انا کی تحریک کا حصہ بنیں

وصی احمدنعمانی
کسی  بھی جمہوریت میں عوام کی شہنشایت ہوتی ہے ۔ ان کے حکمراں یہ خود ہیں، کوئی فرد واحد یا جماعت نہیں ہے۔ اس لیے ان کے ذریعہ چنی ہوئی سرکار اس وقت تک زندہ بخیریت رہ سکتی ہے جب تک کہ اس سرکار کو اس کے مالک عوام کی سرپرستی حاصل ہے۔ انّا کی تحریک اسی بات کی یاد دہانی کے لیے ہے۔ ہندوستان کے ہر گائوں اور شہر و قصبہ میں ’’ انا تم سنگھرش کرو ہم تمہارے ساتھ ہیں‘‘ کے نعرے لگ رہے ہیں۔طلبائ، کسان، مزدور، رکشہ ڈرائیور، سب کے سب اپنے اپنے کاروبار سے وقت نکال کر’ انا زندہ باد‘ کے نعرے لگا رہے ہیں ۔یہ ثبوت ہے زندہ ، مضبوط، پختہ اور پائدار جمہوریت کا۔ سونے پہ سہاگا یہ ہے کہ،انا نے عوام سے خطاب کرتے ہوئے جو نعرے دیے ہیں وہ یہ ثابت کرتے ہیں کہ انا ایک مضبوط، پختہ اور سمجھدار رہنما ہیں۔ تشدد ہرگز نہیں ہونا چاہیے۔ سرکاری املاک کو نقصان نہیں پہنچنا چاہیے۔ اگر تشدد کا راستہ اختیار ہوا تو ہماری تحریک دم توڑ دے گی۔ ہم آخری سانس تک کرپشن کے خلاف لڑائی لڑیں گے، مگر تشدد کا راستہ نہیں اپنائیں گے وغیرہ وغیرہ۔ اگر ایسا ہی ہوا جیسا کہ انا نے آدیش دیا ہے تو یہ اس بات کا ثبوت ہوگا کہ پوری تحریک ان کے کنٹرول میں ہے۔ اور پھر حکومت اور ہندوستان کو محتاط اور خبردار ہو نا ہوگا، کیوںکہ یہ ایسے دور اندیشانہ اقدام ہیں جو کسی بھی جمہوری ملک میں کامیابی کی علامتیں ہیں۔ نوجوانوں کی سیسہ پلائی دیوار کی طرح جمی ہوئی، منظم اور متحد بھیڑ اس بات کو اور مضبوط کرتی ہے کہ انا کی مانگ کو حل کرنے کے لیے سیاسی چال کی نہیں، نہایت صاف اور پاک مَن کی ضرورت ہے۔ مگر ہر لمحہ تحریک میں اتارچڑھائو ہورہا ہے۔ کب کس وقت کون سا رخ یہ تحریک اپنا لے گی اس کا درست قیاس کرنا مشکل ہے۔مگر یہ بات بالکل پختہ ہے کہ انا اپنی تحریک، جب تک ان کے قبضہ اور اختیار میں ہے، ٹھیک راستہ پر لے کر چلتے رہیں گے اور کامیابی انہیں ملے گی، انشا ء اللہ، کیوں کہ ان کی زبان سے اب تک صرف وہ الفاظ نکلے ہیں جو جمہوریت کو پختہ کرنے، مضبوط کرنے اور عوام کو ان کے اختیارات دینے کے لیے لازم ہیں۔ کون انکا ر کرسکتا ہے انا کی باتوں سے کہ تمام سرکاروں کے وزراء مدمست، مغرور ، خود غرض اور ناعاقبت اندیش ہوتے ہیں۔ چند ضرور اچھے ہوتے ہیں جن کے دم سے حکومتیں چلتی ہیں۔ گائوں ، دیہات سے ضرور ت مند لوگ ان کی وزارت کا چکر لگاتے رہتے ہیں، مگر ان کے در تک رسائی ممکن نہیں ہوتی ہے اور یہ احساس ہوتا ہے کہ شاید پورا ملک انگریزوں کے تاریک دور میں رہ رہا ہے، جہاں ہندوستانیوں کے ساتھ برا سلوک کیا جانا ان کی شان ہوتی ہے۔ دفتروں میں آئی اے ایس، آئی پی ایس، سکریٹریز اور دیگر عہدیداروں کی جانب سے نہایت مغرور انہ رویہ پیش کیا جاتا ہے۔ مگر حالات و خواہشات کی تکمیل کے ساتھ کام کرنے میں کیسے فائلوں کو پَر لگ جاتے ہیں اور کام آناً فاناً میں ہوجاتا ہے، یہ سب کٹھن کے باعث ہیں ان کے لیے جن کے پاس حکام کی ہتھیلی کو گرم کرنے کے ذرائع نہیں ہیں۔عدلیہ، انتظامیہ ، قانون ساز کے ایوان لوگوں کی نگاہوں میں اپنی ساکھ کھوتے جارہے ہیں اور صرف الزام کی حد تک نہیں۔ آئی اے ایس ، آئی پی ایس، ججز کے ساتھ بڑے بڑے حکام کرپشن اور بد عنوانی کے جرم میں لوگوں کی نگاہ سے نہ جانے کتنی بار گر چکے ہیں۔ سپریم کورٹ سے لے کر ہائی کورٹ اور ٹریبونل کے ممبران عوامی سخت نگاہی کے شکار ہوتے رہے ہیں اور ان سب کے عتاب سے بچ بھی جاتے رہے ہیں۔ فرقہ پرستی کے دیوانوں نے تو ہندوستان کی جمہوریت کو گھن کی طرح چاٹ چاٹ کر کھوکھلا کر دیا ہے۔ اگر کوئی انسان ان گھنائونی ، غیر قانونی حرکتوں کے خلاف آواز اٹھاتا ہے تو ہندوستان اسے انا کا نام دے کر گاندھی، جے پرکاش کی طرح سرپر بٹھانے لگتا ہے۔جو اس وقت تحریک نے شکل اختیار کی ہے وہ ان لوگوں کو جنگ آزادی کی جھلک پیش کرتی ہے کہ کس طرح لوگ مجاہدین آزادی کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے مادر وطن کو غلامی سے چھڑانے کے لیے اپنا سب کچھ تیاگ کر، فرض پورا کرتے ہیں۔
انا کی تحریک کو تقویت مل رہی ہے کونے کونے سے کیونکہ ملک کا ہر گوشہ کرپشن کی دلدل میں پھنسا ہوا ہے اور چیخ چیخ کر کہہ رہا ہے کہ یہ سادھو، سنتوں، رشیوں، منیوں، بزرگوں، صوفیوں، ولی اللہ کا دیش ہے۔ اس لیے یہاں بد عنوانی ، کرپشن فرقہ پرستی کو پروان نہیں چڑھنے دیا جائے گا ۔ یہی آواز ہے ملک کے گوشہ گوشہ سے۔ اس آواز کو تقویت خوب ملے گی ۔ مضبوطی خوب ملے گی۔لیکن یہ بات بھی قابل غور ہے کہ انا کی تحریک میں کچھ بڑی خامیاں ہیں۔جو انا کی طرف سے نہیں بلکہ دور بیٹھ کر تماش بینوں کی اپنی کمی کی وجہ سے ہے۔ مثال کے طور پر انا اور اس کے ہم نوا جب بھی نعرہ لگاتے ہیں تو صرف مہاتما گاندھی، سبھاش چندر بوس، وویکانند جی جیسے عظیم الشان ہندوستانیوں کا ہی نام لیتے ہیں۔ایک بار بھی مولانا ابولکلام آزاد ، علی برادران، حضرت مولانا حسین احمد مدنی ، ریشمی رومال ،جمعیۃ علماء ہند، خان عبد الغفار خان وغیرہ کا نام نہیں لیا جاتا ہے۔یہ اس تحریک کی کمی نہیں ہے۔ اس مجاہدین آزادی کا نام تو ہماری ملکی و جمہوری بہت سی تقریبوں میں لینا بند کردیا گیا ہے ۔ شاید نئی نسل کو دانستہ طور پر ان ناموں سے دور رکھنے کی ’’ بھگوائی‘‘ ذہنیت کارفرما ہے۔ نتیجہ یہ ہوا ہے کہ انا کی یہ صاف و شفاف تحریک کہیں فرقہ پرست ٹولی کی ڈولی میں نہ سوا ر ہوجائے۔ایسا خوف لوگوں کے ذہن میں بجا طور پر طاری ہے۔ غالباً یہی وجہ رہی ہو کہ ہندوستان کے نہایت معزز علماء کرام نے انا کی ’’ہائی جیک کی جارہی‘‘ تحریک پر اپنے محفوظ رویہ کا اظہار کرکے عوام کو آگاہ کیا ہے کہ ’’ ذرا سنبھل کے‘‘، طوفان میں صحت مند طاقیں تنکے کی طرح بہہ نہ جائیں۔ اس کا خیال رہے۔ لیکن میں ایک کم فہم انسان کی حیثیت سے یہ بات کہنے کی جرأت کروں گا کہ انا کی تحریک کی شروعات میں بڑی بڑی جامع مسجدوں،اور عظیم ذہنوں کی جانب سے حوصلہ افزاء بلکہ ساتھ تک دینے کا اعلان کردیا گیا تھا۔ آہستہ آہستہ ٹھیک ’’ یو‘‘ ٹرن لے لیا گیا۔ایسا کیا جانا قومی زندگی کے لیے غالباً نقصان دہ ہے۔ اس میں سے نہ ملک کا بھلا ہوگا اور نہ ان کا جو دورسے اپنے خیالات کا اظہار کرکے فرض کی ادائیگی سمجھ لیتے ہیں، کیوںکہ انا کے اسٹیج پہ صرف ان لوگوں کا قبضہ یا دخل ہے جن کی ذہنی تربیت ان کے بچپن کے ماحول کے زیر اثر ہے۔ وہی ذہن اپنے مخصوص رنگ میں کارفرما ہوگا۔ اور ایسا قدرتی طور پر ہے، کسی بناوٹ کے بغیر ہے ۔ اس تحریک میں کوئی بھی اللہ اکبر یا خدا مددگار کا نعرہ لگائے تو حالات کے پیش نظر کوئی روکنے والا نہیں ہے، مگر ایسا نعرہ صرف وہ لگا سکتا ہے جو دل و جان سے اس تحریک سے جڑ کر کرپشن اور بد عنوانی کے خاتمہ کے لیے ان کے ساتھ کوشاں ہے۔ صرف تحریر ، تقریر تک محدود نہیں ہے۔ اس لیے یہ کہنا کہ صرف وندے ماترم جیسے نعرے لگائے جاتے ہیں مناسب نہیں ہے۔ کوئی جائے تو سہی اور یا خدا مدد ، ہندوستان زندہ باد ، ہندوستان پائندہ باد، کا نعرہ لگا کر تو دیکھے۔اگر ان نعروں کی مخالفت ہوتی ہے تو الزام درست ہوگا، اس کے قبل نہیں۔ ہاں ان سے یہ بات کی جانی چاہیے کہ آپ کو تمام طبقہ کے لوگوں کے سپورٹ کی ضرورت ہے۔ مولانا ابولکلام آزاد ، علی برادران ، جمعیۃ علماء ہند، آزاد ہند فوج کے جیالے جنرل شاہنواز جیسے قد آور لوگوں کا بھی نعرہ لگائیں گے تو اس تحریک کو اور مضبوطی ملے گی، ورنہ کوئی طبقہ بھی اس سے الگ تھلگ چھوڑدیا گیا تو اس سے کمزوری پیدا ہوگی۔ میرا یقین ہے، انا جن فوجی اصولوں کے پروردہ ہیں اور جس لگن و ایمانداری سے تحریک چلا رہے ہیں انہیں یہ مسودے قبول ہوں گے اور وہ اللہ اکبر، یا خدا مدد ، اتحاد زندہ باد،ہندوستان زندہ باد کے نعرے لگانے کی بھرپور تائید کریں گے۔ ہندوستان کے کونے کونے سے نوجوانوں کا جتھا یا ٹولی بنا کر دلی کی طرف مارچ کرنا، اس بات کا ثبوت ہے کہ کیا گائوں ، کیا چوپال ،شہر اور کالج ، سب کے سب کرپشن سے بے حال ہیںاور انا کی تحریک کی تائید میں سب اس لیے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں، کیوں کہ ہر ایک نے کرپشن کی مار کو جھیلا ہے۔ اسکول میں داخلہ ہو، راشن کارڈ بنوانا ہو، ریلوے ریزرویشن ہو، کسانوں کے ذریعہ بیج خریدنا ہو،مویشیوں کا علاج ہو یا معصوم بچو ں کی مڈ ڈے میل میں گھپلا ہو، سب میں بزرگو ںکے ذریعہ قربانی دے کر حاصل کی گئی آزادی کو مجروح کردیا گیاہے۔اس لیے سب کے سب انا کی ایک آواز پر لبیک کہہ کر کرپشن سے چھٹکارا پانا چاہتے ہیں ۔
میں ان صاف ذہنوں میں ایک بات ڈالنا چاہوں گا کہ ان کی شکایت ہے کہ صرف ’وندے ماترم‘ جیسے نعرے لگائے جاتے ہیں اور اس سے ایسا لگتا ہے کہ اس تحریک کو  آر ایس ایس،  بجرنگ دل، وشو ہندو پریشد نے قبضہ کرنے کی پوری تیاری کر لی ہے، درست ہو سکتی ہے، مگر ایسا کیوں ہورہا ہے یا لگتا ہے، اس سے اپنے آپ کو کنارہ کرکے نہیں رہ سکتے ہیں۔ایسا اس لیے بھی ہو سکتا ہے کہ آر ایس ایس،  بجرنگ دل، وشو ہندو پریشد وغیرہ تنظیمیں منظم ہیں۔ ہر گائوں، شہر اور قصبہ میں ہیں ان کے رضاکار اور جہاں جہاں بی جے پی کی حکومت ہے وہاں وہاں انہیں بھرپور مدد،  تعاون اور تحفظ حاصل ہے کیوںکہ ٹیموں اور حکومتوں کا مقصد ایک ہے، ہندوستان پر اپنے نظریہ کے ذریعہ حکومت کرنا۔ اس کے مقابل کوئی دوسری تنظیم موجود اور منظم نہیں ہے، اگر ہے تو اسے ہر طرح سے مجروح کردیاجاتاہے۔اسی لیے اس طرح کی صحت مند تحریک میں بھی یہ نکھر کر سامنے نہیں آپاتی ہے، مگرا س کا حل کیا صرف اعتراض کردینا اور بیان و تحریر کے ذریعہ انگلی اٹھا کر رہ جانا ہے ،نہیں ہرگز نہیں۔ اس کا صرف ایک طریقہ ہے، وہ یہ کہ تنظیمیں ہوں ، ان کی دیکھ ریکھ ہو، اس کی ترقی اور فروغ کے لیے ان جماعتوں کا ساتھ دیا جائے جو ہماری ضرورتوں کو جمہوری اقدار کے پیش نظر سپورٹ کرتے ہیں، ورنہ خود اپنی جماعت بنا کر اختیارات و اقتدار میں حصہ لینے کی جدو جہد تیز ہونی چاہیے۔اگر اقتدار میں حصہ دارنہیں ہیں تو ہم ہر اچھی تحریک پر تبصرہ تو کرسکیں گے مگر کوئی اپنی تحریک پیدا کرکے ملک کی ترقی و خوش حالی میںببانگ دہل حصہ نہیں لے سکیں گے۔ اس کے لیے ضرورت ہے کہ ہمارے نمائندے، جس جس جماعت میں بھی ہوں ان کو مضبوطی دی جائے تاکہ انہیں اس بات کا یقین ہو کہ سیاسی نمائندگی یاختیارات انہیں اس لیے ملے بلکہ وہ خاص مذہب اور طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں، صرف خاص جماعت سے تعلق کی وجہ سے عہدہ یا رتبہ نہیں ملا ہے۔ ایسے سیاسی رہنما کو کبھی شکست دے کر کبھی فتح سے ہم کنار کرکے اپنا بنائے رکھنا ہوگا ، ورنہ یہ دکھانے کو تو ہمارے، مگر عملی طور پر ’’ان کے‘‘ ہوکر رہ جاتے ہیں۔
جنگ آزادی کے پیغام کو میڈیا نے فلم ’گاندھی‘ ، مجاہدین آزادی وغیرہ کے ایپی سوڈ دکھا کر، جنگ آزادی کے تئیںمحبت بھر دی ہے، اس لیے یہ تحریک انہیں جنگ آزادی کی سی تحریک لگتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نوجوان طوفان کی طرح اس سے جڑ گئے ہیں۔ اس طرح کی تحریکیں جنم لیتی رہیں گی، انا جنم لیتے رہیں گے۔ ہماری دانشمندی ہوگی کہ یا تو ہم اس طرح صاف و شفاف تحریکوں میں شامل ہوکر اس کا حصہ بن کر مستقبل کو روشن کریں، دور سے تبصرہ اور صرف بیان دے کر اپنی ذمہ داری پوری نہ کریں۔ یا پھر اپنی تحریک خود شروع کرکے ، انا بنیں گاندھی بنیں ، پھر سے ابولکلام آزاد بنیں، جنرل شاہ نواز بنیں، یہی اس وقت ملکی تقاضہ ہے۔ ہندوستان کی جمہوریت، سیکولر اقدار بھائی چارہ اور محبت زندہ ہے تو سب کچھ باقی ہے ورنہ سب کچھ ختم ہوجائے گا، اس لیے انا کی تحریک میںنئے سرے سے آئیں اور اپنے اجداد کی قربانی، ترکیب اور جد وجہد کے سہارے وقت کی رفتار اور نبض کو پہچانیں۔ اب ہندوستان اپنی کروٹیں بدل رہا ہے۔ ہم ان کروٹوں کو پہچانیں اور اپنے مضبوط قدم سے کرپشن کے خلاف قدم اٹھائیں۔ اپنے لیے ، ملک کے لیے آنے والی نسل کے لیے ، خاموش نہ رہیں۔g

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *