قصوروار فقط مختارن مائی ہی کیوں؟

عفاف اظہر، کناڈا
وکی لیکس کے ذریعہ مختارن مائی کے بارے میں کیے جانے والے انکشافات کے بعد سے بھانت بھانت کی بولیاں سننے کو مل رہی ہیں۔ مختارن مائی پر دکھائی  جانے والے ٹی وی شوز میں آئے دن کوئی نہ کوئی انکشافات سامنے آ رہے ہیں ۔ کوئی مختارن مائی کو ظالم ثابت کر رہا ہے تو کوئی اس کے اثاثوں کی کھوج میں لگا ہے، کوئی اس کی مظلومیت کو ایک ڈرامہ بتا رہا ہے تو کوئی اس کے کردار ہی کے بخیے ادھیڑنے میں لگا ہوا ہے، کوئی مختارن کے گھر میں کھڑی مر سیڈ یز کی جانچ پڑتال میں لگا ہے تو کوئی اس کی بنائی ہوئی این جی اوز کو نشانہ بنا رہا ہے، گویا کہ صحافت اور صحافتی کردار سب ہی حسب معمول کافی چست و چوبند ہو کر اپنا اپنا  کردار نبھانے میں اس قدر مگن ہیں کہ یہ دیکھنے سے بھی قاصر ہیں کہ آج  مختارن پر اٹھتی ان کی ہر ایک انگلی کے ساتھ کی باقی چاروں انگلیوں کا رخ ان کی اپنی ہی  جانب ہے ، کیوں کہ آج سوال یہ نہیں کہ مختارن مائی قوم کی ہیرو ہے یا نہیں بلکہ سوال تو یہ ہے کہ مختارن مائی کو ہیرو بنانے والے ہاتھ کس کے ہیں ؟ آج سوال یہ نہیں کہ مختارن مائی سے دختران قوم کو جو امیدیں وابستہ ہیں وہ ان پر پورا  اترنے کے قابل ہے بھی یا نہیں، بلکہ سوال تو یہ ہے کہ ان سے یہ امیدیں وابستہ کروانے والے کردار کون سے ہیں ؟ آج سوال یہ نہیں کہ مختارن مائی کی مظلومیت حقیقت نہیں بلکہ ایک ڈرامہ تھا، بلکہ سوال تو یہ ہے کہ اس کو مظلومیت کی تصویر بنا کر دنیا بھر کو دکھانے والے آخر کون سے فنکار تھے؟ آج سوال یہ نہیں کہ مختارن مائی کی اجازت کے بنا وہاں آج کوئی پرندہ بھی پر نہیں مار سکتا کہ اس کی طاقت کے سامنے تو علاقے کی پولس بھی بے بس ہے، بلکہ سوال تو یہ ہے کہ مختارن مائی کو یہ ہیبت ناک قسم کی طاقت فراہم کرنے والے عوامل آخر کون سے  تھے ؟
یہ سچ ہے کہ صحافت بہت اہم کردار کی حامل ہوتی ہے۔ صحافت اگر اپنا کردار بخوبی نبھائے تو قوموں میں شعور بیدار کر کے ان کے لیے مشعل راہ ثابت ہوتی ہے لیکن اگر یہی صحافت اپنا کردار نہ نبھا سکے تو ان ڈوبتی ہوئی قوموں کے لیے ظلمت کی ایک اور گہری کھائی بن جاتی ہے۔ اگر یہی صحافت تمام تر اخلاقی ضابطوں اور انسانیت کے تقاضوں پر پورا اترے تو ظلمت کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں ایک جگنو کی مانند ہے، لیکن اگر یہی صحافت اخلاقیات اور انسانیت کے معیار پر پوری نہ اتر سکے تو اس بد نصیب قوم کے تابوت پر آخری کیل ثابت ہوتی ہے۔ مختارن مائی کو ہیرو بنا کر پیش کرنے والے دختران قوم کو اندھیرے میں روشنی کی کرن دکھانے والے صنف نازک کو ظلم کے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں مختارن نام کا دیا تھمانے والے، قوم کی بیٹیوں کی آواز کے القابات سے نوازنے والے مختارن کو زیرو سے ہیرو بنانے والے کوئی اور نہیں بلکہ یہی صحافتی فنکار تو تھے   جوآج اسے پھر ہیرو سے زیرو بنانے پر کمر بستہ ہیں۔ مختارن مائی ہی کیا، قوم کے سامنے آج تک تمام کے تمام زیرو کو ہیرو بنا کر پیش کرنے والی اور ہیروز کو زیرو بنا دینے میں کمال رکھنے والی یہ زرد صحافت ہی تو ہے۔ ضیاء الحق کو مرد مومن، مرد حق مرد مجاہد کے القابات سے نوازنے والی، اسامہ بن لادن کو مسیحا ئے قوم کا تخت سونپنے والی، کرکٹ کے کھلاڑیوں کو ہیرو بنا کر قوم کے سر پر بٹھانے والی ، ڈاکٹر قدیر خان کو محسن قوم کا تاج پہنانے والی ، نواز شریف کو قائد اور بے نظیر کو مادر ملت، سلمان تاثیر اور شہباز بھٹی کے شرمناک اور انتہائی قابل مذمت قتل کو توہین رسالت اور قاتل کو غیرت ناموس رسالت کے القابات سے نواز کر پھولوں کے ہار پہنانے کی نوبت لانے والی کوئی اور نہیں بلکہ یہی زرد صحافت ہے۔ مختارن مائی پاکستان کی کوئی پہلی خاتون نہیں جس کے ساتھ یہ ظلم ہوا اور نہ ہی پہلی بار پاکستانی معاشرے میں ایسا واقعہ پیش آیا ہے۔ جس مرد زدہ معاشرے میں گلی کے ہر نکڑ پر دختران قوم مظلومیت اور بے بسی کی تصویر بنی دہائی دے رہی ہوں ، جس معاشرے کی عورت کا وجود ایک جنسی کھلونے سے بڑھ کر کچھ بھی نہ ہو، جس معاشرے کے تمام تر رسوم و رواج نام و نہاد مذہب اور قوانین مردوں کے حامی اور خواتین کے مخالف ہوں، جس ملک میں ہزاروں غیر شادی شدہ دختران قوم  زنا بالجبر کی شکایات لے کے تھانے اور عدالتوں تک تو جائیں مگر چار گواہ پیش نہ کر سکنے کی صورت میں زنا بالرضا کے قانون میں خود ہی دھر لی جائیں اور جیلوں میں ہی قید کئی بچوں کی مائیں بن جائیں، وہاں اگر مختارن مائی نے اسی قانون کا، جس نے آج تک ہزاروں کی زندگیاں برباد کر دیں اور اسی معاشرے کا جس نے لاکھوں کی جانیں لے لیں، استعمال کر کے اپنی مظلومیت چاہے وہ جھوٹی  ہی سہی، پرچار کر کے طاقت کا ڈنڈا اپنے ہاتھوں میں تھام لیا، تو قصوروار فقط وہ  ہی کیوں؟ بلکہ اس سے کہیں زیادہ قصوروار تو معاشرہ خود ہے جو روزانہ ایسی ہزاروں مثالیں رقم کر رہا ہے کہ سچ اور جھوٹ کے درمیان فرق کی کوئی بھی لکیر باقی نہیں بچی۔ قصور وار تو قانون، اور یہ نام و نہاد مذہب بھی کم نہیں کہ جس نے عورت سے انسان ہونے کا حق تک چھین رکھا ہے، جن کے پاس عورتوں کو انصاف دینے کے لیے کوئی قانون یا ان کے حقوق کی حفاظت کے لیے کوئی بھی  لائحہ عمل نہیں اور پولس وہ جو ہمیشہ سے طاقتور کے گھر کی باندی اور قانون وہ جو ہمیشہ سے ہی زر کا غلام رہا ہے۔ ازل سے قانونِ فطرت ہے کہ انسانی  معاشرے کفر پر تو پنپ رہ سکتے ہیں مگر ظلم پر ہر گز نہیں اور جہاں ظلم اس حد تک بڑھ جائے کہ خود ظلم کی اپنی پہچان تک ختم ہو جائے اور بے حسی اس قدر بڑھ جائے کہ کوئی بھی ظلم ظلم ہی نہ لگے، تو پھر اس بستی کے فرعو نوں کو موسیٰ کی نہیں بلکہ ان سے بھی بڑے ایک اور فرعو ن کی ضرورت ہوتی ہے جو ان کی بے حسی کو جھنجوڑ کر انھیں ظلم کی سہی پہچان کروا  سکے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *