سنجے لیلا بھنسالی: کیمرے میں کمال ، کہانی سے کنگال

سشما گپتا
سنجے لیلا بھنسالی کا شمارموجودہ دور کے مہنگے ترین فلمسازوں میں کیا جاتا ہے۔ سنیما میں لائٹ اور کلر کی سمجھ جیسی سنجے لیلا بھنسالی کی ہے، ویسی سمجھ موجودہ دور کے کسی دوسرے فلمساز کو نہیں ہے۔سنجے لیلا بھنسالی اپنی فلموں میں کیمرے کے کمال سے ومل رائے جیسے فلمساز کی یاد دلاتے ہیں۔ بھنسالی کی حال ہی میں ریلیز ہوئی فلم ’’گزارش‘‘کامیابی حاصل نہیں کر سکی۔’’سانوریہ‘‘کے بعد بھنسالی کی ایک اور فلم فلاپ ہوئی ۔ حالانکہ ان فلموں کے فلاپ ہونے کے بعد بھی بھنسالی کی فلموں کا کریز برقرار ہے اور اداکار ہی نہیں، ناظرین بھی ان کی فلموں کے بے صبری سے منتظر رہتے ہیں۔بھنسالی نے اپنے کریئر میں بہت زیادہ فلمیں ڈائریکٹ نہیں کی ہیں۔ وہ ایک فلم پوری ہونے کے بعد ہی اگلی فلم پر کام کرنے میں یقین رکھنے والے فلمسازوں میں سے ہیں۔لیکن اس کے بعد بھی امکانات سے پر یہ فلمساز کبھی ہٹ اور کبھی فلاپ رہا۔ آخر اس کی وجہ کیا ہے، یہ سمجھنا بھی ضروری ہے۔
فلمساز بننے سے پہلے بھنسالی نے فلمسازی کی باریکیاں سیکھنے کے لیے وِدھو ونود چوپڑا کے ساتھ بطور اسسٹنٹ ڈائریکٹر کام کیا۔ ’’پرندہ‘‘اور ’’1942اے لو اسٹوری‘‘ میں سنجے ودھو ونود چوپڑا کے اسسٹنٹ تھے۔اس کے بعد 1996میں انھوں نے پہلی فلم ڈائریکٹ کی ’’خاموشی دی میوزیکل‘‘۔ سلمان خان، منیشا کوئرالہ کی اداکاری والی اس فلم میں نانا پاٹیکر اور سیما وشواس نے منیشا کوئرالہ کے ایسے والدین کا کردار ادا کیا، جو بول اور سن نہیں سکتے۔ فلم فلاپ رہی، لیکن نقادوں نے اس کی پذیرائی کی اور سنجے کی حساسیت کی تعریف کی۔بھنسالی اس کے بعد سلمان اور ایشوریہ کو لے کر ’’ہم دل دے چکے صنم‘‘لے کر آئے۔ فلم ہٹ رہی اور نقادوںنے بھی سراہا۔ بھنسالی نے اس کے بعد ’’دیوداس‘‘ بنائی، لیکن مبصرین کو نئے دیوداس میں وہ دم نظر نہیں آیا۔ فلم اپنی چمک دمک کو لے کر ضرور تذکروں میں رہی۔ان فلموں نے بھنسالی کو کامیاب تو بنا دیا، لیکن وہ اپنی معقول صلاحیتوں کو نمایاں نہیں کر پا رہے تھے، جو ان کے اندر پوشیدہ تھیں۔
بھنسالی نے لیک سے ہٹتے ہوئے2005میں اگلی فلم ’’بلیک‘‘ ریلیز کی۔ اس فلم میں بھنسالی نے اپنی فلمسازی صلاحیت کو شدت کے ساتھ پیش کیا۔ کہانی، پیشکش، اداکاری اور فنکاری ہر طریقہ سے فلم لاجواب تھی۔ نہ صرف ہندوستان میں، بلکہ پوری دنیا میں اس فلم کا ڈنکا بجا۔اس فلم کو ٹائمس میگزین نے دنیا بھر میں سال کی پانچ فلموں میں شمار کیا۔ فلم آسکر کی دعویدار تھی، لیکن سیاست کے سبب فلم کو آسکر میں نہیں بھیجا گیا۔لیکن اس کامیابی کے بعد ہی بھنسالی اپنے ٹریک سے ہٹ گئے۔ بلیک کے بعد بھنسالی نے سانوریہ بنائی، لیکن کالے رنگ کی طرح نیلا رنگ ناظرین کو بھا نہیں پایا۔ ناظرین کو سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ کیا دیکھنے آئے ہیں۔ یہاں سے بھنسالی وقت اور سماج سے خود کو جوڑنے میں ناکام ثابت ہوئے۔
بھنسالی اس پیڑھی کے نایاب فلمساز ہیں۔ وہ ٹرینڈ اور فارمولہ وغیرہ کی تعظیم نہیں کرتے۔ ان کی خوبصورت دنیا میں سب کچھ معمولی سے زیادہ خوبصورت اور عالیشان ہوتا ہے۔پورے ماحول میں خوبصورتی نظر آتی ہے۔بھنسالی کے کرداروں کی سماجی بنیاد فرضی ہوتی ہے۔ ان کے نقاد کہہ سکتے ہیں کہ بھنسالی اپنی فلموں کی خوبصورتی، شان و شوکت اور میلو ڈرامہ کی دنیا کو ریئل نہیں ہونے دیتے۔ کئی بار یہ بات حیرت زدہ کرتی ہے تو بلیک بنتی ہے اور کئی بار کوئی اثر پیدا نہیں ہو پاتا تو وہ سانوریہ بن جاتی ہے۔ دراصل، بھنسالی کی فلمیں کافی تخلیقی ہوتی ہیں، لیکن بھنسالی جتنی محنت اپنی فلموں کو کیمرے میں قید کرنے میں لگاتے ہیں ، شاید اتنی محنت قلمی تخلیق میں نہیں کرتے۔
ان کی جتنی بھی فلمیں آئیں، بیشتر میں کہانیاں نہیں ہیں۔ ’’دیوداس‘‘ شرت چندر کی ناول سے لی گئی کہانی ہے تو ’’ہم دل دے چکے صنم‘‘ سات ہندوستانی سے متاثر تھی۔ بلیک کی کہانی کے بارے میں کہا گیا ہے کہ بیرونی ممالک میں اس پرمتعدد فلمیں بن چکی ہیں۔ حالیہ ریلیز ’’گزارش‘‘ کی کہانی پر بھی ایک مصنف نے دعویٰ کیا ہے اور الزام عائد کہا ہے کہ بھنسالی نے ان کی کہانی چرائی ہے۔ان کی فلموں میں کئی باتیں اچھی طرح ظاہر ہو ہی نہیں پاتیں۔ سنجے لیلا بھنسالی کی تخلیقی اور سنیمائی سمجھ پر سوال نہیں اٹھائے جا سکتے ،لیکن یہ فلمساز اگر وقت اور سماج سے جڑ کر کچھ نئی کہانیوں پر کام کرے تو یقینا بلیک جیسی فلم بار بار دیکھنے کو ملیں گی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *