اولمپک2011: ڈائو بنا اسپا نسر، کھیل سے پہلے تنازعہ شروع

ششی شیکھر
جیسے ہی یہ خبر آئی کہ ڈائو کمپنی کو بھی لندن اولمپک کا اسپانسر بنایا گیا ہے، ہندوستان میں اس بات کو لے کر بھوپال گیس متاثرین کی تنظیم نے مخالفت شروع کردی، لیکن ایک دلچسپ حقیقت یہ بھی ہے کہ ہندوستانی حکومت کی طرف سے اب تک اس مدعے پر کوئی بھی بیان نہیں آیا ہے۔ 2012 اولمپک کھیلوں میں ڈائو کیمیکلس اسٹیڈیم کے آس پاس 70  لاکھ پونڈ کے آرٹ ورک کا خرچہ اٹھائے گی اور یونین کاربائڈ ہی وہ کمپنی ہے جو 1984 میں بھوپال میں ہوئے گیس رِسائو کی وجہ سے ہزاروں لوگوں کی موت کے لیے ذمہ دار ہے اور جس کے صدر وارین اینڈرسن کی تلاش آج بھی جاری ہے، تاکہ اسے عدالت کے دروازے تک لایا جا سکے اور بھوپال گیس متاثرین کو انصاف ملے۔
دسمبر 1984 کی اس کالی رات نے بھوپال کو قبرستان میں بدل ڈالا تھا۔ موت کا ایک ایسا کھیل ہوا تھا، جسے بھوپال میں رہنے والے ہزاروں لوگ ابھی تک نہیں بھُلا پائے ہیں۔گیس رِسائو کی وجہ سے بھوپال کے کچھ خاص علاقے کا زیر زمین پانی اب بھی آلودہ ہے، جس کی وجہ سے آج بھی یہاں کے بچے ماں کے پیٹ سے ہی بیماریاں لے کر پیدا ہورہے ہیں۔ دنیا کے صنعتی حادثوں کی تاریخ میں یہ اب تک کا سب سے بڑا حادثہ سمجھا جاتا ہے۔ بعد میں اسی یونین کاربائڈ کو ڈائو کیمیکل نے خرید لیا تھا،لیکن وہ اب تک بھوپال سے اپنا کاروبار شروع نہیں کر سکا ہے۔ کئی عرضیاں عدالت میں زیر غور ہیں اور ساتھ ہی معاوضے کا معاملہ بھی ابھی تک اٹکا ہوا ہے۔ ڈائو کے مطابق یونین کاربائڈ نے 1989 میں 47 کروڑ ڈالر کے معاوضے کے بارے میں جو سمجھوتہ کیا تھا، وہ آخری ہے۔ اس رقم کے حساب سے ایک مرنے  والے کے خاندان کے حصے میں صرف 1400 پونڈ کی رقم آئے گی، دوسری طرف گیس متاثرین کی حمایت میں مہم چلا رہے لوگوں کا کہنا ہے کہ شہر کا زیر زمین پانی اب بھی زہریلا ہے، جس کی وجہ سے بچے معذور پیدا ہو رہے ہیں اور ہماری پریشانی ابھی بھی ختم نہیں ہوئی ہے۔ بھوپال گیس متاثرین کی سوچ کے مطابق ڈائو کو اولمپک کا اسپانسر بنانے کا مطلب ہمارے جذبوں کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔ یہ بات کچھ ایسی ہی ہے جیسے کہ مرنے والے کی قبرپر ڈانس کا پروگرام کیا جا رہا ہو۔
اولمپک میں ہندوستان کی طرف سے ہاکی کی نمائندگی کر چکے اور بھوپال کے رہنے والے اسلم شیر خان اس مدعے کو تنازعہ نہیں بلکہ جذبوں کا معاملہ بتاتے ہیں۔ خان کہتے ہیں کہ اگر لندن اولمپک میں ڈائو کی مدد لی جا رہی ہے تو اس سے بھوپال کے لوگوں کو بہت تکلیف پہنچے گی۔ ہم ہندوستانی حکومت ، ہندوستانی اولمپک ایسوسی ایشن سے اپیل کریں گے کہ ہندوستان کو اس موضوع پر اپنی طرف سے سخت مخالفت درج کرنی چاہیے۔ بھوپال گیس متاثرین تنظیم کے ایک کارکن ستی ناتھ سارنگی کہتے ہیں کہ آج بھی لوگ یونین کاربائڈ حادثے کی وجہ سے مارے جا رہے ہیں۔ بہت سے بچے آج بھی عیبوں کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں۔ ڈائو کیمیکلس ان سب ذمہ داریوں کو لینے سے انکار کرتا آیا ہے۔ جو کچھ ہو رہا ہے وہ انسانیت کے لیے بہت غلط ہے ۔ ہم بھوپال ، دہلی اور ہو سکے تو لندن میں بھی اس کے خلاف مظاہرے کریں گے۔
حالانکہ کسی کھیل کے لیے اسپانسر کا انتخاب کرنا میزبان ملک کا معاملہ ہے اور یہ اس کا حق بھی ہے۔ ڈائو کو لے کر جو مسائل بھوپال کے لوگوں کو ہیں، وہ ضروری نہیں کہ میزبان ملک کو بھی ہوں۔ ایسے میں لندن اولمپک پر یا برطانیہ کی حکومت پر سوال کھڑا کرنا مشکل ہے۔ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ ہندوستانی سرکار نے اب تک اس مدعے پر اپنا منہ بند ہی رکھا ہے، کیوں کہ سرکار بھوپال گیس متاثرین کے جذبوں کا خیال رکھتے ہوئے ایک بار بھی رسمی طور پر اپنی مخالفت درج کرانے سے پرہیز کر رہی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *