اڈوانی جی کی رتھ یاترا کی اصلی کہانی

سنتوش بھارتیہ
آخر جناب لال کرشن اڈوانی نے اپنی یاترا، دوسری رتھ یاترا کا اعلان پارلیمنٹ سے باہر کیوں کیا، وہ بھی سنگھ اور پارٹی سے بات کیے بغیر، یہ راز ہے۔ جب اِس راز کے پیچھے کا راز تلاش کرنے ہم نکلے تو ہمیں وہ ملا، جو عجیب اور حیران کن تو تھا ہی، ابہام سے بھی بھرا ہوا تھا۔ آج کے لوگ اڈوانی جی سے اپنا اسکور سیٹل کرنے میں لگے ہیں۔ وہ بھرم پھیلا رہے ہیں۔ شاید کسی کو سچی کہانی کا پتہ نہیں ہے۔ ہم بتاتے ہیں اڈوانی جی کی یاترا کے پیچھے کی اصلی کہانی، جسے بی جے پی کے اُن لوگوں کے لیے جاننا ضروری ہے، جو بی جے پی کے لیے اپنی جان دینے میں شان سمجھتے ہیں اور اُن کے لیے بھی، جو ملک کی سیاست کی شطرنجی چالیں جاننا چاہتے ہیں۔
گزشتہ چار جون کو بابا رام دیو کے اوپر رام لیلا میدان میں سرکاری حملہ ہوا اور اُن کی بھوک ہڑتال حکمت سے ختم کر دی گئی۔ اسی وقت، یعنی چار جون کو سنگھ کی اعلیٰ قیادت نے اڈوانی جی سے کہا کہ وہ کل، یعنی پانچ جون کو لوک سبھا سے استعفیٰ دے دیں اور بدعنوانی کے خلاف یاترا نکالیں۔ اڈوانی جی نے اسے طفلانہ (بچکانی) صلاح کہا اور اندیکھا کر دیا۔ لیکن جب انّا ہزارے نے بھوک ہڑتال کی اور ان کی حمایت میں ملک کے اندر ایک عوامی سیلاب کھڑا ہوگیا تو اڈوانی جی کو لگا کہ اُن سے چوک ہو گئی۔ لہٰذا انہوں نے اچانک لوک سبھا سے باہر آکر صحافیوں کے سامنے اس کا اعلان کردیا۔ اڈوانی جی نے اس اعلان سے پہلے نہ سنگھ سے رائے مشورہ کیا اور نہ پارٹی سے ہی رائے لی۔
اُدھر اتر پردیش میں دو یاتراؤں کا پہلے ہی اعلان ہو چکا تھا۔ ایک یاترا کا اعلان کلراج مشرا نے کیا اور دوسرا راج ناتھ سنگھ نے۔ کلراج مشرا کی یاترا کا مقصد صاف ہے کہ وہ اتر پردیش کے غیر متنازعہ وزیر اعلیٰ بننا چاہتے ہیں۔ لیکن پر اسرار  ہے راج ناتھ سنگھ کی یاترا کا اعلان۔ راج ناتھ سنگھ نے اپنے ساتھ اوما بھارتی کو ملا لیا اور ایک یاترا کا اعلان کر دیا۔ راج ناتھ سنگھ ابھی سے اتر پردیش کے تنہا قومی لیڈر کی شبیہ بنانا چاہتے ہیں، تاکہ وہ وزیر اعظم کے عہدہ پر اپنا دعویٰ کر سکیں۔ راج ناتھ سنگھ کی اس منشا کو بھانپ گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی نے امریکی سنیٹ میں پیش کی گئی ایک اسٹڈی گروپ کی رپورٹ کو امریکی حکومت کی رائے بتا کر خود کو اگلے وزیر اعظم کا مضبوط دعویدار ہونے کا اعلان کردیا۔ نریندر مودی کا میڈیا مینجمنٹ ہنر اس میں اہم رول نبھا گیا۔ راج ناتھ سنگھ کا ماننا ہے کہ اگر اتر پردیش میں بی جے پی نے انتخاب میں اچھی کارکردگی دکھائی تو اس کا کریڈٹ انہیں ملے گا اور ان کی وزیر اعظم کے عہدہ پر دعویداری بہت مضبوط ہو جائے گی۔ وہ صوبائی صدر بھی رہ چکے ہیں، وزیر اعلیٰ بھی اور اخیر میں مرکزی وزیر اور قومی صدر بھی رہے ہیں۔ نریندر مودی اور راج ناتھ سنگھ کا ماننا ہے کہ اڈوانی جی کے ساتھ نہ سنگھ ہے اور پارٹی اور ان کی عمر انہیں اب زیادہ کام نہیں کرنے دے گی، لہٰذا انہیں ’اسپینس فورس‘ کی تشبیہ دی جاسکتی ہے۔ دونوں کو لگتا ہے کہ وزیر اعظم کے عہدہ کی لڑائی میں آخری مقابلہ انہی کے درمیان ہوگا۔ حالانکہ دو امیدوار ابھی اور ہیں، سشما سوراج اور ارون جیٹلی۔ دونوں ہی خاموشی سے پتّے کھیلنے میں ماہر ہیں۔
اڈوانی جی نے پارٹی کے عہدیداروں کی میٹنگ میں سوچ سمجھ کر اننت کمار کا انتخاب کیا، جو ان کی یاترا کا خاکہ اور پروگرام تیار کریں گے۔ اس میٹنگ میں اہم باتیں ہوئیں، جنہیں آپ کو آگے بتائیں گے، پر پہلے اننت کمار کو کیوں منتخب کیا، یہ جانیے۔ اڈوانی جی سشما سوراج اور ارون جیٹلی کا انتخاب نہیں کر سکتے تھے، کیوں کہ دونوں لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں لیڈر ہیں۔ نریندر مودی وزیر اعلیٰ ہیں، اس لیے ان کا بھی انتخاب نہیں ہو سکتا تھا۔ راج ناتھ سنگھ سے اڈوانی جی چِڑھتے ہیں اور انہیں پتہ ہے کہ وہ وزیر اعظم عہدہ کے دعویدار ہیں، اسی لیے انہوں نے اننت کمار کو منتخب کیا۔ اڈوانی جی کسی بھی ایسے آدمی کو اِس وقت اوپر نہیں اٹھانا چاہتے، جو وزیر اعظم کے عہدہ کی دوڑ میں ہے۔ نریندر مودی، سشما سوراج اور ارون جیٹلی تو دوڑ میں صاف دکھائی دیتے ہیں، پر راج ناتھ سنگھ کو وہی دیکھ پا رہے ہیں، جو سیاست سمجھتے ہیں۔ راج ناتھ سنگھ کے بارے میں مانا جاتا ہے کہ وہ آخری وقت میں اپنے پتّے کھیلتے ہیں۔ انہوں نے خود کو اتر پردیش میں محدود کر لیا ہے۔ وہاں اسمبلی میں اچھی سیٹیں آگئیں تو اُن کا دعویٰ اپنے آپ مضبوط ہو جائے گا۔ انہوں نے ایک طرف کلراج مشرا سے سمجھوتہ کیا کہ وہ انہیں وزیر اعلیٰ کے عہدہ کے لیے حمایت دیں گے، بدلے میں کلراج مشرا انہیں وزیر اعظم کے عہدہ کے لیے حمایت دیں گے۔ دوسری طرف انہوں نے پس ماندہ ذات کی بڑی لیڈر اوما بھارتی کو اپنے ساتھ یاترا میں شامل کیا، جس کی وجہ سے ان کے جلسوں میں بڑی بھیڑ ہوگی اور جتنی ان کے جلسوں میں بھیڑ ہوگی، اتنا ہی پارٹی میں راج ناتھ سنگھ کا دباؤ بڑھے گا۔ راج ناتھ سنگھ نے قومی صدر کے طور پر اپنی مدتِ کار میں پہلی چنوتی اڈوانی جی کو ہی دی تھی۔ آج حالت یہ بن گئی ہے کہ ظاہری امیدوار وزیر اعظم عہدہ کے لیے پارٹی میں نریندر مودی ہیں، لیکن پس پردہ امیدوار راج ناتھ بنتے جا رہے ہیں۔ اڈوانی جی خود کو وزیر اعظم کے عہدہ کا سب سے بڑا اور سب سے مضبوط امیدوار مانتے ہیں، لیکن یہ چاروں انہیں کچھ نہیں مانتے۔ اِن کے نہ ماننے کے پیچھے بھی وجہیں ہیں۔ جب بی جے پی میں فیصلے کی گھڑی آتی ہے، تب سنگھ اہم رول نبھاتا ہے۔ سب کی مخالفت کے باوجود آخر سنگھ نے نتن گڈکری کو بی جے پی کا صدر بنوا ہی دیا۔ سر سنگھ چالک، یعنی آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت جی نے سر عام یہ اعلان کیا تھا کہ ڈی فور میں سے کوئی بھی بی جے پی کا اگلا صدر نہیں ہوگا۔ اِن چاروں کا ماننا ہے کہ سنگھ کی حمایت کسی حالت میں اڈوانی جی کو نہیں ملے گی۔ اسی لیے پہلی صف میں نریندر مودی نے خود کو ہندو چہرے کے طور پر پیش کیا،  لیکن اس سے پہلے راج ناتھ سنگھ نے اپنے آپ کو آگے رکھنے کی بساط بچھا دی۔
اڈوانی جی کی حمایت میں سنگھ کا کوئی لیڈر نہیں ہے۔ اس کی کئی وجہیں ہیں۔ سنگھ کے سبھی لوگ اڈوانی جی سے عمر اور تجربہ میں کم ہیں۔ جب اڈوانی جی ’پرچارک‘ (مبلغ) تھے، تب یہ سب چھوٹے قد کے سویم سیوک یا پرچارک تھے۔ اڈوانی جی کا کام کرنے کا طریقہ اب تک یہی رہا ہے کہ فیصلہ لو اور اسے سناؤ۔ اس سے سنگھ کے لوگ کبھی متفق نہیں ہوئے، مجبوری میں قبول کرتے رہے۔ اب انہیں لگ رہا ہے کہ شیر بوڑھا ہو گیا ہے اور کہاوت بھی ہے کہ جب شیر بوڑھا ہوتا ہے تو گیدڑ بھی اس کا شکار کر لیتا ہے۔ سنگھ کے سارے لوگ چار جون کو دی گئی اپنی صلاح، کہ اڈوانی جی رام دیو کی مدد کریں اور ملک میں بدعنوانی کے خلاف یاترا کریں، کی نامنظوری کو ہضم نہیں کر پا رہے ہیں اور جلے بھنے بیٹھے ہیں۔ اڈوانی جی کے پچھلے کام وشو ہند پریشد نہیں بھولی ہے۔ کارکنوں کی حمایت سنگھ کے ساتھ ہے، پر کٹّر عام لوگوں کی حمایت وشو ہندو پریشد کے ساتھ ہے۔ بی جے پی میں سنگھ کے بغیر کوئی عہدہ بھلے پا جائے، لیکن وزیر اعظم بن جائے، یہ ناممکن ہے۔ یہ بات اڈوانی جی کے شاگرد جانتے ہیں۔ اسی لیے ان کے شاگردِ اوّل نریندر مودی نے اپنا داؤ کھیل دیا۔
سنگھ کے بعد بی جے پی میں کون اڈوانی جی کے ساتھ ہے، یہ دیکھنا بھی ضروری ہے۔ جب پارٹی عہدیداروں کی میٹنگ ہوئی تو اس میں کئی سوال اٹھے۔ پہلا یہ کہ اننت کمار کے اوپر بدعنوانی کے اتنے الزام ہیں، انہیں کیوں منتخب کیا جا رہا ہے، دوسرا یہ کہ اس یاترا کا کلراج مشرا اور راج ناتھ سنگھ کی یاترا پر کیا اثر پڑے گا، کیوں کہ ان کے نام کا تو پارٹی نے اعلان کیا ہے۔ سوال یہ بھی اٹھا کہ اس یاترا کی ضرورت کیا ہے، سوال اٹھا کہ چار جون کو آپ نے کیا کیا تھا، اور یہ بھی سوال اٹھا کہ کیا آپ نے سب سے بات کر لی ہے؟ سب سے اہم سوال اس میٹنگ میں اٹھا کہ آپ کی ابھی کوئی پبلک اپیل ہے بھی کیا؟ یہ مطلب نکالا جاسکتا ہے کہ اڈوانی جی کے ساتھ بی جے پی بھی پوری طرح نہیں ہے، لیکن اس حالت کا ایک نتیجہ یہ نکلے گا کہ یہ ثابت ہو جائے گا کہ اڈوانی جی کا پارٹی میں اثر و رسوخ ہے یا نہیں اور دوسرا یہ نکلے گا کہ بی جے پی میں اتنی کھینچا تانی شروع ہو جائے گی کہ اڈوانی جی اکیلے پڑ کر پریشان ہو جائیں گے۔ یہ پریشانی انہیں کہیں تھک کر ریٹائرمنٹ کی طرف نہ لے جائے، یہ ڈر اڈوانی جی کے کئی ساتھیوں کو ہے۔ اس کا اشارہ پہلے مل چکا ہے۔ جب بی جے پی میں صدر کے بارے میں فیصلہ ہونا تھا، تب موہن بھاگوت جی مرلی منوہر جوشی کے یہاں دوپہر کا کھانا کھانے گئے تھے۔ ہونا یہ چاہیے تھا کہ وہ اڈوانی جی کے یہاں جاتے، لیکن انہوں نے انہیں اندیکھا کیا۔ انہوں نے وہیں پہلی بار یہ اعلان کیا کہ ڈی فور میں سے کوئی صدر نہیں بنے گا۔ ڈی فور کا مطلب ارون جیٹلی، وینکیا نائڈو، سشما سوراج اور اننت کمار ہیں۔ یہ لفظ شاید جان بوجھ کر موہن بھاگوت نے استعمال کیا تھا۔ اڈوانی جی اس وقت حزب اختلاف کے لیڈر تھے، لہٰذا ان کے پارٹی کا صدر بننے کا کوئی سوال ہی نہیں تھا۔ وہ اڈوانی جی سے ملے بھی نہیں تھے۔ ایسے میں مدن داس دیوی نے کہا کہ آپ اڈوانی جی کے یہاں ناشتہ کیجئے، اچھا نہیں لگتا کہ آپ اُن سے نہ ملیں۔ موہن بھاگوت نے کہا کہ ناشتے میں کیا دقت ہے، ناشتہ کریں گے۔ سنگھ میں اب بھی یہ روایت ہے کہ سر فہرست رہنے والے آٹھ دس میں ایک آدمی کی رائے کا بھی احترام کیا جاتا ہے۔ جب وہاں مدن داس دیوی پہنچے تو وہاں موجود صحافیوں نے پوچھا کہ اڈوانی کا کیا رہے گا تو مدن داس دیوی نے کہا کہ اڈوانی جی لیڈر ہیں، لیڈر رہیں گے۔ لیکن یہ ردِ عمل مدن داس دیوی کا تھا، موہن بھاگوت کا نہیں۔ سنگھ سے جڑے ایک پرچارک کا تاثر ہے کہ دراصل یہ مدن داس دیوی کی چالاکی تھی، جس نے اڈوانی جی کے لیڈر ہونے کا بھرم قائم رکھا، ورنہ جب موہن بھاگوت اُن کے یہاں نہیں گئے، تبھی منظرنامہ صاف ہو گیا تھا۔ مدن داس دیوی اور اڈوانی جی میں بہت گہری دوستی ہے۔ اڈوانی جی پہلی رتھ یاترا کے بعد بی جے پی کو اتنی کامیابی دلا چکے ہیں کہ اب وہ کروٹ بھی بدلتے ہیں تو لوگ ڈر جاتے ہیں۔ اس بھرم کو مدن داس دیوی نے اب تک بنائے رکھا۔ مدن داس دیوی نے اٹل بہاری واجپئی کے وزیر اعظم رہتے ہوئے پورے وقت سنگھ کی طرف سے بی جے پی کو چلایا۔ انہی کے بھیجے وِدیارتھی پریشد کے اچھے برے لیڈر اب تک بی جے پی کو چلاتے رہے ہیں۔ بی جے پی کا نیچے تک کا نظام مدن داس دیوی کے اشاروں پر چلتا تھا۔ کمان ان کے ہاتھ میں تھی۔ موہن بھاگوت کے فیصلوں کو وہ روکنے یا ٹالنے کی کوشش کرتے تھے۔ مدن داس دیوی کی اہلیت اور سمجھداری کی ایک مثال ہمارے سامنے ہے۔ تقریباً اسی وقت پٹنہ میں سنگھ کی میٹنگ ہوئی۔ اس میں مدن داس دیوی نے اپنا مشہور بیان دیا کہ ہندوستان کے وزیر داخلہ پی چدمبرم بہت اچھے اور ماہر ہیں، کیوں کہ انہوں نے نکسلیوں سے لڑائی چھیڑ دی ہے۔ بی جے پی کے کارکنوں میں سوال اٹھا کہ جو مخالف پارٹی میں ہے، جس کا استعفیٰ پارٹی روز مانگتی ہے، جو سرٹیفکٹ مانگنے نہیں آیا، اسے کیوں مدن داس دیوی نے سرٹیفکٹ دیا؟ یہ ان کی سیاسی پختگی ہے یا ناپختگی؟ ایسے سمجھدار مدن داس دیوی نے اڈوانی کا بھرم ایک سال اور چلایا۔
اب سنگھ میں تبدیلی آئی ہے۔ مدن داس دیوی کو اہم پرچارک بنایا گیا ہے۔ ان کا اب بی جے پی سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ سنگھ نے سریش سونی کو بی جے پی کا کار گزار عہدیدار بنایا ہے۔ اس لیے سنگھ اڈوانی جی کا ساتھ دے گا، اس میں شک ہے اور اشوک سنگھل اڈوانی جی کے کھلے عام مخالف ہیں۔ ان سب کی مخالفت کی جڑ میں اڈوانی جی کے کام کرنے کا طریقہ ہے، جس کا اصول ہے، فیصلہ کرو اور خبر دو۔ وہ ڈومیننٹ رول پلے کرنا چاہتے ہیں۔ سنگھ کے لوگ ایک مثال دیتے ہیں۔ واجپئی جی کے وزیر اعظم رہتے کسی نائب وزیر اعظم کی ضرورت نہیں تھی۔ ہمیشہ وزیر داخلہ ہی دوسرے نمبر پر ہوتا ہے اور اڈوانی جی وزیر داخلہ تھے۔ انہوں نے اپنے آپ کو نائب وزیر اعظم ہونے کا اعلان کروایا، جب کہ نہ تو سنگھ اس کے حق میں تھا اور نہ پارٹی۔ اڈوانی جی نریندر مودی کے کام کرنے کے طریقے اور ان کی بڑھتی ہوئی مقبولیت سے خود کو غیر محفوظ محسوس کرنے لگے تھے۔ اسی لیے انہوں نے خود کو سیکنڈ اِن کمان ہونے کا اعلان کروایا۔ آج حال یہ ہے کہ اڈوانی جی کی عمر اور ان کے تجربہ کو دیکھتے ہوئے سنگھ اور بی جے پی میں لوگ چپ ہیں۔ اب حالت یہ آگئی ہے کہ ان کی یاترا ثابت کرے گی کہ ان کی پارٹی میں حالت کیا ہے۔ اگر یاترا نہیں ہوئی تو یہ ان کے ریٹائرمنٹ کا غیر اعلانیہ اعلان ہوگا۔اڈوانی جی کے سامنے اس صورت حال میں متبادل کیا ہے؟ سنگھ اور بھاجپا کے لوگوں کا کہنا ہے کہ انہیں اسی وقت، جب ان کے بلندی پر ہونے کا بھرم بنا ہے، ریٹائر ہو جانا چاہیے۔ انہیں خود اعلان کرنا چاہیے کہ میں نے اپنی پاری کھیل لی، اب میں صلاح مشورہ دوں گا۔ تم سب کام کرو کیوں کہ تم میرے بچوں کی طرح ہو۔ جب پارٹی اقتدار میں آئے گی تو وہ انہیں پوری عزت و احترام کے ساتھ صدر بنائے گی، ویسے ہی، جیسے اس نے بھیرو سنگھ شیخاوت جی کو نائب صدر بنایا تھا۔ لیکن لوگوں کو شک ہے کہ اڈوانی جی یہ کر پائیں گے۔ تھوڑے دن پہلے کی بات ہے، جب اڈوانی جی نے جناح پر تبصرے کیے تھے۔ اس کے بعد وہ سنجے جوشی سے الجھ گئے۔ الجھ ہی نہیں گئے، انہیں پارٹی سے ہی نکلوا دیا، ٹھیک اسی طرح، جیسے مکھوٹا لفظ پر صفائی کے بعد بھی اٹل جی نے گووند آچاریہ کو چھٹی لینے پر مجبور کیا اور بعد میں مجلس عاملہ سے ہٹا دیا۔ یہی اڈوانی جی نے سنجے جوشی کے ساتھ کیا۔
جب لوک سبھا میں سیٹیں 116 آئیں، تب احساس ہوا کہ سنجے جوشی کی اہمیت کیا ہے۔ اس کے بعد بھی دو سال تک اپنی ضد پر اَڑے رہے اور اب جا کر انہوں نے اپنی خاموش حمایت دی تو سنجے جوشی پارٹی میں واپس آئے۔ سنجے جوشی اترپردیش کے انچارج ہیں۔ وہاں کارکنوں میں جوش ہے۔ ان کی ہی مہارت ہے کہ راج ناتھ سنگھ اور اوما بھارتی ایک ساتھ گھوم رہے ہیں۔ سنجے جوشی کے آنے کی کسی نے مخالفت نہیں کی۔ نریندر مودی نے کہا تھا کہ سنجے جوشی اگر واپس آئیں گے تو وہ پانچ منٹ میں استعفیٰ دے دیں گے، پر جب سنجے جوشی آئے تو نریندر مودی نے منھ نہیں کھولا۔ اڈوانی جی کے نائب چیف صلاح کار سدھیندر کلکرنی نے ملک میں بہت جگ ہنسائی کرائی ہے، لیکن سنگھ اور بی جے پی کے نمائندہ لیڈروں کو حیرانی ہے کہ اڈوانی جی کسی سے صلاح نہیں لیتے۔ ان کی چیف صلاح کار ان کی بیٹی پرتبھا اڈوانی ہیں، ان کے سبھی فیصلوں کے پیچھے پرتبھا اڈوانی ہیں۔ سنگھ کے ایک سینئر لیڈر نے مجھ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اڈوانی جی نے کتاب لکھی ہے ’مائی کنٹری مائی لائف‘۔ اب اُس کے آگے جوڑنا چاہیے ’مائی ڈاٹر، مائی وائف‘۔ اڈوانی جی کو اپنی بیٹی اور بیوی کے علاوہ کسی پر بھروسہ نہیں ہے۔ ان کی آج تک کی سیاسی یا غیر سیاسی یاترائیںبنا بیوی اور بیٹی کے پوری ہی نہیں ہوئی ہیں۔
لال کرشن اڈوانی جیسا نام سالوں کی محنت کے بعد بنتا ہے۔ آج ملک میں کم ایسے لوگ ہیں، جو اڈوانی جی کے سامنے مطالعہ اور تجربہ میں کھڑے ہو سکیں۔ اس لیے ایک خیالی متبادل اڈوانی جی کے سامنے اور ہے۔ وہ بی جے پی سے الگ ہٹ کر عام شہری کی طرح ملک میں گھومیں اور لوگوں کو، عوام کو تیار کریں، لیکن ایمانداری سے انہیں غیر سیاسی بننا ہوگا۔ لیکن اس میں بھی پیچ ہے۔ چندر شیکھر جی کے سب سے قریبی رہے کمل مرارکا نے مجھے گزشتہ دنوں ایک قصہ سنایا۔ چندر شیکھر جی نے کمل مرارکا سے کہا کہ میں نے آج اٹل جی سے کہا کہ آپ بی جے پی چھوڑیے، میں جنتا پارٹی چھوڑتا ہوں اور شرد پوار کانگریس چھوڑتے ہیں۔ تینوں ایک ساتھ ملک میں گھومیں، اس سے ملک میں ناامیدی دور ہوگی اور نیا اعتماد جاگے گا۔ ایک نیا سیاسی متبادل بھی بنے گا۔ کمل مرارکا کے پوچھنے پر کہ اٹل جی نے کیا کہا، چندر شیکھر جی نے بتایا کہ اٹل جی نے کہا کہ آپ دونوں کر سکتے ہیں، پر میں نہیں کر سکتا۔ چندر شیکھر جی کے کیوں پوچھنے پر اٹل جی نے کہا کہ چندر شیکھر جی، آپ آر ایس ایس والوں کو نہیں جانتے۔ یہ جینے نہیں دیں گے۔ یہ تھا سَن اسّی کا زمانہ اور اب ہے دو ہزار گیارہ۔ ہوسکتا ہے، اڈوانی جی بھی ہمت نہ کریں۔ اگر ہمت کریں گے تو تاریخ انہیں ایک بڑا موقع دے سکتی ہے، لیکن تاریخ کے ذریعے دی جانے والی یہ دستک اڈوانی جی کے کان میں پہنچے گی، اس میں شک ہے۔g

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *