یہ حکومت غریبوں کے لئے نہیں امیروں کے لئے ہے؟

وسیم راشد
یہ میرے سامنے بڑی ہی خوبصورت سی تصویر ہے ہندوستانی خارجہ سکریٹری نروپما رائو اور پاکستان کے خارجہ سکریٹری سلمان بشیر کی۔ دونوں ہی بڑے پرجوش انداز میں اسلام آباد میں ہاتھ ملا رہے ہیں۔مگر کیا یہ دل ملانے کا کام بھی کر پائیں گے۔ بڑے بڑے دعوئوں کے ساتھ نروپما جی اسلام آباد با قاعدہ پوراوفد لے کر گئی ہیں جس میں ہندوستان سے نہ صرف پاکستان کے سفیر بلکہ یہاں کے صحافی اور بڑے بڑے افسران شامل ہیں ۔ نروپما رائو نے کہا کہ وہ امن و سلامتی کے موضوع پر بات کرنے جارہی ہیں اور انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وہ ان مذاکرات میں کھلے دل و دماغ کے ساتھ تعمیری سوچ کے ساتھ شریک ہوں گی۔
اور اب اسی خوشی فہمی والی میٹنگ کے ساتھ ساتھ ہی چلتے ہیں دوسری ایک اور بڑی خبر کی طرف، جس میں ہندوستانی قیدیوں کو صومالیائی بحری قزاقوں کے ہاتھوں مسلسل 10 ماہ تک قیدی رہنے اور اذیتیں دینے کے بعد رہائی نصیب ہوئی۔اور اس رہائی کا سہرا جاتا ہے حقوق انسانی کے پاکستانی ممبر انصار برنی کے سرجنہوں نے باربار ان بحری قزاقوں سے مذاکرات کرکے ان تمام بد نصیبوں کو گھر اور بیوی بچوں کی شکل دکھلائی ہے۔اگر ان تمام دل خراش اور اعصاب شکن واقعہ کا جائزہ لیں تو بات لمبی تو ہوجائے گی مگر تمام تر واقعات کیسے کیسے ہوئے ، اس کا علم ضرور ہوجائے گااور پوری کہانی کا بھی ،کیونکہ ابھی تک کسی کو بھی اس پورے قصے کا علم نہیں ہے۔
26 جولائی 2010 کو 22 افراد پر مشتمل عملہ کراچی سے بحری جہاز ایم وی سوئزمیں افریقہ کے لیے روانہ ہوتا ہے۔2 اگست 2010 کو بحری قزاق ان پر حملہ کرکے ان سبھی کو یرغمال بنا لیتے ہیں۔ان کی رہائی کے لیے جہاز کے مالک سے ایک سو ملین ڈالر کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔لیکن بد قسمتی سے اس جہاز کے مصری مالک عبد المجید مطار اور قزاقوں کے درمیان مذاکرات ناکام ہوجاتے ہیں اور صومالی قزاق ان سبھی کو تشد د کا نشانہ بنانا شروع کریتے ہیں۔ تبھی انصار برنی ٹرسٹ انٹرنیشنل کے سربراہ اور سابق وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق، انصار برنی صاحب اس کام کا بیڑہ اٹھاتے ہیں اور 27 فروری 2011 کو ان سبھی لٹیروں سے ٹیلی فون سے رابطہ کرتے ہیں ، مگر جب انصار برنی ان قزاقوں کو بتاتے ہیں کہ چاروں پاکستانی اور ہندوستانی سب غریب گھروں سے ہیں تو قزاق اس رقم کو پانچ ملین کر دیتے ہیں ۔اسی دوران جہاز کے کپتان وصی احمد، انصار برنی کو اس تشدد کے بارے میں بھی اطلاع دیتے ہیں جو سبھی یرغمالیوں پربار بار کیا جارہا تھا۔11 مارچ کو قزاقوں نے رقم 23 لاکھ امریکی ڈالر ز کردی، مگر ساتھ ساتھ خبردار بھی کردیا کہ اگر پانچ روز کے اندر اندر یہ رقم ادا نہیں کی گئی تو جہاز پر موجود لوگوں کو قتل کردیا جائے گا۔انصار برنی نے اسی دوران اسلام آباد میں مصر کے سفیر سے رابطہ کیا اور انہیں آگاہ کیا کہ جہاز پر مصر، ہندوستان، سری لنکا اور پاکستان کے شہری  ہیں۔ اگر ان ممالک کی حکومتوں نے تعاون نہیں دیا تو حالات سنگین ہو سکتے ہیں۔مگر نہ ہندوستان کی حکومت پر کوئی اثر ہوا نہ ہی مصر سے کوئی تعاون ملا۔ آخر کار انصار برنی 21 اپریل 2011 کو رقم کا انتظام کرنے ہندوستان آئے،جہاں انہوں نے ان مغویہ حضرات کے اہل خانہ سے ملاقات کی۔ اسی دوران ایک ہندوستانی رکن پارلیمنٹ کے ڈی سنگھ نے تاوان کی بھاری رقم کا ایک حصہ دینے کا وعدہ کیا۔لیکن عین موقع پر وہ اپنے وعدے سے مکر گئے اور 6 لاکھ ڈالرز دینے کا اعلان کرنے کے بعد ٹال مٹول کرنے لگے۔23 مئی 2011 کی ڈیڈ لائن ختم ہوگئی اور ان قزاقوں نے ایک مصری مغوی پر تیل چھڑک کر آگ لگا دی ، جس سے وہ پوری طرح جھلس گیا ۔ انہوں نے سبھی پر تشدد کی انتہا کردی اور پینے کا پانی تک بند کردیا۔ انصار برنی کی اپیل پر ایک مرتبہ پھر 11 جون تک ڈیڈلائن بڑھادی گئی اور 10 جون کو انہوں نے اعلان کیا کہ اگر مقررہ وقت تک انہیں رقم نہیں ملی تو وہ مصری چیف انجینئر ویل صالح محمد کو گولی مار کر قتل کردیں گے۔ادھر انصار برنی ٹرسٹ نے اکیس لاکھ امریکی ڈالرز کی امداد جمع کرکے رقم شپنگ کمپنی کے ذریعہ مصر کی حکومت کے ٹریزری ڈپارٹمنٹ میں جمع کرادی اور مصر میں ایک پرائیوٹ کمپنی کا ایک جیٹ طیارہ بھی تیس ہزار ڈالر روزانہ اجرت پر لیا گیا، اور 13 جون2011 کو صومالی قزاقوں نے تمام یرغمالیوں کو رہا کردیا۔ اس طرح 23 جون کو سبھی لوگ کراچی پہنچ گئے۔
اب آتے ہیں اس تلخ حقیقت کی طرف کہ یہ ہندوستانی قیدی جن میں دو ہریانہ کے، ایک ہماچل پردیش ، ایک تمل ناڈو اور ایک جموں و کشمیر کے اور ایک ممبئی کے تھے۔ ان سب کو 2.1 ملین ڈالر کے عوض رہائی ملی۔ سبھی لوگ24 جون کی صبح 9:36 پر اندرا گاندھی ایئر پورٹ پر پہنچے۔ جس وقت یہ سبھی طیارے سے باہر نکلے وہ منظر دیکھنے کے لائق تھا، سبھی رشتے داروں کی آنکھوں میں بچھڑنے کا کرب اور ملنے کی خوشی قابل دید تھی۔ آنکھیں اشکبار تھیں۔ ان کے بچوں کے ہاتھوں میں پلے کارڈ تھے جن کو وہ اٹھائے ہوئے بے صبری سے اپنے والد یا رشتہ دار کا انتظار کر رہے تھے۔سب کی زبان پر ایک ہی نام انصار برنی ، انصار برنی۔ وہ اپنے اسی محسن کا بار بار شکریہ ادا کر رہے تھے، دعائیں دے رہے تھے۔
یقینا ان قیدیوں کی رہائی باعث مسرت اور انصار برنی کی کاوشیں قابل ستائش ہیں۔ اسی رہائی کے بعد ہندوستانی وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا نے خوشی کا اظہار کیا اور ان کے رشتے داروں کو مبارکباد دی۔مگر کیا ایس ایم کرشنا کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ خوشی کا اظہار کریں۔ ان 6 ہندوستانیوں کے لیے ہماری حکومت نے کیا کوششیں کیں، کیا حکومت کو اس معاملہ پر سنجیدگی سے نہیں سوچنا چاہیے تھا کہ خود حکومت کو انصار برنی سے رابطہ کرکے ان کی مدد کی خواہش نہیں ظاہر کرنی چاہیے تھی؟
آپ کے ملک کے لوگ ،6 اہم قیمتی جانیں ،کیا ان کا اسی لیے کوئی مول نہیں تھا کہ وہ غریب لوگ تھے ۔اگر کوئی وزیر کا بیٹا ہوتا ، کارپوریٹ ورلڈ سے کوئی اہم شخص ہوتا، کوئی بڑا آئی اے ایس افسر ہوتا، کوئی بڑا تاجر ہوتا یہاں تک کہ کوئی بڑا نامی گرامی غنڈہ بھی، تو شاید حکومت حرکت میں آتی اور ان کو چھڑانے کے لیے دن رات ایک کر دیتی، مگر یہ قیدی بنائے جانے والے مزدور تھے۔ آج ایک پاکستانی پر پورا ہندوستان فخر کر رہا ہے ، ان بچوں کی آنکھیں انصار برنی کی شکر گزار ہیں۔ان کی بیویاں دونوں ہاتھ اٹھائے انصار برنی کو دعائیں دے رہی ہیں۔ ایک طرف وہ دعا والے ہاتھ ہیں تو دوسری طرف نروپما رائو اور سلمان بشیر کے ہاتھ ہیں ۔کتنا فرق ہے دونوں ہاتھوں کے ملنے میں۔ حکومت کا رویہ اسی بات کی نشاندہی کر رہا ہے کہ ملک کی حکومت صرف اور صرف امیروں اور ڈپلومیٹس کی جان کی حفاظت کی پرواہ کرتی ہے۔ایسی ہی صورت حال کی وجہ سے عام آدمی کا بھروسہ اٹھ جاتا ہے۔ اربوں ،کھربوں روپے سوئس بینک میں جمع ہیں ، کروڑوں اربوں کا کھلواڑ کیا جارہا ہے اور غریبوں کی جان بچانے کے لیے حکومت کوڑی بھی خرچ کرنے کو تیار نہیں، ایسی ہی جمہوریت پر جب عوام سوالیہ نشان لگاتے ہیں تو ان ڈپلومیٹس کو کتنا برا لگتا ہے۔
جنہیں چھڑایا گیا وہ دوسرے ملک اور مذہب کے، جنہوں نے چھڑایا وہ دوسرے ملک اور مذہب کے ،مگر ان سب میں ایک رشتہ ایک جیسا تھا ، وہ انسانیت کا رشتہ تھا۔ مجھے یاد ہے دہشت گرد وں نے مفتی محمد سعید کی بیٹی محبوبہ مفتی کو اغوا کر لیا تھا اور اس وقت مفتی سعید چاہتے تو تاریخ رقم کر سکتے تھے اور رشتے ناطوں سے الگ ہٹ کر صرف اور صرف ملک کے فائدے کے لیے سوچ سکتے تھے۔ تاریخ بھی بڑا بننے کا موقع ہر ایک کو بار بار نہیں دیتی۔ اگر مفتی سعید ایسا کرلیتے تو آج تاریخ میں ان کا نام سنہرے حرفوں سے لکھا جاتا اور جو مسلمانوں کو بار بار اپنے وطن پرست ہونے کا ثبوت دینا پڑتا ہے  وہ صرف ایک عمل سے دیا جاتااور ہر مسلمان ان پر فخر کرتا مگر انہوں نے وہ موقع کھو دیا۔ حکومت بھی چاہتی تو انصار برنی کی جگہ ایس ایم کرشنا کو یہ واہ واہی کا موقع دے سکتی تھی مگر جس کی قسمت پر یہ نام اور شہرت لکھی تھی اس نے کیا۔ آج ہم سبھی کو انصار برنی پر فخر ہے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *