مخالف حالات سے کیسے نمٹیں انا

ڈاکٹر سنیلم
انا نے مضبوط لوک پال بل پیش نہ کیے جانے کی صورت میں 16 اگست سے غیر معینہ بھوک ہڑتا ل کا اعلان کیا ہے۔،حکومت نے بھوک ہڑتال نہ کرنے دینے کا من بنا رکھا ہے۔ بابا رام دیو کے ساتھ سرکاری اعدا دو شمار کے مطابق 20 ہزار سے زیادہ تحریک  میں شامل لوگوں کو لاٹھی کے دم پر کھدیڑ کر سرکارنے صاف کر دیا ہے کہ اسے انا اور ان کے حمایتیوں کو کھدیڑنے میں کوئی وقت نہیں لگے گا۔انا اور انا کے حمایتیوں کی سرکار سے نمٹنے کی کیا تیاری ہے یہ پورا ملک انا سے جاننا چاہتا ہے۔ اب تک انہوں نے صرف حمایتیوں سے سڑکوں پر نکل کر حمایت کرنے کی اپیل کی ہے لیکن سبھی جانتے ہیں کہ پورے ملک میں بڑی سے بڑی تعداد میں بد عنوانی سے پاک ہندوستان کا خواب لے کر 16 اگست کو سڑک پر نکلنے سیتحریک کامیاب ہونے والی نہیں ہے۔
مبصرین کا ماننا ہے کہ انا کی کامیابی راجدھانی اور این سی آر سیملنے والی حمایت پر منحصر ہوگی۔اگر دہلی اور دہلی کے اطراف کے علاقوں سے لاکھوں کی تعداد میں عام لوگ 16 اگست کو راجدھانی کے لیے نکل پڑیں تو جلدی نتیجے نکلنے کی امید کی جا سکتی ہے ۔ لیکن یہ ماننے والوں کی کمی نہیں ہے کہ سرکار دہلی کی سرحدوں کو سیل کر کے انا کے حمایتیوں کو جنتر منتر پر آنے سے روک سکتی ہے۔ اگر سرکار جنتر منتر پر دفعہ 144 لگا دے، نیز راج گھاٹ جیسا کوئی متبادل نہ دے، تب انا کیا کریں گے؟ اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ سرکار امن بگڑنے کے شبہ کی آڑ میں انا کے دہلی داخلے پر پابندی بھی لگا سکتی ہے۔ ایسی صورت میں انا دہلی کے باہر اگر کسی دوسری جگہ پر بھوک ہڑتال شروع کرتے ہیں تب اس کا اثر سرکار پر کیا پڑے گا ،اس کا اندازہ ابھی کرنا جلد بازی ہوگی۔کم سے کم رام دیو بابا کی ہریدوار کی بھوک ہڑتا ل تو یہی بتاتی ہے کہ دہلی سے ہٹتے ہی تحریک کی طاقت کمزور دکھا ئی دینے لگی ہے۔
یہ تو طے ہے کہ تحریک ملک کے کونے کونے میں چلے گی۔انا اور ان کے حمایتیوں کی تیاری پہلے سے زیادہ ہے، لہٰذا کہا جا سکتا ہے کہ تحریک زیادہ منظم اور مضبوط طریقے سے ہوگی۔لیکن ابھی تک انا نے تحریک چلانے کے لیے کسی بھی تنظیم کا اعلان نہیں کیا ہے۔وہ اسے ایک مہم کے طور پر چلانا چاہتے ہیں،جس میں ملک کا ہر فرد حصہ دار بنے لیکن یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ جے پی اور وی پی نے جب تحریکیں چلائی تھیں تب ان کے پاس پارٹیوں کا تعاون تھا، اس کے باوجود بد عنوانی کو روک پانے کے تعلق سے، ملک کا عام آدمی دونوں کو ناکام مانتا ہے۔ایسے حالات میں انا بغیر تنظیم کے کیا کچھ کر پائیں گے یہ سوچنے والی  بات ہے۔
سرکارتحریک چلانے والوں کے صبر کا امتحان لیتی ہے۔ تحریک کو ناکام کرنے کے لیے جہاں طاقت  کا سہارا لیتی ہے وہیں تحریک کو تقسیم کرنے کی سیاست بھی سرکار کی رہتی ہے۔سرکار اگر انا کے ساتھ دونوں پالیسی اپناکر ناکام ہو جاتی ہے تو اس کی کوشش ہوگی کہ اپنے آدمیوں کے ذریعے تحریک چلانے والوں میں دراندازی  کرا کر تشدد پھیلائے۔اگر انا ہزارے کی بھوک ہڑتال لمبی کھنچتی ہے تو ملک کے نوجوانوں کو اورعام آدمیوں کو یہ لگنے لگتا ہے کہ انا کی جان  خطرے میں ہے۔تب پوری تحریک جذبات سے جڑ جائے گی۔ان حالات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حکومت ملک میں کچھ جگہوں پر تشدد پھیلانے کی سازش کرسکتی ہے، جس کی آڑ میں اسے  دبانے  کا موقع بھی ملے گا نیز انا کو بھی کہا جا سکے گا کہ چوری چورا کی تحریک سے تشدد پھیلنے کے بعد اگر گاندھی جی اپنی تحریک واپس لے سکتے ہیں تو انا کو بھی ملک کے فائدے میں اپنی تحریک واپس لے لینی چاہیے۔ یہ صورت حال انا اور تحریک کے لیے مشکل ہوگی۔پارلیمنٹ کا اجلاس شروع ہونے اور بل پیش کیے جانے کے بعد سرکار سب سے پہلے تو یہ ثابت کرنے کی کوشش کرے گی کہ مضبوط لوک پال بل لایا گیا ہے ، سرکار کے ہر قدم کو جائز بتانے والے دانشور این ای سی کے ذریعے اپنی تکڑم شروع کر چکے ہیں۔ اخبارات میں ان دانشوروں کے مضامین بھی مسلسل شائع ہورہے ہیں۔سرکار کی حکمت عملی یہ بتانے کی ہوگی کہ انا کے ساتھ سول سوسائٹی نہیں ہے۔سونیا ٹیم کے ذریعہ حکومت یہ بتائے گی کہ شہری سماج بٹا ہوا ہے۔ حکومت کی پالیسی میڈیا اور دراندازی کرنے والوں کے ذریعے انا اور رام دیو کو آمنے سامنے کھڑا کرنے کی رہی ہے۔ درمیان میں ایک دوسرے کے خلاف تلخ بیان دے کر دونوں کبھی کبھار حکومت کی سازش میںپھنستے دکھائی دیے ہیں۔لیکن بد عنوانی مٹانے کی خواہش رکھنے والاعام شہری چاہتا ہے کہ دونوں ایک دوسرے کا ساتھ دیں۔ جب انا  نے بھوک ہڑتال کی تب بہت سارے لوگوں نے کہا کہ رام دیو بابا کو ختم کرنے کے لیے یہ سرکاری کوشش ہے لیکن جب بابا رام دیو کو چار وزیر لینے پہنچ گئے تب لوگوں کو لگا کہ جن لوک پال بل کی کمیٹی بنا کر حکومت گھر چکی ہے۔ اس وجہ سے اس کی کوشش بابا کو ساتھ لینے کی ہے۔ لیکن بابا کے اسٹیج پر رتمبھرا  –  آر ایس ایس کے آنے سے بابا کی مقبولیت ایک دم سکڑ گئی۔ البتہ پولس کارروائی نے بابا کو پھر حوصلہ دے دیا ۔ اگر رام دیو بابا اور ان کے حامیوں نے اصل ستیہ گرہ کے انداز میں مقابلہ کیا ہوتا تو بازی پلٹ سکتی تھی۔ پھر حکومت کے ذریعے ہری دوار پہنچائے جانے کے بعد بابا کے اسپتال پہنچنے پر جلد بازی میں بھوک ہڑتال ختم کردینے سے بابا کی شبیہ پر ضرور اثر پڑا ہے۔سرکار کی پالیسی لوک پال بل ڈرافٹنگ کمیٹی کے ممبروں کو بد نام کرنے کی تھی لیکن انا کی ٹیم اس سے بچ کر بے داغ نکل گئی۔ اب حکومت کی پوری کوشش بابا کو بدنام کرنے کی ہے۔ ہمیں امید کرنی چاہیے کہ وہ اس سازش سے نمٹنے اور اس سے ابھرنے میں کامیاب ہوں گے۔انا اور با با دونوں اگر طے کر لیں کہ وہ ایک دوسرے کا پوری طرح  سے ساتھ دیں گے نیز کسی بھی بہکاوے کے باوجود ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی نہیں کریں گے تب دونوں مل کر ایک بڑی طاقت کھڑی کر کے سرکار سے مقابلہ کر سکتے ہیں۔
یہ جگ ظاہر ہے کہ دونوں تحریکیں شخصیتوں کے ارد گرد تھیں۔ لیکن جلدی ہی دونوں کی ٹیمیں میڈیا نے بنا دیں۔ اگر یہ دونوں ٹیمیں ایک ساتھ کام کرنا شروع کر دیں اور پورے ملک میں عوامی تحریک کی قیادت سے  مل کر اجتماعی قیادت ملک کے سامنے پیش کریں تب 16 اگست سے چلنے والی تحریک میں نئی قوت دکھائی دے گی، سوال یہ ہے کہ 16 اگست کی تحریک کو اگر سرکار کچلنے کا من بناتی ہے تو ملک میں کیا حالات بنیں گے؟کسی بھی پولس کارروائی سے انا کی تحریک کو طاقت ملنا طے ہے کیوں کہ اب تک انا کے ساتھ آنکھ مچولی کھیل رہی تمام پارٹیاں پولس کارروائی کے خلاف بولنے کے لیے ٹھیک اسی طرح مجبور ہوں گی جس طرح سے کہ رام دیو بابا پر پولس کارروائی کے بعد ہوئی تھیں۔ یہاں تک کہ چوں چرا کے ساتھ بر سر اقتدار پارٹی کے کچھ لیڈروں کو پولس کارروائی کی مذمت کرنے کے لیے مجبور ہونا پڑا تھا۔
پورے ملک میں تحریک میں شامل لوگوں کی ضمانت میں زیادہ ترسیکولر خیال رکھنے والے لوگ شامل ہیں، ادھر ایک کے بعد ایک جس طرح کانگریس سرکار کے وزیروں کے وکٹ گر رہے ہیں اس سے دھیرے دھیرے پورا ماحول کانگریس، یوپی اے کے خلاف ہوتا چلا جا رہا ہے۔ بد عنوانی سے پاک ہندوستان کا خواب دیکھنے والوں کے لیے فی الوقت مدعا بدعنوان کانگریس سے محفوظ مرکزی سرکار ہوسکتا ہے۔یہ کسی سے چھپا نہیں ہے کہ سیکولر لوگوں کے قدم فرقہ وارانہ طاقتوں کے پاس  اقتدار جانے کے تصور سے  اپنے آپ رک جاتے ہیں۔ملک میں اگر بدعنوانی اور کالا دھن کو لے کر تحریک زور پکڑتی ہے تو اگلے عام انتخاب وقت سے پہلے کرانے کی صورت حال ملک میں بن سکتی ہے ۔ ایسے حالات میں بد عنوان سرکار ہٹانا انتخاب کا سب سے اہم مدعا ہو سکتا ہے۔
تحریک کا اب تک جو رخ اختیار کرتے رہے ہیں اس سے صاف ہے کہ فی الحال وہ انتخاب کے چکر میں نہیں ہیں ۔ ان کی دلچسپی اقتدار کی تبدیلی میں نہیں ہے۔ اس معنی میں اب تک یہ تحریک جے پی تحریک سے الگ ہے۔حالانکہ شروعاتی دور میں جے پی تحریک کا مقصد اقتدار میں تبدیلی کا نہیں تھا ، لیکن اندرا گاندھی کے ذریعہ ایمرجنسی تھوپے جانے کے بعد تحریک کا رخ یوں بدلا کہ کرانتی کا خواب دیکھ رہے جے پی کوبھی اقتدارمیں تبدیلی کی بات کھل کر کہنی پڑی اور اسے جنتا پارٹی کی تشکیل میں تاریخی کردار ادا کرنا پڑا۔
جب بات اقتدار میں تبدیلی کی ہونے لگتی ہے تب عام آدمی کو لگتا ہے کہ کون سی پارٹی دودھ کی دھلی ہے،جو اقتدار سنبھالے۔دو جماعتوں میں تقریباً سیاست سمٹ چکی ہے۔ پہلی کانگریس – یو پی اے، دوسری بھارتیہ جنتا پارٹی – این ڈی اے، جس کے تعلق سے تحریک کاروں کی جھجک کسی سے چھپی نہیں ہے۔کانگریس بد عنوانی کے خلاف تحریک کو کمزور کرنے کے لیے پھر سے فرقہ وارانہ کارڈ کھیلنے کی پالیسی بنائے  ہوئے ہے ،اس لیے سرکار دونوں ہی تحریکوں کے پیچھے آر ایس ایس کا ہاتھ بتا رہی ہے۔ تحریک چلانے والے اگر اس چکر میں نہیں پھنسیں گے تو وہ مضبوطی کے ساتھ سرکار کا مقابلہ کرنے اور کم سے کم اقتدار کو بدلنے میں ضرور کامیاب ہوں گے۔ جہاں تک بد عنوانی کوختم کرنے کا سوال ہے تو پورا ملک یہ مانتا ہے کہ صرف جن لوک پال بل بد عنوانی کو ختم کرنے میں کامیاب نہیں ہوگا۔ لیکن جن لوک پال بل کو نافذ کرنے والی سرکار اگر  ِِِِپختہ عزم رکھتی ہے تو بدعنوانی پر ایک حد تک لگام کسنے میں کامیاب ہو سکتی ہے۔ جس طرح جہیز کی رسم ـصرف قانون سے نہیں روکی جا سکی اوردرج فہرست ذات /قبائل، پر مظالم صرف قانون سے نہیں روکے جا سکے اسی طرح صرف قانون سے بد عنوانی ختم نہیں کی جاسکتی۔انا رام دیو اور ان کے کارکنان کو سماجی سطح پر بدعنوانوں پر دبائو بنانے اور ان کا سماجی بائیکاٹ کرنے کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا پڑے گا ۔ یعنی انا اور ان کے ساتھیوں کو صرف جن لوک پال بل تک محدود رہنے کے بجائے سماج سے بدعنوانی کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے نئی کوشش کرنی ہوگی۔ ویسے انا کے بارے میں یہ مانا جاتا ہے کہ وہ اپنے فیصلے خود کرتے ہیں اوراجتماعی فیصلے پر بھروسہ نہیں کرتے۔ ایسے حالات میں انا کون سا منصوبہ لے کر 16 اگست کی تحریک میں اترتے ہیں اس کے تعلق سے ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا ہے۔ لوک پال بل کو ترجیحی بنیاد پر اولیت دینے کی ہوا بناتے بناتے سرکار لینڈ ایکوائرمنٹ بل اور کان بل  جیسے دیگر اہم بلوں کو بہت آسانی سے پاس کرانے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے، یہ بھی کسی سے چھپا نہیں ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ مسٹر کلین کے نام سے جانے جانے والے راجیو گاندھی کے بیٹے بد عنوانی پر خاموشی اختیار کرکے لینڈ ایکوائرمنٹ بل پاس کرا کر سیاسی فائدے حاصل کرنے کی تکڑم میں لگے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔اچھا ہوا کہ تحریک چلانے والوں نے پورے حالات کو بھانپ کر 3,4,5 اگست کو لینڈ ایکوائرمنٹ بل کو لے کر پارلیمنٹ میں تحریک چلانے کا من بنایاہے۔ اگر یہ نہیں ہوتا تو کچھ لوگ کہتے کہ تحریک چلانے والے سرکار کی سازش کو نہیں سمجھ سکے اور لوک پال بل میں ہی الجھے رہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *