ملک میں آبروریزی کے بڑھتے واقعات: قانون لاچار کیوں؟

عابد انور
حالیہ دنوں میں آبروریزی کے واقعات میں جس تیزی سے اضافہ ہورہا ہے اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مجرموں میں قانون کا کوئی خوف یا دہشت نہیں ہے۔ میڈیا جس تیزی سے اس واقعہ کو اٹھارہا ہے اسی تیزی سے اس میں اضافہ بھی ہورہا ہے۔ اترپردیش سمیت ملک کے دیگر حصوں میں آبروریزی کے بڑھتے واقعات نے خواتین اور اسکول و کالج جانے والی طالبات کود ہشت زدہ کررکھا ہے۔اس کے علاوہ کام کاجی خواتین بھی اس خوف میں مبتلا رہتی ہیں کہ کب کون سی مصیبت ان پر آن پڑے۔ہندوستان میںجہاں قوانین کے اندر جھول آبروریزی کے مجرموں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے وہیں خواتین کے بھڑک دار لباس ، رہن سہن، طرز اور مغربی ثقافت کی طرف بڑھتا ہوا رجحان بھی معاون ثابت ہوتا ہے۔ہندوستان کا معاشرہ ابھی اس کا متحمل نہیں ہے کہ خواتین مغربی طرز فکر اختیار کریں ۔ اس طرح کی طرز فکر رکھنے والوں کی قیمت ملک کے کونے کونے میں خواہ دیہات یا قصبات، کمسن بچیوں کو چکانی پڑتی ہے۔ ٹی وی سیریل اور ٹی وی پر آنے والے اشتہارا ت نے بھی اس ذہنیت کو فروغ دینے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ دنیا جس طرح ترقی کر رہی ہے اوراس میں رہنے والے انسان جہالت سے روشنی کی طرف سفر کررہے ہیں اور نت نئی ایجادات کے توسط سے انسان چاند تاروں کو مسخر کررہاہے لیکن ذہنیت کے معاملے میںوہ اب بھی تحت الثریٰ میں جی رہا ہے۔ ان کی تمام چیزوں میں تبدیلی آئی ہے لیکن عورتوں کے تعلق سے ان کے ذہن میں کوئی تبدیلی نہیںآئی ہے بلکہ ان کے ذہن میں وہی کیڑے کلبلارہے ہیں جو زمانہ جاہلیت میںکلبلارہے تھے۔ جتنے سخت قانون بنائے جارہے ہیں معاملہ اتنا پیچیدہ ہوتاجارہا ہے۔ خواتین کے خلاف جرائم کے انسداد کے لیے مختلف قوانین موجود ہیں لیکن ا ن تمام قوانین کے باوجود خواتین کے تئیں ان کے رویے میں کوئی تبدیلی نہیںآئی ہے اور ہندوستان کے میٹرو شہروں میںجہاں خواتین نے تمام شعبہ ہائے زندگی میں کامیابی وکامرانی کے اپنے پرچم بلندکیے ہیں وہیںان کے ساتھ برتے جانے والی بدسلوکی ، چھیڑخوانی، آبروریزی اورآبروریز ی کی کوشش میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ خواتین آج کہیں بھی محفوظ نہیں خواہ وہ چہار دیواری ہو یا اسکول، کالج ہو یا دفاترہر جگہ خود کو غیر محفوظ محسوس کرتی ہیں۔ اخبارات و رسائل میں ہر روزاس طرح کی خـبریںیہ ظاہر کرتی ہیں کہ خواتین اور بچیوںکے تئیں مردوںکے رویے میں کتنی تبدیلی آئی ہے اور وہ ان کے بارے میں کیاسوچتے ہیں۔عورتوں کے تحفظ اوران کے خلاف انسدادجرائم کے قوانین نہایت سخت ہیں اورعدالتوں کا رویہ بھی خواتین کے حق میں ہے توپھرکیا وجہ ہے کہ خواتین کے ساتھ برتے جانے والے اس طرح کے ناروا سلوک میں کوئی کمی کیوں نہیں آرہی ہے۔ اس سلسلے میں ماہرین سماجیات و عمرانیات کو سرجوڑ کر بیٹھنے کی ضرورت ہے۔ وہ اس کا معروضی انداز میںمطالعہ کریںاوراس کے اسباب کا پتہ لگائیں کہ آخر ایسے واقعات کیوں پیش آتے ہیں، اس کے لیے کون ذمہ دار ہے اور مرد اورلڑکے ذمہ دار ہیں یا خواتین اورلڑکیاں؟
گڑگاوں میں ایک لڑکی کو چلتی کار سے آبروریزی کی کوشش ناکام ہونے پر پھینک دیا گیا۔ ہریانہ کے کرنال میں ایک خاتون کی لاش اسی کے گھر سے برہنہ حالت میںبرآمد ہوئی ۔ اتر پردیش کے میرٹھ ضلع میں سوتیلے باپ کی طرف سے بیٹی کے ساتھ ریپ کیے جانے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ ملزم نے لڑکی کی فحش تصاویر کھینچی اور بلیک میل کیا۔یوپی کے قنوج میں ایک بچی سے جنسی زیادتی کرنے میں ناکام رہنے پر دو لڑکوں نے چاقو گوددیا اور اس کی آنکھیں پھوڑ دیں۔ قنوج ضلع کے گوسائیں گنج علاقے میں ایک 14 سال کی بچی کھیتوں میں گئی تھی ، تبھی گاؤں کے ہی دو لڑکوں کی بری نظر اس پر پڑی۔ ان لوگوں نے لڑکی کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے کی کوشش کی۔ عصمت دری کرنے میں ناکام رہنے پر اس لڑکی کی دونوں آنکھیں چاقو سے پھوڑ دیں۔ لکھیم پور میں ایک تھانہ میں پولس والوں نے آبرویزی کی کوشش ناکام ہونے پر ایک 14 سالہ لڑکی سونم کا قتل کردیا۔ اس کے علاوہ درجنوں واقعات ایسے ہیں جو خبریں بن رہے ہیں۔ اترپردیش میںجس طرح کارروائی کی جارہی ہے اسی طرح اس وحشیانہ واقعات میں اضافہ ہورہا ہے۔ خاص طور پر دلت اور کمزور طبقہ سے تعلق رکھنے والی لڑکیاں اور خواتین اس کا آسانی سے شکار بن رہی ہیں۔یہ اس وقت اور بھی افسوسناک ہوجاتا ہے جب وہاں کی وزیر اعلیٰ دلت خاتون ہیں ۔
ایک سروے کے مطابق آج کل عنفوان شباب (ٹین ایجر)کے دہلیز پر قدم رکھنے والے لڑکے لڑکیاں ایڈلٹ فلمیں دیکھتے ہیں ، جنسی عمل کرتے ہیں اور سیکس تعلقات قائم کرنے کے بعد لڑکیاں مانع حمل گولیوں کا بے دریغ استعمال کرتی ہیں۔ایک ویکلی میگزین میں شائع سروے کے مطابق میٹرو شہروں کے اسکولوں میں پڑھنے والی ہر 100 ٹین ایجر لڑکیوں میں سے 25 لڑکیاں جنسی عمل کر چکی ہیں۔ ایک سروے کے مطابق میٹرو شہروں میں پلی بڑھی یہ نسل ایک دن میں 38 گھنٹے کا کام نپٹا رہی ہے۔ اس میں چیٹنگ، برائوزنگ ، فون پر بات چیت، ایس ایم ایس ، شراب پینا اور سیکس تک شامل ہے۔ یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ 12 ویں میں پڑھنے والے کئی طلبا تو ہر وقت پاکٹ میں کنڈوم لے کر گھومتے ہیں،یہ سوچ کر کہ نہ جانے کب اس کی ضرورت پڑ جائے۔ میٹرو شہروں کے ان لڑکے لڑکیوں کے درمیان ملٹی پل ڈیٹنگ کا نسیپٹ تیزی سے پھیل رہا ہے۔ یعنی ایک ہی وقت میں ایک سے زیادہ بوائے فرینڈ اور گرل فرینڈ۔ اتنا کرنے کے بعد بھی کسی سے کچھ چھپانے کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ نسل صرف سہولت کے لیے ہی دوست بناتی ہے۔ اس نسل کا اصل منتر ہے نو کمٹمینٹ ، نو ڈیمانڈ، نو پرابلم،یعنی جس عمر کے لڑکے لڑکیوں کو دنیاداری کے معاملے میں نادان سمجھا جاتا ہے اس عمر میں وہ رشتوں کی نئی تعریف وضع کررہے ہیں۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ہمارا معاشرہ کدھر جارہا ہے اور اس کی قیمت کہاں کہاں ادا کرنی پڑ رہی ہے۔
روزانہ عصمت دری کے واقعات میںنمایا ںاضافہ ہورہا ہے خصوصاً اجتماعی آبروریزی کے واقعات میں ہندوستان کے میٹروشہروں میں گزشتہ کچھ سالوں میں نمایاں اضافہ دیکھاگیا ہے۔ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کی ایک رپورٹ کے مطابق ملک میںگزشتہ پانچ برسوں میں آبروریزی کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہورہاہے اوراس معاملے میںبھارتیہ جنتا پارٹی کی حکمرانی والی ریاست مدھیہ پردیش ہندوستان میں تمام صوبوں سے آگے ہے۔ اس کے بعد کمیونسٹ حکمراں والی ریاست مغربی بنگال کا نمبر آتا ہے۔تیسرے نمبر پراترپردیش ہے جہاںایک خاتون وزیراعلیٰ کی کرسی پرمتمکن ہیں۔گزشتہ چند مہینوں میں اترپردیش میں خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے اور اس معاملے میںوزراء اورممبران اسمبلی سمیت کئی سیاست داں ملوث پائے گئے ہیں۔ خواتین کے ساتھ عصمت دری کے واقعات میںبہار کو چوتھا درجہ حاصل ہے جب کہ مہاراشٹر پانچویں مقام پر فائز ہے۔ اس کے بعد آسام اور راجستھان اور دیگرریاستوں کا نمبر آتا ہے۔ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کی ایک رپورٹ کے مطابق2003 میں جہاں پورے ملک میں خواتین کی عصمت دری کے 15 ہزار 847 واقعات پیش آئے تھے وہیں 2004میں 18 ہزار 233 واقعات سامنے پیش آئے۔ 2004میں 18 ہزار 359 معاملات، 2006 میں 19 ہزار 348، 2007 میں 20 ہزار 737 آبروریزی کے معاملات سامنے آئے۔ مدھیہ پردیش میں2003 میں عصمت دری کے 2738وہیں 2004 میں2875، 2005 میں 2921 اور2007میںبڑھ کر یہ تعداد تین ہزاردس تک پہنچ گئی۔ شمال مشرقی ریاستوں میں شورش کے واقعات میں اضافہ ہونے کے سبب عصمت دری کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ ہندوستان میں سب سے زیادہ تعلیم یافتہ ریاست کیرالہ عصمت دری کے معاملہ میں پیچھے نہیں ہے، وہاں بھی خواتین کے ساتھ آبروریزی کے واقعات میںنمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ نیشنل کرائم ریکارڈبیورو کی ایک رپورٹ کے مطابق 2003 میںعصمت دری کے معاملے 394تھے وہیں2007میں بڑھ کر 512 ہوگئے اور 2008میں یہ تعداد بڑھ کر چھ سو سے زائد ہوگئی۔یہ وہ تعدادہیں جن کی رپورٹ درج کرائی ہے ورنہ ہندوستان میںبیشترآبروریزی اور چھیڑخوانی کے واقعات شرمندگی کی وجہ درج نہیں کرائے جاتے۔
ہندوستان کا دل کہلانے والی قومی راجدھانی دہلی کی بھی اس معاملے میں حالت خستہ ہے۔ یہاں عصمت دری کے واقعات،چھیڑ چھاڑ اور خواتین کے ساتھ بدسلوکی کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہورہاہے۔ گزشتہ سال دہلی میں خواتین کے تعلق سے ایک سروے کیاگیاتھا اس میںاسکول ، کالج اور دفاتر میں کام کرنے والی خواتین کو بھی شامل کیاگیا تھا۔سروے میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران تین میںسے دو خواتین کو یعنی 66 فیصد خواتین کو جنسی بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑا اور ان خواتین کو دو سے پانچ بار اس طرح کے حالات کاسامنا کرنا پڑا۔اس سروے کی صداقت کی دلیل یہ ہے کہ اس میںدہلی حکومت اور اقوام متحدہ بھی شامل ہے۔ سیف سیٹیز بیس لائن سروے 2010 کایہ سروے دہلی حکومت کی بہبود خواتین و اطفال کی وزارت، رضاکار تنظیم جاگوری، اقوام متحدہ کی خواتین کے ترقیاتی فنڈ اور یو این ہیبیٹیٹ نے مشترکہ طور پر کروایا تھا۔ سروے میں کہا گیا تھا کہ سبھی عمر کی خواتین جنسی بدسلوکی کی شکار ہوتی ہیں لیکن سب سے زیادہ شکار ہونے والوں میں 15 سے 19 سال کی عمر کی اسکول اور کالج جانے والی لڑکیاں ہیں۔ اس کے علاوہ وہ خواتین سب سے آسان نشانہ ہوتی ہیں جو غیر منظم سیکٹر میں کام کرتی ہیں۔ اس طرح کے واقعات صرف سنسان جگہ پر ہی نہیں ہوتے بلکہ بھیڑ بھاڑ والی جگہوں پر بھی پیش آتے ہیں۔ خواتین کو سب سے زیادہ جنسی بدسلوکی کا سامنا پبلک ٹرانسپورٹ میںاور سڑک کے کنارے کرنا پڑتا ہے۔ دہلی کی شان کہی جانے والی میٹرو میں بھی خواتین کو تحفظ حاصل نہیں ہے۔ میٹرو میں سفر کرنے والی بیشتر خواتین نے کہا ہے کہ ان کے ساتھ جنسی بدسلوکی کے واقعات اکثر و بیشتر پیش آتے ہیں۔
دہلی اور نواح دہلی میںگزشتہ کچھ عرصہ سے بچیوں، لڑکیوں اور عورتوںکی آبروریزی اوراجتماعی آبروریزی کے متعددواقعات سامنے آئے ہیںاور حکومت کی طرف سے جس قدر سختی کی جارہی ہے اس طرح کے واقعات میں اسی قدراضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اسی طرح کا ایک افسوسناک واقعہ گزشتہ دنوں آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں پیش آیا جب ایک ڈاکٹرنے ایک کمسن بچے کے ساتھ جنسی زیادتی کی اور اسے خاموش رہنے کی دھمکی دی لیکن جب اسپتال سے رخصت ہونے کا وقت آیاتوبچے نے ساری کہانی اپنے والدین کو بتادی۔اس واقعہ میں ڈاکٹرکی ڈگریوں کو ضبط کرتے ہوئے برخاست کردیا گیاہے۔ دہلی میں درج معاملات کے مطابق 17ہزار 200لڑکیاںوالد اوربھائیوں کے ہاتھوں زیادتی کاشکار ہوئیں۔ گھریلو تشددکے 12 ہزار 753 واقعات سامنے آئے۔شوہر اورسسرال والوں نے دہلی میں گزشتہ ایک سال کے دوران بیویوں نے 1604 معاملات درج کرائے اور 493لڑکیوں نے اپنے والداور بھائی کے خلاف تشددکے معاملات درج کرائے ہیں ۔اس کے علاوہ 2350 بزرگوںنے اپنے بچوں کے خلاف نارواسلوک کے معاملات درج کرائے۔دس سال قبل 31؍ اکتوبر کو اقوام متحدہ کی قرارداد نمبر 1325 منظور ہوئی تھی، جس کا مقصد قیام امن کے سلسلے میں جاری آپریشنز میں خواتین کوکلیدی کردار کا حامل قرار دینا تھا۔ اقوام متحدہ نے بحران زدہ علاقوں میں خواتین کے ساتھ ہونے والے امتیازی سلوک کو عالمی امن و استحکام کے لیے ایک بڑا خطرہ قرار دیا تھا۔ مسلح جھڑپ سے بچانا، امن اور سلامتی کی سیاست میں خواتین کی شمولیت ،جنگ اور بحران زدہ علاقوں میں خواتین کو جنسی تشدد سے بچانا، یہ وہ اہم ترین مقاصد ہیں جن کے لیے قرارداد 1325 منظور کی گئی تھی۔ تاہم عملی صورتحال اس کے برعکس نظر آ رہی ہے۔ جرمنی میں انسانی حقوق کے تحفظ کے ادارے کی ایک اعلیٰ عہدیدار فراؤکے زائڈن اشٹکر کے مطابق دوران جنگ اور جنگ کے بعد کی صورتحال میں خواتین کے ساتھ جنسی زیادتیوں کے واقعات ماضی کی طرح اب بھی بہت بڑے پیمانے پر ہو رہے ہیں۔ کانگو ہی نہیں بلکہ 14 سالہ خانہ جنگی کے شکار دوسرے افریقی ملک لائبیریا تک میں آج بھی خواتین گوناگوں مسائل کا شکار ہیں۔ ان میں سے اکثر متعدد بار جنسی زیادتیوں کا شکار ہونے کے سبب شدید نفسیاتی مسائل اور صدموں سے دوچار ہیں۔ اس پر ستم یہ کہ ان خواتین کو خود ان کے گھرانوں میں بھی امتیازی سلوک کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور منشیات کا کاروبار کرنے والے مافیا گروپوں کے ہاتھوں بھی ان کا استحصال ہو رہا ہے۔
دنیا بھر میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتیوں کے واقعات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ آئے دن اس طرح کی خبریں اخبارات کی زینت بنتی ہیں۔ بہت سے معاشروں میںایسی خبروں کو چھپایا جاتا ہے اور ان میں ہندوستان کا بھی شمار ہوتا ہے۔ ہندوستان میں دنیا بھر کے20 فیصد بچے رہتے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر بھوک اور تنگی کا شکار اور مدد کے محتاج ہیں۔ ہندوستانی معاشرے میں بچوں پر اکثر جنسی زیادتیاں ہوتی رہتی ہیں، لیکن اس موضوع پر تقریباً خاموشی اختیار کی جاتی ہے۔ یہ زیادتیاں عام طور پرگھروں، اسکولوں میں یا پولس کی طرف سے ہوتی ہیں۔ ہندوستان میں بچوں پر جنسی زیادتیوں کا موضوع شجر ممنوعہ ہے۔ شاذونادر ہی اختیارات اور طاقت رکھنے والوں، مثلاً پولس اہلکاروں،اساتذہ یا ہوسٹلوں کے نگرانوں کے خلاف شکایات درج کرائی جاتی یا ان سے پوچھ گچھ کی جاتی ہے۔ تاہم کچھ دن پہلے شمالی ہندوستان کے شہر چھتیس گڑھ میں والدین نے یہ معاملہ اپنے ہاتھوں میں لے کر ایک پرائیوٹ اسکول کے پرنسپل کی پٹائی کر ڈالی۔ ایسا اس وجہ سے ہوا کہ اس سکول کی طالبات نے شکایت کی تھی کہ پچاس سالہ پرنسپل نے بہتر نمبر دینے کے لیے جنسی خواہشات پوری کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
ہندوستان میں بہت سے بچوں کے لیے اس قسم کے واقعات روزمرہ کا معمول ہیں۔ ہندوستان کی وزارت برائے خواتین کے 2007 کے سروے کے مطابق 53 فیصدہندوستانی بچے ایک یا کئی بار جنسی زیادتیوں کا نشانہ بنائے جاتے ہیں۔ اس وقت کی بہبود وخواتین اطفال کی وزیر رینوکا چودھری نے کہا کہ تھا ہندوستان میں بچوں پر جنسی زیادتی کو سرسری طور پر نظر انداز کردینے کی روایت ہے۔ بس یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ ہمارے یہاں تو ایسا نہیں ہوتا۔ حقوق اطفال کے حامیوں کا کہنا ہے کہ حقیقی چیلنج یہ ہے کہ بچوں اور نوجوانوں میں شکایات درج کرانے کا حوصلہ پیدا کیا جائے۔ ستم رسیدہ بچوں کے تحفظ کی ذمہ داری جن لوگوںکے کاندھے پر ہے وہ بھی ان کا استحصال کرنے میں پیچھے نہیں ہیں۔ بچوں پر جنسی زیادتیوں کا ارتکاب ترقیاتی امداد کے لیے کام کرنے والے کارکن بھی کرتے ہیں۔حقوق اطفال کی ماہر باربرا ڈیون ویلر کا کہنا ہے کہ بچوں کے لیے کام کرنے والی کوئی بھی تنظیم زیادتیوں کو امکان سے خارج قرار نہیں دے سکتی۔ بچوں کی امدادی تنظیم سیو دی چلڈرن کی مایا ڈینے کا کہنا ہے کہ بچوں اور عورتوں کو یہ توقع نہیں ہوتی کہ خاص طور پر کلیسائی اور امدادی تنظیموں میں اس قسم کی زیادتیاں ہوسکتی ہیں۔ لیکن ایسی حرکتیں کرنے والے اس ماحول میں خود کو بخوبی چھپا سکتے ہیں۔سیو دی چلڈرن نامی بچوں کی امدادی تنظیم کی برطانوی شاخ نے  2008 میں ایک جائزہ شائع کیا تھا جس کے مطابق خاص طور پر یتیم اور ایسے کم سن بچوں کو جنسی استحصال کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے جنہیں ان کے والدین سے الگ کردیا گیا ہو۔چند سال پہلے ممبئی میں دو برطانوی شہریوں نے غیرملکی امداد سے بے سہارا لڑکوں کے لیے ہوسٹل کھولا تھا لیکن وہ کئی برسوں تک یہاں بچوں اور نوجوانوں کو اپنی جنسی خواہشات کا نشانہ بناتے رہے۔ بعد میں ہندوستانی عدالت نے انہیں طویل سزائے قید سنائی تھی۔بچوں کے جنسی استحصال میں پادری کارول بھی نمایاں ہے۔ ایسے متاثرین کی مجموعی تعداد چودہ ہزار پانچ سو بتائی گئی ہے۔
جہاں اس طرح کے واقعات کے لیے لڑکے اورمرداور اس کاخاندانی پس منظر ذمہ دارہے وہیں خواتین کو بھی اس سے بری الذمہ قرارنہیںدیا جاسکتا ہے خصوصاً وہ خواتین جوماڈلنگ کرتی ہیں، بھڑک دارلباس پہن کر مختلف اشہارات میں فحش حرکتیں کرتی نظرآتی ہیں۔اس کے علاوہ کالج جانے والی لڑکیوں اورکثیرقومی کمپنیوں میں کام کرنے والی خواتین کا بیہودہ لباس بھی اس برائی کے لیے ذمہ دار ہے۔ آج کچھ خواتین چند سکوں کے لیے ہر چیز فروخت کرنے کے لیے تیارہوجاتی ہیں ۔ بیہودہ حرکتیں کچھ خواتین کرتی ہیںلیکن اس کا خمیازہ دوسری بے قصور خواتین اورمعصوم بچیوں کو بھگتنا پڑتا ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ سخت قوانین کے ساتھ معاشرتی طور پرتبدیلیاں لائی جائیں۔ لڑکے اورمرد بھی عورتوں کے پیٹ سے جنم لیتے ہیں پھر کیا وجہ ہے کہ وہ خواتین کی عزت نہیں کرتے۔ خواتین کو معاشرہ اپنا سرگرم کردار اداکرتے ہوئے مثبت تبدیلی کی کوشش کرنی چاہیے کیوں کہ وزیر داخلہ تو خواتین ہی ہوتی ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *