آپ کا اور آپ کی مسکراہٹ کا شکریہ

سنتوش بھارتیہ
اپنے ساتھیوں پر لکھنا یا تبصرہ کرنا بہت مشکل ہوتا ہے، کیونکہ ہم اس سے ایک ایسی روایت کو جنم دیتے ہیں کہ لوگ آپ کے اوپر بھی لکھیں۔ آپ انہیں مدعو کرتے ہیں۔ میں یہی کرنے جا رہا ہوں۔ میں اپنے ساتھیوں کو مدعو کرنے جا رہا ہوں کہ ہمارے اوپر جہاں انہیں کچھ غلط دکھائی دے، وہ لکھیں۔ میرا اشارہ وزیر اعظم منموہن سنگھ کے ساتھ ملک کے پانچ مدیران کی بات چیت کی جانب ہے۔ ان پانچ مدیران میں ہندی کے کم تھے، انگریزی کے زیادہ تھے، جس میں ایک مراٹھی کا بھی تھا۔ یہ مدیران ملک کے عقیدہ کے پہریدار ثابت نہیں ہوئے۔کسی بھی صحافی سے یہ امید کی جا سکتی ہے، اور امید کی بھی جانی چاہیے کہ وہ اس ملک میں رہنے والے ہر انسان کے دکھ درد، آنسو، پریشانی، بھوک پیاس اورموت کی طرف زیادہ متوجہ ہوگا، اس کی زیادہ فکر کرے گا اور جب بھی اس کا سامنا حکومت نام کے ادارے سے، خواہ حکومت نام کے اس ادارہ کا کوئی سکریٹری ہو یا فیصلہ لینے والا افسر ہو یا وزیر اعلیٰ یا پھر وزیراعظم سے ہوگا تو اس سے وہ ہندوستان کے لوگوں کی تکالیف کے بارے میں ضرور بات کرے گا اور یہ بات چیت وہ جی حضوری یا چاپلوسی کی زبان میں نہیں، وزیرا عظم اوروزیر اعلیٰ کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر کرے گا۔ وزیراعظم نے جن پانچ مدیران کو بلایا، کیا یہ پانچ مدیران صحافت کے اس بنیادی اصول کی کسوٹی پر کھرے اترے؟ کیا انھوں نے وزیر اعظم سے ملک کے شہریوں کو درپیش مسائل پربات کی؟
ملک کے شہریوں کو دو طرح کے مسائل درپیش ہیں۔ایک تو مسلسل پیش آنے والے مسائل ہیں، جن کے حل ہونے ہیں اور جن کے حل ہوتے ہوتے سالوں گزر جائیں گے۔ لیکن کچھ مسائل ایسے ہیں، جن کا رشتہ ابھی سے جڑا ہوا ہے۔ کیا ان مسائل کے اوپر ان مدیران نے ایک ذمہ دار صحافی کے ناطے بات چیت کی؟ اس کا جواب اگر مدیران خود دیں تو زیادہ بہتر ہوگا۔ لیکن ہم شائستگی سے اپنے ساتھیوں سے کہنا چاہتے ہیں کہ آپ نے ایسا نہیں کیا، آپ سے چوک ہو گئی۔ اگر آپ نے یہ چوک جان بوجھ کر کی ہے تو یہ جرم کے زمرے میں آتا ہے اور اگر آپ نے انجانے میں چوک کر دی ہے تو اس کے لیے ان لوگوں سے آپ کو معافی مانگنی چاہیے، جو آج مہنگائی کے شکار ہیں، جو آج بدعنوانی کے شکار ہیں، جو آج حکومت کی زیادتی کے شکار ہیں،جو آج سیاسی مشینری کی بے رحمی کے شکار ہیں۔ معافی اس لیے مانگنی چاہیے کہ لوگوں کا بھروسہ صحافیوں کے اوپر تب آکر ٹکتا ہے، جب وہ ہر جگہ سے مایوس ہو جاتے ہیں۔ مایوسی بھی اتنی گہری ہوتی ہے کہ ان کے سامنے جینے مرنے جیسی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔ مرنے سے پہلے وہ یکبارگی چاہتے ہیں کہ کسی بھی طرح، حکومت سے مایوس ہو کر، ہر جگہ سے مایوس ہو کر وہ صحافی کے پاس جائیں اور اپنا دکھ درد سنائیں۔ انہیں بھروسہ ہوتا ہے کہ اگر صحافی نے ان کی بات سن لی اور اپنے اخبار میں لکھ دی تو شاید ان کی سماعت اس جگہ سے ہو سکے،جہاں سے ان کی پریشانی پیدا ہوئی ہے یا جو پریشانی کا سبب ہے۔ یہ بھروسہ بہت بڑا بھروسہ ہے۔ یہ بھروسہ آج کی تاریخ میں یا تو سپریم کورٹ کے جج کو ملا ہوا ہے یا اس ملک کے صحافیوں کو۔ صحافیوں میں بھی جو مدیران ہوتے ہیں، ان کی ذمہ داری بہت زیادہ ہوتی ہے۔ لیکن ایسا کیوں ہوتا ہے کہ جب ہم لکھتے ہیں تو سخت زبان کا استعمال کرتے ہیں، جب ہم لکھتے ہیں تو تجزیہ کرتے ہیں، جب ہم لکھتے ہیں تو لوگوں کے دکھ درد کو اپنا موضوع بناتے ہیں، لیکن جب ہم کسی حکمراں سے ملنے جاتے ہیں تو ایسی کون سی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے، جس سے ہمارے منھ پر تالا لگ جاتا ہے اور ہم وہ کوئی بھی سوال نہیں پوچھ پاتے، ہم وہ کوئی بھی موضوع نہیں اٹھا پاتے، جس کو ہم خود لکھتے رہتے ہیں۔
جن پانچ مدیران کو وزیراعظم نے ملنے کے لیے بلایا، ان میں کسی کی بھی سا اینٹگریٹی کے اوپر میرے ذہن میں کوئی شبہ نہیں ہے۔ لیکن شبہ نہ ہونا ایک چیز ہے اور ان کی ملاقات کا نتیجہ نہ نکلنا دوسری چیز ہے۔ یہ پانچوں ساتھی جب وزیراعظم سے ملے تو انھوں نے وزیر اعظم سے نہ کسانوں کی خودکشی کے بارے میں پوچھا، نہ کھاد کی بڑھتی قیمتوں کے بارے میں پوچھا، نہ ملک میں بڑھتی مہنگائی کے بارے میں پوچھا، نہ وزیراعظم سے ان کے ذریعہ کیے گئے اعلانات کا وقت گزرنے کی بابت پوچھا کہ آپ نے لوگوں سے یہ بھی نہیں کہا کہ اس وقت ہم اپنے ان وعدوں کو پورا نہیں کر پائے، اس لیے ملک انہیں معاف کرے۔ یہ سوال وزیراعظم سے ہونے چاہیے تھے۔ موجودہ وزیراعظم جب وزیر خزانہ تھے اور نرسمہا رائو وزیراعظم تھے تو انھوں نے نئی اقتصادی پالیسیوں کا اعلان کرتے ہوئے اپنی مشہور تقریر کی تھی کہ 2012تک اس ملک میں بجلی کا مسئلہ ، غریبی کا مسئلہ یا کہیں کہ جتنے بھی اہم مسائل تھے، سب سلجھ جائیں گے۔ اس لیے اقتصادی پالیسیاں بدل گئی ہیں۔ ہمارے مدیران کو وزیر اعظم سے پوچھنا چاہیے تھا کہ ملک آج کہاں ہے۔ 1992میں جب انھوں نے اعلان کیا تھا ، کیا اس وقت اور آج کی صورتحال میں کوئی فرق ہے۔ کیا لوگوں کی زندگی میں کچھ خوشحالی آئی ہے۔ مسائل، جنہیں دور کرنے کا انھوں نے وعدہ کیا تھا، اس میں اب اور کتنے سال لگیں گے۔ ملک کا وزیر خزانہ یا وزیراعظم کوئی وعدہ کرتا ہے تو اس وعدہ کا کوئی مطلب ہوتا ہے۔ اسی طرح وزیراعظم نے ابھی سال بھر پہلے بتایا تھا کہ مارچ مہینہ تک مہنگائی کم ہو جائے گی۔ ایسا نہیں ہوا۔ کیا وزیر اعظم سے ان مدیران نے پوچھا؟
کسان ملک میں خودکشی کر رہے ہیں، کیا یہ سوال ان مدیران کے دماغ میں نہیں آیا؟ اس ملک کا اقلیتی طبقہ اپنی حصہ داری کے لیے تڑپ رہا ہے، اسے صرف وعدے ہی وعدے مل رہے ہیں۔ کانگریس نے اس کے لیے یا موجودہ حکومت نے اس کے لیے کیے ہوئے وعدے پورے کیے، کیا اس بات میں کوئی سوال وزیراعظم سے پوچھا گیا؟وزیر اعظم نے اقلیتوں کے لیے 15نکاتی پروگرام نافذ کیا تھا، وہ پروگرام کتنا کامیاب ہوا، کیا اس بارے میں مدیران نے وزیراعظم سے پوچھا؟ پرانے زمانہ میں ہم سنتے تھے کہ وائسرائے جب اپنے وائسرائے ہائوس میں، جو آج کا راشٹر پتی بھون ہے، دعوت دیتا تھا تو وہ کچھ صحافیوں کو بھی بلاتا تھا۔ صحافی وہاں جا کر بہت خوشی کے ساتھ دعوت کا لطف اٹھاتے تھے اور جب باہر نکلتے تھے تو شان سے آس پاس دیکھتے تھے ، اپنے ساتھیوں کی جانب دیکھنے کا ان کا الگ جذبہ ہوتا تھا کہ دیکھا، تمہیں نہیں بلایا، مجھے بلایا۔ نتیجتاً جن کو نہیں بلایا جاتا تھا، وہ صحافی اس کوشش میں لگ جاتے تھے کہ آئندہ انہیں بھی بلایا جائے۔ ہمارے ساتھی وزیراعظم کے یہاں گئے، انہیں چاہیے تھا کہ وہ وزیراعظم کاموڈ انٹرویو کرتے۔جب وہ سوال پوچھ رہے تھے تو وزیراعظم کے چہرے پرکیا جذبات تھے، جب وہ سوال پوچھ رہے تھے تو وزیراعظم کی آنکھوں نے کیا کہا، وزیر اعظم کا جسم تلملایایا نہیں؟ حالانکہ انھوں نے سوال پوچھے ہی نہیں تو ان کے موڈ انٹرویو کا کوئی مطلب ہی نہیں ہوتا۔ لیکن پھر بھی، جو بھی وہاں بات چیت ہوئی، اس کو سب سے پہلے انہیں اپنے دفتر میں جا کر، اپنی میزپر بیٹھ کر لکھنا چاہیے تھا اور پانچوں مدیران کو پانچ خصوصی رائٹ اپ اپنے اخباروں میں دینے چاہیے تھے۔
یہ پانچوں مدیران وہاں اپنے اخبار کے مدیر کے ناطے نہیں گئے تھے۔ پورا ملک انہیں دیکھ رہا تھا کہ یہ ملک کے پہلے منتخب شدہ مدیران ہیں، جنہیں وزیراعظم نے ملنے کے لیے بلایا ہے۔ ان سے لوگوں کی توقعات تھیں کہ یہ ان کی تکلیف، دکھ درد کے بارے میں وہاں بات کریں گے، لیکن وہاں جو بات چیت ہوئی، وہ ہمارے سامنے ہے، کیونکہ بنیادی موضوعات کے اوپر، آج کے مسائل کے اوپر بات چیت نہیں ہوئی۔ محض مسائل کے ارد گرد جا کر ہی بات چیت ہوئی۔ ان مدیران نے یہ نہیں پوچھا کہ آخر وزیراعظم کو کیوں یہ کہنے کی ضرورت پڑ گئی کہ پارٹی ان کے ساتھ ہے اور وہ مستحکم ہیں، مضبوط ہیں، وہ استعفیٰ نہیں دیں گے۔یہ سوال کھڑا کیا جانا چاہیے تھا۔ کوئی تو وجہ ہوگی، افواہیں کون اڑا رہا ہے، یہ افواہیں بی جے پی اڑا رہی ہے یا کانگریس؟ ایسا کوئی سوال نہیں پوچھا گیا۔ اس کی جگہ پر ہمارے ساتھی جب وزیراعظم کی رہائش گاہ سے باہر نکل کر آئے تو فاتح کی طرح نکل کر آئے۔ انھوں نے باہر آکر وزیراعظم کیسے تھے، کیا تھا۔ یعنی کل ملا کر انھوں نے جو تفصیل دی، وہ وزیراعظم کی تعریف میں قصیدے تھے۔ وزیراعظم ملک کا وزیراعظم ہے اور اس کی تشویش ملک کی تشویش کے ساتھ ہے یا نہیں، یہ انھوں نے نہیں بتایا۔
صحافت کا پیشہ بہت اہم پیشہ ہوتا ہے۔ صحافیوں کو لوگوں کے مفاد کا پہریدار مانا گیا ہے۔حکومت کے مفادات کا پہریدار سچا صحافی نہیں ہوتا۔ یہی چیز ہمارے ساتھی بھول گئے ہیں۔ ہم خود ذاتی زندگی میں اچھے ہیں یا برے ، یہ سوال نہیں ہے۔ مدیر کا یہ مذہب ہے، صحافت کا یہ مذہب ہے، اس پیشہ کا مذہب ہے کہ ہم عوام کے دکھ درد ، اس کی تکلیف اور اس کے آنسو کے بارے میں حکومت سے پوچھیں، افسران سے پوچھیں، وزیر اعلیٰ سے پوچھیں اور وزیر سے تو ضرور پوچھیں۔ جب ہم یہ کام نہیں کرتے ہیں تو کہیں نہ کہیں صحافت کے پیشہ کے ساتھ انصاف نہیں کرتے۔ میں اور بھی سخت الفاظ استعمال کر سکتا تھا کہ ہم صحافت کے پیشہ کے ساتھ کیا کیا نہیں کرتے۔ لیکن آج مجھے یہی کہنا چاہیے کہ ہم انصاف نہیں کرتے۔ ہم اس پیشہ کے ساتھ اپنے ذاتی تعلقات کو جوڑ دیتے ہیں۔ ہم رشتہ بنانے لگتے ہیں۔ ہم کسی وزیراعظم یا وزیر اعلیٰ کی ایک مسکان کے تابع ہو جاتے ہیں۔ اس نے اگر ہمیں دیکھ کر ایک مسکراہٹ پھینک دی تو لگتا ہے کہ ہم بہت اہم ہیں ، لیکن ایسا ہے نہیں۔ اگرآپ کے لکھنے سے چند لوگوں کی آنکھوں کے آنسو پچھ سکیں اور لگے کہ جو شخص گیا تھا، اس نے عوام کی تکالیف کے بارے میں ملک کے سب سے فیصلہ کن شخص سے سوال پوچھا۔ شاید اس کی تھوڑی ہمت بندھے۔یہ سوال صحافیوں کے سوچنے کے لیے ہے، مدیران کے سوچنے کے لیے ہے۔ وقت آگیا ہے کہ سوچیں۔
ہم جانتے ہیں کہ وزیراعظم کی رہائش گاہ یا وزیراعظم کے پریس صلاح کار یا ان کے یہاں جو بھی اس چیز کو آرگنائز کررہے ہیں، وہ ان مدیران اور صحافیوں کو کبھی نہیں بلائیں گے، جو عوام کے حق میں لکھتے ہیں ، جو نہ ہی حکومت مخالف ہیں اور نہ حکومت کے حق میں، لیکن جو عوام کے دکھ درد کو سمجھنے والے ہیں۔ جن کا بنیادی فرض عوام کی تکالیف کو اٹھانا ہے۔ جو عوام کی تکلیفوں کو میگنیفائنگ گلاس سے دیکھ کر حکومت کو دکھانا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں، وہ ملک کے تئیں فکر رکھنے والے ایسے صحافی کو وزیراعظم سے بات کرنے کے لیے نہیں بلائیں گے، لیکن جنہیں بھی بلائیں گے، وہ صحافی ہوں گے یا مدیران ہوں گے اور آگے یہ سلسلہ جاری رہنے والا ہے۔ ایسا تاثر وزیراعظم کی رہائش گاہ کی جانب سے آیا ہے۔ اگر ایسا ہے تو جو صحافی آگے جانے والے ہیں، انہیں دھیان رکھنا چاہیے۔ ہماری شائستہ درخواست ہے کہ انہیں دھیان رکھنا چاہیے کہ وہ وزیراعظم سے اس ملک کے لوگوں کی تکلیف کے بارے میں بھی پوچھیں اور وزیراعظم کو ایک آئینہ دکھائیں، صحیح صحافی ہونے کے ناطے آئینہ دکھائیں کہ ملک ایسا ہے، آپ یہ بول رہے ہیں، دونوں میں کہیں کوئی ترتیب ہے کیا؟ سوچنا ان مدیران یا صحافیوں کو ہے، جو آگے وزیراعظم سے ملنے جانے والے ہیں۔ جو مل کر آئے اور انھوں نے جو کہا، اس کے لیے انہیں اور ان کی مسکراہٹ کو شکریہ کے علاوہ ہم اور کیا کہہ سکتے ہیں۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *