سرکاری سے بھروسہ اٹھ رہا ہے

میگھنا دیسائی
چھبیس نومبر، 2008 کے المیہ کو ممبئی کے لوگ ابھی بھول بھی نہیں پائے تھے کہ 13 جولائی، 2011 کو پھر سے دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آگیا۔ مہاراشٹر میں کانگریس کی سرکار ہے، اس لیے کون وہاں کے قانون اور نظم و ضبط کی صورت حال پر تنقید کر سکتا ہے۔ ممبئی والوں کو بغیر کسی سرکاری مدد کے اس پریشانی سے باہر نکلنے کے لیے خود اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا پڑے گا۔ امریکی صدر براک اوبامہ نے بھی ہماری مدد کرنے کی پیش کش کی۔ دراصل، جس دن امریکی فوجیوں نے اسامہ بن لادن کو موت کے گھاٹ اتارا تھا، اسی دن ہمیں سمجھ لینا چاہیے تھا کہ ایسا واقعہ ہندوستان میں بھی پیش آ سکتا ہے۔ القاعدہ اور لشکر اس کا بدلہ لینے کے لیے ہندوستان کو اپنا نشانہ بنائیں گے، کیوں کہ اس کے لیے انہیں آئی ایس آئی کا تعاون بھی آسانی سے مل جائے گا۔ چونکہ ہندوستان دہشت گردی مخالف لڑائی میں امریکہ کی حمایت کرتا رہا ہے، لہٰذا یہ دھماکہ کرکے اسامہ کی موت کا بدلہ لیا جاسکتا ہے۔
ہمیں پتہ ہے کہ اس کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے، لیکن ہم پاکستان کو وزارتِ خارجہ اور وزارتِ داخلہ کے توسط سے مؤدبانہ گزارش بھیجنے کے علاوہ کچھ نہیں کرسکتے۔ اگر اس واقعہ کے پیچھے آر ایس ایس کا ہاتھ ہونے کے ثبوت ملے، جس کا تھوڑا بہت شبہ ہے تو پھر کانگریس انتہا پسند طاقتوں کی مذمت کرے گی۔ حقیقی دشمنوں کے مقابلہ آر ایس ایس پر وار کرنا ووٹ پانے کے لیے زیادہ اچھا ہے۔ حقیقت تو یہی ہے کہ ایسے واقعات میں اکثر پاکستان کا ہاتھ ہوتا ہے۔ اس کی تصدیق رانا اور ہیڈلی کے ان بیانوں سے بھی ہوتی ہے، جو شکاگو کی عدالت کے سامنے انہوں نے دیے تھے، لیکن ہم کچھ نہیں کر پاتے۔ سی بی آئی کی زیادہ تر کوششیں تو کمزور ہی ہوتی ہیں۔ یہ بھی غیر ملکی سازش کو ثابت کرنے میں زیادہ تر ناکام ہی رہتی ہے اور اس کی رپورٹ آؤٹ ڈیٹیڈ ہوتی ہے۔ ایسے میں وزارتِ امورِ خارجہ بھی ان ممالک کے خلاف سخت تنقید کرنا چھوڑ دیتی ہے، جو ایسی سازشوں میں شامل ہوتے ہیں۔ آخر ہندوستان اتنا نرم دل ملک کیوں ہے، حکومت ہند اندرونی سیاسی تنازعات میں ہی کیوں الجھی رہتی ہے، کیوں وہ حقیقی دشمنوں کا سامنا کرنے کی بجائے کانگریس بنام بی جے پی جیسے تنازعات میں الجھی رہتی ہے۔
26/11 کے بعد یہ بات کہی گئی تھی کہ مخصوص لوگوں کو دی جانے والی زیڈ درجہ کی سیکورٹی میں کچھ کمی کی جائے، تاکہ عام شہریوں کی حفاظت کے لیے وسائل میں اضافہ کیا جائے، لیکن لال بتی والی اس سرمایہ دارانہ جمہوریت میں ایسا کہاں ممکن ہے۔ سارا سیکورٹی نظام صرف اقتدار پہ قابض لوگوں کے لیے ہے، عام شہریوں کے لیے کچھ بھی نہیں۔ 26/11 کے واقعہ کے بعد بھی کوئی سدھار نہیں دکھائی پڑا۔ پتہ نہیں اور کتنے لوگوں کی جان جانے کے بعد سرکار اس بات کو سمجھ پائے گی کہ شہریوں کے معاملے سیاسی معاملوں سے کہیں زیادہ اہم ہوتے ہیں۔ جب 26 نومبر، 2008 کو ممبئی پر دہشت گردوں نے حملہ کیا تو سرکار اس بات کے لیے سب سے زیادہ فکر مند تھی کہ کہیں وہاں پر فرقہ وارانہ فساد نہ ہو جائے، لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔ ممبئی کے لوگوں نے عقلمندی کا مظاہرہ کیا۔ وہ جانتے ہیں کہ کون محب وطن ہے اور کون ملک کا دشمن۔ ہیڈلی اور رانا پر امریکہ میں چل رہے مقدمے سے کافی ثبوت مل گئے ہیں، جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس واقعہ کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے۔ امریکہ بھی حقیقت کو جانتا ہے۔ پھر بھی کیوں ہندوستان اس کا نام نہیں لیتا ہے، کیوں وہ فورینسک رپورٹ کو ہی ثبوت بنانا چاہتا ہے۔
13 جولائی، 2011 کو ایسا ہی واقعہ ایک بار پھر پیش آیا۔ کچھ دہشت گردوں نے پاکستان سے پیسہ حاصل کرکے ممبئی میں بم دھماکے کیے۔ مقامی لیڈروں کو تشویش ہوگی کہ کہیں فرقہ وارانہ فساد نہ ہو جائے۔ وہ تب تک پاکستان کی بربریت پر دھیان نہیں دیں گے، جب تک کہ انہیں اس میں ووٹ کا کوئی فائدہ نہ دکھائی دے۔ لوک پال کے مدعے پر دھیان دینے سے کہیں زیادہ اہم ہے کہ شہریوں کی حفاظت پر زیادہ دھیان دیا جائے۔ سرکار لوگوں کو یقین دلائے کہ وہ ان کی حفاظت کر سکتی ہے۔ آج کل سرکار پر بھروسہ کرنے کی بجائے لوگ پرائیویٹ سیکورٹی ایجنسی کی مدد لے رہے ہیں، کیوں کہ انہیں پتہ ہے کہ انتخاب کے وقت کے علاوہ سرکار ان پر دھیان نہیں دیتی۔ لیکن پرائیویٹ سیکورٹی ایجنسیاں بھی اپنا کام صحیح ڈھنگ سے نہیں کرتی ہیں۔ اس میں حیرانی کی کوئی بات نہیں ہے کہ جس طرح پبلک اسکول صحیح طریقے سے اپنا کام کرنے میں ناکام رہے ہیں، اسی طرح پرائیویٹ سیکورٹی ایجنسیاں بھی جب ان کی ضرورت ہوتی ہے، تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہتی ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *