علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو بدنام کرنا درست نہیں:خواجہ عبد المنتقم

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کا جہاں ایک طرف شاندار ماضی رہا ہے، وہیں دوسری جانب دورِ حاضر میں اسے متعدد مخالف حالات کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ کبھی اس کے اقلیتی کردار کو لے کر سوال کھڑے کیے جاتے ہیں، تو کبھی اس کے وائس چانسلر کے خلاف سی بی آئی انکوائری کا اعلان کر دیا جاتا ہے۔ اکثر ایسا بھی ہوتا رہا ہے کہ چند شرپسند اور تخریبی عناصر کی کارروائیوں کی وجہ سے یونیورسٹی کو اچانک غیر معینہ مدت کے لیے بند کردیا گیا۔ ایسے میں طلباء کی تعلیم تو متاثر ہوتی ہی ہے یونیورسٹی کو لے کر دوسری قوموں کے درمیان غلط تاثر بھی جاتا ہے۔ انہی چند سوالات کو لے کر ’’چوتھی دنیا ‘‘ کے خصوصی نامہ نگار قمر تبریز نے اے ایم یو کے اولڈ بوائے، ماہر قانون اور حکومت ہند کے مختلف محکموں میں اعلیٰ عہدوں پر فائز رہتے ہوئے قوم و ملک کی خدمت انجام دینے والی مشہور و معروف شخصیت خواجہ عبدالمنتقم سے ملاقات کی اور اس معاملے میں ان کی رائے جاننے کی کوشش کی۔ انٹرویو کے چند اقتباس قارئین کی خدمت میں پیش کیے جاتے ہیں۔
 علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ایک ایسا تعلیمی ادارہ ہے جس سے صرف ہندوستان ہی نہیں بلکہ پورے ایشیا کے مسلمانوں کے جذبات جڑے ہوئے ہیں۔ اس یونیورسٹی پر جب بھی کوئی خطرہ منڈلاتا ہے تو مسلمان بے چین ہو اٹھتے ہیں۔ آپ نے بھی علی گڑھ سے تعلیم حاصل کی ہے۔ آپ نے جب یہ خبر سنی کہ یونیورسٹی کے موجودہ وائس چانسلر پروفیسر پی کے عبدالعزیز کے خلاف سی بی انکوائری کا حکم دیا گیا ہے، تو علیگ ہونے کے ناطے آپ پر اس خبر کا کیا اثر ہوا؟
دیکھئے میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا اولڈ بوائے ہوں۔ 1963میں میں نے وہاں سے گریجویشن کیا تھا، اس کے بعد میری بقیہ تعلیم دہلی کے دیگر اداروں میں مکمل ہوئی۔ جہاں تک آپ کے سوال کا تعلق ہے، تو جب بھی کسی تعلیمی ادارے کے وائس چانسلر یا سربراہ کے خلاف کسی بھی طرح کی انکوائری ہو، خواہ سی بی آئی کی انکوائری ہو، محکمہ جاتی انکوائری ہو، تادیبی انکوائری ہو یا دیگر کسی بھی قانون کے تحت انکوائری ہو، اس سے کوئی اچھا پیغام نہیں جاتا، ادارے کی بدنامی ہوتی ہے۔ جہاں تک علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے خلاف مجوزہ کارروائی، جو ابھی محض نوشتۂ دیوار ہے، جہاں تک مجھے معلوم ہے ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ اس معاملہ میں قانونی طور پر کوئی پیش رفت ہوئی ہے یا نہیں۔ کوئی نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے یا نہیں، یا یہ محض ایک کاغذی کارروائی ہے فائلوں میں اور اس سلسلہ میں حکومت نے یا متعلقہ محکمہ یا وزارت نے کوئی حتمی فیصلہ لیا ہے یا نہیں ۔ اگر ایسی کوئی بات ہوتی بھی ہے تو یہ پوری علیگ برادری بشمول ابنائے قدیم کے لیے نہایت افسوس ناک اور تکلیف دہ ہوگی، کیونکہ یہ جو یونیورسٹی ہے محض ایک تعلیمی ادارہ ہی نہیں ہے بلکہ یہ ہندوستانی مسلمانوں کے ساتھ ساتھ دیگر فرقوں کا ثقافتی ورثہ بھی ہے۔ کچھ لوگ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ’مسلم‘ لفظ کے آتے ہی اسے مسلمانوں سے جوڑ دیتے ہیں جبکہ سر سید احمد خاں نے یونیورسٹی قائم کرتے وقت کہا تھا کہ یہ میری دو آنکھیں ہیں  – ایک ہندو اور ایک مسلم، میں یہ چاہتا ہوں کہ دونوں آنکھوں کی بینائی یکساں رہے۔ میں آپ کو بتانا چاہوں گا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے پہلے گریجویٹ ایک ہندو تھے اور غالباً بنارس کے راجائوں کے خاندان سے تھے۔ لہٰذا کوئی بھی قدم علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے خلاف اٹھایا جاتا ہے تو چاہے وہ انکوائری ہو یا کچھ اور، اس کا منفی اثر پڑتا ہے، نہ صرف ہمارے ملک یا ایشیائی براعظم میں بلکہ پوری دنیا کی علیگ برادری اور اس کے خیر خواہوں پر اس کا اثر پڑتا ہے، کیونکہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی عالمی شہرت یافتہ یونیورسٹی ہے اس کو انٹر نیشنل یونیورسٹی کا درجہ حاصل ہے۔
پروفیسر پی کے عبدالعزیز کو جب علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا وائس چانسلر بنایا گیا تو سب نے ان کا کھلے دل سے استقبال کیا۔ ان سے بہت سی امیدیں بھی وابستہ کی گئیں، لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا گیا، وہ تنازعات میں گھرتے چلے گئے۔ آپ کی نظر میں اس کے پیچھے کیا عوامل کارفرما رہے؟ وائس چانسلر سے جانے انجانے میں کیا غلطیاں ہوگئیں جن کی وجہ سے آج انہیں یہ دن دیکھنا پڑ رہا ہے؟
جب بھی کسی ادارے کا سربراہ مقرر ہوتا ہے تو اس سے کچھ امیدیں یقینی طور پر وابستہ ہوتی ہیں، یہ ایک فطری عمل ہے۔ان میں دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں، ایک وہ جنہیں یہ ادارہ واقعی عزیز ہوتا ہے اور دوسرے وہ جن کا کام صرف انتشار پیدا کرنا ہوتا ہے، انہیں اس وی سی کے دور میں کچھ کماحقہ‘ اور اعتدال سے متجاوزکچھ حمایت یا مدد نہیں مل پاتی تو ان لوگوں کا کام شور شرابہ کرنے کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا۔بہر حال، یہ بات نہیں کہی جاسکتی کہ ان کے تمام معاملات یا جو وہ کہہ رہے ہیں وہ سب غلط ہیں ۔ بہت سے معاملات ایسے ہو سکتے ہیں جن میں تحقیق ضروری ہو لیکن تحقیق کا مطلب یہ نہیں ہو سکتا کہ صرف سی بی آئی انکوائری ہو۔ پروفیسر پی کے عبدالعزیز صاحب کی بدقسمتی یہ رہی کہ ان کو مالیاتی امور سے متعلق افسران سے صحیح رہنمائی اور مناسب فیڈ بیک نہیں ملا،کیونکہ یہ بڑا تکنیکی معاملہ ہوتا ہے اور یہ فائنانشیل معاملے ہوتے ہیں اور انہیں سمجھنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ علاوہ ازیں، وہ شرارتی عوامل کی صحیح شناخت نہیں کر پائے اور چند حضرات پر زیادہ بھروسہ کیا۔
وائس چانسلر کے اوپر یونیورسٹی کے فنڈ کا غلط استعمال کرنے کا الزام ہے جس کے لیے ان کے خلاف سی بی آئی انکوائری کا حکم دیا گیا ہے، جب کہ یونیورسٹی انتظامیہ سے وابستہ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یونیورسٹی فنڈ کا چاہ کر بھی غلط استعمال نہیں کیا جاسکتا ہے۔ اس پر آپ کچھ روشنی ڈالنا چاہیں گے؟
دیکھئے، جہاں تک فنڈ کے بیجا استعمال کی بات ہے، تو فنڈ کے استعمال پرحکومت ہند کے تمام ضوابط اور قانون نافذ ہوتے ہیں اور جب بھی اس کا بیجا استعمال ہوتا ہے تو ایسی حالت میں اس کو یہ کہا جائے گا کہ یہ استعمال بیجا ہے۔ اگر کہیں کوئی لغزش ہوئی ہے تو آڈٹ ہوتا ہے اور اس کی رپورٹ آتی ہے ، پھر پتہ چلتا ہے کہ فنڈ کا صحیح استعمال ہوا ہے یا بیجا، اور آڈٹ رپورٹ اس کا مصدقہ دستایزی ثبوت ہوتی ہے ۔اگر کہیں پر آڈیٹرس کو ایسا لگتا ہے کہ کہیں کوئی خامی رہ گئی ہے تو وہ اس کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہاں ایسا نہیں ہونا چاہیے، جس کے لیے اس میں آئندہ اصلاح بھی کی جا سکتی ہے۔ آڈیٹرس رپورٹ کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کوئی رپورٹ کسی کے خلاف ہے تو اس کی گردن پر فوراً تلوار لٹکا دی جائے گی۔اس کے بھی طریقے ہیں ۔ اکائونٹینسی اصولوں کے مطابق عقبی اور تعاقبی کارروائی کی جائے گی۔اور آڈیٹرس اپنا مشورہ بھی دیتے ہیں کہ اس میں کیا کیا تعاقبی کارروائی کی جا سکتی ہے ، کیا اصلاح کی جا سکتی ہے، جس سے آئندہ فنڈ کا بیجا استعمال نہ ہو۔ اور جیسا کہ میں نے پہلے بھی عرض کیا کہ صرف سی بی آئی انکوائری ہی واحد راستہ نہیں ہے۔
سی بی آئی انکوائری کے حکم سے یونیورسٹی کی ساکھ پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
بالکل بھی نہیں، یونیورسٹی کی ساکھ پر اس کا کوئی اثر پڑنے والا نہیں ہے، اس نے بہت سے نشیب و فراز دیکھے ہیں ۔ البتہ یہ ان لوگوں کے لیے ایک سنہری موقع ثابت ہو سکتا ہے جو ہمیشہ یونیورسٹی کو بدنام کرنے کے موقع کی تلاش میں رہتے ہیں۔اس کے علاوہ یونیورسٹی میں موجود کچھ شرارتی اور تخریبی عناصر ایسی صورتحال کا ناجائز فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ ہماری حکومت کو چاہیے کہ وہ اس معاملہ میں بہت ہی محتاط رویہ اختیار کرے۔چونکہ ہماری حکومت خود اس بات کو تسلیم کرتی ہے اور انڈیا ایئر بک میں اس بات کا باقاعدہ ذکر بھی کیا گیا ہے کہ ہمارا ملک مذہبی اعتبار سے بہت ہی حساس ملک ہے۔ لہٰذا کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے اس پر غور کیا جانا چاہیے کہ آئندہ اس کا کیا اثر ہو سکتاہے۔ حالانکہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ایک سیکولر یونیورسٹی ہے، لیکن پھر بھی مسلمانوں کے جذبات اس سے جڑے ہوئے ہیں، تو اس لیے یہ ضروری ہے کہ اس بات کا بھی خیال رکھا جائے کہ اس سے اقلیتوں کو کسی بھی طرح کی تکلیف نہ پہنچے اور جو شرارتی عناصر ہیں وہ اس کا فائدہ نہ اٹھا سکیں۔
ابھی کچھ دنوں قبل یونیورسٹی کو غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دیا گیا جب کہ کیمپس میں کئی کلاسوں کے داخلہ جاتی امتحان چل رہے تھے۔ اس قسم کے فیصلے سے طلبا ء تو متاثر ہوتے ہی ہیں، یونیورسٹی کے بارے میں یہی تاثر جاتا ہے کہ وہاں پر لکھنے پڑھنے کا کوئی ماحول نہیں ہے، ہمیشہ جھگڑا فساد ہوتا رہتا ہے۔ اس پر آپ کچھ کہنا چاہیں گے؟
دیکھئے جب بھی کوئی یونیورسٹی بند ہوتی ہے تو ظاہری طور پر طلباء کو اس کا براہِ راست نقصان ہوگا اور یونیورسٹی کی ساکھ پر برا اثر پڑے گا۔ لیکن کبھی کبھی صورتحال کو مزید خراب ہونے سے بچانے کے لیے اس طرح کی کارروائی کرنی پڑتی ہے۔ بعض اوقات ایسا نہ ہو کہ ایک معاملہ ہے اور اس سے دوسرے معاملہ اٹھ جائے۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ جو ضابطہ اخلاق پریس کونسل آف انڈیا نے بنایا ہے اس میں بہت سے تنازعات کی رپورٹیں ہیں، اس میں یہ ہدایت دی گئی ہے کہ آپ اس طرح کام کریں کہ ایک تنازعہ سے دوسرا تنازعہ کھڑا نہ ہو۔تو اس طرح کے معاملات میں بہت ہی محتاط رہنا پڑتا ہے اور یہ کہنا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں جھگڑا فساد ہوتا رہتا ہے، تو یہ محض الزام تراشی ہے۔آپ پورا ریکارڈ دیکھئے کتنی یونیورسٹیوں میں گولیاں چلی ہیں، یو پی ایگری کلچر یونیورسٹی میں پولس نے فائرنگ کی لیکن یہاں آپ کو ایسا کوئی واقعہ نظر نہیں آئے گا۔طلباء کی پر تشدد تحریکوں سے ہمارے تعلیمی اداروں کی تاریخ بھری پڑی ہے، جس کی تفصیل میں جانا اس وقت ممکن نہیں ہے۔ اس تفصیل کا اگر معمولی تجزیہ کیا جائے تو اے ایم یو کو بہت کم ہی نمبر ملیں گے، اس کا نام کہیں فہرست کے آخر میں ہی ملے گا۔ قتل بہت لوگ کرتے ہیں، مگر بدنامی کچھ ہی لوگوں کے حصے میں آتی ہے اور کبھی کبھی تو قتل کا چرچہ بھی نہیں ہوتا۔ ابھی حال ہی کے واقعہ میں دیکھئے، دہلی یونیورسٹی کے سیمیسٹر سسٹم پر ہنگامہ ہوا،جے این یو میں نئے وی سی کے معاملہ پر کتنے ہنگامے ہوئے، کبھی نصاب پر ہنگامہ ہے، تو کبھی ایڈمیشن پر ہنگامہ ہے ، ابھی ایمس (آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز، دہلی) کے ہی واقعہ کو لے لیجئے کتنا بڑا طبی اور تعلیمی ادارہ ہے، اس میں ایڈمیشن کے معاملہ پر کتنا بڑا واویلا ہوا۔تو اس سے ٹھیک ہے چند لوگ ہی بدنام ہوں ، لیکن ادارے کی بدنامی نہ ہو۔ اس بات کا خیال ضرور رکھا جانا چاہیے۔
گزشتہ چند سالوں سے ایسا دیکھنے کو ملا ہے کہ یونیورسٹی کے اندر جھگڑے کی شروعات اساتذہ اور انتظامیہ کی باہمی رسہ کشی سے ہوتی ہے، جس کی سزا اخیر میں طلباء برادری کو بھگتنی پڑتی ہے۔ آخر اس کی نوبت ہی کیوں آتی ہے؟ کیا آپ کی نظر میں اس مسئلہ کا کوئی ٹھوس حل نکالا جاسکتا ہے؟
ان تمام مسائل کا میری نظر میں یہ حل ہے کہ اساتذہ اپنے تعلیمی فرائض ایمانداری سے انجام دیں اور انتظامیہ یونیورسٹی کے طور طریقوں کے حساب سے کام کرے۔ اب رہی بات راہ مستقیم سے ہٹنے کی تو دونوں کے لیے راہ فرار نہیں ہے، دونوں کے خلاف تادیبی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں جب کوئی نیا وائس چانسلر آتا ہے تو شروع کے چھ مہینے، سال بھر تو وہ اپنی طرف سے یونیورسٹی کے تعلیمی معیار کو بلند کرنے اور یہاں کے طلباء کو روزگار حاصل کرنے کے لائق بنانے کی پوری کوشش کرتا ہے، لیکن ایک سال کا عرصہ گزرتے ہی، یونیورسٹی اسٹاف اور انتظامیہ کی روایتی لڑائی کا وہ بھی شکار ہو جاتا ہے اور پھر اس نئے وی سی کی مشکلیں بڑھنی شروع ہو جاتی ہیں۔
ان باتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے حکومت کو چاہیے کہ وہ ایسے شخص کا انتخاب کرے جو اکیڈمک اور ایڈمنسٹریٹو دونوں صلاحیتیں رکھتا ہو۔ظاہر ہے وی سی تو باصلاحیت شخص کو ہی بنایا جاتا ہے۔دیکھئے ہپوکریسی (منافقت) کی حمایت تو نہیں کی جا سکتی لیکن وہ آدمی اتنا غیر جانبدار ہونا چاہیے کہ وہ دونوں فریقین کی بات سنے ۔ اور اس طریقہ سے اپنا رویہ رکھے کہ دونوں فریقین یہ سمجھیں کہ بھئی ہماری بات کو سنا جا رہا ہے اور اس کے حساب سے کارروائی ہوگی۔ اگر کسی ایک طرف جھکائو ہوگیا تو اس سے بڑی دقتیں پیدا ہو جاتی ہیں اور شروع شروع میں بہت ہی زیادہ توازن کو بنا کر رکھنا چاہیے اور دونوں فریقین کی بات کو سننا چاہیے اور پھر اپنا دماغ لگا کر اس کا تجزیہ کرنا چاہیے کہ کون سا فریق صحیح ہے اور کون غلط ہے۔ مثلاً اگر کوئی یہ شکایت کرتا ہے کہ فلاںفلاں شخص کی تعیناتی یا انتخاب فلاں عہدہ پر غلط کیا گیا ہے۔خاموشی سے فائلیں منگوانی چاہئیں اورانہیں دیکھنا چاہیے کہ واقعی یہ بات صحیح ہے یا نہیں۔ اگر وہ فائل صحیح ہے تو ہو سکتا ہے کہ وہ آدمی معتبر ہے جس نے ہم سے شکایت کی ہے ، لیکن اگر مسلسل شکایتیں آتی ہیں، بیہودہ قسم کی شکایتیں آتی ہیں، مفاد پرست شکایتیں آتی ہیں، یا پرانے وائس چانسلر کو بدنام کرنے کے لیے آتی ہیں، تو اسے اس بات کا معروضی تجزیہ کرنا چاہیے اور اس پر غوروخوض کرنا چاہیے۔
اخیر میں، یونیورسٹی کی بقا اور اس کی بہتری کے لیے آپ یونیورسٹی کے طلباء اور علیگ برادری کو کیا پیغام دینا چاہیں گے؟
آخر میں علی گڑھ کے اولڈ بوائے ہونے کے ناطہ اتنا ہی کہنا چاہوں گا کہ سر سید (مرحوم) نے تو کبھی خواب دیکھا اس کی تعبیر ہمارے سامنے ہے، اس کی حفاظت کریں ، اپنا اپنا کام ایمانداری سے کریں، موجودہ وائس چانسلر پی کے عبدالعزیز صاحب چند ماہ کے بعد سبکدوش ہونے والے ہیں۔ لہٰذا صبر سے کام لیں، اور اس بات کے لیے زور نہ دیں۔ انھوں نے جو یونیورسٹی کے دائرۂ تعلیم کو وسیع کرنے میں اپنا تعاون دیا ہے اس کی ستائش کی جانی چاہیے۔ لہٰذا کسی کی اچھائیاں اور برائیاں دونوں ہی پلڑے میں تولی جانی چاہئیں۔ کسی بھی شخص سے غلطی یا لغزش ہو سکتی ہے، ارداتاً یا غیر اراداتاً غلط کام ہو سکتا ہے، اس کا مطلب یہ بالکل نہیں ہے کہ اس کو سولی پر چڑھا دیا جائے یا اس کے خلاف سی بی آئی انکوائری کرائی جائے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *