ہند و پاک تعلقات: کیا یہ دوستی برقرار رہے گی

وسیم احمد
ہند و پاک دو ایسے پڑوسی ملک ہیں جن کے درمیان پائے جانے والے رشتے کو ’’پل میں تولہ پل میں ماشہ‘‘ سے تعبیر کیا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ کبھی کبھی دونوں کے درمیان رشتے اتنے استوار ہوجاتے ہیںکہ لگتا ہے دونوں ایک دوسرے کے عشق میں گرفتا ر ہیں۔ہندوستانی وزیر داخلہ پاکستان جاکر حق ہمسائیگی ادا کر رہے ہوتے ہیں تو کبھی پاکستانی وزیر اعظم گیلانی کرکٹ دیکھنے کے لیے منموہن سنگھ کی دعوت پر ہندوستان آتے ہیں اورایک اچھے دوست اور ہمسائے کی زباں میں پیاری پیاری باتیں کرتے ہیں۔اس وقت ایسا محسوس ہوتاہے کہ اب دونوں ملکوں نے تاریخ کے تلخ لمحوں کو بھلا کر ایک اچھے پڑوسی کی طرح رہنے کا  عزم کرلیا ہے اور اب کے بعد وہ کبھی بھی اُن تلخ لمحوں کو نہیں لوٹائیں گے۔ لیکن نہ جانے پھر کیا ہوجاتا ہے کہ سارے کیے کرائے پر پر پانی پھر جاتا ہے اور دوریاں اتنی بڑھ جاتی ہیں کہ دونوں ایک دوسرے کے خلاف دشمنوں کی زبان میں باتیں کرنے لگتے ہیں۔اب تک دونوں ملکوں کے درمیان کئی مرتبہ متنازعہ مدعوں کو حل کرنے کے لیے خارجہ سکریٹری سطح پر بات چیت کے لیے پیش رفت ہوچکی ہے،لیکن کبھی دہشت گردانہ حملوں کی وجہ سے تو کبھی سیاسی بیان بازیوں کے سبب،یہ سلسلہ رک جاتا ہے اور معاملہ وہیں پہنچ جاتا ہے جہاں سے شروع ہوا تھا۔ظاہر ہے ایسی صورت میں یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ پس پردہ کوئی نہ کوئی ایسی طاقت ہے جو دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں کڑواہٹ برقرار رکھنا چاہتی ہے اور وہی طاقت دونوں ممالک کی دوستی کی دشمن ہے، چاہے وہ اِس پار بیٹھے ہوں یا اُس پار سرگرم عمل ہوں، یا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ دنیا کے کئی حصوں میں براجمان ہوں۔چنانچہ جب بھی امن کی بات چیت کے لیے کوئی پیش رفت ہوتی ہے تو سازشوں کا ایسا جال بُن دیا جاتا ہے جس کی وجہ سے سارا معاملہ کھٹائی میں پڑجاتا ہے اور دونوں ملک بے اعتمادی کے ماحول میں ایک دوسرے کو تیور دکھانا شروع کردیتے ہیں چنانچہ 2008 میں دونوں ملکوں نے مذاکرات کے ذریعہ اپنے تنازعات حل کرنے کے لیے بہت حد تک تیاریاں کر لی تھیں۔اس وقت یہ محسوس کیا جارہا تھا کہ اب دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھا دیا ہے ،بس گلے ملنے کی دیر ہے کہ اچانک ممبئی بم دھماکے نے تمام پیش رفتوں کو تعطل کا شکار بنادیا ، گویا جتنی بھی کوششیں ہوئی تھیں ان پر پانی پھر گیا۔اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ یہ کوششیں دونوں ملکوں کے سیاسی و غیر سیاسی اداروں کی طرف سے بے موقع بیان بازیوں کے ہتھے چڑھ جاتی ہیں ۔اس سلسلے میں گرچہ پاکستان کے ادارے زیادہ فعال اور تعلقات میں کڑواہٹ شامل کرنے میں آگے نظر آتے ہیں لیکن ہندوستانی اداروں کی طرف سے بھی اس طرح کی بیان بازیاں اس کی معاون بن جاتی ہیں۔ خاص طور پر دونوں ملکوں کے کچھ میڈیا ا س سلسلے میں جلتی پر گھی کا کام کرتے ہیں اور اپنی غیر ذمہ دارانہ ویڈیو کلپ اور خبروں سے تلخی پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ پگھلتی ہوئی برف پر نفرتوں کی چٹان کھڑی ہوجاتی ہے۔ماضی میں یہی ہوتا رہا ہے اور امن دشمن عناصر اپنے ان ہی ہتھیاروں سے امن کی عفت کو تار تار کرتے رہے ہیں،لیکن حنا ربانی کا حالیہ دورہ ،ماضی کے تمام دوروں سے کچھ ہٹ کر ہے۔ یہ دورہ انہوں نے گزشتہ مارچ سے اب تک دونوں ملکوں کے درمیان ہوئے مذاکرات کے اجلاسوں کی پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے کیا ہے،اس لیے یہ امید کی جا سکتی ہے کہ ان کا یہ دورہ گزشتہ تمام دوروں کی بہ نسبت زیادہ کامیاب ثابت ہوگا ۔لیکن اس وقت سب سے اہم اور یاد رکھنے والی بات یہ ہے کہ جب دونوں ملکوں کے درمیان نفرت کی چٹان کھسک رہی ہے توایسے وقت میں محبت کی زبان بولنے کی ضروت ہے، نہ کہ ایسی بیان بازیوں کی جو دوریاں پیدا کریں۔افسوس کی بات یہ ہے کہ دونوں ملکوں میں کچھ ایسے افراد موجود ہیں جو بے وقت کی راگنی الاپ کر حالات کو مزید خراب کرنے کا کام کر رہے ہیں۔چنانچہ دیکھا گیا ہے کہ جب بھی دونوں ملکوں میں دوستانہ ماحول میں کچھ قدم بڑھایا جاتا ہے تو جماعت الدعوۃ اور اس جیسی دیگر تنظیمیں جن کی نیٹ ورکنگ پاکستان سے چلائی جاتی ہے، اشتعال انگیز بیان دے کر حالات خراب کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔جیسا کہ حنا ربانی کھر کے ہندوستان دورے سے ٹھیک پہلے مذکورہ جماعت کے سربراہ کا دھمکی آمیز یہ بیان کہ’’ وہ کشمیر کے راستے داخل ہوں گے‘‘ دورے کی اہمیت کو کم کرنے کی ایک کوشش  ہے۔چونکہ جماعت الدعوۃ ایک شدت پسند جماعت ہے لہٰذا اس سے اس طرح کی بیان بازیوں کی ہی توقع کی جاسکتی ہے لیکن افسوس اس وقت ہوتا ہے جب ہندوستان کے کچھ اہم اداروں کے ذمہ داروں کی طرف سے بھی ایسے بیان جاری کیے جاتے ہیں جو وقت کے تقاضے سے میل نہ کھاتے ہوں۔ چنانچہ ہندوستان کے سابق فوجی سربراہ وی پی ملک نے جو بیان دیا ہے وہ بے وقت کی راگنی ہی کہا جائے گا۔ وہ’ کرگل آپریشن وجے ‘ کی بارہویں سالگرہ میں شریک ہونے کے لیے کشمیر میں تھے ،اس موقع پر انہوں نے اپنے ایک بیان میںکہا کہ’’ پاکستانی فوج  ہندوستان کے خلاف اپنی پروکسی جنگ جاری رکھے ہوئے ہے۔1999 جیسے حملے کے دہرائے جانے کے عمل کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا ‘‘۔ میں اس بات پر تبصرہ نہیں کر رہا ہوں کہ ان کی بات غلط ہے یا صحیح،جب ایک ذمہ دار شخص نے کہا ہے تو یقینا سچ ہی ہے،لیکن جو کچھ بھی کہا گیا ہے وہ ایسے وقت میں کہا گیا، جب پاکستان کی وزیر خارجہ ہندوستان کے دورے پر خیر سگالی کا پیغام لے کر آئی ہوئی تھیں، ایسے میں اس طرح کے بیان سے گریز کرنا ہی مناسب تھا۔ اسی طرح کا ایک بیان ہندوستانی فضائیہ کے سربراہ چیف مارشل پی وی نائک نے پاکستان کو وارننگ دینے کے انداز میں دیا کہ’’ اگر اس نے ایٹمی حملہ کرنے کی کوشش کی تو ہندوستان اسے نیست و نابود کردے گا‘‘۔ یہ بیان ایسے وقت میں آیا جب دونوں ممالک کے خارجہ سکریٹری ہندو پاک کے درمیان وزارتی سطح پر ہونے والی بات چیت کے لیے ایجنڈا تیار کرنے میں لگے ہوئے تھے۔ ظاہر ہے اس طرح کے بیانات سے تعلقات میں کڑواہٹ پیدا ہوسکتی ہے اور دونوں ملکوں کے عوام میں پیش رفت کی جو امیدیں پیدا ہوئی ہیں اس پر پانی پھر سکتا ہے۔اس لیے دونوں ملکوں کے لوگوں کو مذاکرے سے پہلے یا بعد میں کسی بھی ایسے بیان سے گریز کرنا چاہیے جس سے تلخیاں جنم لیتی ہیں ۔ساتھ ہی دونوں ملکوں کے ہر فرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ  امن کی بحالی کے لیے دعائیں کرے تاکہ دونوں ملک ایک دوسرے کے  اچھے پڑوسی اور دوست بن کر رہیں۔
حنا ربانی کے حالیہ دورے کو اسی کوشش کی ایک کڑی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کے لیے ہندوستان ،پاکستان کو بار با دعوت دیتا رہا ہے اور کوشش کرتا رہا ہے کہ امن کی راہ میں جو جمود آیا ہے اس کو ختم کیا جائے، لہٰذا گزشتہ سال بھوٹان کی راجدھانی تھمپو میں جب منموہن سنگھ کی ملاقات پاکستانی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی سے ہوئی تھی تو اس وقت بھی انہوں نے دونوں ملکوں کے مابین ہوئے مذاکرات، جو سردخانے میں جا چکے تھے، کو آگے بڑھانے کی بات کہی تھی،جس کو گیلانی نے محسوس کیا اور وزارتی سطح پر بات چیت کو آگے بڑھانے کا عندیہ دیا تھا۔اسی کا نتیجہ ہے کہ گیلانی نے حنا ربانی کھر، جو پاکستانی کی 34 سالہ وزیر خارجہ ہیں، کو پاکستانی دانشوروں کے وفد کے ساتھ ہندوستان میں اپنے ہم منصب ایس ایم کرشنا اور دیگر ہندوستانی رہنمائوںکے ساتھ مل کر دونوں ملکوں کے درمیان مختلف متنازعہ امور پر اب تک ہونے والے اجلاسوں میں پیش رفت کا جائزہ لینے اور آئندہ مذاکرات کا لائحہ عمل تیار کرنے کے لیے بھیجا۔حنا ربانی کے دورے کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ اس دورے کے درمیان انہوں نے جو بیانات دیے ہیں وہ انتہائی مثبت اور امید افزاہیں اور ایسا محسوس ہورہا ہے کہ شاید اب دونوں ملکوں کے درمیان پائی جانے والی دوریوں کا خاتمہ ہونے ہی والا ہے، اگر چہ ان دوریوں کو اچانک ختم نہیں کیا جاسکتا، لیکن کم سے کم ان میں کمی تو لائی ہی جاسکتی ہے۔اس بات کو ہندوستانی حکمراں بھی محسوس کررہے ہیں اور خود حنا ربانی کھر بھی،جیسا کہ انہوں نے اپنے بیان میں اس کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ’’ دونوں ملکوں نے تاریخ سے سبق سیکھا ہے۔اور ماضی کی تلخ یادوں کو بھولنے کی ضرورت ہے۔ ہندوستان اور پاکستان کا مستقبل ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے اور انہیں جنوبی ایشا میں اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہے ۔ جب تک دونوں ملکوں کے تعلقات خراب رہیں گے تب تک ہم پوری صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر اپنے عوام کو ترقی اور خوش حالی کی راہ پر نہیں لاسکتے‘‘۔
حنا ربانی کے بیانات پر غورکیجئے تو محسوس ہوگا کہ پاکستان نے اب تک بڑی طاقتوں کے دبائو میں رہنے کی وجہ سے جو نقصانات اٹھائے ہیں، وہ اب اسے محسوس کر نے لگا ہے، ساتھ ہی افغانستان جو پاکستان کے داخلی امور پر گہرااثر رکھتا ہے  اوروہاں کی صورت حال امریکی فوجی انخلاء کی وجہ سے  تیزی  کے ساتھ بدل رہی  ہے اور اب حالات ایسے بن چکے ہیں کہ پاکستان کے جب تک پڑوسی ممالک، خاص طور پر ہندوستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات بحال نہ ہوں، اس وقت تک اس کا امن دائو پر لگا رہے گا ساتھ ہی اس کی خارجہ پالیسی پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے رہیں گے۔چونکہ پاکستان اس نکتے کو سمجھ چکا ہے اور محسوس کرنے لگا ہے کہ ہندوستان کے ساتھ اس کے اچھے تعلقات ہی خوشگوار مستقبل کے ضامن ہیں لہٰذا  اب وہ کسی بھی ایسے بیان سے گریز کرنے کی پالیسی پر چل رہا ہے جو باہمی دوستی میں دراڑ پیدا کرے۔ اسی سوچ کا نتیجہ ہے کہ حنا ربانی نے ہندوستان آنے سے پہلے پاکستانی صحافیوں کو جو بیانات دیے ہیں ان میں کوئی ایسی بات نہیں کہی جس سے دونوں ملکوں کے درمیان بد گمانی پیدا ہو،لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہندوستان میں رہ کر انہوں نے دوستی و محبت کی جو زبان اختیار کیہے کیا اسی خوشگوار لہجے پر وہ خود اور پاکستان کے دیگر سیاست داں  بعد کے دنوں میں بھی قائم رہیں گے، یا چند دنوں کے بعد کچھ ایسے عناصر جو پاکستان میں رہتے ہیں اور وہ نہیں چاہتے ہیںکہ دونوں ملکوں کے تعلقات میں بہتری آئے ،ان کے دبائو میں آکر ان کے لہجے میں تبدیلی آجائے گی؟ کیوں کہ ماضی میں بار ہا ایسا ہی ہوا ہے اور مذاکرات کے بعد پاکستانی سیاست دانوں کے لہجے بدل گئے  ہیں،جس کی وجہ سے ایسا لگنے لگتا ہے کہ دونوں کے تعلقات پل میں تولہ اور پل میں ماشہ کے محاورے پر بالکل فٹ آتے ہیں۔البتہ اس سلسلے میں ہندوستان کا رویہ پاکستان سے تھوڑا ہٹ کر ہے۔ہندوستان مذاکرات کا حتمی نتیجہ چاہتا ہے اور اس راہ میں حائل تمام رکاوٹوں کو دور کرنے کے امکانات کو اپنانے کی پالیسی اختیار کرتا ہے،چاہے یہ امکانات مذاکرات کے انعقاد سے پہلے ،مذاکرات کے دوران یا مذاکرات کے بعد کے دنوں میںہوں،یہی وجہ ہے کہحالیہ مذاکرے کی راہ میں بھی کئی رکاوٹیں آئیں مگر ہندوستان نے بڑے تحمل کے ساتھ ان تمام رکاوٹوں کو دورکیا ہے۔ماضی کی طرح اس مرتبہ بھی امن دشمن عناصر نے مذاکرے سے  صرف پندرہ دن پہلے ممبئی میں بم دھماکے کرکے حالات بگاڑنے کی کوشش کی،لیکن ہندوستان نے تحمل کے ساتھ اس دھماکے کا الزام پاکستان پر ڈالنے سے گریز کیا،جبکہ دشمن عناصر یہ چاہتے تھے کہ ہندوستان اس دھماکے کے پیچھے پاکستان کا ہاتھ سمجھ کر آنے والے مذاکرات کو ردّ کردے یا دونوں کے درمیان ایسی تلخی پیدا ہوجائے کہ حنا ربانی کے ساتھ خوشگوار ماحول میں بات چیت نہ ہوسکے،لیکن ہندوستان کے مثبت رویے نے ان دشمن عناصر کے ناپاک عزائم پر پانی پھیر دیا۔
حنا ربانی ہندوستان کا دورہ کرکے جاچکی ہیں۔کئی اہم ایشوز پر دونوں ملک کے وزرائے خارجہ نے اتفاق بھی کرلیا ہے، لیکن کیا جس خوشگوار ماحول میں بات چیت ہوئی ہے ، اتفاق ہوا ہے،یہ خوشگوار ماحول مستقبل میں بر قرار رہ پائے گا،جبکہ دونوں لیڈروں کے ایجنڈے میں ترجیحاتی ایشو الگ الگ تھے۔ پاکستان کشمیر ایشو کو کلیدی حیثیت دینا چاہتا ہے اور جب بھی مذاکرے ہوئے ہیں تو اس کی کوشش رہی ہے کہ کشمیر ایشوکو کلیدی حیثیت حاصل ہو، بات چیت میں کشمیری حریت پسند رہنمائوں کو بھی شریک کیا جائے۔چنانچہ اس مرتبہ بھی جب حنا ربانی دلی میں تھیں تو انہوں نے حریت کانفرنس کے چیئر مین سید علی شاہ گیلانی سے  پاکستانی ہائی کمیشن میں ملاقات کی،جس میں سید علی شاہ گیلانی نے مذاکرات میں کشمیر ایشو کو کلیدی حیثیت دینے کی بات کہی،جس کے جواب میں حنا ربانی نے گیلانی کو یقین دلایا تھا کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گی۔جبکہ ہندوستان بھی مسئلہ کشمیر پر پاکستان سے بات کرنا چاہتا ہے ۔اس سلسلے میں وہ اس سے پہلے بھی کئی کوششیں کر چکا ہے ،خود وزیر اعظم اپنی کئی ملاقاتوں میں اس طرف اشارہ کرچکے ہیں اور اس مسئلے کے حل کے لیے گزشتہ دو سال سے برابر تین مذاکرات کار ریاست کشمیر کے کونے کونے میں جاکر عوام کی خواہشات کا جائزہ لیتے رہے ہیں۔لیکن ہندوستان مسئلہ کشمیر کو مذاکرات میں اس طرح شامل کرنا چاہتا ہے کہ دیگر ایشوز متاثر نہ ہوں اور کشمیر پر بات چیت کا سلسلہ جاری بھی رہے۔ دوسری طرف ہندوستان اپنے ایجنڈے میں دہشت گردی کے خاتمے کو اہمیت دے رہا ہے اور چاہتا ہے کہ ممبئی حادثے سمیت پاکستان میں جتنی بھی امن مخالف جماعتیں پیر جمائے ہوئی ہیں ،ان کے خلاف سخت اور جلد کارروائی ہو۔ ظاہر سی بات ہے کہ ہندوستان کے ایجنڈے میں جو کلیدی ایشو ہے وہ ایک عالمی سطح کاایشو ہے اور دہشت گردی کی زد میں نہ صرف ہندوستان بلکہ دنیا کے بیشتر ملکوں کے ساتھ ساتھ خود پاکستان بھی زبردست نقصان اٹھا رہا ہے،لہٰذا ایسے وقت میں اگر پاکستان اس مسئلے پر ہندوستان کے ساتھ اتفاق کرلے تو دونوں ملکوں کے لیے ایک خوش آئند قدم ہوگا۔بہر کیف دونوں ملکوں کے مابین جن ایشوز پر اتفاق ہوا ہے، ان میں 26/11 کے دہشت گردانہ حملوں میں مجرمین کے خلاف کارروائی میں پیش قدمی سمیت دہشت گردی کی روک تھام اور کشمیر پر اعتماد سازی کے لیے اقدامات ،پُر امن حل کے لیے پیش قدمی کے ساتھ ساتھ لائن آف کنٹرول کے راستے سفر ِ تجارت کو آسان بنانے اور لائن آف کنٹرول پر تجارت کے لیے 2 دن سے بڑھا کر 4 دن کیے جانے اور کشمیریوں کے لیے سفرکے شرائط میں نرمی ،جس میں ان کے لیے 6 ماہ کا ملٹی پل انٹری ویزا جاری کرنے کی تجویز شامل ہے۔ان کے علاوہ جو ایشوز شامل تھے وہ بھی انتہائی اہم اور وقت کے تقاضے کے عین مطابق ہیں، مثال کے طور پر انسانی دوستی کی بنیاد پر تجارتی اور اقتصادی تعاون، وولر بیراج، تُلبُل نیوی گیشن پروجیکٹ، سیاچن پر اعتماد سازی سمیت امن و سلامتی ، جموں و کشمیر اور دوستانہ تبادلوں کے فروغ پر تفصیلی بات چیت۔ قیدیوں سے متعلق عدالتی کمیٹی کی جن سفارشات کو قبول کیا گیا ان میں ایسے قیدیوں کی فوری وطن واپسی جن کی سزائوں کی مدت ختم ہوگئی ہے، ماہی گیروں ،خواتین، معمر شہریوں اور کمسن قیدیوں کے مقدمے کو نپٹانے کے سلسلے میںدوستانہ رویہ اپنایا جانا وغیرہ شامل ہیں۔
حنا ربانی کا یہ دورہ اس لیے بھی کامیاب دورہ مانا جارہا ہے کہ پاکستان جانے کے لیے ان کی دعوت کو نہ صرف ہندوستانی وزیر خارجہ نے قبول کر لیا ہے اور آئندہ سال دونوں ملک کے وزرائے خارجہ کی اسلام آباد میں ملاقات کے لیے رضامندی دے دی گئی ہے بلکہ ہندوستانی وزیر اعظم نے بھی یہ اشارہ دیا ہے کہ اگر دونوں ملکوں کے تعلقات خوشگوار رہے تو وہ بھی پاکستان کا دورہ کر سکتے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *