اتر پردیش میں صحافیوں پر حملہ: سچ کہنے کی سزا

اجے کمار
مایاوتی حکومت اور اس کے نمائندوں نے ہر اس آواز کو کچل دینے کی قسم کھائی ہے،جو وزیر اعلیٰ مایاوتی یا ان کے ریاستی کام کے خلاف اٹھائی گئی ہو۔ مخالفین پر لاٹھی ڈنڈوں کی بوچھار اور تاجروں کو ٹارچر کرنے ، قانون کے محافظوں اور ٹیچروں کو دوڑا دوڑا کر پیٹنے والے مایا وتی کے مبینہ غنڈوں کا نشانہ اب کی بار میڈیا بنا۔  ڈپٹی سی ایم او ڈاکٹر سچان کے قتل کو موت ثابت کرنے میں لگی انتظامیہ کو جب یہ لگا کہ میڈیا کی وجہ سے سچ کا پردہ فاش ہو سکتا ہے تو پولس کے ذریعہ اس کی آواز دبانے کی مہم چلا دی گئی،لیکن صحافیوں کے اتحاد کے سامنے حکومت کوجھکنا پڑا۔ معاملہ الیکٹرانک میڈیا سے جڑے ایک صحافی کا تھا،جسے صرف اس لیے پولس کے  ظلم کا شکار ہونا پڑا، کیوں کہ وہ ڈاکٹر سچان قتل معاملے کی سچائی بیباک ہوکر دکھا رہا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ سی ایم او بی پی سنگھ کے قتل کے معاملے میں وزیر اعلیٰ ملزم ڈپٹی سی ایم او وائی ایس سچان کی گزشتہ 22 جون کو ضلع جیل اسپتال میں حیرت انگیز  صورت حال میں ہوئی موت کے بارے میں اس نیوز چینل کی رپورٹنگ، مبینہ  طور پر حکومت کے لیے ناقابل برداشت تھی۔حزب مخالف کے دبائو اور بھاری فضیحت کے بعد ریاستی سرکار کو جھکنا پڑا اور لکھنؤ میں اس نیوز چینل کے بیورو ہیڈ کے ساتھ مبینہ طریقے سے مارپیٹ کرنے کے الزام میں دو سینئر پولیس افسروں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔
یہ مقدمہ چینل آئی بی این 7 کے بیورو ہیڈ شلبھ منی ترپاٹھی نے راجدھانی لکھنؤ کے حضرت گنج تھانے میں اَپر پولس افسر بی پی اشوک اور علاقائی افسر انوپ کمار کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 323 (چوٹ پہنچانا)، 342 (غیر قانونی طریقے سے بندی بنانا)، 504 (جان بوجھ کر ذلیل کرنا)، 506 (ڈرانا دھمکانا) کے تحت درج کرایا۔ غور طلب ہے کہ پولس افسر بی پی اشوک اور انوپ کمار نے شلبھ منی کو گزشتہ 26 جون کو ان کے دفتر کے پاس سے مبینہ طور پر جبراً اٹھوا لیا تھا اور ان کے ساتھ بدسلوکی اور مار پیٹ کی تھی۔ پولس نے ترپاٹھی کے معاون منوج راجن کو بھی پکڑنے کی کوشش کی تھی۔ اس حادثے سے ناراض صحافیوں نے وزیر اعلیٰ مایا وتی کی رہائش  گاہ کے باہر مظاہرہ کیا تھا۔ بعد میں وزیر اعلیٰ کے سکریٹری نوین سہگل نے دونوں ملزم پولس افسروں کی معطلی کا اعلان کرتے ہوئے شلبھ منی سے ان افسروں کے خلاف معاملہ درج کرانے کے لیے کہا۔ سہگل نے صحافیوں کو بتایا کہ دونوں پولس افسران کے خلاف ترپاٹھی کی شکایت کی بنیاد پر چانچ کروائی جائے گی۔صحافیوں نے الزام لگایا کہ پولس کے کارکنان نے نہ صرف صحافیوں کے ساتھ دھکا مکی کی، بلکہ ان کے معاون کو پیٹا اور زبردستی انہیں تھانے لے گئے۔ ان کا الزام ہے کہ  پولس نے ترپاٹھی کوجھوٹے معاملے میں پھنسانے کی دھمکی بھی دی۔ حادثے کے خلاف راجدھانی کے صحافیوں نے جب وزیر اعلیٰ مایاوتی کی سرکاری رہائش گاہ کے  قریب مظاہرہ کیا تو بعد میں ترپاٹھی کو چھوڑ دیا گیا۔ صحافیوں کی توہین کے خلاف اترپردیش کے مختلف ضلعوں سے لے کر دہلی تک میں دھرنا مظاہرے کا دور شروع ہو گیا۔  29 جون کو لکھنؤ میں صحافیوں نے زوردار طریقے سے مظاہرہ کرکے مانگ کی کہ جس طرح کی کارروائی سرکاری کام میں رکاوٹ پہنچانے والوں کے ساتھ کی جاتی ہے، ویسی ہی کارروائی صحافیوں کے کام میں رکاوٹ پیدا کرنے والوں کے ساتھ بھی ہونی چاہیے۔صحافیوں نے اتر پردیش پریس کلب سے جی پی او سمیت گاندھی پرتیما تک ایک ریلی نکالی، جس میں بڑی تعداد میں صحافیوں نے حصہ لیا۔ ان میں خاص طور سے رام دت ترپاٹھی، شرت پردھان،لوکیش مشرا، اجے کمار، سنیل دوبے، حسیب صدیقی، مودت ماتھر، انوپ شریواستو اور سنجے سکسینہ وغیرہ موجود تھے۔ صحافیوں نے ضلع انتظامیہ کے واسطہ سے وزیر اعلیٰ کو ایک میمورنڈم بھیجا۔اس کے ساتھ ہی صحافیوں کے نمائندہ بورڈ نے گورنر بی این جوشی سے بھی مل کر انہیں اپنے مسائل  سے آگاہ کیا۔
ادھر گلڈ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ آئی بی این 7 کے دو صحافیوں شلبھ منی ترپاٹھی اور منوج راجن کو مبینہ طور پر اس لیے پولس کی بدسلوکی جھیلنی پڑی، کیوںکہ انہوں نے لکھنؤ جیل کے اسپتال میں سینئر معاون اسپتال افسر وائی ایس سچان کے قتل کے پیچھے کی سازش کا خلاصہ کرنے میں مدد کی تھی۔
گلڈ کے صدر ٹی این نینن اور سکریٹری کمار کپور نے اپنے بیان میں کہا کہ مشہور صحافی لکھنؤ پولس کی طرف سے ان کے خلاف درج جھوٹے معاملوں سے اس لیے بچ گئے، کیوں کہ ان میں سے ایک صحافی پولس حراست سے بھاگنے میں کامیاب رہا اور شہر کے پورے میڈیا گروپ نے غلط گرفتاری کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ اس کے ساتھ ہی گلڈ نے مایاوتی حکومت کے ذریعہ قصوروار پولس افسران کو معطل کرنے کے قدم کا استقبال کیا۔ یہ پولس کارکنان ان دونوں صحافیوں کو گرفتار کرنے اور دھمکی دینے کے لیے ذمہ دار تھے۔ گلڈ نے اس بات پر افسوس کا اظیار کیا کہ ریاست میں میڈیا کی توہین کرنا بہت عام بات ہوگئی ہے۔ ایڈیٹرس گلڈ آف انڈیا نے وزیر اعلیٰ مایاوتی کو خط لکھ کر ان کی انتظامیہ کی طرف سے صحافیوں کے خلا ف بڑھ رہی دھمکیاں، خوف اور ظلم کے معاملوں پر اپنی ناراضگی جتائی ہے۔ نیوز چینل  آئی بی این 7 کے دو مشہور صحافیوں کے ساتھ مبینہ طریقے سے ہوئی بد سلوکی کے معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے گلڈ نے مایاوتی سے تمام ضروری قدم اٹھانے کے لیے کہا ہے، تاکہ صوبے میں میڈیا آزادی کے ساتھ اپنا کام کر سکے۔
اس سلسلے میں لکھنؤ سکریٹریٹ انیکسی میں واقع میڈیا سینٹر میں اتر پردیش سے منظور شدہ نامہ نگاروں کی کمیٹی کی ایک ایمرجنسی میٹنگ بلائی گئی۔ کمیٹی کے صدر حسام الاسلام صدیقی نے صحافی شلبھ منی ترپاٹھی اور منوج رنجن کے ساتھ پولس افسروں کے ذریعہ کی گئی بدسلوکی کو افسوس ناک قرار دیا۔ میٹنگ میں صحافیوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کی مانگ سرکار سے کی گئی۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ اگر صحافیوں کے ساتھ کوئی پولس افسر یا اہل کار آئندہ ایسی حرکت کرے تو اس کے خلاف فوراً سخت قانونی کارروائی کی جائے۔ میٹنگ میں کمیٹی کے نائب صدر مودت ماتھر، سکریٹری ڈاکٹر یوگیش مشرا، سابق صدر رام دت ترپاٹھی، پرمود گوسوامی اور اترپردیش پریس کلب کے سابق صدر شو شنکر گوسوامی وغیرہ موجود تھے۔
چاروں طرف مذمت
صوبہ میں صحافیوں پر حملے کی چاروں طرف مذمت ہو رہی ہے۔ متعدد سماجی اور مزدور تنظیموں اور اپوزیشن پارٹیوں نے میڈیا کے کارکنوں پر پولس کے حملے کو بدنما داغ بتایا۔ بی جے پی کے صوبائی صدر سوریہ پرتاپ شاہی نے کہا کہ میڈیاکے کارکنوں پر حملے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ صوبہ میں اب کوئی بھی شخص محفوظ نہیں ہے۔ صوبائی کانگریس کی صدر ریتا بہوگنا جوشی نے اس واقعہ کو افسوس ناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ واردات میں ملوث لوگوں کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہیے۔ سماجوادی پارٹی – لوک دل نے بھی اسے سنگین واقعہ قرار دیتے ہوئے مایاوتی سرکار سے صوبہ کے صحافیوں کی حفاظت کا پورا دھیان رکھنے کی مانگ کی، تاکہ وہ اپنا کام بے خوف و خطر کر سکیں۔ سماجوادی پارٹی کی اترپریش اکائی کے صدر اکھلیش یادو نے دو پولس افسروں کے ذریعہ صحافیوں کے ساتھ مبینہ مار پیٹ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے افسروں کو معطل نہیں، بلکہ برخاست کیا جانا چاہیے۔ یادو نے کہا کہ مستقبل میں صوبہ کے اندر سماجوادی پارٹی کی سرکار بننے پر ایسے افسروں کی جانچ کرائی جائے گی اور انہیں سلاخوں کے پیچھے بھیجا جائے گا۔ انہوں نے ریاست میں قانون و انتظامیہ کی حالت خراب ہونے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ وہ گورنر بی ایل جوشی کو خط لکھ کر مایاوتی سرکار کو برخاست کرنے کی مانگ کریں گے۔ اترپردیش کانگریس کے ترجمان اور جنرل سکریٹری سبودھ شریواستو نے جمہوریت کے چوتھے ستون پر خاکی کے حملے کو برسر اقتدار پارٹی کا تانا شاہی رویہ بتاتے ہوئے کہا کہ سرکار کی مرضی کے بغیر کوئی بھی افسر میڈیا سے لڑنے کی کوشش نہیں کرے گا۔ جو کچھ بھی ہو رہا ہے، اس کے لیے پولس سے زیادہ مایاوتی سرکار ذمہ دار ہے۔

پولس کا اصلی چہرہ
اتر پردیش پولس لاٹھی چارج اور گولی کے بل پر سب کا منہ بند کرنے میں مہارت رکھتی ہے۔ گنہگاروں کے لیے تارن ہار اور بے گناہوں کے لیے بھسما سُر کی طرح کام کرنے والی صوبائی پولس اپنے کارناموں سے اکثر چرچا میں رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے خلاف قومی حقوق انسانی کمیشن کو سب سے زیادہ شکایتیں ملی ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، سال 2010-11 میں کمیشن کو اتر پردیش پولس کے خلاف 8,768 شکایتیں ملیں۔ ان میں حراست میں موت، ٹارچر، ظلم، فرضی مڈبھیڑ اور قانونی کارروائی کرنے میں ناکامی جیسے معاملے سب سے زیادہ ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *