ٹیم انا کے خلاف سرکار کی سازش

ششی شیکھر
اناٹیم پر الزامات کی برسات ہونے لگی ہے۔ پہلے ٹیم میں پھوٹ ڈالی گئی۔ ایک بار پھر سے سی ڈی تنازعہ کے بہانے بھوشن باپ بیٹے پر الزام لگانے کی تیاری ہے۔ اور اس سب سے الگ، اب اس تحریک کو غیر ملکی پیسے سے چلائے جانے کی بات کہی جا رہی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ یہ تحریک فورڈ فاؤنڈیشن اور ورلڈ بینک کی مدد سے چلائی گئی۔ اور تو اور، دانشور سمجھی جانے والی ایک قلم کار نے تو سیدھے سیدھے انّا ہزارے پر ہی نشانہ سادھا۔ آخر، اچانک یہ سب کیوں شروع ہوا؟ سوچنے کی بات ہے۔ جن لوک پال کو لے کر 12 دن تک چلی انا کی بھوک ہڑتال نے سرکار کو ان کے تین مشوروں کو ماننے کے لیے مجبور کردیا۔ لووَر بیوروکریسی، صوبوں میں لوک آیوکت کی تشکیل اور سٹیزن چارٹر، یہ تینوں مانگیں اہم ہیں اور جن لوک پال کے جذبے کو مضبوطی فراہم کرنے والی ہیں۔ ظاہر ہے، اگر مرکزی حکومت ان تینوں مانگوں کو ایمانداری سے مان کر اسے لوک پال بل میں شامل کر لیتی ہے، تو یہ عوام کی بڑی جیت ہوگی۔ فی الحال ان تجویزوں کو اسٹینڈنگ کمیٹی کے پاس بھیج دیا گیا ہے جہاں پر ان پر غورو خوض کیا جائے گا اور یہ طے کیا جائے گا کہ کون سی تجویز مانی جائے اور کیسے ان کو روبہ عمل لایا جائے۔ اس کام میں ابھی کم از کم دو سے تین مہینے کا وقت لگے گا۔
سرکار نے اس درمیانی وقفے کا استعمال انا ٹیم پر پلٹ وار کرنے کے لیے کرنا شروع کر دیا ہے۔ سب سے پہلا نشانہ بنے سوامی اگنی ویش۔ انا کے اسٹیج سے جب سوامی اگنی ویش اس پوری لڑائی کو آزادی کی دوسری لڑائی بتا رہے تھے تب شاید ہی کسی نے سوچا ہوگا کہ زعفرانی لباس زیب تن کرنے والے یہ سوامی جی کبھی انا اور ان کی ٹیم کو پاگل ہاتھی تک بتا ڈالیں گے اور سرکار کے ایک طاقتور وزیر کو ٹیم انا سے سختی سے نمٹنے کی صلاح دیتے نظر آئیں گے۔ دراصل، یہ خلاصہ سوامی اگنی ویش کے ایک اسٹنگ آپریشن سے ہوا۔ سوال یہ ہے کہ آخر اگنی ویش کا اسٹنگ آپریشن کس نے کروایا اور کیوں کروایا؟ اس میں اگنی ویش کو کسی کپل مہاراج سے بات کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے جس میں وہ انا ٹیم کو پاگل ہاتھی بول رہے ہیں اور ان سے سختی سے نمٹنے کی وکالت کرتے سنائی دے رہے ہیں۔ یہ ٹھیک ہے کہ انا کی بھوک ہڑتال سے کچھ وقت پہلے سے ہی انا ٹیم سے اگنی ویش کی دوری بننے لگی تھی۔ سوال صرف اگنی ویش کے بیان کا نہیں ہے۔ اب جب اسٹنگ سامنے آگیا ہے تو یہ سچ بھی سامنے آنا چاہیے کہ آخر اس کے پیچھے کون ہے۔ اس سوال کا جواب ٹیم انا کے لیے بھی ضروری ہے، کیوں کہ کہیں نہ کہیں، کوئی نہ کوئی ایسا ہے جو لگاتار ٹیم انا کے ممبروں کو بدنام کرنے کی تاک میں ہے اور وہ اس میں کامیاب بھی ہو رہا ہے۔
دریں اثنا، بکر پرائز سے نوازی گئیں اور دانشور کہلانے والی قلم کار اروندھتی رائے نے تو اس تحریک کو فورڈ فاؤنڈیشن اور ورلڈ بینک سے مالی امداد ملنے کا الزام لگا کر ٹیم انا کے سارے اراکین کو ہی کٹہرے میں کھڑا کرنے کی کوشش شروع کر دی ہے۔ رائے نے تو تحریک کے دوران ’وندے ماترم‘ کے استعمال پر بھی سوال اٹھایا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ آزاد ملک میں قومی پرچم کس کے خلاف اٹھایا جا رہا ہے۔ ایسا کرکے آپ لوگوں کو بانٹتے ہیں، جوڑتے نہیں ہیں۔ ایک میڈیا ہاؤس سے بات چیت میں رائے کہتی ہیں کہ انا کی تحریک میں کئی ایسی باتیں تھیں جو بے حد خطرناک ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انا خود کچھ نہیں کر رہے ہیں بلکہ کچھ ایسے لوگ ان کے ساتھ ہیں جو انا کے نام پر اپنی تحریک چلا رہے ہیں۔ بہرحال، انا ٹیم کے رکن اور خاص کر اروِند کیجریوال، کرن بیدی اور منیش سیسودیا کو چاہیے کہ وہ اروندھتی رائے کے غیر ملکی فنڈنگ کے الزام کا منہ توڑ جواب دیں، کیوں کہ یہاں پر بات صرف اتنی نہیں ہے کہ آپ پر کوئی الزام لگائے اور آپ یہ کہہ کر اپنا دامن جھاڑ لیں کہ ثبوت کہاں ہے؟
چوتھی دنیا کی تفتیش میں جو باتیں کھل کر سامنے آئی ہیں اس کے مطابق، اروِند کیجریوال کے قریبی معاون منیش سیسودیا کی تنظیم ’کبیر‘ کو فورڈ فاؤنڈیشن سے پیسہ ملتا ہے۔ یہ کوئی ایسی بات نہیں ہے جسے لوگ نہیں جانتے، لیکن یہیں ایک پیچ ہے۔ دراصل، فورڈ فاؤنڈیشن کی ویب سائٹ پر جب ڈونیشن پانے والی تنظیموں کے نام ڈھونڈتے ہیں تو اس میں ایک نام ’کبیر‘ کا بھی آتا ہے۔ فورڈ فاؤنڈیشن نے سال 2011 کے لیے ’کبیر‘ کو دو لاکھ ڈالر دیے ہیں۔ ایسا اس کی ویب سائٹ پر لکھا ہے۔ بہرحال، جب آپ اس لسٹ کو تھوڑا اور کھنگالیں گے تو پتہ چلے گا کہ ’کبیر‘ اس ملک کی واحد تنظیم نہیں ہے جسے فورڈ سے پیسہ ملتا ہے، بلکہ ہندوستان کے کئی اور این جی او ہیں جنہیں فورڈ فاؤنڈیشن سے پیسہ ملتا ہے۔ لیکن چوتھی دنیا کو ملی اطلاع کے مطابق، ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ ’کبیر‘ تنظیم نے رواں سال کے لیے فورڈ سے پیسہ لینے سے منع کر دیا ہے، لیکن الزام لگانے والوں کے لیے اتنی اطلاع ہی کافی ہے جو انہیں فورڈ فاؤنڈیشن کی ویب سائٹ سے مل رہی ہے، حالانکہ الزام لگانے والوں کے لیے یہ ثابت کر پانا بھی آسان نہیں ہے کہ واقعی اس تحریک میں فورڈ فاؤنڈیشن کے پیسے کا استعمال ہوا ہے۔ اس کے علاوہ، کرن بیدی کی تنظیم پر بھی غیر ملکی فنڈ لینے کا الزام لگایا جا رہا ہے۔ خیر، الزام لگانے والوں کا منھ بند نہیں کیا جاسکتا، لیکن سچائی کو سامنے رکھنے میں بھی کوئی پریشانی نہیں ہونی چاہیے۔ انڈیا اگینسٹ کرپشن نے اس تحریک میں خرچ ہوئے ایک ایک پیسے کا حساب اپنی ویب سائٹ پر دیا ہے۔ ایسے میں یہ ضروری ہے کہ ٹیم انا کے سبھی اراکین ان الزاموں کا مضبوطی سے جواب دیں، کیوں کہ یہ معاملہ صرف الزام لگانے تک ہی محدود نہیں ہے، اس کے پیچھے یقینی طور پر سرکاری مشینری بھی لگی ہوئی ہے جو جان بوجھ کر ٹیم انا کو ایک بار پھر سے بدنام کرنے کی کوشش میں جٹی ہوئی ہے۔
ایک سچائی یہ بھی ہے کہ خود الزام لگانے والے بھی دودھ کے دھلے نہیں ہیں۔ ان کے دامن پر بھی چھینٹیں ہیں، لیکن وقت کا تقاضہ کچھ اور ہے۔ ٹیم انا کو یہ سوچنا ہوگا کہ جن لوک پال کی اس لمبی لڑائی میں انہیں سرکار نام کے ایک مضبوط ادارہ سے بھی لوہا لینا ہے، جس کی چالبازیوں کا شکار یہ لوگ تب بھی ہوئے تھے جب جوائنٹ ڈرافٹ کمیٹی میں بھوشن باپ بیٹے کو شامل کیا گیا تھا۔ تب اچانک ایک ٹیپ سامنے آگیا تھا جس میں وہ امر سنگھ سے بات کر رہے ہیں۔ ایک بار پھر، ٹیپ کا یہ معاملہ سامنے آیا ہے۔ ٹیم انا کے ایک اہم ممبر شانتی بھوشن کی ملائم سنگھ یادو اور امر سنگھ کے ساتھ بات چیت کی مبینہ سی ڈی کو دہلی پولس اب پھر سے صحیح بتا رہی ہے اور اپنی کلوزر رپورٹ میں بھی اس سی ڈی کو صحیح بتا رہی ہے، حالانکہ شانتی بھوشن پہلے سے کہہ رہے ہیں کہ سی ڈی سے چھیڑ چھاڑ کی گئی ہے اور اس کے پیچھے کوئی بڑی طاقت ہے۔ ٹیم انا کے ایک اور اہم رکن سنتوش ہیگڑے بھی اپنے بیانوں سے یہی پیغام دیتے رہے ہیں کہ وہ انا یا ٹیم کے باقی ساتھیوں کی رائے سے تھوڑی الگ رائے رکھتے ہیں، مثلاً انا کی تا مرگ بھوک ہڑتال سے وہ بھی متفق نہیں تھے۔
بہرحال، ٹیم انا کو بھی یہ پتہ ہوگا کہ ایک بار پھر سرکاری سازش شروع ہو چکی ہے، اس لیے بہتر ہوگا کہ ٹیم انا ہر ایک الزام کا جواب دے، پوری شفافیت کے ساتھ، کیوں کہ جب آپ جن لوک پال جیسا ایک اہم مدعا لے کر عوام کے بیچ جاتے ہیں تو ایک چھوٹا الزام بھی بڑا بن جاتا ہے۔ اور ہاں، سرکار کی کوئی بھی سازش جو ٹیم انا کے خلاف ہوگی، اصل میں وہ عوام کے خلاف ہی ہوگی، کیوں کہ عوام کے لیے آج سب سے ضروری ہے ایک مضبوط لوک پال بل۔ اس میں کون کس پر الزام لگاتا ہے، کون کیا جواب دیتا ہے، یہ اہم نہیں ہے۔ اہم یہ ہے کہ کسی بھی صورت میں عوام کے خلاف کوئی سازش نہ ہو اور انہیں ایک مضبوط لوک پال مل سکے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *