چند دویدی اور ڈاکٹر کلام جیسے لوگوں کا ایک پینل بنانا ہوگا اور یہ لوگ داغ دار افسران کی ایک فہرست بنائیں اور مجرموں کو ایسی سزا دیں کہ جو لوگوں کے لیے سبق ٓموز ہو، کیو نکہ اگر ہم دنیا کے سب سے بڑے ملک چین کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ چین کی حالت ہندوستان سے زیادہ بد تر تھی۔ ایک کتاب میری نظر سے گزری جس کا نام تھا ’’بلڈ رولیوشن اِن چائنا‘‘۔وہاں بھی اعلیٰ افسران سے لیکر وزرا تک داغ دار تھے۔ جب عوامِ کی قوت برداشت جواب دے گئی تو عوام نے رشوت خوروں اور ان کے سرپرستوں کو گھیر کر سڑکوں پر مارا، چوراہوں پر اس طرح مارا جس طرح لوگ پاگل کتّے کو مارتے ہیں ۔ آج ضرورت استقامت کے ساتھ آگے بڑھنے کی ہے ۔ کچھ بھی ہو، ہمیں عوام کو کرپشن کے خلاف ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑا کرنا پڑے گا، کیو نکہ دنیا کی کوئی بھی حکومت کتنی طاقت ور کیوں نہ ہو بہت زیادہ دیر تک عوام کی آواز کو دبا نہیں سکتی ۔ دنیائے عرب کے شہنشاہوں کی عوام کے خون سے نچوڑی ہوئی اربوں ڈالر کر رقم بھی ان تانا شاہوں کو نہ بچا سکی    ؎
جلا کے رکھ دیں گے ہم ظلم کے نشیمن کو
بچا نہ پائے گا اب کوئی ان کے دامن کو
آواز خلق کو نقارۂ خدا سمجھو
تو ختم ہم بھی کریں گے اب اس کرپشن کو
اعلیٰ ترین زندگی گزارنے کے عادی دنیائے فلم کے ادا کاروں کا عوام کے پر امن احتجاج میں کرپشن کے خلاف شانہ بشانہ کھڑا ہونا دلیل ہے اس بات کی کہ کہیں نہ کہیں ہائی پروفائل لوگ بھی یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ    ؎
امیر شہر بھی واقف ہے، اسکے گھر کے چراغ
ہمارے خون پیسنے سے جلتے رہتے ہیں g

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *