بہار سرکار کی گڈ گورننس

سروج سنگھ
نتیش کی پہلی سرکار کو کافی اچھے نمبر ملے، لیکن اب پیمانہ بدل رہا ہے۔ این ڈی اے کے لاکھ چاہنے کے باوجود ریاستی عوام نتیش سرکار کی دوسری پاری کا موازنہ لالو رابڑی کے دور اقتدار سے نہیں کررہے ہیں،بلکہ اس سرکار کی پہلی پاری سے کر رہے ہیں۔ خاص طور سے نظم ونسق اور سڑک کے معاملے میں پیچھے دکھائی دینے والی سرکار کو لوگ توجہ سے دیکھ رہے ہیں۔ بہار سرکار کے خود کے اعداد و شمار یہ بتاتے ہیں کہ گزشتہ پانچ سالوں میں جرائم  کے واقعات بڑھے ہیں، زراعت، آبپاشی اور صنعت وغیرہ میں ریاست پیچھے جا رہی ہے۔ ریاست پر 57 ہزار 664 کروڑ روپے کا قرض ہوگیا ہے یعنی ہر بہاری پانچ ہزار سات سو روپے کے قرض تلے دبا ہوا ہے۔ بہار کی فی کس آمدنی بھی ملک کی سبھی ریاستوں سے کم ہے۔ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت بڑھانے کی کوششیں رنگ نہیں لا رہی ہیں۔ دیگر جگہوں کی بات تو الگ، راجدھانی پٹنہ میں لوگوں کو بجلی کی کٹوتی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ ہر شعبے میں بد عنوانی نے اپنے پائوں پھیلا لیے ہیں۔ ایک سال پہلے سی اے جی کی رپورٹ کے ذریعہ 16 ہزار کروڑ روپے کا گھوٹالہ سامنے آیا تھا۔ اس کے بعد جو سی اے جی کی رپورٹ آئی ہے اس میں گھوٹالے کی یہ رقم دوگنی سے بھی زیادہ بڑھ گئی ہے۔ یہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے، مطلب پچھلی سرکار میں جو گنی چنی گاڑیاں تھوڑی چلتی ہوئی دکھائی دی تھیں ان کے بھی پنکچر ہونے کے حالات پیدا ہوگئے ہیں۔
حال ہی میں 75 لاکھ روپے کی پھرَوتی کے لیے زراعتی شعبے کے ایک افسر کے بیٹے کو مار ڈالا گیا۔ گوپال گنج جیل میں ڈاکٹر کو قتل کر دیا گیا۔ پٹنہ کے بس اڈے پر ایک بڑے ایجنٹ کو شام کے وقت بھون ڈالا گیا۔ فاربس گنج میں پولس فائرنگ میں چار لوگوں کی موت نے تو نظم ونسق کی پول ہی کھول دی۔ بہار پولس کی ویب سائٹ بتاتی ہے کہ 2005 میں جرائم کی تعداد 1,04,781 تھی جو 2010 میں بڑھ کر 1,37,572 ہوگئی۔ کرائم ریکارڈ بیورو کے اعداد وشمار بتاتے ہیں کہ بہار میں اغوا کے دس معاملے روزانہ پیش آتے ہیں ۔ بھلے ہی ریاستی سرکار پولس کی شبیہ کو عوام میں دوست کے روپ میں پیش کرنے کا دعویٰ کرتی ہے مگر سارن ضلع  کے مانجھی تھانے میں قتل کے ایک معاملے میں منڈل کارا میں بند ایک لڑکی کو پولس ریمانڈ میں لے کر اس کے ساتھ کی گئی بد سلوکی نے ریاستی سرکار کے منصوبوں پر  پانی پھیر دیا۔ مذکورہ لڑکی کو نشیلی چیز کھلا کر اس کے ساتھ زبردستی کیے جانے سے پوری ریاست میں سنسنی پھیل گئی۔ اس لڑکی کو مانجھی تھانہ میں مقدمہ نمبر 115/11 کے تحت درج قتل کے ایک معاملے میں 24 گھنٹے کے لیے  ریمانڈ پر لیا گیا تھا۔ ریمانڈ سے لوٹنے کے بعد اس لڑکی نے اپنے ساتھ زبردستی کیے جانے کا الزام لگایا تو کارا کے سپرنٹنڈنٹ، کمار منگلم نے صدر اسپتال کے سِوِل سرجن کو خط لکھ کر لیڈی ڈاکٹر ، ڈاکٹر کِرن اوجھا سے اس کی میڈیکل جانچ کرائی۔
ڈاکٹر اوجھا نے لڑکی کی عصمت دری ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے اپنی رپورٹ پیش کردی ہے۔ ممبر پارلیمنٹ رام کرپال یادو کہتے ہیں کہ کیا گڈ گورننس میں تھانے میں زنا بالجبر ہوگا، کیا جیل میں ڈاکٹر کا قتل ہوگا ، کیا حق مانگنے پرپولیس  گولی چلائے گی؟
اسمبلی انتخابات کے وقت جب مرکزی وزراء بہار آکر مرکزی منصوبوں کی آدھی  ادھوری ترقی پر بولتے تھے تو کہا جاتا تھا کہ انتخابی فائدے کے لیے ایسا کیا جا رہا ہے۔ گزشتہ دنوں مرکزی وزیر برائے دیہی ترقیات جے رام رمیش پٹنہ آئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ بہار سرکار کو اخراجات کی رفتار بڑھانے کی ضرورت ہے۔ منریگا کے فروغ پر بے اطمینانی ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پردھان منتری گرام سڑک یوجنا  میں جہاں دوسری ریاستوں میں 60 فیصد کام ہوا ہے وہیں بہار کی حصولیابی 35 فیصد ہے۔ اگر ریاستی سرکار مطالبہ کرے تو 12 ہزار کروڑ روپے دیے جاسکتے ہیں۔ منریگا کے تحت ریاست کا لیبربجٹ 2600 کروڑ روپے کا ہے،جسے چار گنا بڑھایا جا سکتا ہے۔ وزارت دیہی ترقیات کی اسکیموں کے لیے اسپیشل آڈیٹر جنرل مامور کیے جائیں گے۔ جے رام نے کئی غلط فہمیاں دورکردیں۔ پہلی یہ کہ جتنا کہا جارہا ہے اتنا کام ریاست میں نہیں ہورہا ہے۔ریاست چاہے تو مرکز پیسہ دینے کو تیار ہے، لیکن کام اور اس کے خرچ پر اب سخت نگرانی ہوگی۔ ظاہر ہے پیسہ پیسہ کرنے کی عادت چھوڑنی ہوگی، کیوںکہ اعداد وشمار بتاتے ہیں کہ قومی سطح پر فی لاکھ آبادی پر 257 کلو میٹر سڑک ہے، جبکہ بہار میں فی لاکھ محض 90 کلو میٹر سڑک ہے۔
زراعتی ترقی کا لاکھ ڈھنڈورہ پیٹنے کے باوجود یہ تلخ سچائی ہے کہ بہار میں زراعتی پیداوار فی ایکڑ گھٹ رہی ہے۔ یہاں فی ہیکٹیئر دھان کی پیداوار 15 کوئنٹل ہے، جبکہ پنجاب میں40 کوئنٹل ہے۔ 2001-02 میں بہار میں دھان کی پیداوار کی صلاحیت 55 کلوفی کس تھی جو 2008-09 میں گھٹ کر 51 کلو رہ گئی۔ بہار میں مَکّا کی پیداوار 25 کوئنٹل فی ہیکٹیئر ہے ، جبکہ آندھرا پردیش میں 40 کوئنٹل۔ بیج ، کھاد اور دیگر سامان کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے کسانوں کو قرض دینے کی اسکیم کامیاب نہیں ہو رہی ہے۔ قرض دینے کے جو سالانہ ہدف رکھے گئے ہیں وہ گزشتہ پانچ سالوں میں کبھی پورے نہیں ہوئے۔ 2005-06 میں 5 لاکھ 66 ہزار کریڈٹ کارڈ تقسیم کرنے کا ہدف تھا، لیکن تقسیم ہوئے صرف 3 لاکھ 18 ہزار کارڈ۔ 2008 میں 15لاکھ کے مقابلے صرف10 لاکھ کریڈٹ کارڈ بنے۔
ڈیزل سبسڈی کے نام پر جو لوٹ مچی وہ جگ ظاہر ہے۔ گیا ضلع میں تو مُردوں کو بھی ڈیزل سبسڈی دے دی گئی۔ میلہ لگا کر سبسڈی دے کر کسانوں کو زراعتی سامان دینے کی اسکیم بد عنوانی میں ڈوبی ہوئی ہے۔ بکسر میں بینکوں اور انتظامیہ کے ذریعہ بائع سے ساز باز کرکے خریداری میں کروڑوں روپے کا گھوٹالہ کرنے کا الزام لگا یا گیا۔ آر ٹی آئی کی درخواست کے بعد سرکاری سطح پر اس کی جانچ ہوئی۔ جانچ رپورٹ کا نمونہ دیکھئے  –  سر وشری نوین ہارڈ ویئر، اسٹیشن روڈ، بکسر کا بِل نمبر 32/06 مورخہ 29 مارچ 2006 ،جانچ رپورٹ کہتی ہے کہ اسٹیشن روڈ بکسر میں مذکورہ ادارہ کا کہیں پتہ نہیں چلا۔ مقامی لوگوں سے پوچھنے پر لوگوں نے اس کے بارے میں لاعلمی ظاہر کی۔ جانچ میں ڈپٹی کمشنر برائے تجارتی ٹیکس پرمود کمار گوالیا کے علاوہ سی بی آئی کے دُرگاپرساد منڈل اور ششی بھانو شامل تھے۔اسی طرح سرو شری شیو شکتی مشینری اسٹورس اور سروشری چودھری انٹر پرائزز کے بارے میں جانچ رپورٹ کہتی ہے کہ ان ناموں کا کوئی ادارہ حالیہ دنوں میں نہیں ہے۔ غور طلب ہے کہ نوین ہارڈ ویئر سے 12 ہزار آٹھ سو، چودھری انٹر پرائزز سے 16 ہزار پانچ سو اور شیو شکتی مشینری اسٹورس سے 18 ہزار 500 روپے کی خریداری دکھائی گئی، جبکہ جانچ رپورٹ کہتی ہے کہ ان ناموں سے کوئی دکان بکسر میں ہے ہی نہیں۔ اس طرح کے ہزاروں معاملے بہار میں بھرے پڑے ہیں۔ زراعتی سامان صرف کاغذوں میں خرید کر بانٹ دیا گیا۔ ابھی حال ہی میں جنتا دل یو کے ممبر اسمبلی شیام بہادر سنگھ نے دیہی امور کے وزیر بھیم سنگھ پر رشوت خوری کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ بہار شریف میں تعینات راج بلی سنگھ کینسر کے  مریض تھے۔ اپنے آخری وقت میں انہوں نے خاندان کے ساتھ چھپرا میں رہنے کی خواہش ظاہر کی تھی، لیکن لاکھ کوششوں کے باوجود وزیر بھیم سنگھ نے راج بلی سنگھ کا تبادلہ نہیں کیا۔آخر کار راج بلی سنگھ نے دم توڑ دیا۔ ایل جے پی کے جنرل سکریٹری راگھو یندر کشواہا کہتے ہیں کہ کیا کوئی سرکار اتنی بے حس ہوسکتی ہے کہ آخری سانس گن رہے اپنے ملازمین کی خواہش کا بھی احترام نہیں کرسکتی۔تعلیمی نظام پر بھی اعلیٰ تعلیم سے لے کر پرائمری تعلیم تک طرح طرح سے انگلی اٹھائی جارہی ہے۔اے ایس اے آر ( آزاد ادارہ)کے سروے کے مطابقبہار میں پانچویں کلاس کے 70 فیصد طلباء کلاس دو کی سطح کا بھی علم نہیں رکھتے ۔ تعلیم و تربیت کے لیے مرکز سے پیسہ آیا لیکن ٹیچر کا تقرر نہیں ہوا اور پیسہ واپس چلا گیا۔ ملک کی اوسط شرح خواندگی 74.6 فیصد ہے جبکہ بہار کی اوسط شرح خواندگی 63.82  فیصد ہے۔ پلاننگ کمیشن کی ایک کمیٹی نے 2008-09 میں ریاست کا سروے کیا تھا۔ کمیٹی کی رپورٹ میں کہا گیا کہ بنیادی تعلیمی ڈھانچہ کے اشاریوں کے مطابق بہار کا ملک میں35واں نمبر ہے۔ قومی تعلیمی اسکیم اور یونیورسٹی انتظامیہ کی رپورٹ کے مطابق پرائمری اور َاپَرْ پرائمری سطح پر بہار سب سے پیچھے ہے جبکہ مرکزی سرکار اساتذہ کی تربیت کے لیے پیسہ مہیا کراتی ہے۔
بہار میں 408 میں سے 235 اساتذہ کی اسامیاں آج بھی خالی ہیں۔ 6.5 فیصد اسکولوں میں کوئی ٹیچر نہیں ہے۔ 20 فیصد میں پینے کے پانی کا بندوبست نہیں ہے، 56 فیصد اسکولوں میں بیت الخلاء نہیں ہیں اور 88 فیصد اسکولوں میں لڑکیوں کے لیے الگ سے بیت الخلاء نہیں۔ 63 فیصد طلباء و طالبات ہی پرائمری اسکول سے ہائی اسکول میں پہنچتے ہیں جبکہ قومی شرح 84 فیصد ہے۔ ٹھیکے پر بحال اساتذہ کے بارے میں پہلے ہی بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔ وی سی کی تقرری پر جو وبال مچا ہوا ہے اس سے تعلیمی صورتحال خود بخود سامنے آجاتی ہے۔
ریاست کی زر خیز زمین والے علاقے گزشتہ پانچ سال سے کم ہو رہے ہیں۔ 2005-06 میں کل زرخیز زمین 4830ہزار ہیکٹیئر تھی، جو 2009-10میں کم ہو کر 4441 ہزار ہیکٹیئر رہ گئی۔ آبپاشی کی سہولت کی وسعت کی جگہ 380ہزار ہیکٹیئر زمین ان پانچ سالوں میں آبپاشی کی سہولیات سے محروم ہو گئی۔ نہر کے ذریعے سینچائی 2005-06 میں 1661 ہزار ہیکٹیئر(34.38فیصد) تھی، جو گھٹ کر 2009-10 میں 1202.45 ہزار ہیکٹیئر (27.3)فیصد رہ گئی۔ 2005-06تک بڑی نہریں 1661 ہزار ہیکٹیئر کل زرخیز علاقہ کے 34 فیصد حصہ کو آبپاشی مہیا کراتی تھیں۔ ان کی شراکت 2009-10 میں گھٹ کر 1202 ہزار ہیکٹیئریعنی 27 فیصد رہ گئی۔چھوٹی نہروں کے ذریعہ زرخیز زمین میں بھی کمی آئی ہے۔ یہ 1920 ہزار ہیکٹیئر سے گھٹ کر صرف 17.5 ہزار ہیکٹیئر رہ گئی ہے۔ آبپاشی کے لیے بڑے اور متوسط کسان ٹیوب ویل کی طرف راغب ہوئے ہیںاور ان کی حصہ داری کل آبپاشی میں بڑھی ہے، لیکن بیشتر اضافہ نجی ٹیوب ویلوں میں ہوا ہے، حالانکہ بجلی کی کمی اور ڈیزل مہنگا ہونے کی وجہ سے ان کی حالت بھی خستہ ہے، جنہوں نے ٹیوب ویل لگوائے ہیں۔2006-07میں نابارڈ کے تحت سال 2009-10 تک ریاست میں2764 بجلی سے چلنے والے پمپ لگانے کا منصوبہ بنایا گیا، لیکن صرف 938 ٹیوب ویل لگائے جا سکے۔
صنعتوں کی بات کریں تو مارچ 2007 سے مارچ 2009 کے درمیان پبلک سیکٹرس کی 28 کمپنیاں بند ہوئیں۔ روزگار مہیا کرانے کے معاملہ میں پبلک سیکٹر کافی پیچھے ہیں۔ مارچ 2009تک کل 21250ملازم پبلک سیکٹر میں تھے،ان میں سے 15317 ملازم صرف 4 کارپوریشن میں ہیں، حالانکہ یہ چاروں بھی خسارے میں چل رہی ہیں۔ باقی تقریباً7ہزار ملازم 59کمپنیوں میں ہیں۔ 31کمپنیاں تو ایسی ہیں، جن میں کئی نے تو 16 سالوں سے کوئی آڈٹ ہی نہیں کرایا ہے۔ مثلاً بہار کا ٹورزم ڈیولپمنٹ کارپوریشن لمیٹڈ ، بہار اسٹیٹ فوڈ اینڈ سول سپلائی کارپوریشن لمیٹڈ، بہار اسٹیٹ برج ڈیولپمنٹ کارپوریشن، بہار ہائڈرو الیکٹرک پاور کارپوریشن لمیٹڈ، متسے ڈیولپمنٹ کارپوریشن، بہار فاریسٹ ڈیولپمنٹ کارپوریشن، بہار اسٹیٹ سیڈ کارپوریشن لمیٹڈ، بہار اسٹیٹ اسمال انڈسٹریز کارپوریشن اور اسٹیٹ ایکسپورٹ کارپوریشن وغیرہ شامل ہیں۔  سرمایہ کاری کی شروعاتی کوششوں میں نتیش حکومت کو مدد ملی،لیکن جیسے جیسے حقیقت کا علم سرمایہ کاروں کو ہوا، وہ راہ فرار اختیار کرنے لگے۔ 2008-09 سے لے کر اکتوبر 2010تک کل ایک لاکھ 81ہزار 4سو کروڑ کی398تجاویز کو ریاستی حکومت نے منظور کیا، لیکن ان تین سالوں میں اکتوبر 2010تک اس میں کوئی حقیقی انویسٹ منٹ نہیں ہوا۔ بیاڈا زمین کے الاٹمنٹ میں دھاندلی کا معاملہ  عدالت میں زیر سماعت ہے۔
ریاست میں چینی کی پیداوار گھٹ رہی ہے۔ سال 2006-07 میں یہ 4.5لاکھ ٹن تھی، جو 2007-08میں 3.90لاکھ ٹن اور 2008-09 میں اورکم ہو کر 2.2 لاکھ ٹن پر پہنچ گئی۔ ریاست میں کل 33چینی ملیں تھیں، جن میں اب 28ملیں بچی ہیں اور ان میں بھی سبھی سرکاری ملیں بند ہو گئی ہیں۔ طبی سہولیات کے معاملہ میں بھی حکومت کی کافی کرکری ہورہی ہے۔1641ابتدائی طبی مراکز میں سے صرف 533 مراکز 24 گھنٹے کام کرتے ہیں۔69,246سماجی طبی کارکن اور آشا اسکیم کے تحت مقرر 10ہزار سے زائد کارکنان تربیت یافتہ نہیں ہیں۔ کسی کے پاس دوائوں کا کٹ بیگ نہیں ہے۔ آنگن باڑی کارکنان کی تعداد پہلے ہی ضرورت سے کافی کم تھی، اب اور گھٹتی جا رہی ہے۔ ابتدائی طبی مراکز کافی کم ہیں۔ ریاست میں2489ابتدائی طبی مراکز ہونے چاہئیں، جبکہ ہیں صرف 1774۔ سال 2008 میں کل 11,107 طبی مراکز تھے، جو اکتوبر 2010تک گھٹ کر 10632 رہ گئے۔ 2008 میں ایک لاکھ کی آبادی پر 13 صحت مراکز تھے، جو 2009-10 میں صرف 11 رہ گئے۔ بچوں کی شرح اموات میں بہار سب سے آگے ہے۔ یہاں ہر 1000 بچوں میں ایک تہائی غذائی قلت سے مرتے ہیں۔ ’سٹیزن الائنس اگینسٹ مالنیوٹریشین’ ادارہ کی ایک رپورٹ کے مطابق ، بہار کا ہر دوسرا بچہ غذائی قلت کا شکار ہے۔ اشتہاروں کے ذریعہ حکومت کی خوبصورت تصویر دکھانے کی کوشش کا اثر کتنے دنوں تک رہے گا، یہ تو پتہ نہیں، لیکن اب ضرورت صحیح معنوں میں بہار کی حقیقی ترقی کی جانب دھیان دینے کی ہے۔
بہار کے اس پورے سیاسی تناظر کا مایوس کن پہلو یہ ہے کہ اپوزیشن پارٹیاں بھی پوری طاقت کے ساتھ سڑکوں پر آکر گڈ گورننس کے سبز باغ کی مخالفت کرنے میں جھجھک رہی ہیں۔ پہلے تو اپوزیشن نے یہ کہا کہ وہ چھ ماہ تک کچھ نہیں بولے گی۔ ان چھ ماہ میں نتیش کی کسی بھی غلط پالیسی کی مخالفت نہیں ہوئی۔ جب یہ وقت گزر گیا تو بھی جھجھک پوری طرح نہیں ٹوٹ پا رہی ہے۔ اکا دکا مخالفت نظر آ رہی ہے، لیکن عوام کے درمیان یہ پیغام نہیں جا رہا ہے کہ اپوزیشن پوری ایمانداری سے کام کر رہی ہے۔ پورنیہ ضمنی انتخاب میں بھی اپوزیشن کا مشترکہ امیدوار کھڑا نہیں ہو پایا، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بی جے پی کی امیدوار بھاری ووٹوں سے جیت گئیں۔ کہنے کو تو آر جے ڈی اور ایل جے پی میں اتحاد ہے، لیکن زمین پر یہ کہیں نظر نہیں آتا۔ کانگریس اپنے ہی دشمنوں سے پریشان ہے اور کمیونسٹ اپنی زمین بچانے میں لگے ہیں۔ ایک طرح سے عوام کے سامنے نتیش کے خلاف متبادل کا فقدان ہے، جس کا فائدہ گزشتہ انتخابات میں جے ڈی یو، بی جے پی اتحاد کو ملا۔ حالات کم و بیش ویسے ہی ہیں اور اگر اس میں سدھار نہ ہوا تو سبز باغ دکھانے کے باوجود نتیش کی مبینہ گڈ گورننس قائم رہے گی۔g

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *