سازش کے سائے میں انڈین آرمی ، وزیر اعظم خاموش کیوں ہیں

 پارلیمنٹ کا ایک سینئر ممبر اگر وزیر اعظم کو خط لکھے اور پوچھے کہ کیا حکومت کے ذریعہ ہندوستانی بری فوج کے سربراہ کے عہدہ کے اہم امیدوار لیفٹیننٹ جنرل کی بہو یعنی ان کے دبئی میں کام کرنے والے لڑکے کی بیوی پاکستانی شہری ہے؟ تو یہ سنگین معاملہ بن جاتا ہے۔ وزیر اعظم کا دفتر اس کا جواب دینے کی جگہ اس رکن پارلیمنٹ پر اُن کی پارٹی کے ذریعے دباؤ ڈلواتا ہے کہ وہ اس خط کو واپس لے لیں۔ اتنا ہی نہیں، وزیر اعظم کے ساتھ جڑے ایک وزیر نارائن سامی پارلیمنٹ میں ہی اس ایم پی کو پکڑ لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آپ خط واپس لے لیجئے، کیوں کہ وزیر اعظم کافی افسردہ ہیں۔ رکن پارلیمنٹ کہتے ہیں کہ بہتر ہوگا اگر وزیر اعظم چار لائن کا جواب بھیج دیں کہ اُن کے ذریعے خط میں اٹھائے گئے سوال غلط ہیں، لیکن وزیر اعظم اب تک خاموش ہیں، کم از کم اس رپورٹ کے لکھے جانے تک۔ دراصل، فوج کا یہ سخت اصول ہے کہ اگر کوئی بھی شخص جو ہندوستانی فوج میں ہے، وہ یا اس کے خاندان کا کوئی فرد کسی غیر ملکی شہری سے شادی کرتا ہے تو اسے اطلاع بھی دینی ہوگی۔ یہاں تو کسی دوسرے غیرملکی شہری سے نہیں بلکہ پاکستانی شہری سے شادی کا معاملہ ہے۔ اگر یہ خبر صحیح ہے تو ہندوستانی بری فوج کے ممکنہ سربراہ کے گھر میں پاکستانی شہری ہوگا، جس کے پاس فوج کے سارے راز ہوں گے۔ ہمیشہ خطرہ بنا رہے گا کہ یہ راز یا خفیہ اطلاعات پاکستان نہ پہنچ جائیں۔ وزیر اعظم کے ذریعے اب تک خط کا جواب نہ دینا واضح کرتا ہے کہ الزام صحیح ہے۔
ہندوستانی بری فوج کے ممکنہ سربراہ اکثر اپنے بیٹے اور پاکستانی بہو سے ملنے دبئی جاتے رہتے ہیں۔ اس کے بارے میں انگریزی کے ایک مشہور ہفت روزہ اخبار نے رپورٹ شائع کی ہے کہ جب یہ کانگو میں امن بحالی کی ہندوستانی فوج کے چیف تھے تو وہاں پر قیام کر چکے کچھ سپاہیوں اور افسروں پر جنسی استحصال کا الزام لگاتھا۔ اس کی جانچ ہندوستانی فوج کر رہی ہے۔ جب بل کلنٹن صدر کے طور پر ہندوستان آئے، تو کشمیر کے چھتی سنگھ پورہ میں سکھوں کا قتل عام ہوا تھا۔ جانچ میں پتہ چلا کہ اس میں کافی شک کی گنجائش ہے کہ یہ قتل عام دہشت گردو ں نے کیا ہے۔ اس میں اندیکھی کا الزام اِن ہی جنرل صاحب پر لگا۔ جب یہ کشمیر کے کور کمانڈر تھے، تو ایک 65 سال کے آدمی کا انکاؤنٹر ہوا۔ پولس نے تفتیش کی تو پتہ چلا کہ یہ فرضی انکاؤنٹر تھا۔ اننت ناگ کے ڈی آئی جی نے جانچ رپورٹ آنے کے بعد باقاعدہ پریس کانفرنس کی۔ ہندوستانی بری فوج کے ممکنہ سربراہ نے کور کمانڈر رہتے ہوئے فوج سے سند اعزاز بھی حاصل کر لی۔ کشمیر میں ہی رہتے ہوئے کیسے دکانوں کی تقسیم میں دھاندلی ہوئی، اس پر بھی رکن پارلیمنٹ نے وزیر اعظم کو خط لکھا، لیکن وزیر اعظم نے اِس خط کا جواب نہیں دیا۔
ہاں، وزیر دفاع نے ایک رکن پارلیمنٹ کے خط کا جواب ضرور دیا ہے۔ وزیر دفاع کو رکن پارلیمنٹ نے لکھا تھا کہ جنرل دیپک کپور کے خلاف آدرش معاملے میں کیا کارروائی کی جا رہی ہے۔ وزیر دفاع نے کہا کہ انہوں نے سی وی سی اور سی بی آئی کے پاس معاملہ بھیج دیا ہے۔ جب ہم نے اِن دونوں محکموں سے پتہ کیا تو معلوم ہوا کہ وہاں اِس معاملے پر پوری خاموشی بھی ہے اور رازداری بھی۔ لیکن وزیر دفاع پریشان ہیں۔ انہوں نے ایک سابق وزیر دفاع سے کہا کہ وہ موجودہ آرمی چیف جنرل وی کے سنگھ کی تاریخ پیدائش کو لے کر پریشان ہیں اور انہیں مدد چاہیے۔ کیوں پریشان ہیں ہندوستان کے وزیر دفاع؟ شاید اس لیے کہ وہ ایسا کام کر رہے ہیں جو انہیں نہیں کرنا چاہیے۔ جنرل وی کے سنگھ کی تاریخ پیدائش کے تنازعہ میں وزارتِ دفاع نے غلط اور غیر اخلاقی کام کیا ہے۔ سیاسی مداخلت سے پہلے کے کاغذ اور بعد کے کاغذ الگ الگ کہانی کہہ رہے ہیں۔ ہمیں ملی ایک دستاویز کے مطابق، منسٹر آف لاء اینڈ جسٹس، لیگل ایڈوائزر (ڈیفنس) کے خط Dy. No. 0486/XI/LA (Def) میں اندر کمار لیگل ایڈوائزر ڈیفنس نے 14.2.2011 کو وزارتِ دفاع کو اپنے نوٹ کے پیرا (ڈی) میں لکھا، اِٹ ہیز آلسو بین آبزروڈ فرام دی فائل دَیٹ اِن دی ایپلی کیشن فارم آف یو پی ایس سی اِن 1965 پروبیبلی فِلڈ بائی اَینَدرپرسن (کلرک ؍ ٹیچر) وہیئر اِن دی ڈیٹ آف برتھ ہیز بین مینشنڈ ایز 10 مے 1950۔ اِٹ ہیز بین آبزروڈ دَیٹ دی یو پی ایس سی، وہین نوٹسنگ دی ڈایکوٹو می ریزڈ دی سیم کویری ہینس، اِز سیف ٹو پریزیوم دیٹ یو پی ایس سی ایکسپٹیڈ دی ڈیٹ آف برتھ مینشنڈ اِن ہائی اسکول سرٹیفکٹ، راجستھان بورڈ ایز دی رولس آف یو پی ایس سی کلیئرلی اسٹیٹ دَیٹ دی ڈیٹ آف برتھ ایز مینشنڈ اِن ہائی اسکول سرٹیفکٹ اِز ٹو بی ایکسپٹیڈ ایز کریکٹ اینڈ لیجی ٹمیٹ۔ لیکن جب واہن وَتی تصویر میں آتے ہیں تو وہ اپنے محکمہ کے ذریعے دی گئی رائے اُلٹ دیتے ہیں، سپریم کورٹ کی رولنگ کے خلاف کہتے ہیں کہ جنرل وی کے سنگھ کی تاریخ پیدائش نہ ہائی اسکول کے سرٹیفکٹ والی مانی جائے، نہ یو پی ایس سی والی، بلکہ 1950 مانی جائے۔ واہن وَتی نے سپریم کورٹ میں سرکار کی شکست کی دستاویز تیار کر دی ہے۔ اگر یہ کیس سپریم کورٹ جاتا ہے تو؟
’چوتھی دنیا‘ میں جیسے ہی یہ ساری چور بازاری اور گھپلے بازی چھپی، ویسے ہی دو عظیم صحافیوں کی دلالی نے
سرکار کو ہمت دی اور اس نے انصاف کے خلاف فیصلہ لیا اور جنرل کی ڈیٹ آف برتھ 1950 مان لی اور اعلان کر دیا کہ وہ جون میں ریٹائر ہو جائیں گے۔ اب اس فیصلہ کی بنیاد پر اگر یو پی ایس سی کے ذریعے فوج میں جانے والے امیدوار اپنی تاریخ پیدائش ہائی اسکول کے سرٹیفکٹ سے الگ لکھتے ہیں تو سرکار کیا کرے گی؟ انہیں مانے گی یا نہیں؟ سرکار کا یہ فیصلہ تنازعوں کا، تاریخ پیدائش سے وابستہ تنازعوں کا پٹارہ کھول دے گا۔ سپریم کورٹ میں کیس جائے گا ہی اور سپریم کورٹ کا اپنا فیصلہ ہے کہ تاریخ پیدائش کے تنازعہ میں ہائی اسکول کا سرٹیفکٹ آخری ثبوت ہے۔ لیکن ہندوستان کی عظیم حکومت اپنی شکست کی عبارت خود لکھ رہی ہے، جس کی سیاہی واہن وَتی، جو ہندوستان کے اٹارنی جنرل ہیں، نے خود سپلائی کی ہے۔ ویسے واہن وَتی صاحب بھی خوب ہیں۔ ہائی کورٹ میں انہوں نے ٹو جی اسپیکٹرم کا دو سال تک دفاع کیا اور اب سپریم کورٹ میں انہیں حکومت کے لیے لڑنا ہے۔ وہ اس کیس میں گواہ بھی ہیں اور گواہی میں اُن کا نمبر 125واں ہے۔
ہم نے جنرل وی کے سنگھ کے خلاف الزامات کو باریک بینی سے تلاش کیا، ہمیں ایک بھی الزام نہیں ملا، جب کہ اسی کڑی میں سرکار کے ذریعہ منتخب کردہ بری فوج کے ممکنہ سربراہ جنرل بکرم سنگھ کے خلاف کافی کچھ مواد اتفاق سے ہاتھ لگ گیا۔ ہم چاہیں گے کہ جن کے پاس جنرل وی کے سنگھ کے خلاف الزامات ہوں، وہ ہم سے ملیں، ہم انہیں بھی تفتیش کرنے کے بعد شائع کرنا چاہیں گے۔ ابھی تو ہمیں ایک ہی الزام ملا کہ انہوں نے اپنی تاریخ پیدائش پہلے 1950 لکھی، بعد میں 1951 کہی۔ اس الزام کی صفائی کے لیے جنرل وی کے سنگھ سپریم کورٹ نہیں جاتے تو انہیں اس داغ کے ساتھ ہی ریٹائر ہونا پڑے گا۔ جنرل وی کے سنگھ کو وزیر خزانہ پرنب مکھرجی نے بلایا اور درمیانی راستہ نکالنے کا مشورہ دیا۔ حالانکہ پرنب مکھرجی نے کہا کہ انہیں لگتا ہے کہ ناانصافی ہوئی ہے۔ میں نے کانگریس کے ایک طاقتور جنرل سکریٹری سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ جنرل وی کے سنگھ چاہیں تو یہ داغ لیے ریٹائر ہو جائیں، ہم انہیں گورنر بنا دیں گے اور چاہیں تو سپریم کورٹ چلے جائیں اور اگر وہ اسے داغ مانتے ہیں تو اسے وہاں سے صاف کرا لیں۔
آخر کیا وجہ ہے کہ جنرل بکرم سنگھ کے سنگین الزامات میں گھرے ہونے کے بعد بھی وزیر اعظم اور وزیر دفاع انہیں آرمی چیف بنانا چاہتے ہیں۔ اُن کے ذریعہ اپنے بیٹے کی شادی پاکستانی لڑکی سے کرنے کے بعد بھی وہ آرمی چیف جیسے نہایت حساس عہدہ پر بیٹھائے جارہے ہیں۔ کیا اس کے پیچھے صرف اُن کا وزیر اعظم کے فرقہ کا ہونا سبب ہے یا اس کے پیچھے کسی بڑی غیر ملکی طاقت کا ہندوستانی سرکار پر دباؤ ہے؟ وزیر اعظم کا دفتر یو پی اے کے ہی ایک رکن پارلیمنٹ کے ذریعے اٹھائے گئے سوال پر خاموش کیوں ہے؟ سپریم کورٹ میں شکست کا خطرہ اٹھاتے ہوئے کیوں سرکار یہ فیصلہ کرنے پر آمادہ ہے، جس کے نتیجہ میں وزیر دفاع اور وزیر اعظم کو استعفیٰ دینے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچے گا؟
ایک وجہ اور ہے۔ اگر سرکار جنرل وی کے سنگھ کا سال پیدائش 1951 مان لیتی تو جنرل بکرم سنگھ آرمی چیف نہیں بن سکتے ہیں، اُس حالت میں جنرل کے ٹی پرنائک آرمی چیف بن سکتے ہیں۔ جنرل کے ٹی پرنائک فوج میں نہایت ایماندار اور بہادر افسر مانے جاتے ہیں۔ وہ مہاراشٹر کے رہنے والے ہیں اور اُن پر کوئی داغ نہیں ہے، لیکن بین الاقوامی ہتھیار مافیا کو ایماندار افسر پسند نہیں آتے۔ جنرل وی کے سنگھ کے یہاں ایسے عناصر کی رسائی نہیں ہے، ایسا آئی بی کے افسروں کا کہنا ہے، لیکن جنرل جے جے سنگھ اور جنرل دیپک کپور کے یہاں ایسے عناصر کی رسائی تھی۔ جنرل بکرم سنگھ کے سوال پر وہ خاموش ہو جاتے ہیں۔ جنرل کے ٹی پرنائک کو خفیہ ذرائع چیف جسٹس کپاڑیا کی طرح ایماندار بتاتے ہیں۔
ہماری پوری جانچ ہمیں بتاتی ہے کہ جنرل وی کے سنگھ کی تاریخ پیدائش کا تنازعہ جان بوجھ کر جنرل جے جے سنگھ اور جنرل دیپک کپور کا پیدا کیا ہوا ہے۔ ان کی تاریخ پیدائش تمام ثبوتوں کے مطابق 10 مئی، 1951 ہے۔ ان کی تاریخ پیدائش پر جلد بازی میں فیصلہ اس لیے لیا گیا، کیوں کہ ’چوتھی دنیا‘ نے یہ ساری کہانی شائع کردی تھی۔ فیصلہ کے پیچھے بین الاقوامی مافیا ہے، جس نے سارے دباؤ بنا دیے ہیں۔ میڈیا بھی، ڈیفنس جرنلسٹ بھی ان کے رابطے میں ہیں۔ اب جنرل وی کے سنگھ کے ہاتھ میں ہے کہ وہ سپریم کورٹ جاتے ہیں یا گورنر بننے کی پیش کش اپنے اوپر لگے داغ کے ساتھ قبول کر لیتے ہیں۔ لیکن وزیر اعظم کو ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمنٹ کے خط کا جواب تو دے دینا چاہیے کہ کیا جنرل بکرم سنگھ کی بہو پاکستانی شہری ہیں؟g
خصوصی نامہ نگار
تجربہ کارلڑاکو لیفٹیننٹ جنرل کے ٹی پر نائک
ناردرن کمانڈ کے مکھیا لیفٹیننٹ جنرل کے ٹی پرنائک کا مختلف حالات میں لمبے عرصے تک کام کرنے کا تجربہ انہیں دیگر فوجی اہل کاروں سے الگ کرتا ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل کے ٹی پرنائک کو باغیوں کے اور کافی اونچائی والے علاقوں میں جنگ لڑنے کا ایک لمبا تجربہ ہے۔ کشمیر سے لے کر دور دراز کے شمال مشرقی علاقوں تک انہوں نے ایک با صلاحیت فوجی اہل کار کے طور پر اپنی خدمات انجام دی ہیں۔ پرنائک نیشنل ڈیفنس اکیڈمی، کھڑگ واسلا سے پڑھ کر 1972 میں کمیشنڈ آفیسر بنے۔ انہوں نے ڈیفنس سروسز اسٹاف کالج، ویلنگٹن سے گریجویشن بھی کیا۔ وہ ’آپریشن پراکرم‘ کے بھی اہم حصہ رہے ہیں۔ لیفٹیننٹ جنرل پرنائک اپنے کریئر کے دوران فوج کے اہم اور معزز عہدوں پر فائز رہے۔ مثلاً، ملٹری انٹیلی جنس کے اے ڈی جی رہے، ساتھ ہی انڈین ملٹری اکیڈمی اور آرمی وار کالج کو بھی اپنی خدمات بہم پہنچائیں۔ لیفٹیننٹ جنرل پرنائک کو شمال مشرقی علاقوں میں ان کی اہم خدمات کے لیے چیف آف آرمی اسٹاف سے دو بار تعریفی خط بھی مل چکے ہیں۔ آپریشن پراکرم میں اہم رول ادا کرنے کے لیے 2003 میں انہیں ’یدھ سیوا میڈل‘ بھی مل چکا ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل بکرم سنگھ اور تنازعہ
لیفٹیننٹ جنرل بکرم سنگھ ایک کمیشنڈ آفیسر کے طور پر 1972 میں سکھ لائٹ انفینٹری رجمنٹ سے جڑے تھے۔ فی الحال وہ ایسٹرن کمانڈ کے مکھیا ہیں اور آرمی چیف جنرل وی کے سنگھ کے بعد آرمی چیف کے عہدہ کے سب سے اہم دعویدار بھی ہیں۔ لیکن 38 سال کے کریئر میں لیفٹیننٹ جنرل بکرم سنگھ کے تنازعات سے رشتہ گویا چولی دامن جیسا رہا ہے۔ مثلاً، فرضی مڈبھیڑ کے ملزمین کو بچانے کے لیے بکرم سنگھ (تب وہ کشمیر میں تعینات تھے اور بریگیڈیئر تھے) نے سی بی آئی کو خط لکھا۔ پورا قصہ کچھ یوں ہے۔ 20 مارچ، 2000 کو جب بل کلنٹن ہندوستان کے دورے پر تھے، دہشت گردوں نے کشمیر کے چھتی سنگھ پورہ میں 36 سکھوں کا قتل کر دیا۔ اس کے ٹھیک 5 دنوں بعد فوج کے جوانوں نے اننت ناگ کے پتھری بل میں 5 شہریوں کو اِس الزام میں مار گرایا کہ وہ سکھ قتل عام کے واقعہ میں ملوث تھے۔ تین سال کی جانچ کے بعد سی بی آئی نے چارج شیٹ داخل کی، تب اس میں بریگیڈیئر بکرم سنگھ کے اُس خط (نمبر اے/38240/ایم او3اے، مورخہ 31 دسمبر، 2004) کو بھی شامل کیا تھا، جس میں یہ لکھا گیا تھا کہ مذکورہ واقعہ میں شامل فوج کے عہدیداروں کے خلاف کارروائی نہیں کی جاسکتی ہے، کیوں کہ انہیں ایفسپا (آرمڈ فورس اسپیشل پاور ایکٹ) کے تحت خصوصی اختیارات ملے ہوئے ہیں۔ سی بی آئی نے اس خط کے توسط سے فوج کے رول پر سوال کھڑے کیے تھے۔ ایک اور سنگین الزام میں بکرم سنگھ پھنس سکتے ہیں۔ معاملہ 2008 میں اقوام متحدہ کی فوج برائے امن کے طور پر کانگو گئی سکھ رجمنٹ کے 51 افسروں اور جوانوں کے ذریعے وہاں پر عصمت دری اور سیکسول مس کنڈکٹ کا الزام ہے۔ میرٹھ میں واقع آرمی کورٹ آف انکوائری اس معاملے کی جانچ کر رہی ہے۔ غور طلب ہے کہ اس رجمنٹ کے 120 افسروں اور جوانوں کی ایک کمپنی کانگو گئی تھی، جس کی کمان لیفٹیننٹ جنرل بکرم سنگھ سنبھال رہے تھے۔ ظاہر ہے، اگر جانچ میں مذکورہ الزام درست پائے گئے تو یہ لیفٹیننٹ جنرل بکرم سنگھ کے کریئر پر کالا دھبہ ثابت ہوگا۔
وزیراعظم کے نام ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمنٹ کا خط
چوتھی  دنیا کے پاس موجود ایک خط، جو ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمنٹ امبیکا بنرجی کے ذریعے 7 جولائی، 2011 کو وزیر اعظم کو لکھا گیا، لیفٹیننٹ جنرل بکرم سنگھ پر ایک اور سنگین الزام کا انکشاف کرتا ہے۔ ہوڑہ سے ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمنٹ امبیکا بنرجی اپنے اس خط کے ذریعہ وزیر اعظم منموہن سنگھ کو لیفٹیننٹ جنرل بکرم سنگھ کے ایک کارنامہ کے بارے میں مطلع کرتے ہیں اور کارروائی کی مانگ کرتے ہیں۔ بنرجی اپنے خط میں لکھتے ہیں کہ کور کمانڈر کے عہدہ پر فائز رہتے ہوئے بکرم سنگھ نے ایچ کیو 15 کور (سری نگر) میں 10 دکانیں الاٹ کی تھیں۔ وہ آگے لکھتے ہیں کہ مجھے بتایا گیا ہے کہ بکرم سنگھ نے اس الاٹمنٹ کے بدلے ہر ایک دکان کے لیے 3 سے 5 لاکھ روپے لیے۔ بنرجی اسے شرم ناک بتاتے ہوئے وزیر اعظم سے اس معاملہ کو دیکھنے کے لیے کہتے ہیں اور یہ بھی درخواست کرتے ہیں کہ جب تک جانچ پوری نہ ہوجائے، تب تک کے لیے بکرم سنگھ کو ان کے حساس عہدہ پر تعیناتی سے ہٹا دیا جائے۔ بہرحال، وزیر اعظم کی طرف سے اس مسئلہ پر اب تک کیا کارروائی کی گئی ہے، کسی کو نہیں پتہ۔ کیا اس معاملہ پر اب بھی کوئی کارروائی ہوگی، کہا نہیں جاسکتا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *