مغربی بنگال میں اوقاف گھوٹالہ: سی بی آئی انکوائری میں تاخیر کیوں

انوار عالم خان
وزیراعلیٰ مغربی بنگال ممتا بنرجی نے 1996 میں چیف جسٹس آف انڈیا کو عام مسلمانوں کی شکایات کی بنیاد پر، اپنے ایک تحریری شکایت نامہ میں مغربی بنگال وقف بورڈ میں ہونے والی بد عنوانیوں اور مذکورہ بورڈ کی کار کردگیوں کی تفصیلی شکایت کرتے ہوئے ان سے تمام واقعات کی سی بی آئی سے تحقیقات کرانے کی مانگ کی تھی۔ 12 اپریل 1996 کو ان کے اس تحریری شکایت نامہ کو سپریم کورٹ  کے اسسٹنٹ رجسٹرار نے مغربی بنگال کی سابقہ ریاستی حکومت کو بھیجتے ہوئے اس سے ایک تفصیلی رپورٹ طلب کر لی تھی۔مذکورہ واقعہ جسٹس جی آر بھٹاچارجی کی اس انکوائری رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے جسے کمیشن آف انکوائری ایکٹ 1952 کی دفعہ 3 کے تحت حکومت مغربی بنگال نے نامزد کیا تھا۔ مذکورہ رپورٹ کمیشن نے  31 دسمبر 2001 کو حکومت کے حوالے کردیا تھا۔
17 جولائی2002 کو مغربی بنگال اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے اختتام پر اوقاف گھپلے کی انکوائری کرنے والے جسٹس گیتیش رنجن بھٹا چارجی کی رپورٹ پر بحث کے دوران سابق حکمراں بایاں محاذ اور اپوزیشن کانگریس اور ترنمول کانگریس کے درمیان زبردست نوک جھونک ہوئی اور ایوان کم و بیش نصف گھنٹے تک شور و غل اور نعروں سے گونجتارہا۔
ممتا بنرجی کو 17 جولائی 2002 کو منعقد ہونے والے مذکورہ مغربی بنگال اسمبلی اجلاس کی ان کاروائیوں کی طرف بھی دھیان دینے کی ضرورت ہے، جبکہ کانگریس  اور ترنمول کانگریس پارٹی کی طرف سے وقف بورڈ میں ہونے والی مبینہ بدعنوانیوں کی تحقیقات سی بی آئی سے کرانے کے مطالبہ کو حکومت کی طرف سے نامنظور کیے جانے کے بعد احتجاجاً کانگریس اور ترنمول کانگریس کے سبھی ایم ایل اے اس دن کی اسمبلی کی اگلی کاروائیوں بائیکاٹ کرتے ہوئے اسمبلی سے باہر نکل آئے تھے۔
ہم ایک بار پھر وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کو یاد دلاتے ہیں کہ 17جولائی2010 کو کانگریس پارٹی کے چیف وھپ کی حیثیت سے کانگریس کے ایم ایل اے عبدالمنان نے اسمبلی کاروائیوں کی ضابطہ 319 کے تحت بحث شروع کرتے ہوئے ممبران اسمبلی سے کہا تھا کہ ’’ جسٹس بھٹا چارجی نے تقریباً چھ ماہ قبل ہی اپنی انکوائری رپورٹ حکومت کے سپرد کردی ہے‘‘۔ انہوں نے اپنی بحث کے دوران یہ بھی کہا تھا کہ ’’ جسٹس بھٹا چارجی نے اپنی رپورٹ میں ان طاقتور لوگوں کا نام شامل نہیں کیا ہے جو مبینہ وقف گھپلوں میں ملوث تھے، اس طرح ویسے لوگوں کا نام مذکورہ رپورٹ میں آنے سے بچ گیا ، اس وجہ سے بھی یہ رپورٹ مبہم ہے اور صاف نہیں ہے‘‘۔ عبد المنان نے اپنی بحث کے دوران حکومت مغربی بنگال کی طرف سے مذکورہ رپورٹ کی بنیاد پر اس کے لیے ذمہ دار افراد کے خلاف کی جانے والی کاروائیوں سے اختلاف کرتے ہوئے یہ بھی کہا تھا کہ ’’ اگر محاذی حکومت اس بات سے خوفزدہ نہیں ہے کہ سی بی آئی سے انکوائری کی صورت میں اس کے چند طاقتور لیڈران اس کی زد میں آجائیں گے تو اسے مذکورہ معاملے کی سی بی آئی سے انکوائری کرانے کی اجازت دے دینی چاہیے۔
مذکورہ بحث میں حصہ لیتے ہوئے ترنمول کانگریس کے ایم ایل اے سوگتا رائے اور کلیان بنرجی دونوں نے بھی زبردست طریقے سے سی بی آئی سے تحقیقات کرانے کے مذکورہ مطالبہ کی حمایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’ جسٹس بھٹا چارجی کے لیے انکوائری کے سلسلے میں گواہان کی گواہی قلمبند کرنے کے لیے کوئی بھی گنجائش موجود نہیں تھی، اس لیے انہوں نے وقف بورڈ میں پہلے سے ہی داخل کیے ہوئے تحریری شکایت نامہ اور بورڈ کی جانب سے ان کے جوابات کی روشنی میں ہی اپنی کاروائی مکمل کی تھی ،مگر یہ بات پھر بھی درست ہے کہ بورڈ نے بہت سارے معاملات میں عوامی نوٹس جاری نہیں کیا تھا جس کی وجہ سے بورڈ کو زبردست مالی نقصانات اٹھانے پڑے تھے‘‘۔
اسمبلی کی مذکورہ کاروائیوں کے رجسٹر کے معائنہ سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ کانگریس کی جانب سے اٹھائے جانے والے مذکورہ مطالبہ کے معاملہ میں کانگریس کی کھلی حمایت کرتے ہوئے ترنمول کانگریس کے سوگتا رائے نے بھی یہ صاف لفظوں  میں کہا تھا کہ ’’ گرچہ حمیم الہدیٰ گرفتار ہوچکے ہیں پھر بھی سی پی ایم سے انتہائی نزدیک سمجھے جانے والے بہت سارے لوگ اور اس کے کچھ دوسرے ممبران مذکورہ بد عنوانیوں میں ملوث تھے جن کا نام بھی جسٹس بھٹا چارجی کی اس رپورٹ میں شامل ہے‘‘۔ انہوں نے اپنی بحث میں یہ بھی کہا تھا کہ ’’ 1947 سے 1976 کے درمیان وقف کی جائدادوں کی منتقلی کے کل 159 واقعات پیش آئے، مگر بایاں محاذ حکومت کی تشکیل کے بعد صرف 1978 سے 1995 کے درمیان ہی اوقاف کی 495 جائدادوں کی منتقلی کے معاملات درپیش آئے، اس لیے ایسے تمام حقائق سے پردہ اٹھانے کے لیے سی بی آئی سے انکوائری کے مذکورہ مطالبے کو انہوں نے بھی ہر طرح سے درست قرار دیا تھا‘‘۔ ان لیڈران کے مطالبات کے برعکس مغربی بنگال کے اقلیتی امور کے سابق وزیر محمد سلیم نے یہ کہتے ہوئے اوقاف کے معاملات کی سی بی آئی سے انکوائری کے مطالبے کو رد کردیا تھا کہ ’’ اگر ملک کے سبھی اوقاف کی جائدادوں کے معاملات کی سی بی آئی سے انکوائری ہوتی ہے تو وہ بھی اس ریاست میں اس ایجنسی سے انکوائری کرانے کے لیے تیار ہیں‘‘۔ محمد سلیم سے پہلے رہے اقلیتی امور کے وزیر محمد امین نے بھی یہ کہہ کر سی بی آئی سے انکوائری کے معاملے کو رد کردیا کہ ’’ مذکورہ رپورٹ میں کانگریس کے کچھ لیڈران کا نام بھی شامل ہے اس لیے ایسا مطالبہ کرنا درست نہیں ہے‘‘سی پی (ایم) کے ایک دوسرے ایم ایل اے مصطفیٰ بن قاسم نے بھی بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا تھا کہ ’’ آپ سے قبل اپوزیشن لیڈر اتیش سنہا نے جس بات کا مطالبہ کیا تھا اس کی تکمیل ہو چکی ہے، اس لیے آپ کا خفا ہونا فضول ہے‘‘۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ’’ گرچہ ممتا بنرجی نے بھی اس سلسلہ میں ایک شکایت نامہ درج کرایا تھا مگر اس کے باوجود بھی وہ سنوائی کے لیے کمیشن کے رو برو حاضر نہیں ہوئیں‘‘۔
26 جولائی2002 کو جمعیۃ علماء مغربی بنگال کی جانب سے ’’وقف بچائو‘‘ دن کے سلسلے میں منعقدہ ایک کانفرنس میں اس وقت کے ریاستی کانگریس کے ایم ایل اے  اور آج ترنمول کانگریس کے ایم پی سومن مترا نے کہاتھا کہ ’’ جو لوگ اس کی حفاظت ہی کرنا نہیں جانتے ہیں وہ اس کو برباد کیوں کر رہے ہیں؟‘‘ انہوں نے اوقاف میں گھپلہ کرنے والوں کو سبق آموز سزا دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے یہ بھی الزام لگایا تھا کہ ’’ اوقاف گھپلے میں ملوث ریاستی اسپیکر ہاشم عبد الحلیم ، ڈاکٹر نذیر احمد ، اسد اللہ، حمیم الہدیٰ او ایم پی محبوب زاہدی کا نام اجاگر ہوا ہے‘‘۔ اسی دن جمعیۃ علماء ہند کی مغربی بنگال یونٹ کی ایک آٹھ نفری ٹیم نے اس وقت کے وزیر اقلیتی امور، محمد سلیم سے بندکمرے میں تقریباً ڈھائی گھنٹے تک گفتگو کرنے کے بعد جسٹس بھٹاچارجی کمیشن کی رپورٹ کی روشنی میں نہ صرف ملزمین کے خلاف قانونی کاروائی کا مطالبہ کیا تھا بلکہ اوقاف سے متعلق تمام معاملات کی از سر نو سی بی آئی سے انکوائری کا مطالبہ بھی کیا تھا۔
3 اگست2002 کو ترنمول کانگریس کے جنرل سکریٹری اور اس وقت کے سابق ایم ایل اے سلطان احمد نے بھی گتیش رنجن بھٹا چارجی کمیشن کی رپورٹ کو خارج کرتے ہوئے سابق وزیر اعلیٰ بدھادیب بھٹاچاریہ کو چیلنج کیا تھا کہ ’’ اگر واقعی وہ  مسلمانوں سے ہمدردی رکھتے ہیں اور اوقاف جائدادوں کا تحفظ کرنے میں سنجیدہ ہیں تو وہ 1984 سے 1996 کے دوران اوقاف گھپلے کی سی بی آئی انکوائری کرائیں تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی صاف نظر آجائے‘‘۔ سلطان احمد نے اس وقت کے وزیر اقلیتی امور ، محمد سلیم کو بھی چیلنج کیا تھا کہ ’’وہ حقائق پر پرہ ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں اور اصل مجرموں کو بچانے کے لیے حمیم الہدیٰ کو قربانی کا بکرا بنا کر بہادری کا بگل بجا رہے ہیں‘‘۔
واضح رہے کہ جسٹس بھٹا چارجی کی مذکورہ کمیشن رپورٹ جو کہ 1355 صفحات پر مشتمل ہے، اس میں ایسے بہت سارے واقعات کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں وقف بورڈ کے ممبران یا اس کے کمشنروں نے اوقاف کی جائدادوں کی منتقلی بغیر کوئی بھی عوامی نوٹس جاری کیے ہوئے ہی کردی تھی،جس میں دوسروں کے علاوہ سی پی آئی (ایم) کے محبوب زاہدی، کلکتہ ضلع کے سکریٹریٹ کے ممبر محمد نظام الدین اور اسمبلی کے سابق سکریٹری اے رحمن کا نام بھی شامل ہے۔  مغربی بنگال اسمبلی میں پیش کیے گئے مذکورہ مطالبہ سے تقریبا ً6 برس قبل 9 ستمبر 1996 کو راجیہ سبھا میں بھی ’’توجہ دلائو‘‘تحریک کے اس واقعہ کی طرف بھی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کو اپنی توجہ مبذول کرنے کی ضرورت ہے جبکہ وزیر اعظم دیو گوڑا کی یونائٹیڈ فرنٹ حکومت کے مرکزی وزیر فلاح و بہبود، بلونت سنگھ رامووالیہ نے مغربی بنگال میں ہونے والی اوقاف کی مبینہ بد عنوانیوں کی سی بی آئی سے انکوائری کے مطالبہ کو یہ کہہ کر مسترد کردیا تھا کہ مغربی بنگال کی حکومت نے مرکز کو اس بات سے آگاہ کیا ہے کہ اس نے مذکورہ بد عنوانیوں کے سلسلہ میں عدالتی انکوائری کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ حالانکہ کانگریس پارٹی کے اس وقت کے راجیہ سبھا ممبر رحمن خان نے ایوان کو بتایا تھا کہ ملک میں تقریباً 3000,000 اوقاف کی جائدادیں ہیں جن میں آدھے سے زائد پر دوسروں کا ناجائز قبضہ ہے۔ ان کی اس بات سے متاثر ہوکر راجیہ سبھا کے تقریبا ً سبھی ممبروں نے اوقاف کی جائدادوں پر ناجائز قبضوں پر اپنی تشویش کا اظہار کیا تھا۔
مرکزی حکومت کی جانب سے مغربی بنگال میں ہونے والے اوقاف کی مبینہ بدعنوانیوں کی سی بی آئی سے انکوائری کے مطالبے کو مسترد کیے جانے کے بعد کلکتہ میں اس وقت کی ریاستی کانگریس پارٹی نے اس پر اپنے زبردست ردّعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’ایسا فیصلہ بد بختانہ ہے‘‘۔ مانش بھوئیاں جو کہ اس زمانہ میں پردیش کانگریس کے جنرل سکریٹری تھے انہوں نے اس پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے سی پی (ایم)کوخوش کرنے کی یونائٹیڈ فرنٹ کی حکومت کی جانب سے ایک کوشش بتایا تھا۔ انہوں نے اسی وقت اس بات کا بھی اعلان کیا تھا کہ مذکورہ واقعات کی سی بی آئی سے انکوائری کرانے کے سلسلہ میں ریاستی کانگریس پارٹی ایک زبردست تحریک شروع کرے گی اور واقعتا انہوں نے 24 ستمبر1996 کو اس مطالبہ کے سلسلہ میں ایک زبردست ریلی کا انعقاد بھی کیا۔
آج جبکہ یہ مانا جارہا ہے کہ ممتا بنرجی نے غریبوں، کمزوروں ، پچھڑوں اور دبے ہوئے ان افراد کی مدد کا فیصلہ کیا ہے جنہیں آج تک انصاف سے دور رکھا گیا ہے تو ہمیں بھی یقین ہے کہ ممتا بنرجی کے دور حکومت میں ان کے ہی مطالبہ کے مطابق مسلمانوں کی اس دیرینہ خواہش کی بھی تکمیل ہوجائے گی کہ مغربی بنگال میں اوقاف سے متعلق تمام بد عنوانیوں کی سی بی آئی سے انکوائری ہو اور ان معاملات میں کسی بھی طرح ملوث پائے گئے کسی بھی فرد یا تنظیم کے ساتھ بغیر کسی رعایت کے قانونی کاروائی کرکے اسے اس کے منطقی انجام تک پہنچا کر اس جھگڑے کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم کردیا جائے۔  مغربی بنگال میں 34 برسوں کی طویل مدت تک حکومت کرنے والی محاذی حکومت کا صفایا کرنے کے بعد 13 مئی2011 کو اپنی رہائش گاہ 30/B ، ہریش چٹرجی اسٹریٹ، کلکتہ میں ریاست کی اگلی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے کہا تھا کہ ’’نئی پالیسی کے تحت حکومت چلانا ہمارے لیے ایک چیلنج ہے اور اسے میں خوشی سے قبول کرتی ہوں‘‘۔
الیکشن کے دوران انتخابی میٹنگوں میں انہوں نے ووٹروں سے جو وعدہ کیا ہے اسے پورا کرنے کا وقت آچکا ہے۔ پسماندہ اقلیتی فرقہ سے کیے گئے وعدوں کو پورا کرنے کے لیے (جسے اس وقت بھی ایک چیلنج مانا جارہا تھا) ممتا بنرجی کو حقائق کی انتہائی سنگلاخ، چٹیل اور بنجر زمینوں سے گزرنا ہوگا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *