تیل کمپنیاں یا سرکار : ملک کون چلا رہا ہے

ڈاکٹر منیش کمار
یہ کیسی سرکار ہے، جو عوام کے خرچ کو بڑھا رہی ہے اور معیارِ زندگی کو گرا رہی ہے۔ ویسے دعویٰ تو یہ ٹھیک اس کے برخلاف کرتی ہے۔ وزیر خزانہ پرنب مکھرجی کہتے ہیں کہ سرکار اپنی پالیسیوں کے ذریعہ شہریوں کی کاسٹ آف لیونگ کو گھٹانا اور معیارِ زندگی کو بلند کرنا چاہتی ہے۔ لیکن وہ کون سی مجبوری ہے، جس کی وجہ سے پٹرول، ڈیزل اور رسوئی گیس کی قیمتیں بڑھائی جاتی ہیں۔ وزیر برائے پٹرولیم جے پال ریڈی کہتے ہیں کہ وہ اقتصادیات اور شہرت کے درمیان پھنس گئے۔ ویسے یہ اچھا بہانہ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ قیمتیں اس لیے بڑھائی گئی ہیں، کیوں کہ بین الاقوامی بازار میں خام تیل کی قیمت بڑھ گئی ہے۔ یہ ایک جھوٹ ہے۔ وہ اس لیے، کیوں کہ صرف پٹرول کو سرکار نے ڈی ریگولیٹ کیا ہے۔ مطلب یہ کہ صرف پٹرول کی قیمت کا رشتہ بین الاقوامی بازار میں خام تیل کی قیمت سے ہے۔ مٹی تیل، ڈیزل اور رسوئی گیس کا جب بین الاقوامی بازار سے کچھ لینا دینا نہیں ہے تو پھر سرکار نے ڈیزل اور رسوئی گیس کی قیمتوں میں کیوں اضافہ کیا؟ سرکار اس جھوٹ کے ساتھ ساتھ کئی اور جھوٹ پھیلا رہی ہے۔ ایک جھوٹ یہ ہے کہ تیل کمپنیاں خسارے میں چل رہی ہیں۔ مئی کے مہینہ میں مہنگائی کی شرح 9 فیصد کے آس پاس تھی۔ ڈیزل کی قیمت بڑھتے ہی ساری چیزوں کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا۔ مہنگائی کی شرح 10 فیصد سے زیادہ ہو جائے، اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا ہے۔ اس درمیان وزیر اعظم خود کے چنے ہوئے پانچ اخباروں کے مدیروں سے بات چیت کرتے ہیں۔ وہ انہیں بتاتے ہیں کہ مارچ 2012 تک مہنگائی پر کنٹرول کر لیا جائے گا۔ وزیر اعظم نے ساتھ میں ایک شرط بھی رکھ دی کہ اگر بین الاقوامی بازار میں خام تیل کی قیمت میں اضافہ نہیں ہوتا ہے۔ پانچ ریاستوں کے انتخاب ختم ہوئے اور مرکز کی یو پی اے سرکار نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھا دیں۔ سرکار کہتی ہے کہ تیل کمپنیوں کو خسارہ ہو رہا ہے۔ اس کے بعد پرنب مکھرجی نے ریاستی سرکاروں سے ٹیکس کم کرنے کی اپیل کیوں کی؟ کانگریس کی حکومت والے دو صوبوں میں قیمت کم بھی کی گئی۔ پتہ نہیں، سیاسی پارٹیوں کو یہ غلط فہمی کیسے ہوگئی ہے کہ ملک کے عوام بیوقوف ہیں۔ کیا سرکار ایسے فرمان جاری کرکے یہ ثابت کرنا چاہتی ہے کہ وہ عوام کے دکھ درد کے تئیں فکرمند ہے؟ اصلیت تو یہ ہے کہ سرکار عوام کے مسائل کو لے کر بے حس ہو چکی ہے۔ اس کی ترجیح صرف پرائیویٹ کمپنیوں اور صنعت کاروں کو فائدہ پہنچانا ہے۔
جب پٹرول کی قیمت بڑھائی گئی، تب سرکار نے ملک سے سب سے بڑا جھوٹ بولا کہ بین الاقوامی بازار میں خام تیل کی قیمت بڑھ گئی ہے۔ ایک بات سمجھ میں نہیں آئی کہ جس دن پٹرول کی قیمت بڑھائی گئی، اس دن بین الاقوامی بازار میں خام تیل کی قیمت 112 ڈالر فی گیلن تھی۔ آج اس کی قیمت تقریباً 90 ڈالر فی گیلن ہے۔ سرکار اگر یہ دلیل دیتی ہے کہ خام تیل کی قیمت بڑھنے سے قیمتیں بڑھائی گئی ہیں تو اب جب اس کی قیمت میں گراوٹ آئی ہے تو اسے ملک میں پٹرول کی قیمت کم کرنی چاہیے تھی۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا سرکار تیل اُس طرح خریدتی ہے، جس طرح گھر میں سبزیاں خریدی جاتی ہیں۔ کیا ہندوستان ہر دن کے حساب سے بین الاقوامی بازار سے خام تیل خریدتا ہے۔ ہم خام تیل خریدتے ہیں، اسے ملک میں لے کر آتے ہیں، جام نگر جیسی ریفائنری میں پروسیسنگ کے بعد اسے ٹرکوں میں بھرا جاتا ہے، چیکنگ وغیرہ ہوتی ہے، پھر کہیں اسے پٹرول پمپوں میں بھیجا جاتا ہے۔ خام تیل خریدنے اور اسے پٹرول پمپوں تک پہنچانے میں کم از کم 75 دنوں کا وقت لگتا ہے۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ مان لیجئے، تین دن پہلے خام تیل کی قیمت بڑھ جاتی ہے تو اس کا اثر 75 دنوں کے بعد دکھائی دینا چاہیے۔ سرکار کو اتنی جلدی کیوں مچی ہے کہ وہ بین الاقوامی بازار میں قیمت بڑھتے ہی ملک میں قیمت بڑھا دیتی ہے، لیکن جب قیمت گر جاتی ہے تو پھر رول بیک نہیں کرتی؟ پٹرول کی قیمت بڑھانے کے ساتھ ساتھ اسے تیل کی سپلائی کرنے والی کمپنیوں کے ساتھ کیے گئے قرار کو بھی عام کرنا چاہیے، تاکہ ملک کے عوام کو یہ پتہ چلے کہ سرکار نے کس قیمت پر خام تیل خریدنے کا سودا طے کیا ہے۔
سمجھنے والی بات یہ ہے کہ کیا ہندوستانی سرکار تیل کو گھر کے سامان کی طرح خریدتی ہے۔ دکاندار کہتا ہے کہ آج قیمتیں بڑھ گئی ہیں تو صابن کی قیمت دو روپے زیادہ ہوگئی ہے۔ جتنے بھی تیل کے سودے ہوتے ہیں، انہیں فائنانس کی اصطلاح میں Commodity Derivatives کہتے ہیں، اسے ہم فیوچرس کہتے ہیں۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ جب سودے بازی ہوتی ہے، وہ کسی سٹّے کی طرح ہوتی ہے۔ بیچنے والا اور خریدنے والا اندازہ لگاتا ہے۔ دونوں ہی اندازہ لگاتے ہیں کہ اگلے سات مہینوں میں پٹرول کی قیمت کیا ہونے والی ہے۔ خریدنے والے کی مجبوری یہ ہے کہ اسے پتہ ہے کہ پورے ملک کی ضرورت کیا ہے۔ ہندوستان کے تجربہ سے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ جب تک خام تیل کی قیمت 90 ڈالر فی گیلن رہے، تب تک ہندوستان کی اقتصادیات پر کچھ بھی فرق نہیں پڑتا ہے۔ ایسا اس لیے، کیوں کہ جب امریکہ میں گراوٹ آئی، تب وہ 40 ڈالر فی گیلن سے خام تیل کی قیمت 90 ڈالر تک لے کر چلے گئے۔ یہ وعدہ کاروبار کی وجہ سے ہوا۔ وعدہ کاروبار کرنے والوں نے ایک گروہ کھڑا کر لیا۔ یہ لوگ اصل میں تیل نہیں خریدتے، بلکہ کاغذ خریدتے ہیں اور جب حقیقت میں تیل لینے کا وقت آتا ہے تو یہ اسے فروخت کر دیتے ہیں۔ اکثر ہوتا یہ ہے کہ ایک مقررہ وقت پر ڈیمانڈ اچانک سے بڑھ جاتی ہے اور تیل کی قیمت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ حالت یہ ہوگئی کہ جو تیل 40 ڈالر فی گیلن فروخت ہو رہا تھا، اس وعدہ کاروبار کی وجہ سے اس کی قیمت 140 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی۔ تیل کی قیمت تب بڑھتی ہے، جب اس کی کھپت بڑھتی ہے۔ دو سو سال تک خام تیل کی قیمت 40 ڈالر فی گیلن سے کم رہی۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ پچھلے کچھ سالوں میں ایسا کیا ہوا کہ اس کی قیمت آسمان چھونے لگی۔ خام تیل کی قیمت بڑھنے کا سبب کھپت میں اضافہ نہیں ہے، بلکہ وعدہ کاروبار ہے۔ جب سے امریکہ کے صنعت کار وعدہ کاروبار میں شامل ہوئے، پٹرولیم کا بازار ان کے ہاتھوں یرغمال بن گیا۔
چلئے ایک حساب لگاتے ہیں کہ آخر پٹرول کی صحیح قیمت کیا ہو۔ جس وقت پٹرول کی قیمت بڑھائی گئی، اس وقت بین الاقوامی بازار میں خام تیل کی قیمت 112 ڈالر فی بیرل تھی، یعنی 5085 روپے کے قریب۔ ایک بیرل میں 158.76 لیٹر ہوتے ہیں۔ تو اس کا مطلب ہے کہ خام تیل کی قیمت 32 روپے فی لیٹر بنتی ہے۔ تیل کمپنیوں کے مطابق، خام تیل کو ریفائن کرنے میں 52 پیسہ فی لیٹر خرچ ہوتا ہے اور اگر ریفائنری کی کیپٹل کاسٹ کو اس میں جوڑا جائے تو تیل کی قیمت میں قریب 6 روپے اور جوڑنے پڑیں گے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ کا خرچ زیادہ سے زیادہ 6 روپے اور ڈیلروں کا کمیشن 1.05 روپے فی لیٹر۔ ان سب کو اگر جوڑ دیا جائے تو ایک لیٹر پٹرول کی قیمت 45.57 روپے ہوتی ہے۔ لیکن دہلی میں 63.4 روپے، ممبئی میں 68.3 روپے اور بنگلورو میں 71 روپے فی لیٹر کی قیمت سے پٹرول فروخت ہو رہا ہے۔ اب سوال اٹھتا ہے کہ یہ پیسہ ہم کیوں خرچ کر رہے ہیں، یہ پیسہ کہاں جا رہا ہے؟ اس کا جواب ہے کہ ہم ٹیکس میں دے رہے ہیں۔ یہ بہت ہی کم لوگوں کو پتہ ہے کہ مرکزی اور صوبائی حکومتیں پٹرول سے کتنا ٹیکس وصول کرتی ہیں۔ کچھ ریاستوں میں تو 50 فیصد سے زیادہ ٹیکس لیا جاتا ہے۔ اور تو اور، یہ ٹیکس تیل کی بنیادی قیمت پر لگتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تیل کی قیمت بڑھانے سے سرکار کو فائدہ ہوتا ہے۔ پھر سرکار یہ گھڑیالی آنسو کیوں بہا رہی ہے کہ تیل کمپنیوں کو نقصان ہو رہا ہے۔ اس ٹیکس کو درست ثابت کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سے سرکاری کمپنیوں کو فائدہ ہوگا، ورنہ یہی سمجھا جائے گا کہ سرکار پرائیویٹ کمپنیوں کو لوٹ مچانے کی کھلی چھوٹ دے رہی ہے۔ سوال تو یہ اٹھتا ہے کہ کیا آج تک مکیش امبانی یا دیگر تیل کمپنیوں نے یہ کہا کہ انہیں نقصان ہو رہا ہے، تیل کمپنیوں کو خسارے کی وجہ سے بند کرنا پڑ سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہپرائیویٹ کمپنیاں زیادہ تر مال غیر ملکی بازار میں بیچ کر منافع کما رہی ہیں۔ آج بین الاقوامی بازار میں خام تیل کی جو قیمت ہے، اس کے مطابق پٹرول کی قیمت 35 روپے فی لیٹر سے ایک بھی پیسہ زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔ بین الاقوامی بازار میں خام تیل کی قیمت مئی 2011 میں 112 ڈالر فی گیلن تھی، جو اب گھٹ کر 90 ڈالر کے آس پاس ہو گئی ہے۔ آنے والے دنوں میں اس کی قیمت میں اور بھی کمی ہونے کی امید ہے۔ پھر بھی ملک میں پٹرول کی قیمت میں کوئی کمی نہیں ہونے والی ہے۔ پٹرول کی قیمت میں گراوٹ تو دور، تیل کمپنیوں کے دباؤ میں سرکار ڈیزل، کیروسن اور رسوئی گیس کی قیمت بھی بڑھانے کو مجبور ہوگئی۔ اس کے بعد اگر کوئی یہ الزام لگائے کہ ہندوستانی سرکار تیل کمپنیوں کے ہاتھوں کی کٹھ پتلی بن گئی ہے تو اس کا کیا جواب ہوگا۔ اس کے باوجود بڑی بے غیرتی سے یہ دلیل بھی دی جاتی ہے کہ تیل کمپنیوں کو نقصان ہو رہا ہے، تاکہ کوئی سرکار کے فیصلہ پر سوال نہ کھڑا کر سکے۔ تو کیا سرکار نے تیل کمپنیوں کو ہوا نقصان پورا کرنے کے لیے پٹرول کی قیمت بڑھا دی؟
سوال صرف قیمت بڑھانے کے فیصلہ کا نہیں ہے۔ اگر مرکزی حکومت بدعنوانی سے لڑنے کے بارے میں سوچتی ہے تو سب سے پہلے اسے پٹرولیم وزارت کو درست کرنا ہوگا۔ ملک میں پٹرول، کیروسن اور ڈیزل کا کاروبار مافیا چلاتے ہیں۔ حکومت کو اس بات کا جواب دینا چاہیے کہ تیل کی چوری اور کالا بازاری کی وجہ سے ہر سال 70,000 کروڑ روپے کا نقصان ہوتا ہے، اسے ختم کرنے کے لیے اس نے کیا کیا ہے۔ یہ سوال اس لیے اٹھنا ضروری ہے، کیوں کہ کچھ دنوں پہلے مہاراشٹر میں تیل مافیا نے ایک ایڈیشنل ڈسٹرکٹ کلکٹر کو زندہ جلا دیا تھا۔ تیل کی سپلائی سے لے کر پٹرول پمپ کی تقسیم تک کی جو پوری کارروائی ہے، اس میں شفافیت لانے کے لیے حکومت نے کیا کیا ہے۔ کیا تیل مافیا اس لیے بے لگام ہیں، کیوں کہ انہیں لیڈروں کا تحفظ حاصل ہے۔ یا یوں کہیں کہ حکومت اس لیے خاموش ہے، کیوں کہ تیل کے کاروبار پر ملک کے سیاسی لیڈروں کا کنٹرول ہے۔ تیل کی قیمت بڑھانے سے پہلے حکومت کو اس سیکٹر میں موجود کالابازاری کو ختم کرنے کی پہل کرنی چاہیے۔
پٹرول اور ڈیزل کا مہنگائی سے گہرا رشتہ ہے۔ ان کی قیمت بڑھتے ہی ٹرانسپورٹیشن کاسٹ بڑھ جاتی ہے، جس سے ساری چیزیں مہنگی ہو جاتی ہیں۔ جب ملک میں پٹرولیم کی نجکاری ہوئی تو اس وقت ملک پہلے سے ہی مہنگائی کی مار جھیل رہا تھا۔ ایسے وقت میں نجکاری کرنا حکومت کی بے حسی کو ظاہر کرتا ہے، معاشیات کی ساری دلیلوں کو بھی جھٹلا دیتا ہے۔ جب سے خام تیل وعدہ کاروباریوں کی گرفت میں آیا، تب سے اس کی قیمت میں زلزلہ آگیا، اس کی قیمت میں کبھی استحکام نہیں آیا۔ یہ اپنے آپ میں ایک وجہ ہے کہ پٹرولیم کی نجکاری کو لاگو نہ کیا جائے۔ لیکن سرکار پر تیل کمپنیوں کا، خا ص کر پرائیویٹ کمپنیوں کا دباؤ تھا۔ سرکار نے نیا طریقہ نکالا، اس نے رنگ راجن کمیٹی بنا دی۔ اس کمیٹی سے سرکار کو امید تھی کہ یہ پٹرولیم کی قیمتوں اور ٹیکسوں کی نجکاری کا مشورہ دے گی، لیکن رنگ راجن کمیٹی نے نجکاری کی صلاح نہیں دی۔ سرکار نے دوسری کمیٹی بنا دی۔ اس دفعہ پلاننگ کمیشن کے سابق رکن کریٹ پاریکھ کو ایکسپرٹ گروپ کا چیئرمین بنایا گیا۔ اس بار نجکاری کا مشورہ دیا گیا۔ سرکار نے فوراً اس مشورہ کو مان لیا۔ سرکار کی طرف سے دلیل دی گئی کہ تیل کمپنیوں کو نقصان ہو رہا ہے، اس لیے پٹرول کی قیمت کو بین الاقوامی بازار سے جوڑنا ضروری ہو گیا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ سرکار نے ایسا کیوں کیا۔ سب سے سیدھا جواب یہی ہے کہ سرکار نے عوام کو راحت دینے کی بجائے پرائیویٹ تیل کمپنیوں کو فائدہ پہنچانا مناسب سمجھا۔ خاص کر ان پرائیویٹ تیل کمپنیوں کو، جنہیں پٹرولیم سیکٹر میں داخل ہونے اور اپنے پیر پسارنے کا ہر موقع دیا گیا۔ سرکاری کی کیا مجبوری ہے کہ تیل کمپنیوں کو فائدہ پہنچانا اس نے اپنا اولین فریضہ مان لیا ہے؟
ملک کی سرکار عالمی بینک کے اشارے پر کام کرنے سے کوئی گریز نہیں کرتی، لیکن اس کی خط افلاس کی تعریف کو نہیں مانتی۔ ورلڈ بینک کے مطابق، جس آدمی کی روزانہ آمدنی ایک ڈالر سے کم ہے، اسے خط افلاس کے نیچے مانا جائے۔ ایک ڈالر کا مطلب 42 روپے کے قریب کی آمدنی۔ اس تعریف کے مطابق ہندوستان کے 75 فیصد لوگ خط افلاس کے نیچے ہیں، جن کا زیادہ تر پیسہ زندہ رہنے کے لیے ضروری کھانے پر خرچ ہوتا ہے۔ ہندوستانی سرکار تو ماہرین اقتصادیات کی سرکار ہے۔ غریب عوام پر جب مہنگائی کی مار پڑتی ہے تو وہ کیا کرے، کیسے زندہ رہے؟ قیمت بڑھانے سے پہلے سرکار کو ہندوستان کے ان 75 فیصد لوگوں کی پریشانی نظر نہیں آئی۔ ہندوستان میں مہنگائی کی شرح 9.06 فیصد ہے، جو امریکہ کے مقابلے دو گنی ہے اور جرمنی سے چار گنی۔ اسی مہنگائی نے عام آدمی کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے، وہ صرف کسی طرح اپنی زندگی جینے کو مجبور ہے۔ ڈیزل اور کیروسن کی قیمت بڑھتے ہی ملک کے غریب عوام میں ہلچل مچ جاتی ہے۔ کیا سرکار کو پتہ نہیں ہے کہ ملک کے 75 فیصد لوگوں کا 80 فیصد خرچ صرف کھانے پینے پر ہوتا ہے۔ سرکار نے تیل کی قیمت بڑھا کر عوام کو مہنگائی کی مار جھیلنے کے لیے بے سہارا چھوڑ دیا ہے۔ سرکار اگر مہنگائی سے لڑنا چاہتی ہے تو ہر سرکاری محکمہ کو ایک مجموعی منصوبے پر کام کرنا ہوگا۔ سب سے پہلے بدعنوانی پر لگام کسنی ہوگی۔ تیل کی پیداوار اور تقسیم میں شفافیت لانے کی ضرورت ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ سرکار بدعنوانی، سیاست اور صنعت کے بھنور میں پھنس گئی ہے۔ اپنی غلطیوں کی وجہ سے وہ اس طرح پھنسی ہے ، جیسے کوئی مکڑی اپنی ہی جال میں پھنس جاتی ہے۔ وہ جتنا ہاتھ پیر چلاتی ہے، مشکل اتنی ہی بڑھ جاتی ہے۔
سرکاری پر ریلائنس کو فائدہ پہنچانے کا الزام
آج  کل سرکار بے چین ہے۔ ریلائنس انڈسٹریز کو فائدہ پہنچانے کا الزام لگ رہا ہے۔ الزام بے بنیاد نہیں ہے۔ الزام کی بنیاد سی اے جی رپورٹ ہے۔ ویسے یہ رپورٹ ابھی پارلیمنٹ کے سامنے پیش نہیں ہوئی ہے، اس کی خبر میڈیا میں لیک ہو گئی ہے۔ سرکار پر الزام یہ ہے کہ اس نے جان بوجھ کر ریلائنس کمپنی کو فائدہ پہنچایا ہے اور اس سے ملک کو بہت بڑا مالی خسارہ ہوا۔ یہ نقصان ٹو جی اسپیکٹرم گھوٹالہ سے بھی بڑا ہے۔ ریلائنس کمپنی پر سرکار نے دریادلی کا اظہار کچھ اس طرح کیا کہ کرشنا- گوداوری بیسن کے گیس کی قیمت طے کرنے کے لیے سکریٹریوں کا ایک گروپ بنا۔ پچھلے کابینہ سکریٹری کے ایم چندرشیکھر اس کے صدر بنائے گئے۔ آندھرا پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ وائی ایس راج شیکھر ریڈی کے تین خطوط کو بنیاد بنایا گیا تھا۔ ریڈی کا مشورہ تھا کہ سرکاری کمپنی این پی ٹی سی سے ریلائنس کو 2.97 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو گیس ملتی تھی۔ یہ قیمت عالمی مقابلہ آرائی کے ذریعہ طے کی گئی تھی، لہٰذا اسے ہی بازاری قیمت مانا جائے۔ اس گروپ نے یہ بھی کہا کہ گیس کی قیمت اگر ایک ڈالر بھی بڑھتی ہے تو کیمیاوی کھاد سیکٹر کا خرچ بڑھے گا، جس سے سرکا رپر کئی ہزار کروڑ روپے کی اضافی سبسڈی کا بوجھ آئے گا۔ لیکن وزراء کے گروپ نے ان ساری دلیلوں کو خارج کر کے گیس کی قیمت 4.2 ڈالر طے کی۔ اس طرح ریلائنس کو فائدہ پہنچایا گیا۔ سرکار کو کتنا نقصان ہوا، اس کا اندازہ لگانے میں سی اے جی نے ہاتھ کھڑے کر دیے ہیں۔ سی اے جی کا کہنا ہے کہ خسارے کی مقدار اتنی زیادہ ہوگی کہ اس کا حساب لگانا مشکل ہے۔ ظاہر ہے، پارلیمنٹ کے آئندہ اجلاس میں مواصلات کے ساتھ ساتھ پٹرولیم گھوٹالہ بھی ایک بڑا ایشو بنے گا۔ اگر یہ ایشو نہیں بنا تو آپ خود ہی سمجھ لیجئے کہ سرکار کے ساتھ ساتھ ملک کی دوسری سیاسی پارٹیوں کو کون چلا رہا ہے۔

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Latest posts by ڈاکٹر منیش کمار (see all)

Share Article

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *