پاکستان میں صحافت

سہیل انجم

نظر چرا کے چلو
جسم و جاں بچا کے چلو

صحافت یوں تو متاع حیات کو ہتھیلی پر لے کر چلنے کا نام ہے ۔ لیکن اگر حالات سازگار نہ ہوں اوراس متاع حیات کے قدم قدم پر لٹنے کے خطرات موجود ہوں تو ان حالات میں صحافت کا چراغ جلائے رکھنا کوہکن کے جوئے شیر نکالنے سے بھی کہیں زیادہ خطرناک اور مشکل ہے۔ لیکن آفریں ہے پاکستان کے ان صحافیوں کو جو کوچہ قاتل میں بھی شاہانہ انداز میں نقد جاں لے کرچلنے اور اپنے خون سے شمع مقتل کی لوکو تیز کرنے میں یقین رکھتے ہیں۔ پاکستان جس قسم کی اندرونی وبیرونی سازشوں کا شکار ہے اور جس نوعیت کی جنگوں میں ملوث ہے وہ نہ تو کسی تعمیری کاز کے لیے سازگار ہیں اور نہ ہی صحافتی فرائض کی ادائیگی کے لیے معاون۔ لیکن اس کے باوجود صحافیوں کا طبقہ اپنے فرائض منصبی کی انجام دہی میں تن من دھن سے مصروف ہے۔ پاکستان کے ایک دیدہ ور، باخبر، انصاف پرور اور سینئر صحافی سید سلیم شہزاد کے وحشیانہ قتل نے صحافیوں کے لیے حالات کو مزید سخت کر دیا ہے اور صحافیوں کی عالمی تنظیموں کا یہ اندیشہ بجا طور پر درست ثابت ہو رہا ہے کہ سرزمینِ مملکتِ خداد صحافیوں کے لیے روئے زمین پر سب سے زیادہ خطرناک اور غیر محفوظ خطہ ہے۔ وہاں کے حالات چیخ چیخ کر صحافیوں سے کہہ رہے ہیں کہ نظر بچا کے چلو ، جسم وجاں چرا کے چلو۔
رواں سال میں اب تک چار صحافیوں کا وحشیانہ انداز میں قتل ہو چکا ہے اور ابھی کتنے ہٹ لسٹ میں ہیں کہا نہیں جا سکتا۔ پاکستان میں برسرکار صحافیوں کے لیے یہ کہنا کہ وہ تلوار کی دھار پر چل رہے ہیں غلط نہ ہوگا۔ سچ یہ ہے کہ وہ تو ہمیشہ سے ہی تلوار کی دھار پر چلتے رہے ہیں۔ اب تو وہ شعلہ بداماں ، پا بہ جولاں اور صلیب بردار ہو کر اس خارزارِ رزم گاہ کی بادیہ پیمائی کر رہے ہیں۔ سید سلیم شہزاد واحد صحافی نہیں ہیں جنہوں نے حق گوئی کے عوض نذرانہ جاں پیش کیا ہے۔ ایسے صحافیوں کی ایک طویل فہرست ہے۔ اور سچ بات یہ ہے کہ یہی وہ حقیقی صحافی ہیں جن کے دم قدم سے دنیائے صحافت میں رونق ہے اور سچائی کا نام زندہ ہے۔ جن ملکوں میں جنگیں چھڑی ہوں وہاں رہ کر رپورٹنگ کرنا زیادہ خطرناک ہوتا ہے بہ نسبت ان ملکوں کے جو حالت امن میں ہوں۔ پاکستان یوں تو حالت امن میں ہے اور وہاں کوئی جنگ نہیں چل رہی ہے۔ لیکن اس کے باوجود وہاں کی صحافت دوسرے ملکوں کے مقابلے میں زیادہ خراج مانگتی ہے اور حق گوئی کی زیادہ قیمت وصول کرتی ہے۔ پاکستان میں2002سے اب تک 41صحافی اپنے فرائض کی ادائیگی کے دوران اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔ اور اگر اب تک کی ہلاکتوں کا جائزہ لیں تو صحافیوں کی بین الاقوامی تنظیم ’’انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس‘‘ کے مطابق پاکستان میں اب تک 94صحافیوں کا قتل کیا جا چکا ہے۔ سید سلیم شہزاد سے قبل پشاور میں ایک قبائلی صحافی نصر اللہ آفریدی کی کار میں دھماکہ ہوا تھا اور وہ زندہ جل کر ہلاک ہو گئے تھے۔ اس سے قبل وادی سوات میں جیو ٹی وی کے نامہ نگار موسیٰ خان کا بہیمانہ قتل ہوا تھا۔ یہ سلسلہ دراز ہے جو ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ لیکن یہ بھی سچائی ہے کہ پاکستان واحد ملک نہیں ہے جہاںصحافیوں کو اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنا پڑتا ہے۔آج پوری دنیا میں آواز حق بلند کرنے والوں کو اس کی بھرپور قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے۔ان کی آواز دبانے کے لیے صرف دہشت گرد اور انتہا پسند تنظیمیں ہی سرگرم نہیں ہیں بلکہ بعض حکومتوں کی جانب سے بھی صحافیوں پر یہ ظلم روا رکھا جا تا ہے۔طاقتور حکومتیں ان کی آواز کو دبانے کی بھی کوشش کرتی ہیں اور خریدنے کی بھی۔وہ اس کے لیے منھ مانگی قیمت اور دنیا جہان کی آسائشیں دینے کو تیار رہتی ہیں۔
بہر حال سلیم شہزاد ایک غیر ملکی ویب اخبار ایشیا ٹائم آن لائن کے اسلام آباد میں بیورو چیف تھے۔ 27مئی کے شمارے میں انہوں نے کراچی میں پاکستانی بحریہ کے اڈے پر ہوئے دہشت گردانہ حملے سے متعلق ایک اسٹوری شائع کی تھی اور اعلان کیا تھا کہ اس کی دوسری قسط جلد ہی آئے گی۔ لیکن اس کی نوبت نہیں آئی اور 29مئی کو وہ اچانک لاپتہ ہو گئے۔ انہیں ایک ٹی وی شو میں جانا تھا۔ وہ اپنے آفس سے اس کے لیے نکلے تھے لیکن وہاں نہیں پہنچ سکے اور پھر یہ خبر آئی کہ وہ لاپتہ ہو گئے ہیں۔ 30مئی کو پنجاب ضلع کے منڈی بہاؤ الدین میں ایک نہر کے کنارے جھاڑیوں میں ان کی لاش پائی گئی۔ لاش پر تشدد کے نشانات تھے اور ایسا لگ رہا تھا کہ انہیں کافی اذیتیں دی گئی ہیں۔ بعد میں پوسٹ مارٹم سے جو درست پایا گیا۔
چالیس سالہ شہزاد ایک انوسٹی گیٹیو جرنلسٹ تھے۔ ان کی تحقیقاتی رپورٹیں بہت معلوماتی ہوتی تھیں اور ان رپورٹوں سے بہت سے لوگوں کو پریشانی بھی تھی۔ لیکن وہ نہ تو کبھی کسی سے دبے اور نہ ہی کسی سے کوئی سودے بازی کی۔ پاکستان کے معروف کالم نگار عرفان صدیقی کے مطابق ’’سلیم کی باخبری اس کا اصل جرم تھا۔ وہ بہت سے چہروں کے پیچھے چھپے چہروں کو پہچانتا تھا۔ اسے بہت سی مقدس عباؤں اور قباؤں کے تانے بانے کا علم تھا۔ وہ ایسی ایسی کہانیاں لکھنے لگا تھا جو بڑے بڑے ایوانوں میں بھونچال لا رہی تھیں۔ وہ ہولے ہولے ایسی مقدس منطقوں میں داخل ہو رہا تھا جہاںآدمی ایک پھونک مارنے سے پتھربن جاتا ہے۔ وہ اپنی زندگی کا چراغ ہتھیلی پر دھرے تیز ہواؤں کے سامنے آ کھڑا ہوا تھا۔ اسے خبر تھی کہ اس دیس میں ایسی گستاخیوں کی سزا کتنی کڑی ہوتی ہے۔ میں جا نتا ہوں کہ اس کے اندر ہمہ وقت خطرے کی گھنٹیاں سی بجتی رہتی تھیں۔ کئی قریبی دوستوں کو اس نے بتا بھی رکھا تھا کہ اسے اپنے چار سو کسی طرح کی آہٹیں سنائی دیتی ہیں لیکن پسپائی اور شکست اس کے شیوہ ہنر میں حرام تھی‘‘۔ اس سے قبل 2006میں بھی سلیم شہزاد کا اغوا کیا گیا تھا۔ افغانستان کے طالبان نے اغوا کیا تھا اور بعد میں انہیں رہا کر دیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس کے بعد طالبان اور القاعدہ میں ان کے بہت سے ایسے با رسوخ ذرائع بن گئے تھے جو انتہائی معلوماتی خبریں فراہم کرتے تھے اور ان لوگوں سے ان کو ایسی اطلاعات ملتی رہتی تھیں جو عام طور پر دوسرے صحافیوں کو نہیں مل پاتی تھیں۔ انہوں نے جو آخری اسٹوری شائع کی تھی اس میں انکشاف کیا تھا کہ بحریہ کے متعدد افسران کے دہشت گردوں سے گہرے رشتے ہیں۔ پچھلے دنوں حکومت نے بحریہ میں موجود ایسے افسران کے خلاف کارروائی کی تھی او ر بہت سے لوگوں کو گرفتار کیا تھا۔ سلیم شہزاد کی رپورٹ کے مطابق بحریہ کے حکام نے گرفتار اہلکاروں سے پوچھ تاچھ کی تھی اور یہ پتہ لگانے کی کوشش کی تھی کہ ان کا تعلق القاعدہ یا دوسرے دہشت گرد گروپوں سے ہے یا نہیں اور یہ کہ ابھی کتنے لوگ اور ہیں جو دہشت گرد تنظیموں کے لیے کام کرتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی لکھا تھا کہ القاعدہ کے ذمہ داروں نے حکام سے رابطہ قائم کرکے یہ مطالبہ کیا تھا کہ گرفتار اہلکاروں کو رہا کر دیا جائے لیکن حکام نے اسے تسلیم نہیں کیا اور کہا کہ جب جانچ مکمل ہو جائے گی تو انہیں رہا کر دیا جائے گا اور ان کی ملازمت بھی ختم کر دی جائے گی۔ سلیم کی رپورٹ کا کہنا ہے کہ یہ شرط القاعدہ کو تسلیم نہیں تھی اسی لیے اس نے بحریہ کے ٹھکانے پر حملہ کیا جو کہ ایک انتقامی کارروائی تھی۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مہران بیس میں القاعدہ کے جو لوگ ہیں اور جو اس سے گہرا ربطہ رکھتے ہیں انہوں نے اندر کے نقشے فراہم کیے تھے۔ آمد ورفت کے دروازوں اور دوسرے مقامات کی تصویریں لی تھیں اور یہ تصویریں دن میں اور رات میں دونوں اوقات میں لی گئی تھیں او رانہیں القاعدہ کے حوالے کر دیا گیا تھا۔ اسی کی روشنی میں القاعدہ نے حملہ کیا تھا جس میں متعدد لوگ مارے گئے تھے اور تمام حملہ آور بھی ختم ہو گئے تھے۔ لیکن سلیم شہزاد کے قتل کی جانچ کے سلسلے میں حکومت کا جو رویہ ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کو اس سے کوئی خاص دلچسپی نہیں ہے۔
اس وقت دنیا کے نقشے پر پاکستان ایک ایسا ملک بن گیا ہے جس کی نہ کوئی سمت ہے نہ رفتار ۔ ایک بھیڑ چال ہے جو جاری ہے۔ اسلام کے نام پر قائم ہونے والا یہ ملک کیا واقعی اسلامی اصولوں پر گامزن ہے؟ یہ سوال پاکستان کے ذی شعور عوام بھی مسلسل پوچھتے رہتے ہیں۔ ابھی گذشتہ دنوں بعض دہشت گرد تنظیموں نے کہا تھا کہ وہ ملک کے ایٹمی ہتھیاروں کو کوئی نقصان نہیں پہنچائیں گے کیونکہ وہ اسلام کا اثاثہ ہیں۔ اس پر پاکستان کے کچھ صحافیوں نے شدید رد عمل کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایٹمی ہتھیار اسلام کا اثاثہ نہیں بلکہ پاکستان کا اثاثہ ہیں۔ پاکستان کے بانی قائد اعظم محمد علی جناح نے پاکستان کے لیے ایک سیکولر ملک کا خواب دیکھا تھا لیکن انتہا پسند گروپوں نے اسے ایک ایسے ملک میں تبدیل کر دیا ہے جو نہ تو سیکولر ہے اور نہ ہی اسلامی ۔ پاکستان میں اس وقت جو صحافی برسرکار ہیں ان میں تین طبقات پیدا ہو گئے ہیں۔ ایک طبقہ ان صحافیوں اور کالم نگاروں کا ہے جو انتہا پسند تنظیموں اور بزعم خویش اسلام کے ٹھیکیداروں کے خلاف ہے اور دوسرا طبقہ ایسے لوگوں پر مشتمل ہے جو ان تنظیموں کے پے رول پر ہیں ۔ لیکن بہر حال ایسے صحافیوں کی تعداد کم ہے اور اول الذکر قسم کے صحافیوں کی تعداد زیادہ ہے۔ایک طبقہ ایسے صحافیوں کا بھی ہے جس سے نہ تو اسلام پسند خوش ہیں اور نہ ہی سیکولر طبقات ۔ انتہا پسند طبقات بھی انہیں اپنا دشمن سمجھتے ہیں اور وہ لوگ بھی ان کے مخالف ہیں جو پاکستان کو ایک پر امن اور ترقی کی جانب گامزن ملک کی حیثیت سے دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ ایک المیہ ہے اور پاکستان جب تک اس المیے کے حصار سے باہر نہیں آتا وہاں صحافت اسی طرح خراج وصول کرتی رہے گی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *