آر بی آئی کا اگلا گورنر کون ؟

دلیپ چیرین
مہنگائی کی شرح میں اضافہ جاری ہے اور افراط زر پر بھی قابو نہیں پایا جا سکا ہے، اس کی وجہ سے مالی شعبہ میں غیر یقینی کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی سیاسی گلیاروں میں اس بات کے بھی تذکرے ہیں کہ آر بی آئی کا اگلا گورنر کون ہوگا، کیونکہ موجودہ گورنر ڈی سبارائو ستمبر میں ریٹائر ہور ہے ہیں۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ سبا رائو کی مدت کار میں اضافہ کیا جائے، جبکہ کچھ لوگ دوسرے ناموں پر غور کر رہے ہیں۔ اگلے گورنر کے لیے جن لوگوں کے نام تذکروں میں ہیں، ان میں وزارت مالیات کے اقتصادی مشیر کوشک بسو، وزیر اعظم کے اقتصادی مشیر رگھو رام جی راجن، ایشیائی وکاس بینک میں مقرر اشوک لاہڑی اور مالیاتی معاملات کے سکریٹری گوپالن اہم طور پر شامل ہیں۔
ویرپاکی صلاح
ایم ویرپا موئلی نے وزارت قانون چھوڑنے سے پہلے بدعنوانی پر قابو پانے اور سرکاری نظم و نسق میں اصلاح کے لیے وزیراعظم کے پاس ایک دس نکاتی تجویز بھیجی ہے۔ اس تجویز میں حکومت کو ایک صلاح یہ بھی دی گئی ہے کہ ریٹائرڈ بابوئوں کی تقرری ریگولیٹری افسر کے طور پر نہ کی جائے۔ یو پی اے حکومت کے لیے اس صلاح پر عمل کرنا کافی مشکل لگتا ہے،کیونکہ اس نے تو ریٹائرڈا فسران کو مقرر کرنے کی روایت بنا لی ہے۔ دیکھتے ہیں، ویرپا کی صلاح مانی جاتی ہے یا پھر اسے سردبستے میں ڈال دیا جاتا ہے۔
اتر پردیش حکومت اور ہائی کورٹ
مایاوتی حکومت تحویل اراضی پالیسی پر الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلہ سے ابھی سنبھل بھی نہیں پائی تھی کہ عدالت نے ایک بار پھر حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا۔ ریٹائرڈ آئی اے ایس افسر ایس این شکلا نے ہائی کورٹ میں ایک مفاد عامہ اپیل دائر کی ہے، جس میں حکومت سے پوچھا گیا ہے کہ وزیر اعلیٰ کے سکریٹریٹ میں کچھ بابوئوں کی تقرری ایڈیشنل کیبنٹ سکریٹری کے طور پر کیوں کی گئی ہے، جبکہ اس کا کوئی قانون نہیں ہے۔ وزیر اعلیٰ کے سکریٹریٹ میں صرف چیف سکریٹری کا عہدہ ہوتا ہے۔ یہی نہیں، ان کی تنخواہیں بھی ضوابط کے خلاف ہیں۔ معلومات کے مطابق ، ایسے بابوئوں میں نونیت سہگل، نیت رام ، درگا شنکر مشرا اور آر پی سنگھ وغیرہ شامل ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *