انا ہزارے کی تحریک اور ہندوستانی مسلمان

شبیہ احمد
سولہ اگست 2011سے 28اگست 2011تک یعنی محض13دن یوں تو کوئی لمبی مدت نہیں ہے اور ہندوستان جیسے کثیر الآبادی ملک کے لیے یوں بھی کوئی خاص بات نہیں ہے، کیونکہ یہاں کے لاکھوں عوام آزادی کے چونسٹھ برس مکمل ہو جانے کے بعد بھی ابھی تک غریبی کی سطح سے نیچے زندگی گزارنے کے لیے مجبور ہیں، اور ان میں سے بیشتر کو دن کیا مہینوں کوئی روزگار نہیں ملتا اور کئی کئی برس بیکار بیٹھے رہتے ہیں۔ عوام کے خون پسینہ سے چلنے والی ہندوستانی جمہوریت کا شاہی ایوان یعنی پارلیمنٹ میں جہاں محض چند افراد کی سیاسی موشگافیوںکی بدولت، ہفتوں کام نہیں ہوتا، جہاں کے سرکاری دفاتر میں ہفتوں کیا مہینوں تک بس فائل کی اٹھا پٹھک چلتی رہتی ہے۔ ایسے ماحول میں تیرہ دن کی کیا اہمیت ہے، لیکن بات ایسی رہی نہیں ہے۔ اچھی بات تو یہ ہے جو اب اظہرمن الشمس ہے، اور جس کا اعتراف اب وہ لوگ بھی دبی زبان سے کر رہے ہیں، جو شروع سے انا ہزارے کی تحریک کی مخالفت کر رہے تھے، کہ یہ تیرہ دن آزادی کے بعد کی ہندوستانی سماج کی تاریخ کا سب سے اہم سنگ میل ثابت ہوں گے۔ اب بہت سے لوگوں کی سمجھ میں یہ بات آنے لگی ہے کہ 15اگست 1947کو ہمیں انگریزوں کی غلامی سے جو نجات ملی تھی وہ ادھوری ہے، حقیقت تو یہ ہے کہ اس دن صرف انگریز نسل کے حاکم ہندوستان سے گئے تھے، لیکن اپنے پیچھے اپنی جیسی سیاسی اشرافیت کا ایک مضبوط طبقہ، اپنے سسٹم کی مضبوط نشانیاں یعنی بیوروکریسی اور پولس کا مضبوط ڈھانچہ اور کریمنل کوڈ بھی جیوں کا تیوں چھوڑ گئے تھے۔ سب سے بڑی انسانی حاکم اور محکوم کے بیچ کی کھائی ، امیر اور غریب کے بیچ کا فاصلہ، جیوں کا تیوں باقی رہا، سوائے اس کے کہ ہر پانچ سال کے بعد ہندوستانی عوام کے ہاتھوں میں ایک مضبوط ہتھیار الیکشن کا باقی رہ گیا، جسے وہ ایک مقررہ مدت کے اختتام پر استعمال کر کے حاکموں کی ٹولی کو بدل سکتا ہے۔ لیکن پانچ سال کے دوران اگر حکمراں طبقہ غیر قانونی روش اختیار کرتا ہے، دستور کی دھجیاں اڑاتا ہے تو اس کے خلاف صرف پارلیمنٹ میں آواز اٹھائی جا سکتی ہے، جہاں اس طرح کی انقلابی آواز عام طور پر سیاسی ضررتوں کی نذر ہو جاتی ہے۔
اس بیچ میں اگر ملک کی سڑکوں پر کوئی عوامی تحریک اٹھائی گئی، حکمراں طبقہ کے  مفاد کو چاہے وہ جس پارٹی کی بھی حکومت ہو، جب بھی چیلنج کیا گیا، اسے ملک و قوم کے مفاد کے خلاف سمجھا گیا، اور اس کو دبانے کے لیے عام طور پر بہت سخت اقدامات اٹھائے گئے، بغیر یہ سوچے ہوئے کہ یہ آواز اٹھانے والے بھی اتنے ہی ملک اور قوم کے خیر خواہ ہیں جتنے حکومت کے چلانے والے، ان آوازوں کو انارکی کی طرف لے جانے والا کہا گیا۔ شاید اسی صورتحال کا اندازہ فیض احمد فیض نے ملک کی آزادی کے حصول کے وقت ہی لگاتے ہوئے کہا تھا کہ ’وہ انتظار تھا جس کا، یہ وہ سحر تو نہیں‘۔
اس صورتحال کا نتیجہ عام طور پر یہ ہوا کہ ملک کا ایک متعدبہ طبقہ خود ہندوستانی جمہوریت سے اور پارلیمانی نظام حکومت سے مایوس ہوتا چلا گیا، جس کے نتیجہ میں ہر آنے والے انتخابات میں گوکہ ووٹروں کی تعداد بڑھتی رہی لیکن ووٹ نہ ڈالنے والوں کی تعداد بھی مستقل بڑھتی رہی۔اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ آج ہندوستان میں کافی بڑا طبقہ، جس میں تعلیم یافتہ لوگ بھی شامل ہیں، ہندوستان کی موجودہ صورتحال سے سخت بددل ہیں اور انھوں نے اپنی آرزوئوں، اپنے خوابوں کی تکمیل کا راستہ مائوواد اور نکسل واد میں تلاش کر لیا ہے، یعنی جو پورے جمہوری نظام میں ہی یقین نہیں رکھتے ہیں۔ غور سے دیکھا جائے تو یہ لوگ نہ تو غیر ملکی ہیں اور نہ ہی پولس کے ریکارڈ میں ٹیررسٹ یا آتنک وادی ہیں، ویسے ہندوستانی پولس کے لیے کسی کو بھی آتنک وادی گھوشت کر دینا کوئی مشکل کام نہیں ہے، اس کی بے شمار مثالیں ہندوستانی جیلوں میں قید بے شمار بے گناہ افراد ہیں، جن پر دہشت گردی اور ملک دشمنی کے الزامات لگا کر جیلوں میں ٹھونس دیا گیا اور ان کی آرزوئوں کو ختم کر دیا گیا ہے۔
آزاد ہندستان کی تاریخ میں یہ تیرہ دن اس لیے اہم ہیں کہ ہندوستانی عوام کے ہاتھ میں ان تیرہ دنوں نے ایک مؤثر ہتھیار فراہم کیا ہے، کہ اگر سیاسی ٹولہ اپنے مفاد کے پیش نظر عوامی ترجیحات کا خیال نہ رکھے،ملکی مفاد کے برعکس اپنے مفاد کے لیے سیدھا کام کرنے لگے تو عوام کو یہ حق ہے کہ اس کے خلاف مؤثر آوازاٹھائیں اور اگلے انتخابات کا انتظار نہ کریں، کیونکہ اب دیکھا یہ جا رہا ہے کہ انتخابات میں سیاسی جوڑتوڑ اس طرح کی جاتی ہے کہ ہندوستانی انتخابات اب عوام کی خواہش کا آئینہ نہ رہ کر ہندوستانی سیاسی پارٹیوں کی خواہشات کا مظہر ہو گئے ہیں۔ عام طور پر جن نمائندوں کو عوامی نمائندہ کہا جاتا ہے، وہ دراصل ملک کی سیاسی پارٹیوں کے ایجنٹ ہوتے ہیں جو انتخابات میں جیت کر اپنے سیاسی آقائوں کے مفاد کو آگے بڑھانے کا کام کرتے ہیں اور جو ایسا نہیں کرتے یعنی جن لوگوں نے ان کو چن کر بھیجا ہے ان کے حقیقی مفادات کی ترجمانی کرنے کا بیڑہ اٹھاتے ہیں، ان کی آواز عام طور پر پارٹی کے اندر دبا دی جاتی ہے اور پھر ان کو کوئی لالی پاپ دے کر خاموش کر دیا جاتا ہے۔ ان میں سے کچھ ہی ایسے جیالے ہوتے ہیں، جو پارٹی سے بغاوت کر کے اپنی پوزیشن خود بناتے ہیں، لیکن سسٹم کے دیو کے آگے وقت گزرنے پر وہ بھی نقار خانہ میں طوطی کی آواز کی طرح غیر مؤثر ہو جاتے ہیں۔
’ایک دوکا ذکر کیا سارا بدن ہی چھلنی‘ کے مصداق اگر درج بالا خیالات کو ثابت کرنے کے لیے ہندوستانی سیاست کے ورق کھنگالے جائیں تو ایک دفتر رقم ہو جائے گا۔ جو بات غور کرنے کی ہے وہ یہ کہ ان تیرہ دنوں نے ہندوستانی عوام کو ایک نئی طاقت دی ہے، ان کی خواہشات کو جِلا بخشی ہے، اور دہلی کی سڑکوں پر ایک نئی تاریخ لکھی گئی ہے۔ اس سے پہلے صرف ایمر جنسی (1975)اور جے پرکاش کی ملک گیر تحریک نے آزاد ہندوستان میں صرف اس کی مثال قائم کی تھی، جس وقت ملک کے ہر طبقہ سے تعلق رکھنے والے افراد نے اس وقت کی سب سے مضبوط سیاسی طاقت کو چیلنج کیا تھا، ایسی سیاسی طاقت جسے خود اپوزیشن کی ایک نمائندہ جماعت بی جے پی کے سربراہ نے ایک موقع پر درگا کا روپ کہا تھا۔
28اگست 2011کو 10بجے جب انا ہزارے نے ایک دلت اور ایک مسلم بچی کے ہاتھوں سے اپنا تیرہ دن کا انشن توڑا تو وہ سب کے سب لوگ بونے نظر آنے لگے جو حکومت کی مضبوط کرسیوں پر عوامی نمائندہ بن کر براجمان ہیں۔ ان سب لوگوں کا قد بھی بہت چھوٹا ہو گیا جو ملک کی مختلف سیاسی پارٹیوں کے عہدوں پر ونش واد کی مہم چلا کر یا ذاتی انا و وقار کا مسئلہ بنا کر اس تحریک کی مخالفت کر رہے تھے۔ اگر ہندوستانی سیاست کو غور سے دیکھا جائے تو تقریباً ہر سیاسی پارٹی کسی فرد واحد یا اس کے خاندان کے مفاد کی آماجگاہ بن کر رہ گئی ہے، اور اس میں صرف وہی چاپلوس نما عناصر پنپ پاتے ہیں جو اس مخصوص فرد یا اس کے خاندان کے مفادات کی ترجمانی کرنے کا مقدس فریضہ انجام دینے میں لگے رہتے ہیں۔ کسی بھی پارٹی کا نام لے لیجئے، شمال میں ہو یا جنوب میں پوری سیاست کچھ خاندانوں کی غیر مشترک زمینداری میں سمٹ کر رہ گئی ہے، گوکہ ملک سے زمینداری کا خاتمہ کر دیا گیا ہے۔
مصحفی ہم تو یہ سمجھے تھے کہ ہوگا کوئی زخم
کام سینہ میں تیرے خوب رفو کا نکلا
انا ہزارے نے کرپشن کے خلاف اپنی تحریک چلا کر یہ رفو گری کا کام کیا ہے جسے امیدہے ہندوستانی عوما آگے بڑھانے کا بیڑہ اٹھائیں گے۔ یہاں یہ کہنا ضروری ہوگا کہ موجودہ پارلیمنٹ سیشن میں جس طرح یو اپی اے حکومت اور بی جے پی نے ایک دوسرے کے گلے میں بانہیں ڈال کر کرپشن کے مدعے کو نظر انداز کیا، اس کے خلاف بھی ملک کے عوام نے کرپشن کے تئیں موجود نفرت اور بیزاری کو اناہزارے کی تحریک کے لیے ماحول سازگار کیا اور ملک کے ہر علاقے اور ہر طبقے نے اس سیاسی چال کے خلاف بیزاری کا اظہار کیا۔
اگر نہیں سمجھ پائے تو ہمارے خود ساختہ مسلم قائدین جنھوں نے عام طور پر یہ تاثر دینے کی کوششیں کی کہ ملک کے مسلمان، انا ہزارے کی تحریک میں شامل نہیں ہیں۔ دراصل بات صرف اتنی تھی کہ ملک کا عام مسلمان جو مختلف طبقہ ہائے فکر سے تعلق رکھتا ہے، جس میں بے شمار سرکاری دفتروں میں کام کرنے والے  مسلمان ہیں، جس میں یونیورسٹیوں، کالجوں کے طالب علم ہیں، جس میں کارپوریٹ سیکٹر میں ملازم ہیں، جس میں میڈیا اور اخباروں کے دفتروں میں کام کرنے والے ملازمین ہیں، جس میں بے حد دبے کچلے مسلمان ہیں، جو بدعنوانی، مہنگائی اور کرپشن کی مار کو اس طرح جھیل رہے ہیں جیسے کہ غیر مسلم ہندوستانی، لیکن ان پر خالص مسلمان کا لیبل نہیں لگا تھا، کیونکہ وہ ان مضبوط عناصر کے زر خرید غلام نہیں تھے جنہیں ان خود ساختہ مسلم قائدین نے اپنا قیمتی اثاثہ بتا کر ایوان شاہی اور سیاسی حکام سے اپنے سیاسی مفادات اور ذاتی اغراض کے برسوں سودے طے کیے ہیں اور کاروبار چلایا ہے۔
تعجب کی بات یہ ہے کہ اس عوامی تحریک سے جماعت اسلامی اور جمعیۃ العلماء جیسی تنظیموں کے قائدین نے خود کو الگ رکھا۔ جماعت اسلامی نے تو ابھی حال میں اپنی ایک الگ سیاسی پارٹی بنائی ہے، اس کے لیے تویہ ایک نادر موقع تھا اپنی سیاسی پہچان بنانے اور ہندوستانی سیاست کے سیکولر ڈھانچے میں خود کو فٹ کرنے کا، لیکن ان کے قائدین کی سیاسی ناعاقبت اندیشی نے ان کو ایسا نہ کرنے دیا۔ مسلمانوں کی ایک اور مؤقر ملی تنظیم، ملی کونسل نے بھی اپنی چار اینٹ کی مسجد الگ بنائے رکھنے پر ہی قناعت کی۔ کل ملا کر مسلم مجلس مشاورت کے علاوہ باقی ماندہ مسلم قائدین اور مسلم تنظیموں نے انا ہزارے تحریک سے دوری بنائے رکھنے میں ہی بھلائی سمجھی۔اس کی وجہ سمجھنے کے لیے مسلمانوں کی سیاسی و ملی قیادت کے بنیادی کیرکٹر اور لوازمات کو سمجھنے کی ضرورت ہوگی۔
مسلمانوں کی سیاسی قیادت کا ایک بہت بڑا حصہ تو ان سیاسی قائدین کا ہے جن کا دامن اور مستقبل کسی نہ کسی سیاسی پارٹی سے بندھا ہوا ہے اور ان کے سیاسی آقائوں نے ان کی زبانوں، ذہنوں اور سوچ پر پارٹی کی سیاسی وفاداری نے مہر لگا رکھی ہے۔وہ کوئی بھی اسٹینڈ لینے سے پہلے اپنے سیاسی آقائوں کی طرف دیکھنے پر مجبور ہیں۔ وہ وہی بولتے ہیں جو پارٹی چاہتی ہے اور وہی کرتے ہیں جوپارٹی کا یا اس کے فرمانروا کا حکم ہوتا ہے۔ کچھ لوگ سیاسی وفاداری کی قیادت کرنے کی دوڑ میں اتنا آگے نکل جاتے ہیں کہ جہاں عقل بھی ساتھ چھوڑ دیتی ہے، مثال کے طور پر اس کی ایک ہلکی سی جھلک انا کی مخالفت کی شکل میں پارٹی ترجمانوں کے ذریعے دیے گئے بیانات میں دیکھنے کو ملی، کسی نے اس کے اثاثوں پر انگلی اٹھائی اور ایک تازہ تازہ ہوئے ترجمان نے ان کی پشت پر امریکی ہاتھ دیکھ لیا۔
بہر حال، بات صرف اتنی ہے کہ انا ہزارے کی تحریک سے ہمارے سیاسی قائدین کی دکانوں کو کوئی فائدہ نہیں ہو رہا تھااس لیے یاتو وہ خاموش تماشائی بنے رہے یا انھوں نے ڈھکے چھپے لفظوں میں، اور کچھ نے کھل کر تحریک کی مخالفت کی۔ دراصل ان کو ڈر ہے کہ اگر مسلمانوں نے ملک کی عام تحریکوں سے خود کو جوڑ لیا یعنی وہ اپنے نفع و نقصان کا سودا خود کرنے لگے تو ان کی سیاسی بساط تو الٹ جائے گی اور پھر انہیں کون پوچھے گا، اور وہ جو اَب تک مسلمانوں کے نام پر سودے بازیاں کرتے رہے ہیں، وہ سودے بازیاں کیسے ہوں گی، پھر نہ راجیہ سبھا کی سیٹیں ان کو دی جائیں گی اور نہ ان کے کہنے پر لوک سبھا کے ٹکٹ۔دراصل مسلم قیادت کو اس بات کا بھی شکوہ ہے کہ انا ہزارے نے کبھی ان کو نہیں گردانا۔ انہیں اس قابل نہیں سمجھا کہ ان سے سپورٹ دینے کی درخواست کی جائے۔
مسلم قائدین کی اس بے قدری کی وجہ دراصل یہ بھی ہے کہ مسلم مسائل کے علاوہ عام طور پر عام مسلمان ان کی گرفت میں ہیں ہی نہیں۔ اسی لیے اپنی پکڑ بنائے رکھنے کے لیے انہیں ہمیشہ کسی مسلم مسئلہ کا ہی سہارا لینا پڑتا ہے ماسوائے ایمر جنسی کے خلاف تحریک کے جس میں مرحوم عبد اللہ بخاری نے حصہ لیا تھا اور جس کے پھل انھوں نے جنتا پارٹی کے دور حکومت میں اور اس کے بعد ان کے لائق جانشینوں نے اب تک حاصل کیے ہیں۔
اگر ہم ہندوستان میں مروجہ حکومت سے اختلاف، ایجی ٹیشن کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو خلافت تحریک (1920 سے 1923تک) کو چھوڑ کر سیاسی منظر نامہ میں کوئی اور ایسی تحریک نظر ہی نہیں آتی، جب ہندومسلمانوں نے کندھے سے کندھا ملا کر کسی تحریک کی قیادت کی ہو، لیکن وہ تحریک بھی جلد ہی شدھی سنگٹھن اور تنظیم و تبلیغ تحریکوں کی نذر ہو گئی تھی۔ اس کے بعد اس ملک کی آزادی کی تاریخ میں کبھی دو اور کبھی تین اور چار دھارے مستقل الگ بہتے ہی نظر آئے۔ دراصل اس کے لیے 1857کی آزادی کی لڑائی اور اس وقت پیش آنے والے واقعات بہت حد تک ذمہ دار تھے۔اس کے لیے ذمہ دار وہ عناصر بھی تھے ، جنھوں نے 1797میں ٹیپو سلطان کو بے یار و مددگار چھوڑ کر انھیں انگریزوں کے ہاتھوں جام شہادت پینے کے لیے مجبور کر دیا تھا، جنھوں نے 1757میں بھی پلاسی کی لڑائی میں سراج الدولہ کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا تھا۔ 1857کا المیہ تو ایک مصرعہ میں سمٹ آیا ہے کہ ’ہم بھی ہمیشہ قتل ہوئے ہیں اور تم نے بھی دیکھا دور سے لیکن‘، اور اس کے بعد سے مسلم قیادت ایک قسم کی سیاسی تنزلی کا شکار ہو گئی اور عام طور پر ملک کے عام مسائل سے نبرد آزما ہونے کے لیے صرف سیاسی پارٹیوں اور ان کے قائدین کو چھوڑ دیا گیا۔
حالانکہ یہ صورتحال خاصی افسوسناک ہے۔ آج کامسلمان بے شک پہلے مسلمان ہے لیکن اس کی زندگی عام طور پر ملک میں پھیلی ہوئی بدنظمی ، کرپشن اور مہنگائی سے اتنی ہی متاثر ہے جتنی کسی غیر مسلم ہندوستانی کی ، کیونکہ وہ مسلمان کے ساتھ ساتھ ہندوستانی بھی ہے اور اگر ملک غلط راستہ پر چلتا ہے ، یہاں بدعنوانی پھیلتی ہے تو اس کی زندگی بھی اتنی ہی متاثر ہوتی ہے جتنی کسی دوسرے ہندوستانی کی۔ مہنگائی کی مار کا شکار وہ اس اعتبار سے اور زیادہ ہوتا ہے، کیونکہ وہ پہلے ہی غریبی کی مار کچھ زیادہ ہی جھیل رہا ہے، اس کے بچے کو اچھے نمبر حاصل ہونے کے بعد قاعدے کے کورس میں اس کی قابلیت اور خواہش کے مطابق داخلہ نہیں ملتا تو وہ یہ سوچنے پر مجبور ہو تا ہے کہ آخر میری خطا کیا ہے۔اس کی تو جو مستند قیادت سمجھی جاتی ہے وہ اس کے ان مدعوں کو اٹھانے کے لیے کوئی تحریک نہیںچلاتی، اس کے تعلیمی مسائل کو حل کرنے کے لیے دو چار تنظیموں کو چھوڑ کر کوئی پہل کرنے کو تیار نہیں ہے۔سیاسی پارٹیاں منشور میں ان سب مسائل کا ذکر کرتی ہیں، لیکن الیکشن کے وقت لفظ مسلم اور اقلیت کے دائو پیچ میں گم ہو جاتی ہیں۔ 34سال تک ایک سیکولر پارٹی مغربی بنگال میں بنا شرکت غیرے حکومت چلاتی ہے ،لیکن ریاست کے پسماندہ طبقہ کے لیے کوئی اسپیشل اقدامات نہیں کرتی، ایک ہی پارٹی کی ملک میں کم و بیش 40-50سال حکومت رہتی ہے، وہ اقلیت نواز ہونے کا دم بھی بھرتی ہے لیکن مسلمانوں کے مسائل حل کرنے کے نام پر ایک مسلمان کو نائب صدر جمہوریہ اور کبھی کبھی صدر جمہوریہ بنا کر اپنے سارے فرائض کی ادائیگی سمجھ لیتی ہے، بہت ہوا تو رمضان میں وہ اتحاد باہمی کے نام پر شاندار افطار پارٹیوں کا بھی اہتمام کرتی ہے اور خود کو اقلیت نواز ہونے کے سرٹیفکٹ حاصل کرتی رہتی ہے۔
اس ساری صورتحال کے دامن میں عام مسلمانوں کے اندر ایک لاوا پھوٹ رہا ہے، وہ اس چکر ویوہ سے نکلنے کے لیے ہاتھ پائوں مارنا چاہتا ہے۔جو عام مسلمان انا تحریک کے ساتھ اس وقت جڑا ہے، وہ اسی تبدیلی کی نشاندہی کر رہا ہے، اور اگر اسے جلد ہی کوئی مثبت سمت نہیں ملی تو وہ دن دور نہیں جب ہندوستانی مسلمان اپنی سیاسی بساط صرف اور صرف سیکولر مدعوں پر بچھائے گا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *