برطانیہ جس کا سورج کبھی غروب ہی نہیں ہوتا تھا

صفدر ہمدانی (لندن، یوکے)
ان سطور کو قلم بند کرتے وقت یہاں لندن میں، 9 اگست اور منگل کا دن ہے۔ وقت دوپہر کے تین بج چکے ہیں اور گزشتہ تین راتوں سے علی الصبح تک جاگتے جاگتے راقم کی آنکھیں اب جیسے تھکی تھکی سی ہیں لیکن نیند برطانیہ کے اس سورج کی طرح غائب ہے جو کبھی اس کرۂ ارض کے وسیع رقبے پر غروب ہی نہیں ہوتا تھا، لیکن معیشت سے لے کر اخلاقیات تک، کئی رخ سے جیسے گہن میں مبتلا ہے۔
6 اگست سے پہلے برطانیہ کی سرکار و عوام امن و امان کے گن گاتے تھے اور کہتے تھے کہ ان کے ملک سے زیادہ نہ تو کوئی ملک حسین ہے ، نہ تاریخی ہے اور نہ محفوظ ہے۔ یہ سچ ہے کہ ’’جنا دے گھر دانے اودھے کملے وی سیانے ‘‘۔ سو برطانیہ کے کملے بھی سیانے سمجھے جاتے ہیں۔ یہ بھی ستم ہم سب نے دیکھا کہ امریکہ کے اتحادی برطانیہ نے بھی ڈنکے کی چوٹ پر نیٹو میں شمولیت اختیار کی اور دوسروں ہی کی طرح پاکستان ، افغانستان ، ایران ، عراق ، مصر اور فلسطین میں پھیلی بد امنی اور پولس و حکومت کی ناکامی پر انہیں دنیا کے ہر پلیٹ فارم پر نہ صرف ذلیل کیا بلکہ ہرزہ سرا ئی بھی کی جس کی وجہ سے یہ سارے ملک اپنی معاشی اور سماجی حیثیت سے محروم ہوئے، بلکہ کچھ تو اپنی بقا کی جنگ اب بھی لڑ رہے ہیں ۔ تازہ ترین مثال اس کی شام اور بحرین ہے، جہاں آگ بھی خود لگوائی اور اب دکھاوے کا پانی بھی خود ڈالنے کی کوشش میں یہ کہہ کر لگے ہوئے ہیں کہ یہ ممالک اپنے ہاں فوری جمہوری اصلاحات کریں۔اب اچانک کچھ ایسا ہوا کہ لگا جیسے برطانیہ کی دراز رسی کھینچ لی گئی ہے۔ اور یہ اس وقت ہوا ہے جب امریکہ کو دیوالیہ پن سے بچنے کے لیے کروڑں ڈالر نئے چھاپنے پڑ گئے ہیں اور شیئر مارکیٹس یعنی حصص کی منڈیوں میں دونوں ملک تین فیصد سے پانچ فیصد کی ریکارڈ سطح سے نیچے گر گئے، اور لوگوں کے ملین ڈالرز ایک سیکنڈ میں چین کی جھولی میں گر گئے۔ اس معاشی دھچکے سے جانبر بھی نہ ہوئے تھے کہ لندن جیسے شہر میں فساد کے زہریلے ناگ نے سر اٹھا لیا، بلکہ ابھی تک پھیلایا ہوا ہے۔ پھر جو ہوا وہ ملک برطانیہ کی تاریخ میں نہ ہوا ہو گا۔ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ہاتھی کی موت چیونٹی سے اس صدی میں بھی ہو سکتی ہے۔ذرا نمرود کو یاد کیجئے کہ خود کو خدا کہنے والا ایک مچھر سے ہلاک ہو گیا اور یہاں دوسرے ملکوں کی پولس اور فوج کو دہشت گردی کے خلاف تربیت دینے والوں کا اپنا پول کھل گیا کہ چند سو نوجوانوں نے ملک بھر کی پولس اور فورس کو جیسے بے بس بنا کر رکھ دیا ہے۔
جمعرات کو لندن کے علاقے ٹاٹنہم میں پولس کی مبینہ فائرنگ سے 29 سالہ  ایک سیاہ فام ہلاک ہوتا ہے۔ اس ہلاکت کے بعد مظاہرے شروع ہو جاتے ہیں۔ پھر ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب یہ مظاہرے فسادات میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ان فسادات میں پولس، پولس کی دو گاڑیوں، ایک بس اور عمارتوں پر پٹرول بموں سے حملے کیے جاتے ہیں۔ہائی روڈ اور بروک اسٹریٹ کے چوراہے پر ایک ڈبل ڈیکر بس کو نذرِ آتش کردیا جاتا ہے ، کئی دکانوں کو نذر آتش کر دیا جاتا ہے۔ ٹاٹنہم فائر بریگیڈ اور پولس کی گاڑیوں کے سائرن سے گونج اٹھتا ہے، لیکن انہیں جائے وقوعہ تک پہنچنے کا راستہ نہیں ملتا، جس کی وجہ سے امن و امان کا سارانقشہ عراق میں بدل جاتا ہے۔ جلتی ہوئی گاڑیاں کراچی میں ہونے والی تباہی کا منظر پیش کرتی دکھائی دیتی ہیں۔
ٹاٹنہم میں سیاہ فام نوجوانوں نے مقامی پولس اسٹیشن کا گھیراؤ کیا تو پولس نے جان بچانے کے لیے دروازے مقفل کر دیے اور دہائی دینے لگی۔فسادات ٹاٹنہم سے  پیکھم میں پھیل گئے۔ دھوئیں کے سیاہ بادل ہر طرف بلند ہو رہے تھے، لوگ اس جگہ سے دور بھاگ رہے تھے اور ہر کوئی خوفزدہ لگ رہا تھا اور لوگوں کے اشتعال میں اضافہ ہو رہا تھا۔ ایک بارر پھر توڑ پھوڑ شروع ہو چکی تھی۔لوگوں نے ہنگامی سروس کو فون کر کے نکلنے کی کوشش کی، اس دوران پولس جب ہجوم کو منتشر کرنے کی کوشش کرتی تو سرکش بپھرے ہوئے نوجوان ان پر آتشی مواد پھینک دیتے، جس کی وجہ سے انہیں دفاعی پوزیشن سنبھالنی پڑ تی۔فسادات نے اب ایسٹ ڈلچ  کی طرف رخ کر لیا اور تشدد پسند گروپ نے ایک بڑے کوڑے دان کو بس سے ٹکرادیا جس سے کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور بس کو آگ لگا دی گئی۔ اس جگہ پر موٹر سائیکل ہیلمٹ اور ماسک پہنے، بدامنی پیدا کرنے والے کئی اور لوگ بھی جمع تھے۔ وہ چیزوں کو توڑ پھوڑ رہے تھے اور کوڑے دان سڑکوں پر پھینک رہے تھے اور قہقے لگا رہے تھے۔درجن بھر نوجوانوں کے سامنے دوسرے ملکوں کو تربیت دینے والی پولس بے بس تھی۔
اب فساد کے ناگ نے ہیکنی کا رخ کیا اور وہ منظر پیش کیا کہ سب کو لگا جیسے وہ کوئی بھیانک خواب دیکھ رہے ہیں۔ اس کے بعد ایلنگ کا رہائشی علاقہ میدان جنگ کا منظر پیش کرنے لگا۔ پچیس سے تیس کے قریب ماسک پہنے ہوئے نوجوان اینٹوں کی مدد سے گل فروش کی ایک دکان میں توڑ پھوڑ کر رہے تھے۔سب کو اپنی زندگیوں کا خطرہ اس وقت لاحق ہو گیا جب ایک عورت نے شعلے اگلتی بلند بالا عمارت سے کود کر اپنی جان بچائی۔ فسادات کی اس لہر سے برمنگھم ، مانچسٹر، لیور پول اور برسٹل بھی نہ بچ سکے۔ برمنگھم میں ایک پولس اسٹیشن کو آگ لگادی گئی۔ اونچی اونچی عمارتیں اور حسین نظارے آگ کے انگارے بنے ہوئے ہیں۔ ہیکنی ، پیکہم ،لوشیم ، کروئیڈن ،  وول وچ اور کلیپ ہیم سمیت آٹھ اضلاع میں شدید ہنگامہ آرائی اور لوٹ مار کے واقعات ہوئے۔ گذشتہ روز کرائیڈن میدان جنگ بنا رہا ، جہاں تین سو سال پرانی فرنیچر مارکیٹ کو بھی جلادیا گیا۔ ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ کے الزام میں اب تک گرفتار سوا تین سو سے زائد افراد میں سے 69 پر فرد جرم عائد کردی گئی ہے۔ ہنگاموں کے دوران متعدد پولس اہلکار زخمی بھی ہوئے، جبکہ ایک شخص کو گاڑی سمیت جلانے کی مبینہ اطلاعات ہیں۔اسکاٹ لینڈ یارڈ پولس نے مختلف مقامات پر 1700 اضافی اہلکار تعینات کردیے ہیں۔ فسادات کے باعث وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون ، نائب وزیر اعظم نک گلیگ ، وزیر داخلہ اور لندن کے میئر چھٹیاں مختصر کرکے وطن واپس لوٹ آئے ہیں اور آتے ہی کابینہ کی کوبرا میٹنگ میں اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے لائحہ عمل بھی تیار کر لیا گیا ہے۔ اس کوبرا میٹنگ کے فیصلوں کا تو اعلان کر دیا گیا ہے جسے عوام کی اکثریت نے کسی طرح بھی قبول نہیں کیا اور اسے حکومت کی تساہلی سے تعبیر کیا ہے۔ پارلیمان کا جو اجلاس فوری طور پر بلانا چاہیے تھا، وہ جمعرات کو طلب کیا گیا ہے، جیسے حکومت کے لیے یہ کوئی ہنگامی صورت حال ہے ہی نہیں۔ چند ہزار پولس والوں کا سڑکوں پر گشت کا اعلان ہوا ہے، جبکہ عوام ان تشدد والے علاقوں میں کرفیو کا مطالبہ کر رہے ہیں، کیونکہ یہ صرف چند سو نوجوان ہیں جنہوں نے اکثریت کو خوفزدہ کر رکھا ہے۔ ضرورت سرسری سماعت کی عدالتوں کی ہے جو موقع پر کڑی سزائیں سنائے، جو باعث عبرت ہوں۔
اس ساری صورتحال کو دیکھتے ہوئے 2012 میں ہونے والے اولمپکس پر بھی دکھ بھرے بادل چھا رہے ہیں، مگر حکومت برطانیہ ریونیو کی مد میں آمدنی کا یوں ہاتھ سے چلے جانے کا سوچ بھی نہیں سکتی۔ اس لیے وہ بار بار اس وہم کو دور کرنے کے لیے، از سر نو دفاعی انتظام کا جائزہ لینے کا اعادہ اور اعلان بھی کر چکی ہے۔

برطانیہ جس کا سورج کبھی غروب ہی نہیں ہوتا تھا

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *