ہم اور ہماری روایتیں

عفاف اظہر
ہرسال ماں کے دن ہی کی طرح 19 جون کو یوم والد دنیا بھر میں منایا جانا بہت سی دوسری روایتوں کی طرح ایک روایت بن چکی ہے۔ 19 جون کو یوم والد کے حوالے سے پارک میں سب بچے بہت پرجوش تھے، خوبصورت پھولوں اور فادرز ڈے کارڈز پر دل موہ لینے والی تحریروں پر ایک دوسرے سے تبصروں میں مصروف تھے کہ میری نظر پارک کے ایک کنارے پر خاموش بیٹھے ایک بزرگ پر پڑی اور نہ جانے کون سی کشش مجھے بے اختیار ان کے پاس کھنچ کر لے گئی۔ بات چیت کا سلسلہ بڑھاتے ہوئے میرے ہیپی فادرز ڈے کہنے پر جواباً انہوں سے ایک سرد آہ بھری اور کہا کہ ایک باپ کا رشتہ کیا ہے، یہ ان ایک دن کے منانے والوں کو کیا پتا؟ ماں باپ کے لیے سال میں یہ ایک دن منانے کی روایت مغرب کی نقل میں تو اب ہم بھی اپناتے چلے جا رہے ہیں مگر ان کی اہمیت جانے بنا  اپنائی جانے والی یہ روایتیں انسان کی اپنی اہمیت کھو چکی ہیں۔ میری حیرانگی اور سوالیہ نظروں کو بھانپتے ہوئے مزید کہا کہ ان کی شریک حیات کو گزرے دس سال ہو چکے ہیں اور وہ ابھی کچھ سال پہلے ہی پاکستان سے اپنے دو شادی شدہ  بیٹوں کے بلانے پر یہاں آئے ہیں اور دونوں بیٹوں کے فیصلے کے مطابق ہر ماہ پندرہ دن ایک کے ہاں اور باقی پندرہ دن دوسرے کے ہاں رہتے ہیں۔ میں نے بے اختیار کہا کہ بہت خوش قسمت ہیں آپ کہ آپ کے بچے آپ کو اتنا چاہتے ہیں، تو انہوں نے جواباً ایک ایسی سرد آہ بھری جو میری روح میں کپکپی دوڑا گئی اور کہا کہ ہاں بیٹی اس حد تک ہی خوش قسمت ہوں کہ جس مہینے میں تیس دن ہوں، اگر مہینہ اکتیس کا آ جائے تو گھر رکھنا تو درکنار مجھے کھانا تک پوچھنے والا کوئی نہیں ہوتا۔ میں ان فادرز ڈے پر ہر سال ملنے والے پھولوں کے گلدستوں اور کارڈز کا کیا کروں کہ جب مجھے ہر اکتیس دن والے مہینے کے تیس دن صرف اس  ایک اکتیسویں دن کی فکر میں ہی کاٹنے ہوتے ہیں۔ میں خاموش لاجواب ایک  بے بسی کے عالم میں ان روایتوں کی حقیقت پر سوچ رہی تھی جو آج انسان کی اہمیت گھٹا چکی ہیں کہ ہمارے اس نام نہاد سماج کی حقیقت کیا ہے یا دوسرے الفاظ میں ہمارا اپنا کوئی سماج تو ہے ہی نہیں، ہماری یہ سب کی سب روایتیں تو  دوسروں کی دین ہیں۔ بہت سی روایتیں ہندوستان سے علیحدگی پر تحفے کے طور پر لیتے آئے اور باقی مغرب سے متاثر ہوکر اپنا تو لیں مگر ان کی اہمیت کو کبھی بھی  سمجھ نہ سکے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ہمارا اپنا معاشرتی وجود تو ہے ہی نہیں، جس سے متاثر ہوئے اس کو اپنا لیا کے تحت جو کھچڑی اب بن چکی ہے اسے ہم اپنا معاشرہ کہتے ہیں۔ ہندوستان سے جسمانی طور پر الگ ہوئے تریسٹھ سال ہو چکے مگر دماغی طور پر آج بھی ہندوستان ہی میں ہیں۔ یہ عزت غیرت کے تصور سے لے کر رسوم و رواج کی چتا پر آئے دن ستی ہوتی ہوئی دختران قوم ہماری منافقت پر مہر ثبت کرتی دکھائی دیتی ہیں کہ ہم بھلے ہندوستان سے جتنا بھی دشمنی کا ڈھونگ رچا لیں لیکن اپنے اندر کے ہندوستانی کو آج تک ختم نہیں کر سکے۔ شادی بیاہ سے لے کر روزمرہ کے معاملات زندگی میں ہمارے ہر رسوم و رواج میں آج بھی  ہندوستانی کلچر جھلکتا ہوا اس دو قومی نظریہ کے منہ پر طمانچہ مارتا دکھائی دیتا ہے جس کو بنیاد بنا کر زمین کا ٹکڑا تو الگ کر لیا مگر ذہنی طور پر آج تک الگ نہ ہو سکے۔  اور ذہنی طور پر مغرب کی غلامی کے چنگل سے تو ہم کبھی بھی چھٹکارہ نہیں پاسکے۔ آزادی کے جوشیلے نعروں نے نفسیاتی طور پر مغرب کے متاثرین میں لا کھڑا کیا ہے کہ سال بھر ہزاروں ماؤں کی کوکھیں اجاڑ کر مدرڈے، فادر ڈے منا لیا تو گویا سال بھر کے گناہوں کا کفارہ ادا کر لیا۔ غیرت کے بے غیرت تصور اور عزت کے بھیانک کھیل نے پاکستانی معاشرے کو عورت کے لیے دنیا بھر میں  خطرناک ترین معاشروں کی فہرست میں آج تیسرے نمبر پر لا کھڑا کیا ہے۔ ایک طرف رسم و رواج پر بلی چڑھتی عورت اور دوسری طرف ویلنٹائن ڈے کا اہتمام ؟ اس حقیقت کا کھلا اعتراف ہے کہ ہماری اپنی آج بھی کوئی پہچان نہیں کیوں کہ ہر معاشرتی سوچ میں ہم آج بھی  ہندوستان کے زیر اثر ہیں اور نفسیاتی  طور پر مغرب کے متاثرین۔ ہمارا اپنا معاشرہ رسوم و رواج، اپنی سوچ، اپنی پہچان آج بھی کوئی نہیں، مغرب اور مشرق کے درمیان منافقت کا سینڈوچ بن چکے ہیں۔ وہ روایتیں ہی کیا ہوئیں کہ انسان کی اہمیت ان سے گر جائے؟ وہ سماج ہی  کیا ہوا جو انسان سے جینے کا حق چھین لے؟ کون کہتا ہے کہ ستی کی روایت اب دم توڑ چکی ہے کہ روایتوں کی لاشوں کے ساتھ آج بھی ہر روز ہمارے ہاں انسان ستی ہو رہا ہے۔ روایتوں کو جنم دینے والا یہ انسان انہی روایتوں کی بلی چڑھ رہا ہے ، روایتوں کو آسمان کی بلندیوں تک لے کر جانے والا انسان خود قبروں کی پستیوں میں اتر رہا ہے۔ روایتیں تو بدستور جی رہی ہیں مگر انسان تل تل مر رہا ہے۔ صرف اس لیے کہ ہم انسانی رشتوں کی اہمیت کو نظر انداز کر چکے ہیں، یہ بھول رہے ہیں کہ انسانی زندگی اور انسانی رشتوں کے سامنے یہ روایتیں بہت ہی چھوٹی ہوتی ہیں اور جب جس معاشرے میں روایتیں اتنی اونچی ہونے لگیں کہ زندگی کی قیمت چھوٹی محسوس ہو، سروں سے پگڑیاں اونچی ہونے لگیں تو اس سے قبل کہ وہ اس معاشرے کو مٹا ڈالیں ان روایتوں کی لکیروں کو جتنی جلدی ہو سکے مٹا دینا چاہیے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *