ملک شام کی صورت حال : کیا بشار الاسد کی پشیمانی رنگ لائے گی

وسیم احمد
عوام کے پاس بڑی طاقت ہوتی ہے۔ایسی طاقت جو نظر نہیں آتی ، مگر جب سامنے آتی ہے تو بڑے بڑے شاہوں، آمروں کو دھول چٹادیتی ہے۔اسی طاقت کے بَل پر تیونس کے عوام نے زین العابدین کو شہر بدر کی زندگی گزارنے پر مجبور کردیا تو مصر کے عوام نے حسنی مبارک کو قاہرہ کے تخت سے اتار کر شرم الشیخ میں محصور کردیا، اور اسی طاقت کے بل بوتے پر یمن کے عوام نے صالح عبداللہ کو سعودی عرب میں پناہ لینے پر مجبور کردیا ہے۔لیکن یہ طاقت عوام کے اتحاد اور ان کی اجتماعیت میں چھپی ہوتی ہے۔ جب عوا م آپس میں متحد ہوتے ہیں اور سماج کا ہر فرد ایک دوسرے کے درد کو محسوس کرنے لگتا ہے تب جاکر یہ طاقت ابھر کر جابر حکومت کے روبرو ہوتی ہے اور احساس دلاتی ہے کہ عوام کی طاقت کیا ہوتی ہے۔ایسے وقت میںاگر حکومت اپنی غلطیوں کا احساس کرکے عوامی مفاد میں سوچنے اور قومی مفاد میں کام کرنے کا عہد کر لیتی ہے تو عوام اسے معاف کردیتے ہیں  اور اگر حکومت اپنی طاقت کے نشے میں چور عوامی طاقت کو حقیر سمجھ کر من مانی کرنے سے گریز نہیں کرتی ہے تو پھر وہی ہوتا ہے جو لیبیا اور شام میں ہورہا ہے۔لیبیا میں عوام نے ڈکٹیٹر قذافی کے ناکوں دم کردیا، یہاں تک کہ اسے اپنے محل میںمحصور ہوکر عوامی طاقت کا جواب دینے کے لیے فوجی طاقت کا سہارا لینا پڑا،جس کے جواب میں ناٹو کی افواج قذافی حکومت کے خلاف کارروائیوں میں لگی ہوئی ہیں اور ملک شام کے ساڑھے 22 ملین افراد اپنی طاقت اور اتحاد کے بل بوتے پر بشار الاسد کی حکومت کے خلاف میدان میں ڈٹے ہوئے ہیں۔ حکومت کے ٹینک اور بکتر بند گاڑیوں سے بے خوف سڑکوں پر اترے ہوئے ہیں۔حکومت انہیں لبھانے کی کوشش کرتی ہے مگرعام آدمی کو حکومت کے کسی بھی وعدے پر بھروسہ نہیں ہے۔ غالباً اسی وجہ سے بشار کی حکومت عوام کا بڑی بے دردی سے قتل کررہی ہے۔جیسا کہ حقوق انسانی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اب تک تقریباً دو ہزار سے زیادہ بے گناہ افراد اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔عوامی ٹھکانوں، ازدہاموں پر بکتر بند گاڑیوں اور ٹینکوں سے حملے کیے جارہے ہیں ۔بشا ر الاسد کے اس غیر انسانی عمل کی مخالفت پوری دنیا میںہورہی ہے اور اس پر دبائو ڈالا جارہا ہے کہ شام اپنے جارحانہ رویوں سے باز رہے۔ ترکی نے بشار اسد کے طرزِ عمل کی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ ملک شام کے عوام کو اپنی قسمت کا فیصلہ انہیں خود کرنے دینا چاہیے۔امریکہ نے کہا ہے کہ شام کی حکومت عوام کے خلاف طاقت کا جو استعمال کر رہی ہے اس کی وجہ سے وہ عالمی برادری میں تنہا ہوگئی ہے۔ واشنگٹن میں وزارت خارجہ کے نائب ترجمان مارک ٹونر نے شام میں حکومت مخالف مظاہرین کے خلاف جاری فوج کے کریک ڈائون پر عرب لیگ اور خلیج تعاون کونسل کے موقف کو حوصلہ افزا قرار دیا ہے۔اس وقت عالمی برادری شام کے عوام کے ساتھ ہے اور بشار اسد کی حکومت عالمی برادری میں تنہا ہوتی جارہی ہے۔ساتھ ہی خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک سعودی عرب ، کویت اور بحرین نے مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال پر احتجاجاً اپنے سفیر واپس بلا لیے ہیں جبکہ 22 رکنی عرب لیگ نے شام میں جاری خون ریزی پر شدید رنج کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک شام کے عوام کے صبر کی انتہا ہوچکی ہے اور اب ان کے عزائم کو دبانا مشکل ہے ۔اگر حکومت ملک میں امن چاہتی ہے تو طاقت کا استعمال روک کر ان کے مطالبے پر غور کرے اور انہیں مطمئن کرنے کی کوشش کرے۔پیرس نے اسد حکومت کے عمل پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ شام حکومت کو فوری طور پر اپنے عوام کے خلاف اسلحوں کے استعمال سے رُک جانا چاہیے اور اقوام متحدہ نے مظاہرین کے خلاف ہتھیاروں کے استعمال پر جو پابندی لگائی ہے اس کو عمل میں لانا چاہیے،ادھر یوروپی یونین نے شام کے خلاف اقتصادی پابندی میں سختی لانے کا فیصلہ کر لیا ہے تاکہ شام کی حکومت کو عوام کے خلاف طاقت کے استعمال سے باز رہنے پر مجبورکیا جاسکے۔صدر شام کی مذمت کی ہے وہیں پوپ بینڈکٹ سولہویں نے مذمت کرتے ہوئے جمہوری احتجاج کرنے والوں کے ساتھ اختیار کردہ رویہ پر بشار اسد حکومت کوتنقیدوں کا نشانہ بنایا۔عرب لیگ کے جنرل سکریٹری نبیل العربی نے بشار اسد کے رویے کی غیر جانبدارانہ تفتیش کی مانگ کی۔ انہوں نے ملک کی ابتر صورت حال پر تشویش کے ساتھ ساتھ فوجی کارروائی کی سختی سے مذمت بھی کی۔در اصل دنیا اب یہ محسوس کرنے لگی ہے کہ بشار الاسد کی حکومت مشرق وسطیٰ کو ایک خطرناک سمت میں لے جارہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے خطرناک ارادوں پر روک لگانے کے لیے پوری دنیا متحد ہوتی جارہی ہے اور شام تنہا پڑتا جا رہا ہے۔
ہندوستان ،جنوبی افریقہ اور برازیل کا ایک وفد حالات کا جائزہ لینے کے لیے دمشق گیا۔وہاں وفد نے دمشق میں کئی اہم لیڈروں سے ملاقات کی اور ان مقامات کا جائزہ لیا جہاں تشدد کی آگ بھڑک رہی تھی ۔ ہندوستانی وفد نے دمشق حکومت سے  پر امن حل تلاش کرنے پر زور دیا جس کے جواب میں شامی وزیر خارجہ والد المعلم نے وفد سے وعدہ کیا کہ شام  2011 تک ایک آزادانہ اور غیر جانبدارانہ پارلیمانی انتخاب کرائے گا اور سال کے اختتام سے قبل ایک آزاد ،کثیر الجہات مشترکہ جماعتوں والا جمہوری نظام قائم کرے گا۔اس وعدے کے بعد وفد نے امید ظاہر کی ہے کہ تشدد کے واقعات عنقریب ختم ہو جائیں گے ۔لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا شامی حکومت ہندوستانی وفد سے کیے گئے وعدے نبھا پائے گی ،یہ تو آنے والا وقت بتائے گا لیکن حکومت کی طرف سے جو اقدامات کیے جارہے ہیں،ان سے دور دور تک کسی اچھے نتائج کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ بہر کیف، ملک شام کے لیے اپنے عوام کے ساتھ تشدد کوئی نئی بات نہیں ہے۔حافظ الاسد کے دور اقتدار سے لے کر بشار الاسد کے دور اقتدار تک، متعدد بار عوام کے اوپر فوجی طاقت کا استعمال ہوا ہے ۔جب بھی اقتدار میں تبدیلی اور حقوق کی لڑائی لڑی گئی تو اسد حکومت نے اس لڑائی کو شیعہ سنی کی طرف موڑ کر فرقہ وارانہ رُخ دینے کی کوشش کی اور ہر اس کوشش کو جو عوام کے ایک طبقے کی طرف سے شروع کی جاتی تھی، دوسرا طبقہ حکومت کی شہ پر سامنے آجاتا تھا۔اس کا فائدہ حکومت کو یہ ملتا تھا کہ جس لڑائی کا رُخ حکومت کی طرف ہونا چاہیے وہ فرقہ واریت کا رنگ لے لیتی تھی اور حکومت محفوظ ہوجاتی تھی۔ دوسرا فائدہ یہ ہوتا تھا کہ حکومت آسانی کے ساتھ یہ پتہ لگا لیتی تھی کہ کس علاقے میں اس کے مخالفین کہاں کہاں پر آباد ہیں ،پھر بعد کے دنوں میں حکومت خفیہ طور پر ان کے خلاف کارروائی کرتی تھی۔لیکن موجودہ صورت حال ماضی سے یکسر الگ ہے۔ حکومت نے ماضی میں عوام کو جس طرح بیوقوف بنا یا تھا اب کی مرتبہ ایسا کچھ نظر نہیں آرہا ہے، کیوں کہ عوام اچھی طرح سمجھ چکے ہیں کہ حکومت عوام کو دو طبقوں میں تقسیم کرکے اپنا الو سیدھا کر لیتی ہے ،اس میںاگر کسی کا نقصان ہوتا ہے تو وہ ہے عام آدمی۔عوام میں یہ نیا رجحان حکومت کے لیے نئی مشکلیں کھڑی کر رہا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اب عوامی تحریک تیزی پکڑتی جارہی ہے اور یہ تحریک جتنی تیزی پکڑ رہی ہے بشار الاسد  کے لیے اتنی ہی مشکلیں کھڑی ہوتی جارہی ہیں۔بشار اسد کے لیے اب بھی وقت ہے ،اگر وہ چاہیں تو عوام کے مطالبوں کو پورا کرکے خود کی اور اپنے اہل خانہ کی حفاظت کرسکتے ہیں مگر شاید انہوں نے مشرق وسطیٰ میں چلنے والے حکومت مخالف مظاہروں اور اس کے نتائج کا جائزہ نہیں لیا ہے، یا لینا نہیں چاہتے ہیں، ورنہ وہ عوام کو کچلنے کے بجائے ان کے مطالبات کو تسلیم کرنے پر ضرور غور کرتے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *