میں بھی حاضر تھا وہاں

اتر پردیش میں اردو اور مسلمانوں کی تعلیم موضوع پرسیمینار کا انعقاد
میرٹھ:  شعبۂ اردو چو دھری چرن سنگھ یو نیورسٹی ،میرٹھ میں’’ اردو اور مسلمانوں کی تعلیم ‘‘کے موضوع پرسیمینار کا انعقاد کیا گیا۔سیمینار کے خصوصی مقرر سالم انصاری(ممبر آف پارلیمنٹ را جیہ سبھا) اوربی ایس پی مسلم سماج بھا ئی چارہ کمیٹی اتر پردیش کے صدر تھے جب کہ صدارت شعبۂ اردو کے صدر ڈا کٹر اسلم جمشید پوری نے کی۔ مہمانان ذی وقار کے طور پر محمد ایوب انصا ری سا بق مئیر ،میرٹھ اورقا ری شفیق الرحمن قاسمی موجودتھے اور نظا مت کے فرا ئض ڈا کٹر ظفر گلزار نے انجام دیے۔ پرو گرام کا آ غاز مولا نا عمر فاروق نے تلاوتِ کلام پاک سے کیا، بعد ازاں سعید سہارنپوری نے اپنی مترنم آواز میں حفیظ میرٹھی کی غزل پیش کی۔اس کے بعد بعنوان’’اتر پردیش میں اردو اور مسلمانوں کی تعلیم ‘‘ پر اظہار خیال کرتے ہو ئے خصوصی مقرر سالم انصا ری نے کہا کہ اب مسلم سماج بیدار ہو رہا ہے اور اپنا حق حاصل کر نا چا ہتا ہے ۔ مسلم سماج کو اس کا حق دلانے کے لیے حکومت بھی پو ری ایمانداری سے کام کررہی ہے۔یہ الگ بات ہے کہ مسلم سماج کو سر کاری اسکیموں کی بر وقت جانکا ری نہیں ہو پاتی ۔ وقت کا تقا ضا ہے کہ مسلم سماج کو اس طرف بھی اپنی توجہ مرکوز کرنا پڑے گی۔ آ فاق احمد خاں نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہو ئے کہا کہ مسلم سماج کے چھو ٹے چھوٹے بچے چائے کی دکا نوں ، کارخانوں میں کام کررہے ہیں جب کہ یہ عمر ان کے پڑھنے لکھنے کی ہے۔
مہمان ذی وقار قا ری شفیق الرحمن قاسمی نے کہا کہ جب تک مسلم سماج کو اپنے پیرو ںپر کھڑا ہو نے کا مو قع نہیں دیا جائے گا تب تک اس سماج کے بچے دکا نوں اور کا ر خانوں میںکام کرتے رہیں گے۔اس لیے حکومت کو بطور ہمدردی اس جانب متوجہ ہو نا چا ہیے تا کہ مسلم سماج بھی ملک کی ترقی میں مکمل طور پر حصہ لے سکیں۔ پرو گرام کی صدارت کرتے ہو ئے ڈا کٹر اسلم جمشید پو ری نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ مسلم سماج کے ہر خاندان کے ہر فرد کو اعلیٰ تعلیم حا صل کر نی ہو گی یعنی خا ندان کے افراد میں کوئی ڈا کٹر ہو، کوئی انجینئر ہو،کوئی وکیل ہو، کوئی صحافی ہو، کوئی استاد ہو اور کو ئی منیجر ہو تبھی مسلم سماج کی بھرپور ترقی ممکن ہے۔ اس مو قع پر ڈا کٹر شاداب علیم، ڈا کٹر محمد راشد انصا ری، نعیم انصا ری، ذیشان خان، را شد چو دھری، عمران چو ہان، حاجی محمد سبیل(کوآرڈینیٹر میرٹھ، سہارنپور اور آگرہ زون بی ایس پی مسلم سماج)، حا جی مشتاق سیفی، جمال احمد صدیقی، ڈاکٹر ارشاد انصا ری،محمد سلیم سیفی، قیصر عباس، شاہد سیفی، زا ہد سیفی، سراج انصاری، پرویز عا لم(کو آرڈینیٹر بی ایس پی مسلم سماج ،میرٹھ) عمائدین شہر اور طلبا و طالبات نے شر کت کی۔
محمد علی جوہرتقسیم ایوارڈ کا جلسہ بنگلورمیں بھی کیاجائے : گورنر کرناٹک
نئی دہلی : گزشتہ دنوں مولانا محمدعلی جوہر اکیڈمی کے جنرل سکریٹری ایم سلیم نے گورنرکرناٹک جناب ہنس راج بھاردواج سے بنگلورمیں ایک ملاقات کی اور جوہر اکیڈمی کے زیر اہتمام تقسیم ایوارڈ کی 22 سالہ تقریبات پرمشتمل ایک یادگاری مجلہ گورنر صاحب کو پیش کیا،گورنرموصوف جب مرکز میں وزیر قانون تھے تو اس وقت انہیں2004 میں محمد علی جوہرایوارڈ برائے سیاست دیاگیاتھا۔گورنر صاحب نے یادگاری مجلے کو دیکھ کر خوشی کا اظہارکرتے ہوئے مولانا محمد علی جوہر کی وطن دوستی اورقربانیوں کاذکرکرتے ہوئے فرمایا کہ مولانامحمد علی جوہر جیسے لوگوں کی قربانیوں کی بدولت آج ہم آزادی کی سانس لے رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ میں جوہر اکیڈمی کے اراکین کودلی مبارکبادپیش کرتاہوں جو مولاناکی یادکوقائم رکھتے ہوئے 22سال سے ان کی یاد میں تقسیم ایوارڈ کی تقریبات منعقد کررہے ہیں۔ گورنر صاحب نے کہا کہ میری خواہش ہے کہ مولاناکی یادمیں تقسیم ایوارڈ تقریب بنگلورمیں ہو۔ انہوںنے یہ بھی کہا کہ یہ تقریب گورنر ہائوس، راج بھون، بنگلورمیں ہو۔ گورنر موصوف سے ملاقات کرنے والوں میں جناب اوم پرکاش ورما اور بنگلورکے ایک چارٹرڈاکائونٹینٹ نثاراحمد بھی تھے جنہوںنے گورنر صاحب کا شکریہ اداکرتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے ایوارڈ تقریب بنگلورمیں ضرورکریں گے۔
زندگی کو بامقصد بنائیے،تعلیم کو گھر گھر پہنچائیے : شاہنواز علی
نئی دہلی: اردو اکادمی کی جانب سے چلائے جانے والے 208خواندگی مراکز کا افتتاح گزشتہ26 جون کو عمل میں آیا۔ اس تقریب کے مہمانِ خصوصی تھے شہنواز علی،ایگزیکٹو ڈائرکٹر، کنٹیسز کارپوریشن آف انڈیا، حکومت ِ ہند جو کہ ہندوستان کی  سب سے بڑی منافع کمانے والی کارپوریشن ہے ۔اُس کے سربراہ  شہنواز علی نے بتایا کہ میرا تعلق فصیل بند شہرسے ہے، میں نے مدرسہ کریمیہ میں ابتدائی تعلیم حاصل کی، ثانوی تعلیم اینگلوعربک اسکول میں مکمل کی،اس کے بعد دلّی کالج اور دہلی یونیورسٹی سے ا علیٰ تعلیم حاصل کرکے میں سول سروسیز کے امتحان میں بیٹھا اور اردو کو بطور خصوصی مضمون منتخب کیااور پہلی ہی باربغیرکسی کوچنگ کے امتحان میں کامیاب ہوا۔یہ سب کچھ اس لیے ممکن ہو سکا،کیونکہ یہی میری زندگی کا مقصد تھااور میںاس مقصد میں سنجیدہ تھا۔اگر میں یہ کام کرسکتا ہوں تو آپ اور آپ کے بچے کیوں نہیں کرسکتے؟ پروگرام کے آغاز میں پروفیسر اخترالواسع، وائس چیئرمین اردو اکادمی نے مہمانوں کا خیر مقدم کرتے ہوئے رسول اللہ کا وہ قول یاد دلایا—’’علم حاصل کرو ماں کی گود سے قبر تک‘‘۔انھوں نے مزید کہا کہ دہلی کی وہ اُردو آبادی والے علاقے جہاں باقاعدہ اسکول نہیں ہیںیا پھر اسکول تک رسائی نہیں ہے وہاں اردو اکادمی ناخواندگی کے اندھیرے کو دور کرنے کے لیے 1988سے آج تک خواندگی مراکز کے ذریعے تعلیم کو گھر گھر پہنچا رہی ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ اب تک دہلی کے ان پسماندہ علاقوں میں ایک لاکھ سے زائد لوگوں کو اس اسکیم سے جوڑا جاچکا ہے جسے یقینا اردو اکادمی،دہلی کا اہم ترین کارنامہ تسلیم کرنا چاہیے ،اور یہ کام نہ تو ہندوستان کی کوئی اکادمی کرتی ہے اور نہ ہی دہلی میں کوئی اردو ادارہ۔
اس موقع پر دلّی سرکار کے جوائنٹ سکریٹری سنجیوپانڈے نے انسٹرکٹر زسے خطاب کرتے ہوئے فرمایاکہ تعلیم کو دوسروں تک پہنچانا کسی عبادت سے کم نہیں ہے۔پھر مہمانِ ذی وقار آغا خان فائونڈیشن کے پروجیکٹ ڈائریکٹر رتیش نندہ نے کہا کہ میں دہلی اردو اکادمی کے کاموں سے خوش تو تھا ہی لیکن آج اس قدر متاثر ہواہوںکہ لفظ میرا ساتھ نہیں دیں گے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ہماری فائونڈیشن بھی اس اہم کام میں اکادمی کے ساتھ شریک ہونا چاہے گی۔
اکادمی کے سکریٹری انیس اعظمی نے تمام مہمانوں کی خوبیوں اور اُن کی بیش بہا خدمات کا تعارف کراتے ہوئے بتایا کہ رواں سال کے 208خواندگی مراکز کا آج افتتاح کیا جارہا ہے جس میں تمام انسٹرکٹر زکو کاپیاں کتابیں اور دوسری تمام اشیاء تقسیم کی جائیں گی۔ انھوں نے مزید کہا کہ اس سال 208مراکز پر 4,460 لرنرزکو داخلہ دیا گیا ہے اور ہمارے انسٹرکٹرز اس کام کو مشن کے طور پر بہت دیانتداری سے سر انجام دیتے ہیں۔اس موقع پر صدر جلسہ اکادمی کی تعلیمی کمیٹی کے چیئرمین ڈاکٹر جی آر کنول نے اپنے صدارتی خطبے میں ایک اچھے استاد کی تمام تر خوبیوں پر تفصیل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مجھے پورا یقین ہے کہ اکادمی آپ لوگوں کی وجہ سے اپنے مشن میں اور کامیاب ہوگی۔ اس موقع پر شکیل احمد گلوکار نے اپنی مترنم آواز میں خوبصورت غزلیں سناکر سب کو متاثر کیا۔ آخر میں تمام 208انسٹرکٹرز کو کتابیں ، کاپیاں،بلیک بورڈ،پینسل ،ربڑ بھی تقسیم کیے گئے ۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *