حکومت دہلی حج کمیٹی کا چیئر مین کیوں نہیں بنانا چاہتی؟

ایس اے بیتاب
دہلی حج کمیٹی کے چیئر مین کے عہدہ سے عبد السمیع سلمانی کو کیا بر طرف کیا گیا کہ آج تک چیئر مین کی تقرری نہیں ہو پائی ہے۔ باقاعدہ طور پر دیکھا جائے تو 30دسمبر2006سے دہلی حج کمیٹی کا کوئی مستقل چیئر مین نہیں ہے۔ جب ہم نے حج کمیٹی سے آر ٹی آئی کے ذریعہ معلوم کیا کہ حج کمیٹی کا چیئر مین کیوں نہیں بنایا گیا ہے تو حج کمیٹی کا جواب تھا کہ چیئر مین کی تقرری کا ذمہ حکومت دہلی کا ہے اور نئی حج کمیٹی بننے کی تجویز زیر غورہے۔حج کمیٹی کا چیئرمین کیوں نہیں بنایا گیا ہے ، تو جواب دیا گیا کہ حج کمیٹی کے چیئر مین نہیں بننے کی وجہ فائل میں موجود نہیں ہے۔اس لیے یہ اطلاع آر ٹی آئی ایکٹ کے تحت نہیں آتی ہے۔ یہ جواب آر ٹی آئی 5جنوری 2010کاہے لیکن حج کمیٹی کا چیئر مین آج تک نہیں بنایا گیا ہے جبکہ ساڑھے چار سال سے یہ عہدہ خالی ہے۔ حج کمیٹی کا چیئر مین تین سال سے کیوں نہیں بنایا گیا ہے اس سوال کے جواب میں حج کمیٹی کا کہنا ہے کہ حج کمیٹی کے لیے مقررہ 7ممبر کا نوٹیفکیشن حکومت دہلی کے ذریعہ نہیں کیا گیا اس لیے حج کمیٹی کے چیئر مین کا انتخاب نہیں ہو سکتا۔آیئے دیکھتے ہیں کہ ایک اور آر ٹی آئی کے سوال کے جواب میں حج کمیٹی کیا کہتی ہے۔ سوال تھا کہ کیا دہلی میں حج کمیٹی کا چیئر میں بنانے کے لائق کوئی بھی مسلمان حکومت کی نظر میں نہیں ہے تو کیا دوسری ریاست کے شخص کو بھی چیئر مین بنایا جا سکتا ہے ، یہ سوال حکومت دہلی سے طلب کیا گیا تھا ،لیکن حکومت دہلی نے سوال کو حج کمیٹی کے پاس بھیج دیا اور وہاں سے جواب آیا کہ حج کمیٹی کے چیئر مین کا انتخاب حکومت نہیں کرتی بلکہ دہلی حج کمیٹی کے تمام ممبران اپنی کمیٹی میں اس کا انتخاب کرتے ہیں۔ اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ جب حج کمیٹی کے ممبران حج کمیٹی کے چیئر مین کا انتخاب کرتے ہیں تو پھر سات ممبران کا نوٹیفکیشن گزشتہ ساڑھے چارسالوں میں حکومت دہلی نے کیوں نہیں کیا ہے۔ جوائنٹ سکریٹری ریوینیو، حکومت دہلی ونے کمار کے ذریعہ لیفٹیننٹ گورنر کے حکم پر سیلم پور کے ممبر اسمبلی متین احمد، فرہاد سوری کونسلراور محمد شکیل سیفی کو 8نومبر 2007کو دہلی حج کمیٹی کا ممبر بنایا گیا تھا اور یہ اس سے پہلے بنائے گئے تین ممبران پرویز ہاشمی، ممبر اسمبلی، شیخ اصغر علی اور حبیب اختر کی جگہ پر بنائے گئے تھے۔حکومت دہلی کیوں نہیں بنانا چاہتی ہے حج کمیٹی کا چیئر مین؟ اس سوال کے جواب میں ذرائع سے جو معلومات حاصل ہوئی ہے اس کے مطابق حکوت دہلی کے وزیر راج کمار چوہان اپنے کسی چہیتے کو حج کمیٹی کا چیئر مین بنانا چاہتے تھے جسے حج کمیٹی کے ممبران نے منع کر دیا تھا جس کی وجہ سے یہ معاملہ لٹکا دیا گیا۔ ذرائع کی مانیں تو وزیر اعلیٰ شیلا دیکشت کسی دوسرے شخص کو چیئر مین بنانے کو راضی تھیں لیکن راج کمار چوہان اس بات پر اَڑے ہوئے ہیں کہ اسے ہی چیئرمین بنایا جائے۔ جعفر آباد میں جمعیۃ علمائے ہند دہلی کے ایک جلسہ میں مولانا ظفر الدین نے اس شخص کو حج کمیٹی کا چیئر مین بنانے کی اپیل عوام کے درمیان اسٹیج پر بیٹھے راج کمار چوہان سے کی تھی، جس پر وہاں کچھ لوگوں نے ہنگامہ کر دیا تھا۔ اس ہنگامہ کے بعد چیئرمین بنانے کا یہ معاملہ ٹھنڈے بستے میں ڈال دیا گیا۔ آخر ایسی کیا وجہ ہے کہ ایک شخص کی خاطر حج کمیٹی کا چیئر مین نہیں بنایا جا رہا ہے۔ دہلی کے حاجیوں کی پریشانی کو دور کرنے کے لیے حج کمیٹی کا چیئر مین بنایا جانا چاہیے تھا لیکن سیاست کے سبب ساڑھے چار سال سے حج کمیٹی کا چیئرمین نہیں بنایا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس کی وجہ راج کمار چوہان کو پبلک کمشنر کا نوٹس جاری ہونے کے بعد معاملہ صدر جمہوریہ تک پہنچنا اور راج کمار چوہان کو کلین چٹ مل جاناہے۔ آخر حکومت دہلی کے چہیتے وزیر تو کہلاتے ہی ہیں راج کمار چوہان۔ ان کی ایک چھوٹی سی تمنااپنے چہیتے شخص کو حج کمیٹی کا چیئر مین بنوانا، اس میں بھی انہیں مایوسی ہاتھ لگے تو پھر ظاہر ہے کہ ہم نہیں تو پھر کوئی نہیں اور اسی طرح سے ساڑھے چار سال سے خالی ہے حج کمیٹی کے چیئر مین کا عہدہ۔
لہٰذا اب ایک بار پھر محمدنقی ملہوترا ٹاٹوالا کو حج کمیٹی کا چیئر مین بنانے کی مہم چل رہی ہے۔ بتاتے ہیں کہ محمد نقی ملہوترا گزشتہ کئی دہائیوں سے ’انجمن خدام الحاج الحرمین شریفین الہند‘ نامی ادارے کے ذریعہ حاجیوں کی خدمت کرتے آ رہے ہیں۔ اس سے پہلے بابو دوست محمد، سابق میونسپل ممبر بھی اسی ادارے کے ذریعہ حاجیوں کی خدمت کرتے آئے ہیں، جن کا انتقال ہو چکا ہے۔حاجیوں کی خدمت کرنا مسلم قوم میں ایک بہت بڑا ثواب کا کا م مانا جاتا ہے۔ حاجی اظہار الحسن صاحب جو ’العمر ویلفیئر سوسائٹی، نانگلوئی‘ سے تعلق رکھتے ہیں ،بتاتے ہیں کہ وہ گزشتہ بیس سالوں سے حاجیوں کی خدمت بغیر کسی لالچ کے کر رہے ہیں۔ بالفاظِ دیگر وہ بھی حج کمیٹی کا چیئر مین بننے کے خواہش مند ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت دہلی کب اور کس کو دہلی حج کمیٹی کا چیئرمین بناتی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *