موجودہ اخلاقی بحران اور اردو صحافت

عبد الحمید حاکم  
صحافت و ابلاغ بڑا ہی مبارک مشن اور ایک مسلسل ترقی پذیر معزز فن ہے۔ ساتھ ہی اس کا میدان عمل بشمول اپنی تمام تر وسعتوں کے نہایت ہی حساس ذمہ داریوں اور پیہم قربانیوں کا طالب ہوا کرتا ہے اور ایک کامیاب صحافی وہ ہوتا ہے جو نہایت جرأت مندی کے ساتھ کسی دبائو کو قبول کیے بغیر باطل کے خلاف سینہ سپر رہتا ہے۔ قوم و ملت کی ملکی اور سیاسی رہنمائی ہویا تہذیبی و اخلاقی محاذ، علمی و ادبی میدان ہو یا تعلیمی، ثقافتی و معاشی چیلنجز، غرض ہر زمان و مکان میں ایک کامیاب صحافی کا اشہب قلم گامہ فرسائی کرتا نظر آتا ہے۔
ان تمام پہلوئوں سے ماضی کی اردو صحافت کا جائزہ لینے پر بڑی ہی روشن تاریخ سامنے آتی ہے۔ مختلف اوقات میں مختلف ناموں سے بے شمار اخبارات منصہ شہود پر آ تے رہے اور قوم وملت کی گوناگوں پہلوئوں سے رہنمائی کرتے رہے۔ خصوصاً مولانا ابوالکلام آزاد نے جن جن اخبارات کا اجراء کیا کم و بیش ان تمام اخبارات نے جزوی یا کلی طور پر سماج پر غیر معمولی مثبت اثرات مرتب کیے ہیں۔ بالخصوص الہلال و البلاغ نے تو دنیائے صحافت میں ایک بے نظیر اور شاندار مثالی تاریخ رقم کی ہے کہ تاریخ ہند کا مؤرخ کبھی بھی وطن اور اہل وطن کے تئیں اس کی بے لوث قربانیوں اور خدمات کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔  ہفت روزہ اخبار ’’الہلال‘‘ اپنی نوعیت کا ایک منفرد اخبارتھا، جس کا بنیادی مقصد مسلمانان ہند کی سیاسی محاذ پر مضبوط رہنمائی تھا، لیکن ایسا بھی نہیں کہ اس میں ادب و انشاء کی لطافت نہیں، بلکہ اس میں خطابت، فصاحت، بلاغت اور شوکت بیان کی تمام خوبیاں اور رعنائیاں بھی موجود تھیں۔ حسرت موہانی کو یوں ہی نہیں کہنا پڑا کہ ’’جب سے دیکھی ابو الکلام کی نثر ، نظم حسرت میں کچھ مزہ نہ رہا‘‘۔الہلال صرف ایک اخبار نہ تھا بلکہ انگریزی استعما ر کے خلاف ایک تحریک اور ایک صور قیامت تھا، جس کے نعرہ فلک شگاف نے غافلوں کو بیدار، سرمستوں کو ہوشیار اور خواب غفلت کے متوالوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا۔ مولانا مرحوم کے قلم سے دنیائے صحافت کا وہ تاریخی اقتباس جو ’’الہلال‘‘ کے پہلے شمارے میں ’’الہلال‘‘ کے مقاصد کے ضمن میں رقوم ہے، جس میں موجودہ تاجداران اقلیم صحافت کے لیے چیلنج بھی ہے ، اور درس عبرت و لمحۂ فکریہ بھی، مولانا رقم طراز ہیں:
’’اگر خدا مجھ میں سچائی اور خلوص کی سرگرمی دیکھتا ہے، اگر اس کی ملت مرحومہ اور اس کے کلمۂ حق کی خدمت کی کوئی سچی تپش میرے دل میں موجودہے اور اگر واقعی اس کی راہ میں فدویت ہے اور خود فراموشی کی ایک آگ ہے۔ جس میں برسوں سے بغیر دھنوئیں کے جل رہا ہوں تو اپنے فضل و لطف سے مجھے اتنی مہلت عطا فرمائے کہ اپنے بعض مقاصد کے نتائج اپنے سامنے دیکھ سکوں، لیکن اگر یہ میرے تمام کام محض ایک تجارتی کاروبار اور ایک دوکاندارانہ شغل میں، جس میں قومی خدمت اور ملت پرستی کے نام سے گرم بازاری پیدا کرنا چاہتا ہوں، تو قبل اس کے کہ میں اپنی جگہ پر سنبھل سکوں وہ میری عمر کا خاتمہ کر دے۔ اور میرے تمام کاموں کو ایک دن بلکہ ایک لمحہ کے لیے بھی کامیابی کی لذت چکھنے نہ دے‘‘۔(بحوالہ آزاد شخصیت اور کارنامے ، مرتبہ خلیق انجم، ص 128)
یہ اردو صحافت خصوصاً صحافت آزادی کی روشن تاریخ کا مختصر مگر سنہری باب ہے جو اخلاص و وفا سے پر جذبات اور امنگوں سے لبریز اور کامیاب صحافت کا شفاف آئینہ بھی ہے، لیکن جب اس کے تناظر میں موجودہ اردو صحافت کا بے لاگ تجزیہ کیا جاتا ہے، تو بڑے تلخ حقائق سامنے آتے ہیں۔ علمی و ادبی اعتبار سے آج اردو اخبارات کی صورت حال بڑی تکلیف دہ ہے۔ واوین اور قوسین کا استعمال کہاں اور کیسے ہوگا، سرخیوں کو قائم کرنے میں کن نزاکتوں اور اصولوں کو پیش نظر رکھا جائے گا؟ عموماً اس کا خیال نہیں کیا جاتا، بلکہ ہر کسی کی بات کو سرخی بنا کر اخبار کے معیار کو مجروح کیا جاتا ہے۔املا کی غلطیاں تو شاندار اردو اخبارات کا وصف خاص ہے، ایک ہی خبر میں مختلف املا کا استعمال،تذکیرو تانیث سے عدم التفات ، اسالیب اور تعبیرات کو برتنے میں فاش غلطیاں، معربات اور موردات کا (باوجود اردو الفاظ کے) بے محل اور بے محابہ استعمال اردو صحافت کے وجود پرایک داغ ہے، ماضی میں اردو صحافت نے اگر عوام و خواص کو جوش و جذبہ سے سرشار اور ادب و تہذیب سے آشنا کیا تو وہیں انہیں ادب و انشاء کے جواہر پارے بھی عطا کیے۔ زبان کو صحیح طور سے برتنے کے گر بھی سکھائے لیکن اس کے برخلاف آج کے اخبارات ادب و انشاء کے جواہر پارے تو کجا معیاری زبان کے استعمال سے بھی قاصر نظر آتے ہیں، انگریزی اور ہندی الفاظ سے بوجھل زبان اردو اخبارات کی شناخت بن کر رہ گئی ہے، خبروں کی تحریر اور رپورٹنگ کرتے وقت تصادم کو مذاہب کے نام سے نہیں لکھا جانا چاہیے اور نہ ہی ہلاک شدگان اور مجروحین کے نام اس طور سے دیے جائیں کہ ان کے مذہب کی شناخت ہونے لگے۔ اب اگر کوئی اخبار اپنی حقیقت بیانی کا سکہ جمانے کے لیے فریقین کے مذہب اور ان کے ناموں کے ذکر پر اصرار کرے تو یہ اس کی صحافتی اصولوں سے عدم واقفیت کا غماز ہوگا۔ اسی طرح غیر اخلاقی حرکتوں اور ظلم و ستم کا شکار لڑکی کا نام اور جملہ تفصیلات کا برملا ذکر بھی (جن سے اوروں کی تشویق ہوتی ہے) صحافتی اور اخلاقی اصولوں کو مجروح کرتا ہے۔ پھر گاہے بگاہے جرائم اور قتل و اغوا کی وارداتوں کی خبریں بھی جرائم پیشہ یا عام لوگوںکو بھی جرائم کے ارتکاب پر آمادہ کرتی ہیں۔ نتیجتاًبہت سے نوجوان کبھی شوقیہ تو کبھی مجبوراً جرائم کی طرف بڑھتے جا رہے ہیں، حالانکہ ان جرائم اور وارداتوں کی خبریں یا تو شائع نہ ہونی چاہیے، یا بہت ہی اشارات اور اختصار کے ساتھ کہ محض جرائم پیشہ وران کو لگام دی جا سکے، لیکن افسوس کہ آج اردو اخبارات ان اصولوں کو بالائے طاق رکھ کر زبان اور سماج کی خدمت کا نعرہ بلند کر رہے ہیں۔ خبروں کے سلسلہ میں ایک بات ہمیشہ پیش نظر رکھنی چاہیے کہ اگر کسی خبر یا واقعہ سے عوام کا نقصان بہ نسبت فائدے کے زیادہ ہے تو اولاً ایسی خبروں کا ذکر نہیں کرنا چاہیے یا بصورت دیگر انتہائی محتاط انداز میں اور ذمہ دارانہ احساس کے ساتھ، لیکن آج اس کے برخلاف ہو رہا ہے۔ لہٰذا مجرمین کو بہت سے مجرمانہ طریقے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا سے ہی حاصل ہو رہے ہیں اور جرائم کی کمی کی بجائے آئے دن اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے اور اخبارات اپنا وہ اصلاحی رول ادا کرنے سے قاصر نظر آ رہے ہیں جوکہ ان کی اولین ترجیحات کا جزو لاینفک ہیں۔ ان تمام کے ساتھ ساتھ ایک اور انتہائی تشویشناک اور پریشان کن پہلو اردواخبارات کا فحش اشتہارات سے مزین و مرصع ہونا ہے۔ ادب کے نام پر فلمی ہستیوں کی عشقیہ داستان اور عریاں تصاویرکی اشاعت اور متواتر اشاعت سے سماج اور ادب کی خدمت تو قطعاً نہیں، ہاں سماجی اور اخلاقی استحصال کا ’’مقدس فریضہ‘‘ ضرور انجام پا رہا ہے۔ مقابلہ حسن کے نام پر عیاں اور بے ہودہ تصاویر (جو کہ غیر ملکی اخبارات کا وصف رہا ہے) ہمارے اخبارات خصوصاً اردو اخبارات کو زینت ضرور بخش رہی ہیں، لیکن یہ امر ملحوظ خاطر رہے کہ یہ اردو صحافت کی ناکامی اور فساد کی بہت بین دلیل ہے (مقصد کلام یہ نہیں کہ ہندی اور انگریزی صحافت کی حالت کچھ دگرگوں ہے بلکہ ان کا مجرمانہ کردار اور بھی سنگین ہے، لیکن یہاں ماضی اور حال کی ’’اردو صحافت‘‘ میں موازنہ پیش نظر ہے)۔
واقعہ یہ ہے کہ اخبارات اپنی مقبولیت اور اہمیت کو فروغ دینے کے لیے فحش نگاری اور جذباتی تحریر و انداز بیان کا سہارا لے رہے ہیں اور نتیجہ یہ ہے کہ اپنے ہی وضع کردہ خوشنما اصولوں کے پرخچے اڑائے جا رہے ہیں، اس ضمن میں ایک بڑا ہی تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ وہ چند ایک اردو اخبارات جو کسی بڑے صنعتی ادارے کے تحت چل رہے ہیں اور دن رات حق و صداقت اور بے باک ایماندارانہ غیر جانبدارانہ صحافت کا دم بھرتے ہیں، نوجوان اور سماج کی اصلاح و ترقی کا علم اٹھائے پھرتے ہیں، اور پھر وہ چند ٹکوں کی خاطر فحش اشتہارات لے کر نوجوان نسل کو فواحش کی راہ پر گامزن کر رہے ہیں اور یہ خوش گمانی ہنوز قائم ہے کہ ہم قوم و ملت کی خدمت کر رہے ہیں اور پھر یہ صنعتی ادارے تو انہیں مالی امداد بھی فراہم کرتے ہیں پھر ان اخبارات کو عریاں اور فحش اشتہارات کی سودے بازی کی لت کیوں کر پڑ گئی ہے؟ آج سنجیدہ قارئین یہ سوال کیوں کر رہے ہیں کہ اگر عوام کے اخلاق و کردار کی تعمیر کی بجائے یہ تخریبی مشغلہ پروان چڑھتا رہا اور نسل نو اخلاقی دیوالیے پن کا شکار ہوتی گئی، تو کیا اردو اخبارات اپنے اس سنگین جرم کو قبول کرنے کو تیار ہیں؟
لہٰذا یہ فکر پروان چڑھانے کی ضرورت ہے کہ ہم اگر دنیا کو کچھ مثبت مواد دے سکتے ہیں تو پھر آگے بڑھنا چاہیے ورنہ اس دنیا میں منفی فکر اور گھٹیا اخلاق و کردار کو عام کرنے والے بے شمار ہیں۔ اس لیے اگر ہم بھلائی اور خیر کو انجام دینے سے قاصر ہیں تو کم از کم فواحش کی تعمیم اور تشہیر کے مجرم تو نہ بنیں۔ اس موقع پر پی سی آئی (پریس کونسل آف انڈیا) کی بھی یہ اولین ذمہ داری ہے (جس کی 16نومبر 1966 میں تشکیل ہی بے لگام صحافت کو لگام دینے اور صحافتی اصول و آداب کو لانے پر مجبور کرنے کے لیے ہوئی) کہ وہ موجودہ صحافت پر کڑی نظر رکھے کہ اخبارات صحیح اطلاعات کی فراہمی اور اصلاح و بیداری کا فریضہ انجام دے رہے ہیں یا فواحش کو عام کرنے اور فرقہ واریت کو ہوا دینے کا کام کر رہے ہیں۔
بہر کیف، ہمیں اردو اخبارات سے یہ التماس کرنا ہے (اس اقبال حقیقت کے ساتھ کہ اردو اخبارات آج بھی اردو کی کسی نہ کسی طور سے خدمت کا فریضہ انجام دے رہے ہیں اور اردو کی بقا و تحفظ کا سامان فراہم کر رہے ہیں) کہ وہ اپنا ایک جدا معیار اور الگ شناخت قائم کریں، موجودہ صحافت کی اندھی تنقید میں خدارا قوم و ملت کے اخلاق و کردار سے کھیلنے کی جسارت نہ کریں ورنہ یہ قوم اور آئندہ نسلیں اس جرم کو کبھی معاف نہ کریں گی، کیونکہ آج جبکہ اخلاقیات کا جنازہ نکل چکا ہے قوم وملت کو اخلاقیات سے آشنا اور قریب کرنا ہے اور یہ کام اخبارات و رسائل بہت ہی عمدہ طریقہ سے کر سکتے ہیں، جس کی روشن تاریخ ماضی کے صفحات میں موجود ہے ،لیکن اس کے برعکس مالی پریشانیوں کے حوالہ سے فحش اشتہارات کی اشاعت کا عذر لنگ عوام کبھی قبول نہیں کر سکتے۔ کیا اشتہارات کے نام پر ہم کو عوام اور قارئین کے اخلاقی معیار کو مجروح کرنے کا حق حاصل ہے؟ قطعاً نہیں۔
پھر یہ تو اردو اکیڈمیوں اور خصوصاً قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کی اولین ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے کہ وہ اردو کے پریشان حال شعراء اور خصوصاً ان اردو اخبارات کی دامے درمے سخنے مدد کرے جو نہ صرف اردو پر ہجومی ماحول میں اپنے وجود کو منوا رہے ہیں بلکہ کسی نہ کسی سطح پر اردو زبان و ادب اور سماج کی بہتری اور بھلائی کے مبارک مشن پر گامزن ہیں۔بلکہ ہم تو یہ کہیں گے کہ وہ خطیر رقمیں جو مختلف سیمناروں اور مشاعروں میں خرچ کی جاتی ہیں، ان کا کہیں بہتر استعمال یہ اردو کے اخبارات و رسائل ہیں جو اس ہوش ربا گرانی کے دور میں بھی اردو کی خدمت کا بے لوث فریضہ انجام دے رہے ہیں، اور یہ فروغ اردو کے ضمن میں بڑی ہی مستحسن کوشش اور قابل ستائش قدم ہوگا، اور ساتھ ہی تمام محبان اردو کو اس پہلو سے غور و فکر کی ضرورت ہے کہ اردو صحافت کا وہ معیار جو ہمیں مولانا آزاد، مولانا دریا آبادی، حسرت موہانی وغیرہ کی صحافت میں نظر آتا ہے وہ معیار آج کیوں عنقا ہو گیا ہے، وہ بے باکی اور برجستگی ، وہ فکر اور تڑپ، وہ جوش اور جذبہ، وہ علمی بلندی اور ادبی لطافت و شیرینی ، وہ ایمانداری اور دیانتداری کیوں ہماری موجودہ اردو صحافت سے رخصت ہوا چاہتی ہے ؟ آج وہ آزاد، وہ عبد الماجد ، وہ حسرت موہانی وغیرہ کیوں نہیں پیدا ہو رہے ہیں؟ یقینا اگر ہم نے اس پہلو سے غور و فکر کر کے اردو صحافت کی ترقی و استحکام اور اس کی اصلاح و تہذیب کا کوئی واضح لائحہ عمل نہیں بنایا اور موجودہ صحافت یوں ہی روبہ زوال ہوتی رہی، توآئندہ نسلیں اور محبان زبان و ادب ہمیں کبھی معاف نہ کریں گے اور ایک وقت وہ ہوگا کہ اردو صحافت خدا نخواستہ خود اپنوں کے جیتے جی گھٹ گھٹ کر دم توڑ دے گی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *