ہنگامۂ حیات کی شاعر ثروت زہرا

حیدر طبا طبائی
ان کے مجموعہ کلام بنام’ جلتی ہوا کا گیت‘ میں ظاہری شان و شوکت کے بجائے معنوی خوبیاں ملتی ہیں، وارداتِ قلب کا انداز بھی بدلا ہوا ہے، اشعار میں اظہارِ درد و غم ، کاوش و محنت اور اسلوب بیان بہت خوب ہے۔
ابن معتز کی رائے ہے کہ عمدہ شعر وہ ہے جو دل سے کسی چیز کو پوشیدہ نہ رکھے۔ ابن معتز شعر کو سرور و آگہی کا باعث کہتے ہیں۔ان کا قول ہے کہ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ کسی نے شعر کہا ہو اور اسے صرف خاص لوگوں یا شعرا کے لیے ہی کہا گیا ہو۔
ابن شرف نے امرؤالقیس اور فرزدق کی تحلیلِ نفسی کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ عشق و محبت کی بساط کے پٹیِ ہوئے مہرے تھے ، اس لیے ان کا تغزل بازاری اور ہوس پرستی کا رنگ لیے ہوئے ہے۔
مجموعہ کلام’ جلتی ہوا کا گیت ‘ کی شاعر ثروت زہرا کے یہاں کلام کا تجزیہ ، شاعر کی نفسیاتی تحلیل اور اس کے ذہن کا ارتقا ہر مصرعے سے پھوٹ کر برگ و بار لاتا ہے۔ ان کا کلام دیکھ کر تو یہ لگتا ہے کہ وہ ایک نعمتِ غیر مترقبہ ہے ، خوش فکری اورخوش گوئی کی دولت کی امانت دار ہے۔ان کی نظمیں ہوں یا غزلیں ، ان میں فلسفۂ حیات بھی ہے اور لطفِ کائنات بھی موجود ہے۔ دراصل ہم معاشرتی زندگی کو واقعات اور حادثات کی جولانگاہ کہتے ہیں۔ واقعات اور حادثات کی اس جولانگاہ میں جو کوئی گریہ سفر اور سینہ سپر ہے ، اگر وہ شاعر ہے تو اس کی شاعری کا نقش فکری تخیل ، حِسّی اور جذباتی رد عمل کی تصویر بن کر ہمارے روبرو آتا ہے۔ایسی شاعری میں شاعر کے رجحانات اور میلانات کی نشاندہی ہوتی ہے، جس سے پڑھنے والوں کے اظہار کا اسلوب متاثر ہوتا ہے۔ ثروت زہرا کی شاعری میں کہیں تو نسیم کی نرمی ہے توکہیں بادلوں کی گھن گرج اور کبھی جلتی ہوا کی شدت ہوتی ہے، کیوںکہ شاعر نے اپنی ذات کے رشتے کو سمجھنے کی کوشش کی ہے اور یہ ذات کا رشتہ پورے معاشرے کی ذات کا رشتہ بن گیا اور یوں بالواسطہ اس ذاتی یا شخصی رشتے کے پردے میں ایک اجتماعی تاثر، ردِ عمل اور رویّے کی جھلکیاں نظر آتی ہیں۔ ان کی شاعری سے یہ گمان پنپتا ہے کہ شاعر نے ہم کو زندگی برتنے کا سلیقہ سکھایا ہے۔ اس میں تقدیسِ وفا اولین اصول ہے آئین وضع داری محبت ، مروت ، صبر و شکر اور راضی برضا رہنے کا ۔ثروت زہرا نے زندگی کے سفر میں اعتماد اور امید کو اپنا زادِ سفر بنایا۔ ان کی نظموں کے عنوانات سے زمانے کے موجودہ کرب کی صدا سنائی دیتی ہے۔ وہ فرماتی ہیں:
سات افلاک سے راستے کاٹ کر/آگہی اس جگہ آگئی
جب خودی کی اُسی گفتگو سے /نئی آیتیں ڈھل اٹھیں
شور افلاک پر/سب ملائک میں ہونے لگا ہے
آج آدم کو پھر اس کی دستار واپس ہوئی/خاتم الانبیائ، آدمیت کا اعلیٰ نشان
اپنے خالق سے کچھ اس طرح مل رہا ہے کہ/ٹھہری ہوئی ساعتیں
اپنی تکمیل کے خوش کن احساس میں /پھول سی کھل اٹھیں
نظم کا عنوان ہے’ معراج‘،جو اعلیٰ مرتبہ کی نعت ہے اس میں عبد و معبود کے مکالمات کو جس خوش اسلوبی سے بیان کیا ہے یہ انہیں کا حق ہے۔
نظم بعنوان ہٹ میں ساحلوں کی بھری بھری ریت پر کھڑا ہوا ایک مکان، یہ سب سمبل ہماری زندگی، ہمارے معاشرے کے ہیں۔ نظم طویل ہے، پوری نظم نقل کرنا مشکل ہے لیکن یہ نظم استعاروں کے مینار ،علامتوں کے گنبد سے تشکیل دی گئی ہے۔ ثروت زہرا کے کلام میں جمہوریت اور حریت کے سر چشمے پھوٹ رہے ہیں ۔ ان کے اس ذہنی اور طبعی انقلاب کا اثر پڑھنے والے پر ضرور ہوتا ہے اور یہی کامیاب شاعری کی سند ہے۔ اس قسم کی شاعری کرنے والی اس شاعر کے محرکات ہمیشہ باقی رہیں گے۔یہ کہنا کہ قافیہ اظہارِ مطلب میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے محض مبتد یانہ بات ہے۔طباع مشاق اور قادر الکلام شاعر کی راہ میں قافیہ کوئی رکاوٹ نہیں پیدا کرتا۔ یہ دشواری صرف مبتدی، کم علم اور کم مشق شاعروں کو پیش آتی ہے۔
ادب میں سب سے مشکل کام اپنی ہم عصر تحریکوں اور معاصر ادب کو اپنی شاعری میں سمیٹنا ہے۔ اس میں معاشرے کا کرب اور اجتماعی زندگی کا مبارزہ بھی شامل ہونا ضروری ہے۔اس لیے کہ ذہنی تحفظات و تعصبات، ذاتی پسند و ناپسند اور اپنے دور کی اور خود اپنے انفرادی احساسات و ردِ عمل کا عکس شاعری میں جھلکنا ضروری ہے۔
ثروت زہرا بنیادی طور سے کلاسیکی شاعر ہیں ۔ ان کا لہجہ ، مزاج یہ انداز پوری غزل گوئی پر حاوی ہے،لیکن ان کی غزلیں روایتی عناصر سے الگ ہیں، بلکہ روایت میں اضافہ ہیں۔ان کے اشعار کی پشت پر آج کے انسان کا دل دھڑک رہا ہے۔ ان کے جذبات اتنے سیدھے سادے نہیں جو عشق کے سطحی معاملات اور پیار کی عامیانہ باتوں سے مطمئن ہو سکیں۔ یہاں جذبات کے پردے میں ایک الجھا ہوا اور تہہ در تہہ ذہن بھی بول رہا ہے جو ان معاملات کو غیر جانبدار ہوکر بھی دیکھ سکتا ہے۔ وہ معشوق کی مجبوری کو بھی سمجھتا ہے۔صرف خود ہی آہ نہیں بھرتا کبھی وہ زمانے سے بد گمان ہوکر محبوب سے بھی بد گمان ہو جاتا ہے اور بعد میں اپنی اس عشق نا آشنائی پر افسوس بھی کرتا ہے ۔ آج کا عاشق غمِ روزگار کو بھی غمِ جاناں کے برابر کیے بیٹھا ہے۔ ثروت زہرا کی غزلوں میں یہ کوشش ہے کہ انسان کی روح اور جسم کی ناآسودگی دور ہو      ؎
فکر سے کسی کو بھی ماورا نہیں کہتے
بندگی کے طالب کو ہم خدا نہیں کہتے
اب لاہور میں واقع ریمن ڈیوس کے قتل اور مجبور پاکستانیوں کی زباں بندی، رقم دے کر کر دی گئی۔ اس کو خوں بہا نہیں بلکہ جبر کہتے ہیں۔ ثروت زہرا ہمارے معاشرے میں اتر کر شعر کہتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں    ؎
شاعری جذبوں کو لفظ سے گانٹھ کر مار دینے کا حوصلہ ہے ، جو مجھے بندگی کے نام پر دیا جارہا ہے۔ اور ایک جگہ فرماتی ہیں کہ     ؎
خالی رستوں پہ بے کراں اداسی ہے
جسم کے تماشے میں روح پیاسی ہے
راہ و رسم رکھنے کے بعد ہم نے جانا ہے
وہ جو آشنائی تھی وہ تو نا شناسی ہے
ثروت زہرا کی تمام شاعری آمد کی شاعری ہے ۔ وہ اپنے اسالیب شعر میں مفکرانہ انداز رکھتی ہیں ۔ وہ اپنی غزلوں میں معشوق یا عاشق کی ارضیت پر اصرار کرتی ہیں، اس سے جسمانی اور ذ ہنی رشتہ اسی سطح پر رکھنے پر بہت زور دیا ہے۔ اختر شیرانی سے پہلے ہماری غزلوں و نظموں کے شاعر عجیب الخلقت تھے ۔ ان کا عشق دَور انحطاط تک لے جاتا ہے۔ دوسری جانب عشق کرنے والوں میں غیر انسانی صفات نمایاں تھیں، خواتین کو طوائف بنا کر یا پھر محبوبہ بنا کر وفاداری و دوسرے پاکیزہ ، شریفانہ اور مقدس جذبات اس میں چھو کر بھی نہیں جاتے ہیں۔ثروت زہرا کی شاعری میں عورت لطائف کا پیکر ہی نہیں بلکہ ایک فرد معاشرہ  ہوتی ہے     ؎
میں جذبوں سے تخیل کو نرالی وسعتیں دے کر
کبھی دھرتی بچھاتی ہوں کبھی عنبر بناتی ہوں
پھر آس دے کر آج کو کل کردیا گیا
ہونٹوں کے بیچ بات کو شل کردیا گیا
نگاہِ خاک! ذرا پیرہن بدلنا تو
وبالِ روح!مرا یہ بدن بدلنا تو
مرے جذبوں کو یہ لفظوں کی بندش مار دیتی ہے
کسی سے کیا کہوں کیا ذات کے اندر بناتی ہوں
ایک زمانے کے بعد ہم کو ایک ایسی خاتون شاعر نصیب ہوئی ہے جو ادب کو روحِ عصر کا ترجمان سمجھتی ہے۔ ثروت زہرا پیشے سے ڈاکٹر ہیں اور دبئی کے مریضوں کو شفا عطا کرتی ہیں۔ آج کل کی اردو میں شاعر اگر خاتون ہے تو اس کو شاعرہ لکھا جاتا ہے جو درست نہیں ہے، توآپ کیا مصور خاتون کو مصورہ لکھیں گے جو عربی میں فحش لفظ ہے ۔ یہ دو چشمی ھ ہٹا کر بات کریں تو ادیب کے صحیح اوصاف نظر آتے ہیں۔ آپ فوراً کتاب’ جلتی ہوا کا گیت ‘کہیں سے حاصل کریں تو معلوم ہوگا کہ ثروت زہرا نے ایک تہذیب کا آئینہ اور کلاسیکی شاعری کا صحیفہ بنا دیا ہے۔ میرؔ انیس یاد آرہے ہیں جو یہ فرماتے ہیں    ؎
قدر کر مری کہ اے زمینِ سخن
تجھے بات میں آسماں کر دیا
سبک ہوچلی تھی ترازوئے شعر
مگر ہم نے پلّہ گراں کردیا

Share Article

حیدر طباطبائی

haidertabatabai

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *