یو پی میں بی جے پی کی قائد اوما بھارتی

اجے کمار
طویل عرصہ سے واپسی کا تذکرہ اور مخالف آوازوںکے درمیان آخر کار اوما بھارتی کی واپسی ہو ہی گئی۔ چھ سال پہلے ضابطہ شکنی کے لیے پارٹی سے برطرف کی گئیں اوما بھارتی کی واپسی کے موقع پر پارٹی کے صدر نتن گڈکری نے دو ٹوک کہہ دیا کہ اتر پردیش کی پارٹی مہم میں اوما جی اہم کردار ادا کریں گی۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ اوما کی واپسی کا فیصلہ پارٹی کے اندر عام اتفاق رائے سے کیا گیا ہے اور اوما کے آنے سے بی جے پی کو اتر پردیش میں نئی توانائی ملے گی۔ واپسی کے ساتھ ہی تیز طرار اوما  نے بی جے پی میں واپسی کی ہیٹرک پوری کر لی۔ اسی کے ساتھ بی جے پی پر سنگھ کی پکڑ ایک بار پھر ثابت ہو گئی، کیوں کہ بی جے پی میںاوما بھارتی کی واپسی کی مخالفت میں کئی آوازیں اٹھ رہی تھیں جنہیں ناگپور سے آئے حکم نے خاموش کرا دیا۔ پارٹی نے اتر پردیش اسمبلی انتخابات کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کی واپسی کو ضروری سمجھا، کیوں کہ ان انتخابات پر بی جے پی کا سب کچھ دائوں پر لگا ہے۔2014میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں پارٹی کی اتر پردیش میں بہتر کارکردگی ضروری ہے۔ اوما کی واپسی تو ہو گئی ہے، لیکن ان کے لیے اتر پردیش میں کام کرنا آسان ہوگا، ایسا لگتا نہیں ہے۔ ریاست کے بی جے پی لیڈر اوما کی واپسی کو لے کر تو کچھ نہیں کہتے ہیں، لیکن انہیں اس بات کا ملال ہے کہ سب کو نظر انداز کر کے اوما کو آگے کیا گیا ہے۔
لہٰذا اگر ضرورت کی بات کی جائے تو اوما کو بھی بی جے پی کی اتنی ہی ضرورت تھی جتنی کہ بی جے پی کو ان کی۔ چھ سالوں تک بی جے پی سے باہر رہیں اوما بھارتی بھی اکیلے دم پر کچھ حاصل نہیں کر پائی تھیں۔ انھوں نے پارٹی تو بنا لی، لیکن نہ تو پارٹی ہی کھڑی کر پائیں اور نہ ہی خود کا اسمبلی الیکشن جیت پائیں۔بی جے پی کو گزشتہ مرتبہ مدھیہ پردیش میں جو دو تہائی اکثریت حاصل ہوئی تھی اسے اوما نے صرف اپنے دم خم پر مان لیا تھا۔ اب اوما کا علاقہ لکھنؤ ہوگا، یہ بات طے کر کے بی جے پی نے ایک تو مدھیہ پردیش کے لیڈران کو خوش کرنے کی کوشش کی ہے، جو بھوپال سے ان کی دوری چاہتے تھے تو ساتھ ہی دہلی کے ان اعلیٰ لیڈران کو بھی راحت دی ہے، جو اوما کی واپسی کے مخالف تھے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اوما کے کندھوں پر پارٹی نے جو ذمہ داری ڈالی ہے ، اس پر وہ کتنا کھرا اتر پاتی ہیں۔
اوما کو سب سے پہلے ریاست کے بی جے پی لیڈران کی ایسی ٹیم بنانی ہوگی جو اپنی قطار بنا سکیں۔ان کے پاس کلراج مشرا، لال جی ٹنڈن، کیسری ناتھ ترپاٹھی جیسے لیڈران کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ ہے تو دوسری جانب راج ناتھ سنگھ، سوریہ پرتاپ شاہی جیسے قدآوروں کو ساتھ لیکر چلنے کا چیلنج بھی ۔
اوما کی واپسی کے ساتھ ہی کلیان سنگھ کو بھی لے کرچہ میگوئیاںشروع ہو گئی ہیں۔ سابق وزیر اعلیٰ کلیان سنگھ کو اوما اپنا بھائی مانتی ہیں۔ ایسے میں مانا یہ جا رہا ہے کہ ایک تو اوما کے خلاف کلیان سنگھ زیادہ زہر نہیں اگلیں گے، دوسرے ان کے ہٹنے سے بی جے پی کا جو لودھی ووٹ بینک منتشر ہو گیا تھا، اس کا بڑا حصہ اوما واپس لانے میں کامیاب ہوسکتی ہیں۔
ریاست میں7فیصد لودھی رائے دہندگان 25-27اسمبلی سیٹوں پر ہار جیت کا فیصلہ کرتے ہیں۔ اوما بھارتی کی بی جے پی میں واپسی کا خیرمقدم کرتے ہوئے پارٹی کے سینئرلیڈر ونے کٹیار نے کہاکہ وہ خیالات و نظریات سے پہلے ہی پارٹی سے جڑی تھیں، صرف ان کا جسم پارٹی میں دوبارہ لوٹا ہے۔ اوما کی پارٹی میں واپسی سے پارٹی کو ایک نئی سمت ملے گی ۔ ان سے جب پوچھا گیا کہ اوما بھارتی کو اتر پردیش کا انچارج بنائے جانے کی بات سامنے آ رہی ہے تو کیا پارٹی کو اتر پردیش میں کوئی ایسا لیڈر نہیں ملا تھا جسے پارٹی کا انچارج بنایا جا سکے، اس پر کٹیار نے کہا کہ صوبہ میں پارٹی کے بہت اچھے لیڈر تھے، لیکن اوما بھارتی کو اس لیے پارٹی کا انچارج بنایا جا رہا ہے کہ وہ یہاں سے مدھیہ پردیش کو بھی سنبھال سکیں گی۔ بی جے پی کے ممبرپارلیمنٹ یوگی آدتیہ ناتھ نے بھی اوما کی واپسی پر خوشی ظاہر کی۔ انھوں نے کہا کہ جہاں صوبہ سے لے کرملک تک میں بدعنوانی کی گنگا بہہ رہی ہے، وہاں اوما امید کی کرن کی مانند ہیں۔دو نمبروں میں پہنچ چکی بی جے پی ممبران اسمبلی کی تعداد کواوما بھارتی تین نمبروں تک پہنچا دیتی ہیں تو یہ ان کے لیے چمتکار سے کم نہیں ہوگا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *