یہ مذہبی سیکولرازم نہیں ہے

میگھناد دیسائی
ہندوستانی تاریخ میں ترکی کا اہم کردا رہا ہے۔ تقسیم ہند کے مرکز میں بھی اس کا نام اور اس کے بعد ہندوستان کے ذریعہ سیکولرازم اختیار کیے جانے کے پیچھے بھی وجہ ترکی ہی تھا۔ پہلی عالمی جنگ کے وقت جب عثمانیہ سلطان کی شکست ہوئی، تب اسے اپنے عہدۂ خلیفہ پر بھی خطرے کے بادل منڈراتے نظر آئے۔ اس وقت ایسی افواہیں تھیں کی یروشلم کے مفتی کو نیا خلیفہ مقرر کیا جائے گا۔ گاندھی جی نے اس موقع کو پہچانا اور انگریزوں کے خلاف ایک ایسی جدوجہد کا آغاز کیا، جس میں ہندو اور مسلمان متحد ہوکر آ گے آئے۔ 1857کی جدوجہد کے بعد خلافت تحریک ہی پہلی ایسی تحریک تھی، جو اتنی زیادہ کامیاب ہوئی تھی۔ یہ تحریک ہندوستان کے گوشہ گوشہ میں پھیلی۔
گاندھی جی نے چوری چورا کے واقعہ کے بعد تحریک ملتوی کر دی۔ اس سے مسلمان تو مایوس ہوئے ہی، کانگریس کو بھی نقصان ہوا۔ اس کے بعد انگریزوں کے خلاف پھر اتنی بڑی اور متحدہ (ہندو مسلم) تحریک کھڑی نہیں ہو سکی۔ کانگریس نے جناح کے اس مطالبہ کو مسترد کر دیا، جس میں انھوں نے کہا تھا کہ موتی لعل نہرو رپورٹ میں مسلمانوں کے اختیارات کی گارنٹی کی بات ہو۔ اپنے مطالبات نامنظور ہونے کے سبب جناح ناخوش ہو کر لندن چلے گئے اور وہاں جا کر انھوں نے 6سالوں تک وکالت کی۔جب وہ واپس آئے، تب تک اقلیتوں کے اختیارات کا ان کا مطالبہ ایک الگ قوم میں تبدیل ہو چکا تھا۔ کانگریس مسلمانوں کا اعتماد کھو چکی تھی۔ 1946میں کانگریس ایک بھی مسلم ووٹ نہیں جیت پائی۔ آگے سب نے ملک کی تقسیم بھی دیکھی۔
لیکن ماضی میں جائیں تو دیکھتے ہیں کہ 1923میں جب ترکی میں کمال عطا ترک آئے تو انھوں نے خلیفہ کا عہدہ ہی ختم کر دیا۔ انھوں نے ترکی کو ایک جدید اور سیکولرقوم بنانے پر زور دیا۔ سیکولرازم سے ان کا مقصد اقلیتوں کے اعتماد کے دفاع کی ضمانت یا تمام مذاہب کے ساتھ یکساں برتائو سے نہیں تھا۔ ان کا سیکولرازم اصل میں انسان پرستی تھا۔ وہ سیاسی زندگی سے مذہب کو پوری طرح سے ہٹانا چاہتے تھے۔ وہ سوچتے تھے کہ مذہب نے ہی ترکی کو پسماندہ کیاہے۔ یہاں جدیدکاری کا مطلب مذہب کو خارج کر نا رہ گیا۔ ترکی میں فوج کو آئین اور سیکولرازم کی حفاظت کی ذمہ داری دی گئی ۔
اب 90سال بعد ترکی میں ایک مذہبی رجحان والی پارٹی اے کے پی(جسٹس اینڈڈیولپمنٹ پارٹی)2002سے مسلسل تین انتخاب جیت چکی ہے اور اپنی حکومت چلا رہی ہے۔ اے کے پی نے سیکولر پارٹیوں کو دو تہائی اکثریت سے شکست دی۔ اے کے پی ایک اسلامی پارٹی ہے، لیکن وہ اسلامسٹ نہیں ہے۔ اپنے پہلے دور اقتدار میں یہ پارٹی تب تنازعات میں آئی، جب اس نے خواتین کو سر پر نقاب پہننے کی بات کہی، لیکن بعد میں اے کے پی نے انفراسٹرکچر کے شعبہ میں بھاری سرمایہ کاری کرکے خود کو ایک جدید خیالات و نظریات والی پارٹی کی شکل میں قائم کیا۔اے کے پی نے یہ دکھایا ہے کہ سیکولر نہ ہوتے ہوئے بھی ملک کی ترقی اور جدیدکاری کے لیے کام کیا جا سکتا ہے۔ ترکی میں سیکولرازم کی جڑیں اتنی گہری ہیں کہ اب اس پر بحث ومباحثہ کے لیے کوئی جگہ ہی نہیں بچی ہے۔ اب یہاں صرف ایک ہی چیلنج ہے، ترقی اور جدیدکاری کرنے کا۔ ہندوستان میں اے کے پی کی طرح کوئی غیر سیکولر پارٹی نہیں ہے۔ اے کے پی نے کبھی عہدۂ خلیفہ کو پھر سے قائم کرنے کی کوشش نہیں کی۔ بی جے پی کے پاس کچھ پرانے ایشوز اور پرانے خواب ہیں، جنہیں وہ پھر سے قائم کرنا چاہتی ہے ۔ دوسری جانب آر ایس ایس ہے، جسے بیسویں صدی میں بھی خود کو ایڈجسٹ کر پانا مشکل لگ رہا ہے۔سیکولرازم ہندوستان کا ایک نعرہ بن گیا ہے۔ ایک ایسی قدامت پسند طاقت، جس کے سہارے کانگریس مسلم مفادات کو نظر انداز کرتی ہے۔ نہرو اور سبھاش چندر بوس عطا ترک کی طرح ضرور سیکولر تھے۔ یہ دونوں مذہب کے کسی بھی خاکہ کے خلاف تھے۔ اب سیکولرازم کا مفہوم مذہبیت کا انتہائی مظاہرہ ہو گیاہے، جیسے عام اجلاسوں میں چراغ روشن کرنا، افطار پارٹی دینا، سوامیوں، بابائوں کی آئوبھگت اور لیڈران کے ذریعہ شرڈی ستیہ سائیں آشرم اور اجمیر شریف کی درگاہ پر جانا۔
بداعتقادی ، فرسودہ رسم و رواج کی تنقید اور جدیدکاری کو ترجیح دینے والی باتیں نہرو کے بعد ہی ختم ہو گئیں۔ اب تو سیاسی گلیاروں میں دستی لکیروں کے ماہرین  اور جیوتشوں کو آسانی سے گھومتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ یہاں تک کہ اب تو کیبنٹ میں پھیر بدل بھی سیاروں کی چال کے موزوں نہ ہونے کی وجہ سے ملتوی کر دی جاتی ہے۔ نئے منتخب کیے گئے وزراء اپنے جیوتشی سے حلف برداری کے لیے مناسب وقت کے بارے میں صلاح لیتے ہیں۔ شاید کسی دن ہندوستان میں ایک ایسی پارٹی ہوگی، جو مذہب کے ان متنازعہ ایشوز کو جھٹلانے کی جرأت دکھائے گی۔ سیکولرازم نے کانگریس کومزید مذہب کے قریب لا دیا ہے۔ آج کانگریس کو آزاد پارٹی یا عوامی سوشلسٹ پارٹی کی طرح مزید جدید ہونے کی ضرورت ہے۔ ان پارٹیوں کے لیے کبھی بھی فرقہ پرستی، سیکولرازم ایک سوال نہیں رہا ۔ یہ باتیں ان کے لیے غیر منطقی تھیں۔ وہ ہندوستان کے تمام لوگوں کو ہندوستانی کی طرح دیکھتی تھی، نہ کہ ہندو یا مسلمان کی طرح۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *