بائچنگ بھوٹیا: ہم تم کو بھلا نہ پائیں گے

اے این شبلی
سال2007کی بات ہے۔نئی دہلی کے امبیڈکر اسٹیڈیم میں نہرو کپ فٹبال ٹورنامنٹ کھیلا جا رہا تھا۔ میڈیا باکس میں میری ساتھ والی سیٹ پر ہندوستان میں فٹبال کے انسائیکلو پیڈیا کہلانے والے نووی کپاڑیہ بھی بیٹھے تھے۔چونکہ ہندوستان میں فٹبال کی معلومات ان سے زیادہ کسی کو نہیں ہے اور وہ دنیا بھر میں فٹبال کے بڑے بڑے ٹورنامنٹوں کی کمنٹری کر چکے ہیں اس لیے میں نے ان سے پوچھا کہ سر کیا ہندوستان بھی کبھی عالمی کپ فٹبال میں کھیل سکتا ہے؟انہوں نے مجھ سے کہا، بھائی یہ اگلے50سال تک ممکن نہیں ہے۔ہندوستان اگر بائچنگ جیسا دو چار کھلاڑی پیدا کردے تو یہی ہندوستان کے لیے بڑی بات ہو جائے گی۔ کپاڑیہ صاحب نے دو بڑی باتیں کہیں، ایک تو یہ کہ ہندوستان میں جیسا فٹبال کھیلاجاتا ہے اور یہاں فٹبال پر جتنا کم دھیان دیا جا تا ہے اس سے یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ ہندوستان عالمی کپ میں کھیلے۔ اور جو انہوں نے دوسری بات کہی اس سے ہندوستانی فٹبال میں بائچنگ بھوٹیا کی حیثیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ ہندوستان کے اب تک کے سب سے مشہور کھلاڑی بائچنگ بھوٹیا نے گزشتہ دنوں فٹبال سے ریٹائرمنٹ کا فیصلہ لے لیا۔
ہندوستان میں کرکٹ کے علاوہ دوسرے کھیلوں کے دو چار کھلاڑی ہی ایسے ہیں جنہیں عام طور پر ہندوستانی کھیل شائقین پہچانتے ہیں۔ان  میں سے بائچنگ بھوٹیا بھی ایک ہیں۔یوں تو ہندوستان میں ہر کوئی کرکٹ کا دیوانہ ہے مگر ایسے میں بھی بھوٹیا جیسے کھلاڑی کو لوگ پہچانتے ہیں تو یہ ان کا کمال ہے۔اگر آپ اچانک کسی سے پوچھیں کہ فٹبال کے کسی ایک کھلاڑی کا نام بتاؤ، یقین جانئے سو فیصد لوگ سب سے پہلا نام بھوٹیا کا ہی لیں گے۔کرکٹ میں اس سوال کے جواب میں سچن کے علاوہ کسی دوسرے کھلاڑی کا بھی نام آ سکتا ہے مگر فٹبال میں بھوٹیا کے علاوہ اور کسی کا نام نہیں آ سکتا۔ یہ بھوٹیا کے عمدہ کھیل کا ہی کما ل ہے کہ انہیں لگ بھگ16سالوں تک ہندوستان کی خدمت کرنے کا موقع ملا۔ سکم کے ایک معمولی سے گاؤں میں 15دسمبر1976کو پیدا ہونے والے بھوٹیا نے فٹبال میں بہت نام کمایا۔انہیں فٹبال کھیلنے کا شوق ان کے بڑے بھائی کو دیکھ کر ہوا جو مقامی سطح پر فٹبال کھیلتے تھے۔بھوٹیا کو فٹبال کے علاوہ بیڈمنٹن،باسکٹ بال اور ایتھلیٹکس میں بھی دلچسپی تھی مگر انہوں نے اپنا کریئر فٹبال میں ہی بنایا۔بھوٹیا کے والدین نہیں چاہتے تھے کہ ان کا بیٹا کھیلوں میں دلچسپی لے مگر بھوٹیا کے چچا کرما بھوٹیا نے ان کا داخلہ سینٹ ژیویرس اسکول میں کرا دیا جہاں صرف نو سال کی عمر میں ہی بھوٹیا کو اسپورٹس اتھارٹی آف انڈیا کی طرف سے اسکالر شپ ملی۔ بھوٹیا  پہلی بارقومی سطح پر سرخیوں میں تب آئے جب انہوں نے1992میں سبرتو کپ کے دوران شاندار کھیل پیش کیا اور ٹورنامنٹ کے بہترین کھلاڑی قرار پائے۔ سبرتو کپ میں بہتر کھیل پیش کرنے کے بعد انہیں ہندوستان میں فٹبال کے گڑھ کولکاتا میں کھیلنے کا موقع ملا۔1993میں اسکول چھوڑ کر بھوٹیا نے ایسٹ بنگال کلب جوائن کر لیا۔دو سال بعد وہ جے سی ٹی ملس بھگواڑہ میں شامل ہو گئے اور1996-97میں ان کے بہترین کھیل کی بدولت اس کلب نے انڈیا نیشنل فٹبال لیگ پر قبضہ کیا۔بھوٹیا اس لیگ میں سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی بنے۔یہاں بہترین کھیل پیش کرنے کے بعدانہیں نہرو کپ میں کھیلنے کا موقع ملا اور اس طرح ان کے انٹرنیشنل کریئر کی شروعات ہوئی۔ازبکستان کے خلاف میچ میں انہوں نے گول کیا اور صرف19سال کی عمر میں انٹرنیشل گول کرنے والے پہلے ہندوستانی کھلاڑی بنے۔1997میںسیف چمپئن شپ میں ہندوستان نے مالدیپ کو 5-1سے شکست دے کر خطاب حاصل کیا ۔ اس میں ایک گول بھوٹیا کا بھی تھا۔دو سال بعد ہندوستان نے ایک بار پھر بنگلہ دیش کو شکست دیکر خطاب کا دفاع کیا۔فائنل میں ہندوستان کی طرف سے دو گول ہوئے جن میں ایک گول بھوٹیا کا تھا۔2002میں ہندوستان نے ویتنام کو شکست دے کر ایل جی کپ جیتا۔فائنل میں ہندوستان کی طرف سے تین گول ہوئے جن میں سے دو گول بھوٹیا نے کیے۔2009کا نہرو کپ بھوٹیا کے لیے خاص ثابت ہوا کیونکہ اسی ٹورنامنٹ کے دوران انہوں نے ہندوستان کی طرف سے اپنا 100واں میچ کھیلا اور ایسا کرنے والے وہ پہلے ہندوستانی بنے۔1996میں انہیں سال کے بہترین فٹبال کھلاڑی کے ایوارڈ سے نوازا گیا۔1997میں فیڈریشن کپ میں ایسٹ بنگال کی طرف سے کھیلتے ہوئے انہوں نے موہن بگان کے خلاف تین گول کیے اور وہ اس طرح کے ٹورنامنٹ میں ہیٹ ٹرک کرنے والے پہلے کھلاڑی بنے۔ 1999سے لے کر2002تک انہیں انگلش ڈویژن دو کی ٹیم بری کے خلاف کھیلنے کا موقع ملا۔ایسا کرنے والے وہ ہندوستان کے پہلے کھلاڑی بنے۔
فٹبال کی جب بھی بات ہوتی ہے تو سب سے پہلے بھوٹیا کا ہی نام آتا ہے۔ان کی اہمیت کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ہندوستان کے سابق کوچ باب ہاٹن نے ایک بار کہا کہ بھوٹیا  فٹبال کے سچن تندولکر ہیں۔فٹبال میں بہتر کھیل پیش کرکے بھوٹیا تو اپنا نام روشن کرتے ہی رہے دو بار وہ کسی دوسری وجہ سے بھی سرخیوں میں آئے۔پہلی بار 2008میں جب انہوں نے  تبتی لوگوں پر مبینہ طور پر چین کے مظالم کے خلاف احتجاج میں 2008 بیجنگ اولمپکس کی مشعل لینے سے انکار کر دیا تھا۔دوسری بار بھوٹیا سرخیوں میں تب آئے جب انہوں نے ٹیلی ویژن کے ڈانس پروگرام ’’جھلک دکھلا جا‘‘ میں کوریوگرافر سونیا جعفر کے ساتھ شرکت کی۔کمال تو تب ہو گیا جب بھوٹیا فاتح قرار پائے اور بطور انعام انہیں 40لاکھ روپے ملے۔انعام کی نصف رقم انہوں نے خیرات کر دی اور نصف رقم انہوں نے اپنی جوڑی دار جعفر کے ساتھ بانٹ لی۔
بائچنگ نے 10 سے زیادہ سال تک ہندوستان کی کپتانی کی اور لگ بھگ 16 سال کے بین الاقوامی کریئر میں انہوں نے 107 میچوں میں 42 گول داغے۔ وہ ہندوستان کے واحد اور دنیا کے ان گنے چنے بین الاقوامی کھلاڑیوں میں سے ایک ہیں جنہوں نے  اپنے ملک کے لیے 100 یا اس سے زائد میچ کھیلے۔ بھوٹیاکی قیادت میں ہندوستان نے تین بار جنوبی ایشیا فٹ بال فیڈریشن چمپئن شپ ، دو بار 2007 اور 2009 میں نہرو کپ اور 2008  میں اے ایف سی چیلنج کپ جیتا۔بھوٹیا کو1998میں ارجن ایوارڈ اور2008میںپدم شری سے نوازا گیا۔ اب بھوٹیا کو ہم میدان پر نہیں دیکھ پائیں گے لیگن فٹبال میں ان کی گراں قدر خدمات ہمیں ہمیشہ ان کی یاد دلاتی رہیں گی اور فٹبال شائقین کے لیے انہیں بھلا پانا ممکن نہیں ہوگا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *