لندن نامہ

حیدر طبا طبائی، لندن (یو کے)
اسامہ بن لادن کے گھر ایبٹ آباد سے جو کاغذات ڈائریاں اور سی ڈی برآمد ہوئی ہیں ان کی روشنی میں بتایا گیا ہے کہ اسامہ اس سال 9/11کی سالگرہ پر اوبامہ کا طیارہ گرا کر اُنہیں قتل کرنا چاہتا تھا۔ وہ ڈیوڈ پیٹر یاس کو بھی قتل کرنا چاہتا تھا۔ انتہا پسند اس سلسلے میں اپنی ٹیم جمع کر رہے تھے، دستاویز سے انکشاف ہو اہے ۔
گذشتہ جمعرات کو ہائوس آف کامنز میں ہیومن رائٹس سوسائٹی کے ایک جلسہ میں پاکستان کے ممتاز سیاستداں اور ماہر قانون ایس ایم ظفر نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں فوجی نظام پڑوس کی وجہ سے رائج ہوتا ہے اورجمہوری نظام کو پڑوسی اتنی عزت نہیں دیتے اس وجہ سے پاکستان ایک نیم فوجی اسٹیٹ کہلانے لگا ہے۔
ایک مشترکہ کاوش میں یورپین وامریکی انٹیلی جنس کا فراڈیوں کے خلاف کریک ڈائون۔ بلغاریہ، اٹلی، پولینڈ، اسپین میں ایسے گروہ پکڑے گئے ہیں جو جعلی کریڈٹ کارڈ بناتے تھے۔ اب تک 161انٹر نیشنل کریڈٹ کارڈ پکڑ ے جا چکے ہیں۔ یہ گرفتار شدہ حضرات جن کے پاس یہ کارڈ تھے فراڈ کے ذریعہ لاکھوں ڈالر پائونڈ کی رقم نکال چکے ہیں۔ اس ضمن میں یورو پول نے بتایا کہ اب تک یوروپی شہروں کو 50ملین یورو کا نقصان ہوچکا ہے۔ برطانوی خفیہ پولس نے خبر دی ہے کہ القاعدہ نے سائبر جہاد کی کال دے دی ہے، برطانوی حکومت میں ہلچل مچ چکی ہے اور مسلمانوں کو انتباہ دیا گیا ہے کہ دہشت گردوں کو اپنے منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے خلاف رپورٹ کریں۔ اب القاعدہ والے ایک خاص انٹر نیشنل ٹیکنالوجی کا استعمال کر رہے ہیں۔
پاکستانی سیکریٹری دفاع جنرل شاہد اقبال نے لندن میں بتایا کہ برطانوی اشتراک سے پاکستان اپنی نیوی کی صلاحیتوں میں اضافہ کر رہا ہے۔ اب پاکستان میں بحریہ کے لیے فاسٹ اٹیک کرافٹ، میزائل، اینٹی سرفیس میزائل، خودکارگن وغیرہ تولید کیے جائیںگے ۔
اسرائیلی قبضے والے فلسطینی علاقوں سے ہر روز انسانی حقوق کے لوگوں کو ڈی پورٹ کیا جارہا ہے۔ گذشتہ روز مغربی کنارے کے معروف فلسطینی شہربیت اللحم میں امدادی سامان لے جا نے والے دو برطانوی شہریوں کو پکڑ کر لندن کی فلائٹ پر زبردستی بیٹھا دیاگیا، ان میں 64سالہ مائیک پینئر اور 83سالہ پروفیسر جان شامل ہیں۔ ان لوگوں نے لندن پہنچنے پر بتایا کہ ابھی گیارہ برطانوی جو انسانی حقوق کے لیے سرگرم عمل ہیں اسرائیل کی جیلوں میں بند ہیں۔ یہ معلوم ہوا ہے کہ ان گیارہ انگریزوں نے جیلوں میں بھوک ہڑتال کر رکھی ہے لیکن کوئی پرسانِ حال نہیں ہے۔
برطانیہ میں ہرسال ایک لاکھ بچے گھروں سے بھاگ جاتے ہیں اور مجرم گروہوں میں شریک ہوجاتے ہیں، لڑکیاں پیشہ کرانے لگتی ہیں، اب ان بچوں کو تلاش کرنے اور تحفظ دینے کے لیے ایک چیرٹی نے ایکشن پلان بنایا ہے جو ابھی بنیادی معلومات فراہم کررہا ہے ۔n

Share Article

حیدر طباطبائی

haidertabatabai

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *