کیا پنچایتی راج دیہی کشمیریوں کی پیاس بجھا پائے گا؟

شمشادہ جان
ستائس جون 2011کو جموں و کشمیر کے نوجوان وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کشمیر کے سرحدی اور پسماندہ ضلع کپواڑہ کا طوفانی دورہ کرتے ہوئے لنگیٹ، ہندوارہ اور وادیٔ لولاب میں منتخب پنچوں اورسرپنچوں کے جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کا ماننا تھا کہ کشمیری باشندے ووٹ ڈالنے نہیں آئیں گے، جس کو یہاں کے عوام نے غلط ثابت کرتے ہوئے ووٹوں کا ریکاڈ بنایا ہے۔ اب یہ کہا جا رہا ہے کہ ان پنچایتی سطح کے عوامی نمائندوں کو اختیارات نہیں دیے جائیں گے۔ ہم اسے بھی غلط ثابت کر کے رہیں گے اور انھیں پورے پورے اختیارات دیے جائیںگے تاکہ وہ عوام کی بہتر ترقی اور خوشحالی کے لیے کام کرسکیں ۔ انھوں نے اس موقع پر اعلیٰ افسران اور سرکاری انجینئروں کو خصوصی ہدایت بھی دی کہ وہ عوام کی بہتری اور ترقیاتی امور کے لیے عوامی نمائندوں کے ساتھ مل کر بہتر کام کریں، جو یقینا ایک اچھی خبر کہی جاسکتی ہے کہ وزیر اعلیٰ اتنی نیک نیتی کے ساتھ کشمیری عوام اور خاص کر دیہی عوام کی تعمیر و ترقی کی چابی انھیںکے ہاتھوں میں دینا چاہتے ہیں ۔مگر یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ وزیراعلیٰ اپنے مقصد میں کتنے کامیا ب ہوپاتے ہیں اور پنچایتی سطح کے نمائندوںنے اختیارات حاصل کرتے ہوئے عوام کی بھلائی کے لیے کتنے بہتر کام کیے ہیں ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ایک دہائی بعد ہونے والے اس پنچایتی انتخاب نے بہت کچھ مثبت اشارے دیے ہیں۔ انہی میں سے ایک طرف نوجوانوں اور خواتین کی کامیابی ہے تو دوسری طرف یہ بات بھی سرخیوں میں ہے کہ نور آباد میں نوکر مالک پر بھاری نظر آیا۔ مگر راہ بہت کٹھن ہے پنگھٹ کی، کے مترادف دیہی کشمیر میں بے شمار بنیادی مسائل ہیں جو اس پنچایتی سطح پر پنچایت کے نمائندوں،محکمہ دیہی ترقیات، سرکاری افسران اور خود وزیر اعلیٰ کے لیے بھی ایک چیلنج سے کم نہیں ہو گا۔ انہی میں سے ایک اہم مسئلہ کشمیر جیسی جنت نما وادی میں پینے کے پانی کی قلت ہے، جس کی ایک مثال یہ ہے کہ ضلع بارہ مولہ، تحصیل سوپور کا ایک مشہور گائوں تجر شریف ایک خوبصورت علاقے میں واقع ہے۔ یہ گائوں حضرت مخدوم صاحب کی زیارت گاہ ہونے کی وجہ سے بھی کافی مشہور ہے ۔تجر شریف میں ہر طرف خوبصورتی ہی خوبصورتی ہے لیکن اگر مسائل کی بات کریں تو یہاں سب سے بڑا مسئلہ پانی جیسی قدرت کی عظیم نعمت کا ہے۔ یہاں کے لوگ گرمی کے زمانہ میں پانی کے ایک ایک قطرہ کے لیے پریشان ہوجاتے ہیں۔ یہ بتانے کی چنداںضرورت نہیں کہ پانی تمام جانداروں کے لیے کتنا اہم ہے اور اشرف المخلوقات کے لیے تو قدم قدم پر پانی کی ضرورت پیش آتی ہے، خواہ وہ مذہبی معاملات ہوں یا روز مرہ کی زندگی کے مسائل، بغیر پانی کے حل ہو نا نا ممکن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تجر شریف کی پردہ نشین خواتین علی الصبح اپنی اور اپنے اہلِ خانہ کی ضروریاتِ زندگی پورا کرنے کے لیے نلوں پر جاکر قطار لگاتی ہیں ۔ ہر روز صبح سویرے یہ نظارہ دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے، ایسا محسوس ہوتا ہے گویا کرفیو کے زمانہ میں چند لمحوں کے لیے سرکاری راشن کی دکانیں کھل گئیں ہوں۔ لمبی قطاروں میں خواتین اور دوشیزائیں پانی کا برتن لیے اپنی اپنی باری کا شدت سے انتظار کرتی رہتی ہیں اور اسی کام میں ان کا سار ا دن نکل جاتا ہے کیونکہ اس کے علاوہ اور کوئی چارہ بھی تو نہیں ہے ۔کبھی کبھی تو حالات یہ ہوجاتے ہیں کہ خواتین آپس میں پانی کی کمی کی بنیاد پر جھگڑ پڑتی ہیں، جس کا خمیازہ بھی انہی خواتین کو اُٹھانا پڑتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ پورے دن میں پانی اس علاقے میں صرف صبح کے وقت ایک گھنٹہ ہی آتا ہے۔ کسی خوش نصیب کے برتن پانی سے لبریز ہوجاتے ہیں تو اس کے چہر ے پر اپنی کامیابی کی مسکراہٹ صاف محسوس کی جاسکتی ہے تو کوئی پانی جانے کے بعد خالی برتن کے ساتھ اپنے آپ کو ٹھگا ہوا محسوس کرتا ہے۔
چنانچہ محلہ شالہ پورہ کی سارہ بیگم کے مطابق ’’ہمارے یہاں پانی کی بہت قلت ہے جس کی وجہ سے ہمارے بچے اور خاص کر لڑکیوں کی تعلیم ادھوری رہ جاتی ہے۔‘‘ اسی محلہ کی ایک لڑکی نگینہ اختر سر پر پانی کا برتن رکھے ہوئے کہتی ہیں کہ ’’مجھے حصولِ تعلیم کا بے حد شوق تھا لیکن ہماری بد قسمتی ہی کہئے کہ ہر روز مجھے صبح سویرے اسکول جانے کی بجائے پانی لانے کے لیے نل تک جانا پڑتا ہے کیونکہ یہاں پورے دن میں صرف ایک ہی مرتبہ ایک گھنٹہ کے لیے پانی آتا ہے اور میرے گھر میں میرے علاوہ کوئی پانی نہیں لاسکتا، اس لیے شوق رکھتے ہوئے بھی میں تعلیم حاصل نہ کرسکی ،میں چاہتی ہوں کہ جو میرے ساتھ ہوا وہ ہم سے چھوٹوں کے ساتھ نہ ہو۔‘‘ ہاجرہ بیگم کے مطابق ’’ہمارے اس علاقے میں جب بھی کوئی رشتہ لے کر آتا ہے اور اسے پانی کی پریشانیوں کی حقیقت کا پتہ چلتا ہے تو لوگ اپنی بیٹیوں کی شادی ہمارے گائوں میں کرنے سے صاف منع کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم اپنی بیٹیوں کو جیتے جی ایسے جہنم میں نہیں ڈال سکتے جہاں پانی جیسی قدرت کی عظیم نعمت بھی نہ ہو۔‘‘
واضح ہو کہ تُجر شریف میں بہت سے کنویں ہیں مگر ان میں پانی صرف مارچ، اپریل کے مہینوں تک ہی ہوا کرتا ہے جس سے نہانے دھونے کا پانی مل جاتا ہے مگر جب گرمی تیز ہوتی ہے اور پانی کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے تو یہ کنویں بھی بے وفائی کردیتے ہیں، یہاں تک کہ ان کا پانی بالکل خشک ہوجاتا ہے۔ پانی کی پریشانی سے متعلق اس گائوں میں رہنے والی بی اے سال آخر کی ایک طالبہ محترمہ شریفہ کے مطابق ’’ہمارے گائوں میں پانی کی قلت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ گائوں کے لڑکے اور لڑکیاں دوسرے گائوں سے ریڑیوں پر پانی لاد کرلاتے ہیں جسے دیکھ کر دوسرے گائوں کے لوگ یا تو مذاق اُڑاتے ہیں یا پھر افسوس بھری نگاہوں سے دیکھتے ہیں کہ اتنے مشہور گائوں میں اتنی بڑی پریشانی۔ مگر جہاں ایک طرف پنچایتی انتخابات کے نتائج سے وزیر اعلیٰ پھولے نہیں سمارہے ہیں، وہیں تُجرشریف کی پیاسی جنتااس بات کی امید لگائے بیٹھی ہے کہ اب ان کی یہ پریشانی ضرور دور ہوجائے گی اور لوگ ان کے گائوں میں شادی کرنے سے اب انکار نہیں کریں گے۔ مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان کی ان تمام امیدوں پر وزیر اعلیٰ کے دعوے مثبت ثابت ہوں گے یا ان کی امید صرف امید ہی رہے گی۔  (چرخہ  فیچرس)

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *