ایسے ختم ہوئی انا کی بھوک ہڑتال

سنتوش بھارتیہ
سیاست بڑی پیچیدہ چیز ہے اور اس سے بھی پیچیدہ ہیں ہمارے سیاستداں۔ یہ جو سوچتے ہیں، وہ بولتے نہیں ہیں اور جو بولتے ہیں، وہ کبھی کرتے نہیں ہیں۔ حکومت نے جن لوک پال بل کو پھر سے الجھا دیا ہے۔ میز تھپ تھپا کر ممبران پارلیمنٹ اور سیاسی جماعتوں نے بتا دیا کہ جمہوریت میں رائے عامہ کی کوئی اہمیت نہیں رہ گئی ہے۔ جب بھوک ہڑتال شروع ہوئی تھی، تب بھی لوک پال بل اسٹینڈنگ کمیٹی کے پاس تھا اور آج بھی صورتحال وہی ہے۔ انا کی بھوک ہڑتال ختم ہو گئی، لیکن اپنے پیچھے کئی سوالوں کو چھوڑ گئی۔ جب وہ بھوک ہڑتال پر بیٹھے، تب انہوں نے یہ اعلان کیا تھا کہ جب تک پارلیمنٹ سے جن لوک پال بل پاس نہیں ہوگا، تب تک وہ بھوک ہڑتال اور دھرنا کرتے رہیں گے۔ ٹیم انا اور حکومت کے وزیروں کے درمیان بھوک ہڑتال کے دوران کیا کیا بات چیت ہوئی، کس نے کیا وعدے کیے اور کس نے دھوکہ بازی کی؟ انا کی بھوک ہڑتال اور سمجھوتے کی پوری کہانی بتا رہی ہے یہ خصوصی رپورٹ۔
وزیر  اعظم منموہن سنگھ نے اپنی کابینہ کے ایک ساتھی سے کہا کہ ا ناّ بدمعاش ہیں اور اُن کے ساتھی بدمعاشی کر رہے ہیں۔ عام طور پر منموہن سنگھ ایسی زبان استعمال کرنے کے لیے جانے نہیں جاتے، لیکن شاید ملک میں چل رہی انا ہزارے کی تحریک کا دباؤ اتنا تھا کہ وہ زبان کے تقدس کو بھول گئے۔ اُسی طرح، جیسے منیش تیواری عمر اور سیاسی اخلاقیات کے عام اصول کو بھول کر انا ہزارے کو ’تم‘ اور بدعنوانی میں ملوث بتا بیٹھے۔ وزیر اعظم نے اپنے ساتھی سے یہ بھی کہا کہ وہ سمجھ نہیں پا رہے ہیں، جب بات چیت میں ایک قدم بات آگے بڑھتی ہے تو بات بن کیوں نہیں پا رہی ہے، تو اس ساتھی نے کہا کہ بات چیت کرنے والوں کی ٹیم توآپ نے ہی بنائی ہے۔ اس پر وزیر اعظم کا جواب تھا کہ اِن لوگوں نے جو کہا، میں نے ویسا کر دیا۔ اس ساتھی کے مطابق، وزیر اعظم ابھی خود پریشان ہیں۔
وزیر اعظم شاید اس لیے پریشان ہیں، کیوں کہ انہیں آج بھی سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کہ آندھی پانی کے باوجود، ایک ایسے آدمی کے ساتھ، جس کے پاس نہ پیسہ ہے اور نہ تنظیم، کیسے سارا ملک کھڑا ہو گیا۔ ملک کے ہر حصے میں ہر طبقہ کے لوگ، ہر ذات اور مذہب سے تعلق رکھنے والے لوگ، ہر عمر کے لوگ، بچوں سے لے کر بڑے تک بدعنوانی کے خلاف لڑائی میں انا ہزارے کے ساتھ کھڑے ہو گئے، گویا خود انا ہزارے ہوں۔ نعرہ لگنا شروع ہو گیا، میں بھی انّا، تم بھی انا۔ جو بازار میں جلوس نہیں نکال سکتے، وہ اپنے محلوں میں جلوس نکالنے لگے۔ عورتیں بچے پربھات پھیری نکالنے لگے۔
وزیر اعظم کے پاس کوئی سیاسی کارکن نہیں پہنچ پاتا۔ ان کی آنکھ کا کام وزارتِ داخلہ کرتا ہے۔ جب چودہ اگست کو کابینہ کی ایک کمیٹی میں وزیر اعظم نے جاننا چاہا کہ اگر سولہ اگست سے انا بھوک ہڑتال کرتے ہیں تو کیا ہوگا، تو وزیر داخلہ چدمبرم کا کہنا تھا کہ پانچ سو سے پانچ ہزار تک مشکل سے لوگ آئیں گے۔ اس پر دوسرے کابینی وزیر کمل ناتھ نے کہا کہ آپ تو رام دیو کے وقت بھی یہی کہہ رہے تھے، لیکن بیس ہزار آ گئے۔ لیکن رام دیو کی تحریک کو کچلنے کے گمان میں ڈوبے وزیر داخلہ نے کہا کہ اُن کے پاس آئی بی ہے، جس نے انہیں خبر دی ہے۔
اگر ایسی آئی بی، یعنی انٹیلی جنس بیورو ہے، جو اس بات کا اندازہ نہیں لگا پائی کہ انا ہزارے کے ساتھ ملک کے عام آدمی کے جذبات جڑ گئے ہیں اور وہ اس لڑائی کو لڑنے نکل پڑے گا، تو آئی بی کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔ ویسے اس پر یقین نہیں ہوتا، کیوں کہ اس تحریک میں ہر سطح کے عہدیداروں کے فیملی ممبران اور قریبی لوگ سرگرمی سے شامل ہیں۔ مجھ سے ایک مرکزی وزیر کے ایڈیشنل پرائیویٹ سکریٹری نے بتایا کہ وہ رام لیلا میدان میں انا کی تحریک کو دیکھنے گیا تو وہ اتنا متاثر ہو گیا کہ اس نے اپنی بیٹی کے نام پر پانچ ہزار ایک روپے کی رسید کٹوا لی اور اپنی حمایت اس تحریک کو دے دی۔ رام لیلا میدان میں تیس سے چالیس ہزار عورتیں اور مرد ہمیشہ ڈٹے رہے۔ ان کے کھانے پینے کے لیے سامان دینے میں دلّی والوں میں مقابلہ آرائی شروع ہوگئی۔ آلو، آٹا، کیلا، جوس، مٹھائی، جس کی جو بساط تھی، وہ لے کر وہاں پہنچ گیا۔ انا کی رسوئی کھل گئی۔ کوئی بھوکا نہ رہا۔ زبردستی سامان کی مدد دینے والے دہلی کے باہر سے بھی آنے لگے۔
جس گاندھی ٹوپی کو کانگریس اور پوری سیاسی برادری نے دفن کر دیا تھا اور جو صرف کانگریس کی خدمت گار پارٹی کے پروگراموں کی ایک رسم بن کر رہ گئی تھی، اسے انا کی تحریک نے بدعنوانی کے خلاف لڑائی کی علامت بنا دیا۔ بچے، بوڑھے اور جوان پورے ملک میں اس ٹوپی کو پہنے نظر آنے لگے۔ آزادی کے بعد کا قومی پرچم آزادی کی لڑائی کے ترنگے کی شکل میں لوگوں کے ہاتھ میں بدعنوانی کے خلاف لڑائی کا اہم ہتھیار بن گیا۔ لوگوں سے دوری اختیار کر چکی سرکار اور حزب اختلاف یہ سمجھ نہیں پایا کہ انا کی لڑائی میں لوگ کیسے اور کیوں شامل ہو گئے۔اسی لیے حزب اختلاف شروع میں خاموش رہا اور اسے لگا کہ اسے کانگریس کے سیاسی نقصان میں بدلنے دینا چاہیے، جس کا فائدہ اسے ہی ملے گا۔ جب سولہ اگست کو انا کو اُن کے ساتھیوں کے ساتھ گرفتار کیا گیا تو پورے حزب اختلاف کا ایک ہی ردِ عمل تھا کہ انا کو غلط گرفتار کیا گیا ہے۔ انہیں بھوک ہڑتال کرنے دینی چاہیے تھی۔ تین دنوں کے بعد لوگ اپنے آپ گھروں میں واپس چلے جاتے۔ انہوں نے انا کو صلاح دی کہ انہیں پارلیمانی وقار اور سسٹم کا احترام کرنا چاہیے۔ دراصل انہیں لگ رہا تھا کہ انا کی زبان سیاسی نظام کے خلاف ایک بغاوت ہے، جس میں کانگریس کے ساتھ وہ بھی لپیٹ میں آ جائیں گے۔
چودہ اگست سے انا سے نمٹنے کی کمان کپل سبل اور چدمبرم کے ہاتھ میں تھی۔ دونوں بڑے وکیل ہیں۔ دونوں کی زبان بے مثال ہے۔ دونوں کو لگتا ہے کہ مسلح  تحریک بھی ان کی دشمن ہے اور عدم تشدد پر مبنی تحریک بھی ان کی دشمن ہے۔ پہلے نکسلیوں کو فوج کے ذریعے گولیوں سے بھنوانے کا اعلان کرنے والے وزیر داخلہ اچانک خاموش ہو گئے۔ سولہ اگست کو ایک طرف انا کو گرفتار کیا گیا تو دوسری طرف کپل سبل، چدمبرم اور امبیکا سونی نے ایک پریس کانفرنس کی۔ اس پریس کانفرنس کو سارے ملک نے دیکھا اور ملک کو لگا کہ یہ اس کے وزراء جیسی پریس کانفرنس نہیں ہے۔ یہ تو گھمنڈمیں ڈوبی سرکار کی بدعنوانی کی حمایت میں لگائی گئی پر زور آواز ہے۔
کپل سبل اور پی چدمبرم بڑے وکیل ہیں۔ سپریم کورٹ میں ان کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ یہ دونوں وزیر بننے سے پہلے ایک کلائنٹ سے ایک پیشی پر جانے کا چار سے پانچ لاکھ روپیہ لیتے تھے، بھلے ہی جج آکر اگلی تاریخ دے دے۔ ان کے رابطے میں آج بھی وہ ہی ہیں، جو ایک پیشی پر پانچ لاکھ روپے دینے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ کانگریس کارکنان کو چھوڑ دیجئے، کانگریس کے ممبران پارلیمنٹ بھی دونوں سے نہیں مل سکتے۔ اسی لیے دونوں کو ملک کے عوام کا تحریک کرنا اور انا کی حمایت کرنا اپنے خلاف بغاوت لگا۔ اِن کے ٹی وی پر آتے ہی لوگ ٹی وی بند کرنے لگے، کیوں کہ انہیں ان کی باڈی لینگویج اب اپنے نمائندہ یا قائد جیسی نہیں لگتی۔
تہاڑ جیل میں بند انا اور تہاڑ کے باہر ہزاروں لوگ انا کی حمایت میں، پورے ملک میں لوگ انا کی حمایت میں صف آرا ہونے لگے۔ سولہ اگست کی شام میں سرکار کی سمجھ میں آگیا کہ اُس سے غلطی ہوئی۔ اب انا نے جیل سے نکلنے سے انکار کر دیا۔ لیکن سرکار کو چار دنوں بعد سمجھ میں آیا کہ چدمبرم اور کپل سبل کو سامنے سے ہٹا لینا چاہیے۔ کپل سبل کے بیانوں نے ملک میں انا کی حمایت میں اور لوگوں کو کھڑا کر دیا۔ سرکار نے سلمان خورشید کو سامنے کیا۔ سلمان خورشید کی ذمہ داری تھی کہ پردے کے پیچھے ہونے والے فیصلوں کو وہ عوام کے سامنے رکھیں۔ سلمان خورشید کا چہرہ اور زبان سنجیدہ ہے، لیکن مسئلہ کا کوئی حل ان کی بھی سمجھ میں نہیں آرہا تھا۔ سرکار چاہتی تھی کہ جلد از جلد بھوک ہڑتال ختم ہو، کیوں کہ اسے میڈیا سے پتہ چل رہا تھا کہ ہر گزرا ہوا دن انا کی حمایت میں اضافہ کر رہا ہے۔
وزیر اعظم نے وزراء سے باہر ہاتھ پاؤں مارنے شروع کر دیے۔ مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ پرتھوی راج چوان نے کہا کہ بھیو جی مہاراج کو بلاکر انا سے بات کی جائے۔ مرکزی وزیر ایس ایم کرشنا نے شری شری روی شنکر کو بلانے کا مشورہ دیا۔ وزیر اعظم نے دونوں کو بلا لیا، لیکن دونوں کو ایک دوسرے کے بارے میں نہیں بتایا۔ بھیو جی مہاراج قومی سَنت کہے جاتے ہیں اور تقریباً ہر مہاراشٹرین لیڈر کے گرو بھی ہیں اور رشتہ دار بھی۔ انا ہزارے سے بھی ان کے قریبی تعلقات ہیں۔ دہلی آتے ہی وہ پہلے سلمان خورشید سے، پھر وزیر اعظم سے اور بعد میں انا ہزارے سے ملے۔ اب تک انا ہزارے منچ پر ہی سب سے ملتے رہے ہیں، لیکن وہ بھیو جی مہاراج سے بند ٹینٹ میں ایک گھنٹے تک ملے۔ اُن کے ہاتھ میں ایک کاغذ تھا۔ انا نے اُس کاغذ کو پڑھا اور بھیو جی مہاراج کی ذاتی گارنٹی پر وہ اُس پر دستخط کرنے کو تیار ہوگئے۔ انہوں نے قلم بھی نکال لیا۔ لیکن اسی وقت ٹینٹ میں ایک شخص داخل ہوا۔ اسے دیکھتے ہی انا بپھر سے گئے۔ یہ تھے مہاراشٹر کے ایڈیشنل ہوم سکریٹری سارنگی۔ سارنگی کو کسی نے نہیں بلایا تھا، لیکن انہیں لگا کہ وہ اگر بات چیت میں اپنا چہرہ دکھائیں تو انہیں پذیرائی مل سکتی ہے۔ انا نے بھیو جی سے کہا کہ وہ بعد میں بات کریں گے۔ وہ کاغذ انا کے پاس رہ گیا، جسے اروِند کیجریوال نے بعد میں دیکھا اور قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ اِن سب نے انا کو بتایا کہ یہ سرکار کا دھوکہ ہے۔
دوسری طرف شری شری روی شنکر منچ پر کئی بار آکر انا سے ملے اور نیچے اتر کر انہوں نے نامہ نگاروں سے کہا کہ وہ سمجھوتہ کرا دیں گے اور یہ کہ ان کے پاس اچھی خبر ہے، لیکن یہ اچھی خبر کبھی سچائی میں بدل ہی نہیں پائی۔ انا کی بھوک ہڑتال کون سَنت ختم کرائے، یہ بھی مقابلہ آرائی کا موضوع بن گیا۔ شری شری کے پاس وزیر اعظم اور اڈوانی تھے تو بھیو جی کے پاس وزیر اعظم اور گڈکری تھے۔ بھیو جی کے پاس ایک اضافی پتّہ تھا اور وہ تھے خود انا ہزارے۔
اچانک بھیو جی بھی پس پردہ چلے گئے اور سلمان خورشید اور سندیپ دکشت سامنے آگئے۔ وزیر اعظم نے ہر اُس آدمی سے حل نکالنے کے لیے کہہ دیا، جس نے اُن سے کہا کہ وہ حل نکال سکتا ہے۔ عجیب عجیب تجویزیں آئیں۔ کوشش یہ ہو رہی تھی کہ کسی طرح انا بھوک ہڑتال ختم کریں، باقی باتیں ہوتی رہیں گی۔ اسی درمیان سرکار نے ارونا رائے کو آگے کر نیا داؤ کھیلا۔ ارونا رائے نے ایک الگ لوک پال کا بل بنایا۔ ارونا رائے راجستھان میں رضاکارانہ تنظیم (این جی او)  چلاتی ہیں اور حق اطلاع کے لیے جدو جہد کرنے والوں میں سے ایک ہیں۔ اِن دنوں وہ سونیا گاندھی کی ایڈوائزری کمیٹی میں ہیں۔ ارونا رائے ہر ٹیلی ویژن چینل پر آئیں، خاص کر انگریزی چینلوں پر اور انہوں نے یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ انا کی تحریک اور ان کا بل خطرناک اور غیر جمہوری ہے۔ جب ہم اور تہہ میں گئے تو پتہ چلا کہ ارونا رائے نے اُن این جی او کی قیادت سنبھال لی ہے، جو بڑی تحریک میں یقین اس لیے نہیں کرتے، کیوں کہ انہیں آج تک بڑی تحریک کھڑی کرنے میں کامیابی ملی ہی نہیں۔ وہ چھوٹی چھوٹی تحریکیں کرکے غیر ملکی پیسوں سے تنظیم کو چلاتے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ ان کی قمیض سے انا کی قمیض زیادہ سفید کیسے ہے۔ بہت سی رضاکارانہ تنظیموں کو لگا کہ آگے اُن سے سوال ہوں گے کہ کیوں وہ بڑی تحریک کھڑی نہیں کر پا رہے ہیں۔ اِن سب نے مل کر

ارونا رائے کی قیادت میں انا کے طریقے پر سوال کھڑے کرنے شروع کردیے۔ ان کی یہ حرکت ایسی تھی، جیسے کوئی پڑوسی کا اَپ شَکُن کرنے کے لیے اپنی آنکھ پھوڑ لے۔ لوگوں نے ارونا رائے کی بات سننے سے انکار کر دیا۔ ملک میں کوئی جگہ ایسی نہیں تھی، جہاں انا ہزارے کی حمایت میں ماحول نہ بنا ہو اور نعرے نہیں لگ رہے ہوں۔ ایک اور کوشش ہوئی۔ کچھ مسلم لیڈروں اور دلت لیڈروں نے سوال اٹھائے کہ یہ تحریک ان کے حق میں نہیں ہے اور یہ متوسط طبقہ کی تحریک ہے۔ ملک کے مسلمانوں اور دلتوں نے اس دلیل کوردّ کر دیا اور وہ بڑی تعداد میں بدعنوانی کے خلاف چل رہی اس تحریک میں شامل ہو گئے۔ جس طرح سرکار نے اور اپوزیشن پارٹیوں نے انا ہزارے کو لے کر چالیں چلیں، اُن سے پہلے شری شری مایوس ہوئے اور بعد میں بھیو جی۔ دونوں کو یہ بھی لگا کہ انا کے کچھ ساتھی، خاص کر اروِند کیجریوال سمجھوتہ نہیں ہونے دینا چاہتے۔ بھیو جی مہاراج نے کوششیں جاری رکھیں اور انہوں نے اروِند کیجریوال کو سمجھانا چاہا کہ انا کی زندگی زیادہ اہم ہے۔ لیکن انا نے کہا کہ ان کی زندگی سے زیادہ اہم ان کے مدعے ہیں، خاص کر وہ مدعے، جن سے عام لوگوں کا ناطہ ہے۔
کانگریس اور اس کی سرکار نے سارے معاملے کو غیر ذمہ داری کے ساتھ، ٹالنے والے انداز میں لیا، وہیں بی جے پی نے انا کی پہلے مرحلہ میں مخالفت کی، لیکن جب انا نے ممبران پارلیمنٹ کو گھیرنے کی اپیل کی اور پورے ملک میں ممبران پارلیمنٹ کا محاصرہ کیا جانے لگا تو بی جے پی دسویں دن اس نتیجہ پر پہنچی کہ اسے انا کی حمایت کرنی چاہیے، تاکہ کانگریس کے خلاف پیدا ہوئے غصے کا اسے سیاسی فائدہ مل سکے۔ اس نے یو ٹرن لیا اور انا کے لوگوں کے پاس پیغام بھیجا کہ وہ لوگ اس سے ملیں تو وہ حمایت کر دے گی۔ اتفاق سے اسی دن سلمان خورشید کے ساتھ بات چیت میں پرشانت بھوشن اور کیجریوال کو لگا کہ وہ پانچ اپریل کی حالت میں پہنچ گئے ہیں۔ انہوں نے بی جے پی کے لیڈروں سے ملنے کا فیصلہ کیا۔ بی جے پی کے لیڈروں نے ان کی حمایت کر دی۔ اب کانگریس کو لگا کہ وہ جال میں پھنس رہی ہے۔
کانگریس نے پھر بھیو جی مہاراج کو بیچ میں ڈالا اور ان سے کہا کہ وہ انا ہزارے کو تیار کریں۔ بھیو جی نے سلمان خورشید، کپل سبل اور وزیر اعظم سے مل کر مانگیں تیار کیں۔ اُدھر کیجریوال کو لگا کہ کانگریس کو ہی فیصلہ لینا ہے اور انہیں کچھ اشارہ دینا چاہیے۔ وہ پہلے بھیو جی مہاراج سے ملنا نہیں چاہتے تھے، لیکن اب ملنے کے لیے تیار ہوگئے۔ کانگریس نے پتنگ کو تھوڑی ڈھیل اور دی۔ لوک سبھا میں بحث کو ٹالا۔ جمعہ کی رات اور ہفتہ کی صبح سلمان خورشید سے بھیو جی مہاراج، پرشانت بھوشن، کیجریوال اور میدھا پاٹکر ملے۔ اب مانگ صرف اتنی بچی تھی کہ لوک سبھا میں بحث ہو اور لوک سبھا یقین دہانی کرائے۔
ہفتہ کو لوک سبھا کی میٹنگ شروع ہوئی، جس میں اُس پر پہلا دباؤ تھا انا ہزارے کی بھوک ہڑتال کا اور دوسرا دباؤ تھا انا کے اس اعلان کا کہ اگر ہفتہ تک فیصلہ نہیں ہوا تو ملک بھر سے لوگ دہلی کی طرف کوچ کریں۔ دہلی آنے کی انا کی اپیل لوک سبھا تحلیل کرنے کی تحریک میں بھی بدل سکتی تھی۔ اس ساری بحث اور تحریک کے درمیان سونیا گاندھی امریکہ میں اپنے کینسر کا علاج کرا رہی ہیں۔ کینسر پھیل چکا ہے۔ سونیا گاندھی کی غیر موجودگی میں پارٹی اور سرکار بکھری دکھائی دی۔ راہل گاندھی سے جس میچورٹی کی امید تھی، وہ دکھائی نہیں دی۔ ایسے وقت میں، جب بحران ہو، تب ضرورت ہوتی ہے قیادت کی۔ راہل گاندھی کے پاس قیادت فراہم کرنے کا وقت نہیں ہے۔ ان کے لیے یہ سنہرا موقع تھا، جب وہ سامنے آ سکتے تھے اور ملک کے سامنے اپنا دعویٰ ٹھونک سکتے تھے۔ انہوں نے لوک سبھا میں تقریر کی، جس کا خلاصہ یہ تھا کہ انہوں نے مسئلہ کو اور اُلجھا دیا۔ اسی لیے لوک سبھا کی بحث میں کسی نے ان کے مشوروں کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔
ملک کی میڈیا نے، جس میں انگریزی نیوز چینل آتے ہیں، بھرم کی صورت حال پیدا کرنے کی پوری کوشش کی۔ انہوں نے اس بات کو پھیلا یا کہ یہ تحریک متوسط طبقے کی تحریک ہے، جب کہ ہندی نیوز چینلوں نے خود کو انا کی تحریک کا ایک حصہ بنا دیا۔ سرکار کے لیے یہی فکرمندی کی بات رہی کہ وہ ہندی نیوز چینلوں کو انا سے دور کرنے میں کامیابی حاصل نہیں کر پائی۔ جس طرح عوام کا دباؤ کانگریس، بی جے پی، دیگر سیاسی پارٹیوں اور پارلیمنٹ پر پڑا، اسی طرح اس دباؤ نے ہندی چینلوں کو بھی مجبور کر دیا۔ زیادہ تر ہندی چینلوں نے ممبئی سے اپنے سینئر رپورٹرس کو دہلی بلا لیا، تاکہ انہیں انا ہزارے سے رابطہ کرنے میں آسانی رہے۔ لیکن سب سے زیادہ رول عوام کا رہا، جس میں اسّی فیصد حصہ داری نوجوانوں کی رہی۔ نوجوانوں نے جس پرامن انداز میں، صبرو تحمل کے ساتھ انا کی تحریک کا ساتھ دیا، وہ بے مثال ہے۔ نہ جھگڑا، نہ جھنجھٹ، نہ لوٹ اور نہ کھسوٹ۔ یہی لیڈروں پر دباؤ کا سب سے کارگر ہتھیار بنا۔ سرکار اور سیاسی پارٹیوں کے لیے ایک اور خطرہ تھا۔ اگر وہ پرامن تحریک کی بات نہیں سنتے تو انہیں نکسل ازم کی دلیل دینے کا ملزم مانا جاتا۔ اس تحریک کی سنوائی نہ ہونے کا برا نتیجہ بڑی تعداد میں نوجوانوں کو نکسل ازم کے ساتھ جوڑ دیتا۔
انا کی تحریک نے ملک میں اس اعتماد کو پختہ کر دیا کہ لوگوں میں بھی طاقت ہوتی ہے۔ یہ ثابت کر گئی کہ نوجوانوں میں ملک کے لیے پیار ہے اور وہ بھی ملک کے مسائل کے تئیں فکرمند ہیں۔انا کی بھوک ہڑتال ختم ہو گئی۔ انا کی طبیعت بگڑ رہی تھی، شاید اس لیے ٹیم انا حکومت کے جال میں پھنس گئی۔ یہ تحریک پوری سیاسی مشینری کے لیے چیلنج بن کر سامنے آئی۔ ملک کے عوام بدعنوانی ختم کرنے کے لیے انا کے ساتھ کھڑے ہو گئے۔ سبھی سیاسی جماعتوں نے اس عوامی جم غفیر کو سمجھنے میں نہ صرف غلطی کی، بلکہ انہوں نے اپنی ساکھ کو بھی کھو دیا۔ سیاسی چال بازی سے بھوک ہڑتال ختم تو ہو گئی، لیکن ملک کے عوام کے ساتھ دھوکہ ہوا ہے۔ انا نے جن لوک پال بل کو قانون بنانے کے لیے یہ تحریک شروع کی تھی، لیکن تیرہ دنوں کی تحریک کے بعد یہ تین مشوروں تک سمٹ کر رہ گئی۔ جن لوک پال بل پارلیمنٹ میں نہ تو پیش کیا گیا اور نہ ہی اسے پاس کیا گیا۔ انا کے تین مشوروں پر صرف بحث ہوئی اور اسے اسٹینڈنگ کمیٹی میں بھیج دیا گیا۔ سمجھنے والی بات یہ ہے کہ اسٹینڈنگ کمیٹی سرکاری لوک پال بل پر غور کر رہی ہے۔ انا کے تینوں مشوروں پر پھر سے بحث ہوگی، اس کے بعد یہ فیصلہ ہوگا کہ ان مشوروں کو ماننا ہے یا نہیں۔ یعنی یہ معاملہ پوری طرح اسی جگہ پہنچ گیا، جہاں یہ انا کی بھوک ہڑتال سے پہلے تھا۔ سیاسی جماعتوں کی یہ دھوکہ بازی ملک کو مہنگی پڑنے والی ہے۔ اس سے مائونوازوں کو یہ کہنے کا موقع مل جائے گا کہ پر امن تحریک کو سننے والا اس ملک میں کوئی نہیں ہے۔g

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *