کامن ویلتھ پر سی اے جی رپورٹ: گھوٹالہ بازوں کو جیل بھیجنے کے لئے کافی ہے

ڈاکٹر منیش کمار
سی اے جی (کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل) کی رپورٹ آئی تو سیاسی حلقوں میں ہنگامہ برپا ہوگیا۔ دہلی کی وزیر اعلیٰ شیلا دکشت حزب اختلاف کے نشانے پر آ گئیں۔ رپورٹ سے ملک کے عوام کو پتہ چلا کہ دولت مشترکہ کھیل دراصل لیڈروں اور حکام کے لیے لوٹنے کا تیوہار بن گیا۔ کانگریس پارٹی کی طرف سے دلیل دی گئی کہ سی اے جی کی رپورٹ حتمی نہیں ہے، اس لیے کوئی کارروائی نہیں ہوگی۔ اب پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) میں فیصلہ ہوگا۔ اگر اب کوئی کانگریس پر یہ الزام لگائے کہ یہ سی اے جی کی معتبریت کو نقصان پہنچا رہی ہے تو یہ غلط نہیں ہوگا۔ ویسے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو کانگریس پارٹی نے ٹو جی اسپیکٹرم معاملے میں پہلے ہی سیاست کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔ اب اس رپورٹ کے ساتھ کیا ہوگا یہ پتہ نہیں۔ فی الحال نہ تو کوئی الیکشن ہے اور نہ ہی بھارتیہ جنتا پارٹی کے پاس پارلیمنٹ میں اتنی تعداد ہے اور نہ ہی اثر ہے کہ یو پی اے سرکار کو کوئی خطرہ ہو سکے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت مخالفت کی آواز سننے کو تیار نہیں ہے۔ بھارتیہ جنتا یوا مورچہ نے جب دہلی میں احتجاج کیا، تو پولس نے ڈنڈوں سے اس کا استقبال کیا، کارکنوں کی جم کر پٹائی ہوئی۔ جب پولس کے ڈنڈے پولیو سے معذور شخص کے پیروں پر پڑتے ہیں تو یہ دیکھ کر افسوس ہوتا ہے۔
سی اے جی کی رپورٹ پر اس لیے ہنگامہ برپا ہوا، کیوں کہ اس میں دولت مشترکہ کھیلوں میں گڑبڑیوں کا پردہ فاش ہوا ہے۔ رپورٹ میں دولت مشترکہ کھیلوں کے لیے تیار کیے گئے اسٹیڈیم، سامان، کھیل گاؤں، سڑکوں کی سجاوٹ، افتتاحی اور اختتامی پروگراموں پر ہوئے خرچ میں بدنظمی کا ذکر ہے۔ سی اے جی رپورٹ میں یہ اجاگر ہوا ہے کہ کس طرح ٹھیکے دینے میں ضابطوں کی خلاف ورزی کی گئی ہے، کس طرح پورے عمل میں شفافیت نہیں تھی، کس طرح ٹھیکہ دینے کے بعد خرچ بڑھایا گیا، اور کس طرح نقد خرچ کیا گیا، تاکہ اس کے بارے میں جانکاری آسانی سے نہ مل سکے۔ سی اے جی کی رپورٹ پر اس لیے بھی ہنگامہ ہوا، کیوں کہ کامن ویلتھ گیمس گھوٹالے میں کلماڑی کی تقرری کو لے کر وزیر کھیل نے پارلیمنٹ میں ابہام پیدا کرنے والے بیان دیے۔ لیکن رپورٹ میں صاف صاف بتایا گیا کہ اُس وقت کے وزیر کھیل سنیل دت کی مخالفت کے باوجود وزیر اعظم کے دفتر کے کہنے پر انتظامیہ کمیٹی کے صدر کے عہدے پر سریش کلماڑی کاتقرر کیا گیا۔ مطلب یہ کہ ایک تو دولت مشترکہ کھیلوں میں عوام کے پیسے کی لوٹ ہوئی اور سرکار قصورواروں کو سزا دلانے کی بجائے سی اے جی کی رپورٹ پر ہی سوال اٹھا رہی ہے۔ سی اے جی کے اختیار اور رپورٹ کی معتبریت پر ہی سوال کھڑے کیے جانے لگے۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ سی اے جی کے فرائض اور اختیار پر کانگریس پارٹی اور سرکار کی طرف سے جو سوالیہ نشان لگائے جا رہے ہیں، کیا وہ صحیح ہیں؟
دولت مشترکہ کھیلوں کے بارے میں سی اے جی کی رپورٹ میں جو لکھا ہے، ویسا تبصرہ پہلی بار نہیں کیا گیا ہے۔ سرکار کے فیصلے اور پالیسیوں پر وہ پہلے بھی سوال اٹھا چکی ہے۔ سی اے جی کی غیر جانبداری اور مستعدی سے کرشنا مینن، ٹی ٹی کرشناماچاری، جارج فرنانڈیز جیسے لیڈروں پر کارروائی ہوئی۔ سی اے جی کی رپورٹ کی اہمیت کیا ہے، یہ بات پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے ایک چیئرمین پہلے ہی بیان کر چکے ہیں۔ 1967-69 میں پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین، ایم آر مسانی کے مطابق سی اے جی کی رپورٹ کسی بھی سرکاری اہل کار کی ذمہ داری طے کرنے کے لیے کافی ہے۔ لیکن آج کی صورت حال یہ ہے کہ سی اے جی رپورٹ کو پی اے سی کے پاس بھیج دیا جاتا ہے، پھر جانچ ہوتی ہے۔ اب یہ پتہ نہیں کہ پی اے سی کے ممبران میں ایسی کون سی بات ہے جس سے یہ بھروسہ ہو سکے کہ وہ پروفیشنل آڈیٹر سے بہتر تحقیقات کر سکتے ہیں۔ پی اے سی کسی فیصلہ پر بھی پہنچ جاتی ہے، لیکن اس پر کوئی کارروائی نہیں ہوتی ہے۔ سب کچھ ٹھنڈے بستے کے اندر بند ہو جاتا ہے۔
کانگریس پارٹی کہتی ہے کہ سی اے جی کے ادارہ پر کئی الزام لگ رہے ہیں۔ کانگریس پارٹی کے موڈ سے تو یہی لگتا ہے کہ اس نے سی اے جی پر ہی حملہ کر دیا ہے۔ وزیر قانون سلمان خورشید کہتے ہیں کہ سرکار کی اپنی ذمہ داری ہے اور سی اے جی کی اپنی ذمہ داری ہے۔ سب کو اپنا کام کرنا ہے۔ سی اے جی جو بھی رپورٹ بناتی ہے اس کی جانچ پی اے سی کرتی ہے۔ ان کے مطابق پی اے سی منی پارلیمنٹ ہے۔ وہاں اس رپورٹ کی جانچ ہوگی۔ سی اے جی کی رپورٹ کو پی اے سی میں بھیجنا کام کرنے کے نظام کا ایک حصہ ہے، لیکن کیا اس طریق کار کی اہمیت اتنی ہے کہ پارلیمنٹ کی روح کا ہی گلا گھونٹ دیا جائے؟ وزیر قانون کی دلیل آئین سازوں اور آئین ساز اسمبلی کے خیالات اور اعتماد کے برخلاف ہے۔ کیا سرکار یہ کہنا چاہتی ہے کہ سی اے جی کی رپورٹ اگر کسی گھوٹالے کے بارے میں بتاتی ہے تو اُس پر کوئی کارروائی نہیں ہوگی۔ سرکار کی دلیل سے ایک صورت حال پیدا ہوتی ہے۔ اگر ایک ایسا گھوٹالہ سامنے آتا ہے، جس میں سرکار اور حزب اختلاف کے لیڈر شامل ہیں، تو کیا ہوگا؟ سی اے جی کی رپورٹ تو پھر کسی بھی کام نہیں آئے گی، کیوں کہ پی اے سی میں اس پر کوئی فیصلہ نہیں ہوگا۔ برسر اقتدار پارٹی اور حزب مخالف اگر متحد ہو جائیں تو ملک میں کسی بھی لوٹ کو انجام دینے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ سی اے جی کی رپورٹ کا کیا ہو، اس پر اصولی طور پر تمام پارٹیوں کی متفقہ رائے یہی ہے کہ سی اے جی کی رپورٹ پارلیمنٹ میں پیش ہونے کے بعد پی اے سی میں جانی چاہیے۔ سب کی دلیل یہی ہے کہ یہ قدیم زمانے سے چلی آرہی روایت ہے۔ پی اے سی میں سی اے جی رپورٹ کا کیا ہوتا ہے، یہ سب جانتے ہیں۔ دولت مشترکہ کھیلوں کے معاملے میں صرف بھارتیہ جنتا پارٹی ہی سی اے جی رپورٹ پر کارروائی چاہتی ہے۔ اس لیے، کیوں کہ ٹو جی اسپیکٹرم معاملے میں پی اے سی میں کانگریس پارٹی نے ٹھیک سے کام نہیں کرنے دیا۔
سی اے جی ملک کے قدیم ترین اداروں میں سے ایک ہے، جو ہندوستانی سیاست میں جوابدہی کو یقینی بناتا ہے۔ سی اے جی کو ہندوستان کی سپریم اکاؤنٹس کمیٹی کی شکل میں جانا جاتا ہے اور اس نے 16 نومبر 2010 کو اپنی تشکیل کے 150 سال پورے کیے ہیں۔ ایسے ادارہ کی اہمیت برطانوی حکومت نے تب محسوس کی جب ایسٹ انڈیا کمپنی نے 1858 میں اقتدار سنبھالا۔ آج پوری دنیا کے ملکوں میں سی اے جی جیسا ادارہ ہے، جو زیادہ طاقتور ہے۔ اُن کے پاس آڈٹ کرنے کے ساتھ ساتھ کسی بھی معاملے کی جانچ کرنے کا اختیار ہے۔ ہندوستان میں ایک غلط خیال بن گیا ہے کہ سی اے جی صرف آڈٹ کرنے والا ادارہ ہے۔ سی اے جی کا پورا مطلب ہے کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل۔یعنی یہ سرکاری خرچ کا کنٹرولر بھی ہے اور آڈیٹر بھی ہے۔ یہی ہمارے آئین میں بھی ہے۔ سی اے جی کی رپورٹ پارلیمنٹ میں پیش کی جاتی ہے۔ اس رپورٹ کی بنیاد یہ ہوتی ہے کہ سرکار ی پیسے کا استعمال اہل کاروں کے ذریعے کتنی سمجھداری، ایمانداری اور منظم طریقے سے کیا گیا ہے۔ اہل کاروں کو کسی پلان کے تحت ہی سرکاری رقم دی جاتی ہے۔ یہ رقم ان کی ذاتی ملکیت نہیں ہے۔ اس رقم کا صحیح طریقے سے خرچ اور اسکیم کو کامیاب بنانا اس کا اولین فریضہ ہوتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا سی اے جی کا کام صرف آڈٹ رپورٹ بھیجنا ہے۔ کیا سی اے جی کا کام یہ نہیں کہ جہاں جہاں غلطیاں ہوئی ہیں، اس کے بارے میں پارلیمنٹ کو بتایا جائے۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ ملک کے وزیر اعظم منموہن سنگھ بھی یہی مانتے ہیں کہ سی اے جی کا کام صرف آڈٹ کرنا ہے۔ یہ سرکار کی پالیسی پر کوئی تبصرہ نہیں کر سکتی ہے۔ یہ انہوں نے اپنے ذریعے منتخب کردہ پانچ ایڈیٹروں کے ساتھ بات چیت میں کہا تھا۔ دولت مشترکہ کھیلوں پر جب سی اے جی کی رپورٹ آئی تو وزیر اعظم نے کہا کہ سی اے جی نے اپنی حدیں پار کی ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ آئین میں کیا درج ہے؟ ہندوستانی آئین کے مطابق سی اے جی صدر کو آڈٹ رپورٹ پیش کرے گی، جسے پارلیمنٹ میں رکھا جائے گا۔ اس سے زیادہ آئین میں کچھ نہیں کہا گیا۔ اس سے یہ نہیں سمجھا جاسکتا ہے کہ آخر سی اے جی کا رول کیا ہے۔ اسے سمجھنے کے لیے ہمیں آئین ساز اسمبلی کی اس بحث پر جاننا ہوگا جب اس ادارہ کی ہندوستان میں تشکیل کی جا رہی تھی۔ آئین سازوں نے سی اے جی کو بنانے کے مقصد کو صاف صاف الفاظ میں بیان کیا ہے۔ آئین ساز اسمبلی میں سی اے جی کو لے کر جو باتیں کہی گئیں اس سے یہی نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ ملک کی جمہوریت کو تاناشاہی سے بچانے اور سرکار کوجوابدہ بنانے کی ذمہ داری عدلیہ اور سی اے جی کو دی گئی ہے۔ آئین ساز اسمبلی میں ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر نے سی اے جی کو ہندوستانی آئین کا سب سے اہم عہدیدار بتایا تھا اور کہا تھا کہ سی اے جی کی ذمہ داری عدلیہ سے بھی زیادہ اہم ہے۔ مالیاتی امور کا سب سے فیصلہ کن ادارہ سی اے جی کو ہونا چاہیے، تب ہی شاید ملک میں سوراج قائم ہو سکتا ہے۔
یہ بات بھولنی نہیں چاہیے کہ آئین ساز اسمبلی میں ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر، ڈاکٹر رادھا کرشنن، ڈاکٹر راجندر پرساد جیسے دانشوروں نے سی اے جی کی اہمیت اور ذمہ داری کی پذیرائی کی۔ آئین ساز اسمبلی میں سی اے جی کے معاملے میں دیے گئے بیانوں میں سب سے اہم بیان ہے آئین کے معمار ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کا۔ انہوں نے سی اے جی کو سپریم کورٹ جیسا اہم ادارہ بتایا۔ انہوں نے کہا کہ سی اے جی کی ذمہ داری عدلیہ سے کہیں زیادہ اہمیت کی حامل ہے۔ آئین کے کئی گوشوں کے ذریعے سی اے جی کی خود مختاری اور عظمت قائم کی گئی ہے، لیکن غور کرنے والی بات یہ ہے کہ تقرری کے وقت سی اے جی ویسے ہی حلف لیتے ہیں جیسے سپریم کورٹ کے جج لیتے ہیں۔ ان دونوں پر آئین کی حفاظت کرنے کی ذمہ داری ہے، لیکن وزیر جب حلف لیتے ہیں تو کہتے ہیں کہ وہ آئین کے مطابق کام کریں گے۔ ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کے بیان کی روشنی میں یہی نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ سی اے جی پر یوپی اے سرکار اور کانگریس پارٹی کے لوگ جو دلیلیں دے رہے ہیں، وہ غلط ہیں۔
بی پٹّاوی سیتا رمیا نے آئین ساز اسمبلی میں کہا کہ ملک کا سی اے جی سپریم کورٹ کے جج کی طرح آزاد اور مالیاتی امور میں سپریم ہونا چاہیے۔ سی اے جی صرف آڈیٹر جنرل نہیں ہے، وہ قانونی اہل کار ہے۔ وہ قانون کے مطابق ہر فیصلہ لے گا، جس کا ہر فیصلہ انصاف پر مبنی ہوگا، کیوں کہ وہ یہ بتائے گا کہ کیا صحیح ہے اور اہل کاروں نے کیا کیا ہے۔ کبھی کبھی اسے اہل کاروں کے خلاف بولنا ہوگا اور ان کی کرتوتوں کا پردہ فاش کرنا ہوگا۔ اس لیے سی اے جی کو ایسے اختیارات ملے ہیں، تاکہ وہ سرکار، کسی سیاسی پارٹی یا کسی سرکاری محکمہ کے غصے کا شکار نہ بن سکے۔ ہم جب تک ایک ایسے سی اے جی کی تشکیل نہیں کرتے جو مالی امور کا سب سے بڑا فیصلہ ساز ہو، تب تک اس ملک میں سوراج نہیں آ پائے گا۔ بی پٹّاوی سیتا رمیّا کے بیانات سے بھی یہی نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ وزیر اعظم کے بیان اور آئین ساز اسمبلی کے نظریات میں بہت فرق ہے۔
سیاسی پارٹیوں کو اس بات کا اندازہ ہی نہیں ہے کہ جس غیر انسانی حالت میں ملک کے غریب اپنی زندگی بسر کر رہے ہیں، اگر یہ دنیا کے کسی دوسرے حصے میں ہوتی تو پرتشدد انقلاب کو کوئی روک نہیں سکتا تھا۔ سرکار کے پاس جو بھی پیسہ ہے وہ ملک کے عوام کا پیسہ ہے۔ یہ ملک کے عوام کا حق ہے کہ انہیں یہ بتایا جائے کہ ان کے پیسے کو کس طرح سے خرچ کیا جا رہا ہے۔ ملک میں لوگوں کے پیسے کی زبردست بربادی ہوتی ہے۔ اگر کوئی ادارہ اس بربادی کی جانچ کرتا ہے، ثبوت دیتا ہے اور پھر بھی کوئی کارروائی نہ ہو تو اسے کیا کہا جائے؟ کیا انتخاب جیتنے سے سرکار کو تانا شاہ بننے کی چھوٹ مل جاتی ہے؟ ہمارے ملک میں سی اے جی یعنی کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل آف انڈیا کا کام یہی ہے۔ ہمارے ملک میں آڈیٹنگ اس لیے اہم ہوجاتی ہے، کیوں کہ سرکار بہت زیادہ خرچ کرتی ہے۔ سرکاری رقم کو جاری کرنے کے لیے تو سخت قانون ہیں، لیکن اس کے استعمال پر کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ سرکاری رقم کا صحیح استعمال ہوا یا نہیں، اس کی جوابدہی کسی کی نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک میں زیادہ اسکیمیں ناکام ہو جاتی ہیں اور کسی کو سزا نہیں ملتی۔ اگر سرکاری پیسے کے ساتھ ساتھ اہل کاروں کی جوابدہی بھی طے کر دی جائے، تب سرکاری رقم کو برباد کرنے والوں پر کارروائی ہو سکتی ہے۔ قانون کی نظر میں بدعنوانی کا معاملہ تب آتا ہے جب یہ طے ہو جاتا ہے کہ کسی نے رشوت لی ہے یا دلالی کی ہے۔ لیکن اُن معاملوں میں کچھ نہیں ہوتا ہے، جہاں اسکیمیں ناکام ہو جاتی ہیں اور عوام کے کروڑوں روپے برباد ہو جاتے ہیں۔ اس لیے آئین سازوں نے ملک میں ایک آزاد سی اے جی کی بنیاد ڈالی تھی۔ ایک مضبوط سی اے جی کی تشکیل کانگریس کے ہی لیڈروں نے کی تھی۔ اسے جواہر لعل نہرو کی قیادت میں قائم کیا گیا تھا۔ یہی وہ پارٹی ہے جو آئین ساز اسمبلی میں اکثریت میں تھی۔ آزادی کے 64 سال بعد یہ لکھتے ہوئے برا لگتا ہے کہ کانگریس پارٹی ایک جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کی ضد میں سی اے جی جیسے ادارہ کو سیاست کے اند رگھسیٹ رہی ہے۔ اس کے وقار کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ اس کا نقصان کانگریس کو ہی اٹھانا ہوگا۔ ساتھ ہی اس ادارہ کا وقار کم ہونے سے ملک کو بھی نقصان ہوگا۔ سیاسی پارٹیاں اگر بدعنوانی سے لڑنا چاہتی ہیں تو انہیں سی اے جی پر سوال اٹھانے کی بجائے سی اے جی کو مضبوط کرنے پر دھیان دینا چاہیے۔g

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Latest posts by ڈاکٹر منیش کمار (see all)

Share Article

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *