کرکٹ، اشتہار اور فضیحت

راجیش ایس کمار
جب کھلاڑیوں پر کامیابی اور پیسے کا نشہ طاری ہوتا ہے تو پھر اخلاقیات تک دائو پر لگ جاتی ہے۔ اس دوران یہ بھی دھیان نہیں رہتا ہے کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط۔ نظر آتا ہے تو صرف پیسہ ۔ اس کے لیے بھلے ہی کسی کو بے عزت کرنا پڑے یا پھر کسی کو گالی ہی کیوں نہ دینی پڑے۔ حال ہی میں دو شراب کمپنیوں کے اشتہار کے بعد ہندوستانی ٹیم کے دو کھلاڑیوں میں پیدا ہوا تنازعہ کچھ یہی کہانی بیان کرتا ہے۔ ابھی تک ٹیم انڈیا کے کپتان مہندر سنگھ دھونی اور ساتھی کھلاڑی ہربھجن سنگھ قریبی دوستوں کے طور پر جانے جاتے تھے، لیکن حال ہی میں ایک اشتہار نے ان دونوں کے درمیان خلیج پیدا کر دی تھی جس کی وجہ سے یہ ایک دوسرے کے خلاف قانونی جنگ پر آمادہ ہو گئے تھے۔
ایک شراب کمپنی کا اشتہار گزشتہ کچھ دنوں سے ٹی وی پر نشر ہو رہا ہے۔اس میں دھونی کے نظر آنے سے پہلے ایک سکھ نوجوان بڑے بڑے گولے بنا رہا ہوتا ہے کہ اسی درمیان اس کا باپ اسے تھپڑ رسید کر گالی دیتے ہوئے کہتا ہے (کچھ گالیاں بیپ بھی کی جا تی ہیں) کہ اتنے بڑے بڑے گولے کیوں بنا رہا ہے، تو جواب میں وہ سکھ نوجوان کہتا ہے کہ آئی ایم میکنگ لارج…بس یہیں سے دھونی کہتے ہیں کہ بڑا کرنے سے کچھ نہیں ہوگا، کچھ الگ کرو۔ اس بات سے اب سبھی واقف ہو چکے ہیں کہ یہ اشتہار ہربھجن کے ہی اشتہار کا اسپوف ہے اور تھپڑ کھانے والا وہ نوجوان ہربھجن سے ملتا جلتا کیرکٹر ہے۔اس اسپوف میں میکڈاویل کے اشتہار میں دھونی حریف کمپنی پرناڈ ریکارڈ کے برانڈ رائل اسٹیگ کے اشتہار میں ہربھجن کے کردار کا مذاق اڑاتے نظر آ رہے ہیں۔ بس جیسے ہی یہ اشتہار ہربھجن اور ان کے پریوارنے دیکھا، انہیں اس پر اعتراض ہو گیا۔ ہربھجن اور ان کے وکیل دیوانی ایسو سی ایٹس اینڈ کنسلٹینٹس نے وجے مالیہ کی یوبی اسپرٹس کو میکڈاویل نمبر ون پلیٹنم وہسکی کے اس اشتہار کے لیے نوٹس بھیج دیا۔ اس میں کہا گیا ہے کہ میکڈاویل نمبر ون کا دھونی والا اشتہار ہربھجن ، ان کے پریوار اور پورے سکھ فرقہ کا مذاق ہے۔
نوٹس کی ایک کاپی ای ٹی کے پاس موجود ہے۔ اس میں تمام بڑے اخباروں اور ٹی وی چینلوں میں بھجی کے پریوار سے بلا مشروط کھلے عام معافی مانگنے کے علاوہ نوٹس ملنے کے تین دن کے اندر اشتہار ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا۔ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ یو بی اپنی اشتہاری کمپنی کو اس اشتہار کی نشریات فوراً روکنے کی ہدایت دیں۔ وکیل شیام دیوانی کے دستخط شدہ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ میرے موکل نے آپ کو غلطی ماننے اور ترمیم کرنے کا موقع دینے کے لیے نوٹس بھیجا ہے۔ ایسا نہ کرنے پر ہمارے پاس قانونی کارروائی کرنے کے علاوہ کوئی متبادل نہیں بچے گا۔ نوٹس خرچ کے ہرجانے کے طور پر ہربھجن کے پریوار کو ایک لاکھ روپے دینے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔ نوٹس ہربھجن کی والدہ اوتا کور نے بھیجا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ بھجی کے اشتہار والی فلم صاف ہے، اچھی ہے اور اس سے کسی کے جذبات کو ٹھیس نہیں پہنچتی۔ جبکہ دوسرا اشتہار ان کے پریوار کی شہرت اور ساکھ کو نقصان پہنچانے والا ہے۔
ہربھجن کی جانب سے بھجوائے گئے قانونی نوٹس کے جواب میں وجے مالیہ نے واضح کر دیا تھا کہ کسی بھی صورت میں اشتہار واپس نہیں لیا جائے گا۔ مالیہ نے ہربھجن سنگھ سے کسی بھی قیمت پر معافی مانگنے سے انکار بھی کر دیا اور کہا کہ وہ بھجی کے لیگل نوٹس کا جواب اب قانون سے ہی دیں گے۔ ان کا ارادہ بھجی کے جذبات کو ٹھیس پہنچانا نہیں تھا اور انھوں نے اپنے اشتہار میں ان کا کوئی مذاق نہیں اڑایا ہے۔ اس لیے وہ اپنا اشتہار واپس نہیں لیں گے۔مالیہ نے صفائی دی ہے کہ بہت سارے نیوز چینلوں میں لیڈروں، اداکاروں کا مذاق اڑایا جاتا ہے تو کیا ان سبھی کو نوٹس بھیج دیا جاتا ہے۔ جب وہاں ایسا نہیں ہوتا تو اشتہاری دنیا میں ایسا کیسے ہو سکتا ہے۔ میرے وکیل بھجی کے نوٹس کو پڑھ رہے ہیں، جو مناسب ہوگا، وہ کیا جائے گا۔ جبکہ مالیہ کی حریف کمپنی کے مطابق اس نے ہربھجن سنگھ کو قانونی کارروائی کی صلاح نہیں دی تھی، لیکن اب اگر بھجی نے یہ قدم اٹھالیا ہے تو وہ ان کی ہر طریقہ سے مدد کرے گی۔ اس طرح یہ معاملہ ابھی اور طول پکڑے گا۔
لیکن اب شاید مالیہ کو لگا ہوگا کہ اس بات سے ان کی ساکھ ہربھجن کے چاہنے والے میں گر سکتی ہے، اس کے علاوہ ان کی آئی پی ایل ٹیم کا بزنس بھی متاثر ہو سکتا ہے، اس لیے انہوں نے اس اشتہار کو واپس لینے کا فیصلہ لیا، لیکن اس بات سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ ہر بھجن کو جو نقصان اور بے عزتی دیکھنی تھی وہ دیکھ چکے۔ کئی دنوں تک ٹی وی پر اشتہار کے دکھائے جانے کے بعد اب واپس بھی لیا تو کیا ہوا؟ مالیہ نے پبلسٹی سے اشتہار تو ہِٹ کراہی لیا۔ اس بات سے تو تقریباً سبھی واقف ہیں کہ اس طرح کے اشتہار جان بوجھ کر بنائے جاتے ہیں اور یہ کہنا بھی غلط ہے کہ اس اشتہار میں ہربھجن سے ملتا جلتا آرٹسٹ اتفاق سے آیا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اس طریقہ سے کچھ لوگوں کو اعتراض نہ ہوتا ہویا پھر کچھ لوگوں کو ہوتا ہو، لیکن ایک ہی ٹیم کے کھلاڑی ایک شراب کمپنی کے اشتہار کو لے کر اس قدر الجھیں تو معاملہ سنگین ہو جاتا ہے۔ اس بات سے دھونی بھی انکار نہیں کر سکتے کہ انہیں پتہ نہیں تھا کہ اس اشتہار میں ہربھجن کا مذاق اڑایا جا رہا ہے۔ ظاہر ہے، ایسے میں اگر دھونی میں ذرا بھی اخلاق ہوتا تو ٹیم کے تئیں خیر سگالی دکھاتے ہوئے وہ اس طرح کے اشتہار میں کام کرنے سے منع کر سکتے تھے۔ ایسا تو ہے نہیں کہ دھونی اس میں کام کرنے سے انکار کر دیتے تو ان سے یہ اشتہار ہی چھین لیا جاتا۔
دھونی اگر ہربھجن سنگھ کے جذبات کا خیال کرتے ہوئے اسکرپٹ میں تبدیلی کا مطالبہ کرتے تو آج یہ تنازعہ پیدا ہی نہیں ہوتا، لیکن انھوں نے ایسا نہیں کیا۔ اس سے کئی باتیں صاف ہوتی ہیں۔ پہلی بات تو یہ کہ دھونی کو اپنے ساتھی کھلاڑیوں کی عزت کرنی نہیں آتی ہے اور دوسری بات یہ کہ وہ کھیل سے زیادہ پیسے اور گلیمر پر توجہ دیتے ہیں۔ اس مسئلہ میں انہیں سچن تیندولکر سے سبق لینا چاہیے۔ غور طلب ہے کہ دھونی اس سے پہلے بھی شراب کمپنی کو پروموٹ کر نے کے چکر میں کئی شہروں میں مخالفت کا سامنا کر چکے ہیں۔ یہ تو خیر منایئے کہ ٹیم انڈیا آج کل کامیابی کے افق پر ہے، ایسے میں ان کھلاڑیوں کو من مانی کرنے کا موقع مل جاتا ہے، ورنہ اب تک بورڈ ان کے خلاف ضابطہ شکنی کی کارروائی کر چکا ہوتا۔تعجب کی بات یہ ہے کہ ابھی تک دھونی نے رسمی طور پر ہی سہی، اس مسئلہ پر کوئی تردیدوتبصرہ نہیں کیا ہے۔ اس سے اتنا تو صاف ہے کہ کہیں نہ کہیں دھونی کو احساس ہو گیا ہے کہ ہربھجن سنگھ کے ساتھ غلط ہوا ہے۔
اب یہ قانونی تنازعہ ٹل تو گیا، لیکن اس بات سے کوئی انکار نہیں کر سکتا ہے کہ کھلاڑیوں کے درمیان میل جول کا فقدان ہے۔ اگر ان میں ذرا بھی آپسی اتحاد ہوتا تو دونوں اس معاملہ کو لے کر متحد ہوتے اور اگر ضروری ہوتا تو انجانے میں یا جان بوجھ کر ہوئی اس غلطی کو سدھارنے کی کوشش کرتے، لیکن یہ کمپنی کے ملازمین جیسا سلوک کر رہے ہیں۔ انہیں اس بات کا ذرا بھی احساس نہیں ہے کہ کھیل اور کھلاڑی ہی ان کا ساتھ ہمیشہ دیں گے، نہ کہ یہ شراب بنانے والی کمپنیاں۔ جس دن ان کے ستارے بلندی پر نہیں ہوں گے تو سب سے پہلے ساتھ چھوڑنے والوں میں ان کمپنیوں کا ہی نام آئے گا۔ راہل دراوڑ اور گانگولی اس بات کی زندہ مثال ہیں۔ اگر ان کھلاڑیوں میں ذرہ برابر بھی اخلاقیات ہے تو انہیں یہ سمجھنے میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے کہ پیسہ اور گلیمر کھیل اور ساتھی کھلاڑیوں سے بڑھ کر نہیں ہے۔

باکس

برانڈ وار کوئی نئی بات نہیں
اس سے پہلے بھی ایڈ وار کے چکر میں کئی معروف ہستیاں اور کھلاڑی آپس میں الجھ چکے ہیں۔ کچھ دنوں پہلے عامر کی فلم ’’ڈیلہی بیلی ‘‘میں ایک کار کا مبینہ طورپرمیں مذاق اڑائے جانے پر تنازعہ کھڑاہو گیا تھا۔ الزام تھا کہ فلم میں جان بوجھ کر اس کار کا استعمال کیا گیا ، کیونکہ ایک دیگر ہیرو(شاہ رخ خان) اس کمپنی کی کار کی تشہیر کرتے ہیں۔ کمپنی اپنی کار کو مبینہ طورپر ناروا طریقہ سے دکھائے جانے کے لیے ’’ڈیلہی بیلی‘‘ کے ہدایت کار اور پروڈکشن ہائوس کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا موڈ بنا رہی ہے۔ علاوہ ازیں مائکرو سافٹ نے ایک تشہیری مہم بھی شروع کی ہے، جس میں ایپل کے آئی فون اور گوگل کے اینڈرائڈ سسٹم کا مذاق اڑایا گیا  ہے۔ یو ٹیوب پر ڈالے گئے اس اشتہار میں شرکاء کا مذاق اڑاتے ہوئے دکھایا گیا ہے کہ کچھ فون کے ڈیزائن خراب ہونے کے سبب صارفین میں بدسلوکی کو فروغ مل رہا ہے۔ مائیکروسافٹ نے اس مہم میں مقبول ٹی وی اداکار راب ڈایرڈک اور اداکارہ منکا کیلی کو شامل کیا ہے۔ ایسا ہی واقعہ ڈٹرجینٹ کمپنیوں کے معاملہ میں نظر آیا۔ جب ہندوستان یونی لیور لمیٹڈ(ایچ یو ایل) کے پروڈکٹ رین ڈٹرجینٹ اور پراکٹر اینڈ گیمبل (پی این ڈی) کمپنی کے پروڈکٹ ٹائڈ ڈٹرجینٹ کے اشتہار نے برانڈ وار چھیڑ دی تھی۔ اس دوران بھی پی اینڈ جی نے ایچ یو ایل کے خلاف اپیل دائر کر دی تھی۔ اس معاملہ میں سمیکشا مارکیٹنگ کنسلٹنٹ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جگدیپ کپور کہتے ہیں کہ مجھے لگتا ہے کہ اس طرح آپا نہیں کھونا چاہیے۔ یہ وقت ہی برانڈ وار کا ہے، پھر اس طرح بوکھلانے کا کوئی مطلب نہیں ہے۔ اگر کسی برانڈ پر ایسے حملے ہو رہے ہیںتو اسے خاموشی سے لینا چاہیے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *