پاکستان کی بقا کے لئے دہشت گردوں پر لگام کسنا ضروری

راجیو رنجن تیواری
پہلے القاعدہ سربراہ اسامہ بن لا دن ، پھر اس کے ایک اہم ممبر الیاس کشمیری کا مارا جانااوراب پاکستان میں یکے بعد دیگرے ہو رہے بم دھماکے نے سب کو سکتے میں ڈال دیا ہے۔ پتہ نہیں پاکستان کو اب بھی اس بات کا احساس ہے یا نہیں کہ اس نے جو برسوں پہلے ہند مخالف دہشت گردی کی فصل بوئی تھی، اب وہی پھل پھول رہی ہے۔ وہاں کے سیاست دانوں کو کم سے کم اب تو سمجھ ہی جانا چاہیے، تاکہ پاکستان کا مستقبل بہتر ہو سکے۔ ویسے موجودہ حالات کو دیکھ کر یہ نہیں لگتا کہ وہاں کے حالات اتنی جلدی بدلنے والے ہیں، کیوں کہ خون خرابے کی جڑیں پاکستان میں گہری ہیں۔
گزشتہ دنوں پاکستان کے پشاور شہر میں ہوئے دو دھماکوں میں کم سے کم 34 لوگوں کی موت ہوئی اور 100 سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے۔ یہ دھماکے ایسے علاقے میں ہوئے جہاں کئی سیاسی پارٹیوں کے دفتر اور فوج سے جڑے لوگوں کے مکان ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ یہ دھماکے ریموٹ سے کیے گئے۔ خاص بات یہ ہے کہ دھماکے تب ہوئے جب افغانستان کے صدر حامد کرزئی اسلام آباد آئے ہوئے تھے۔ غور طلب ہے کہ گزشتہ مہینے پاکستان میں القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی امریکی کارروائی میں موت ہوگئی اور اس کے بعد جنوبی وزیرستان میں ہوئے امریکی ڈرون حملے میں ممبئی بلاسٹ میں مبینہ طور پر شامل اور القاعدہ کے قریبی الیاس کشمیری کی موت ہو گئی تھی۔ تب سے پاکستان میں شدت پسندانہ حملوں میں تیزی آگئی ہے۔ عالمی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پہلے لادن اور بعد میں الیاس کشمیری کے مارے جانے سے شدت پسند بوکھلا گئے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ 11 جون کی دیر رات پشاور میں ہوئے دھماکے الیاس کا رد عمل ہیں۔اگر وقت رہتے پاکستان کی حکومت کے ذریعہ ان شدت پسندوں پر سخت کارروائی نہیں کی گئی تو شاید  یہ حملے اور تیز ہو سکتے ہیں۔ ادھر کچھ دنوں سے پاکستان میں دھماکوں کی رفتار بڑھ گئی ہے۔ ابھی کچھ ہی دن پہلے شمال مغربی وزیرستان میں 100 سے زیادہ طالبانی شدت پسندوں نے ایک حفاظتی چوکی پر حملہ کیا تھا۔ اس میں 12 طالبانی جنگجو اور آٹھ فوجی مارے گئے تھے۔ ایسا پہلی مرتبہ ہوا تھا جب طالبان جنگجوئوں نے اتنی طاقت کا استعمال کیا تھا۔اس کے علاوہ 8 جون کو پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میںبغیر پائلٹ والے طیارے سے امریکی  حملے میں 15 لوگ مارے گئے۔ امریکی ڈرون حملوں نے شدت پسندوں کے ایک ٹھکانے کو نشانہ بنایا۔ اس سے شدت پسندوں کا ٹھکانہ پوری طرح تباہ و برباد ہوگیا۔ غور طلب ہے کہ قبائلی علاقوں خاص طور پر وزیرستان میں امریکی ڈرون حملوں میں بھی اچانک تیزی دیکھنے کو ملی۔ پچھلے قریب ایک ہفتے میں یہ پانچواں حملہ تھا۔ اس سے پہلے جنوبی وزیرستان میں ہوئے ڈرون حملوں میں ممبئی حملوںمیں شامل اور القاعدہ کا قریبی الیاس کشمیری مارا گیا تھا۔ سال 2009  کے آخر میں بھی الیاس کشمیری کے مارے جانے کی خبر آئی تھی، لیکن وہ جھوٹی ثابت ہوئی۔ الیاس کشمیری کو پچھلے مہینے پاکستان کے کراچی شہر میں مہران فوجی اڈے پر ہوئے حملے کا بھی ماسٹر مائنڈ بتایا گیا تھا۔ امریکہ نے اس کا پتہ بتانے والے کو 50 لاکھ ڈالر انعام دینے کا اعلان کیا تھا۔اتنے دوردراز علاقے میں الیاس کشمیری کا مارا جانا امریکی ایجنسیوں کے موثر ہونے کا ثبوت ہے۔شدت پسند تنظیم حرکت الجہاداسلامی ہندوستان، پاکستان اور افغانستان میں ہوئے کئی حملوں کی ذمہ دار ہے۔ اس میں 2006 میں کراچی میں امریکی سفارت خانے پر ہوا حملہ بھی شامل ہے۔ کہا جاتا ہے کہ الیاس کشمیری کے اس تنظیم سے بھی تعلقات تھے۔
ادھر 2 جون کو افغانستان سے آئے شدت پسندوں نے ایک مڈبھیڑ میں تقریبا 23 حفاظتی دستے کے جوانوں کو مار گرایا۔ شدت پسند ایک دن پہلے شمال مغربی پاکستانی کے اپر دیر علاقے میں داخل ہوئے تھے اور ایک حفاظتی چوکی پر حملہ کیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ اس میں کچھ عام شہریوں کی بھی موت ہوئی ہے۔ اس حادثے کے بارے میں بتایا گیا تھا کہ افغانستان کی سرحد عبور کرکے دو سو سے زیادہ شدت پسند پاکستان میں داخل ہوئے تھے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ شدت پسندوں کی گولی باری میں پانچ عام شہری مارے گئے، ان میں دو عورتیں بھی شامل ہیں۔ دو مہینے پہلے اسی علاقے میں ایک پرتشدد حملے میں کم سے کم 13 جوان مارے گئے تھے۔ یہ وہی قبائلی علاقہ ہے جہاں پاکستانی فوج نے دو سال پہلے القاعدہ اور طالبان کے شدت پسندوں کے خلاف سخت کارروائی کی تھی۔  جون میں طالبان نے پاکستان کوالٹی میٹم دیا تھا کہ وہ اسامہ کی موت کا بدلہ لے کر رہے گا۔ یہ انتباہ پاکستان کے سینئر طالبان لیڈر مولوی فقیر محمد نے دیا تھا۔ ویسے پچھلے کافی وقت سے یہ مانا جا رہا تھا کہ فقیر نے خفیہ طریقے سے حکومت کے ساتھ سمجھوتہ کر لیا ہے۔ اس لیے وہ خاموش ہے، لیکن اس کے اچانک اس الٹی میٹم نے سب کے ہوش اڑا دیے تھے۔اس سے پہلے طالبان کے ترجمان سجاد محمد نے کہا تھا کہ اسامہ بن لادن کی موت کا بدلہ لینے کے لیے اس نے کارروائی شروع کر دی ہے۔
اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ پاکستان میں آج جو حملے ہو رہے ہیں وہ دہشت گردوں و شدت پسندوں کا منظم منصوبہ ہے۔ اس بارے میں حکومت کو بھی وقت سے پہلے الٹی میٹم کی شکل میں پتہ چل گیا تھا۔ اس کے باوجود پاکستان میں حفاظتی انتظامات کو مضبوط کرنے کی کوشش نہیں کی گئی، ورنہ گزشتہ دنوں ہوئے بم دھماکے کو ناکام کیا جاسکتا تھا۔
پاکستانی حکومت اور ریاستی انتظامیہ کو سمجھنا ہوگا کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا اور نہ ہی کوئی دوست اور دشمن ہوتا ہے۔ ابھی بھی بہت کچھ نہیں بگڑا ہے۔ اگر پاکستان اپنی سلامتی چاہتا ہے تو اسے دہشت گردوں کا مضبوط توڑ کرنا ہوگا، ورنہ پاکستان کو تباہ ہونے سے بچانا مشکل ہی نہیں ناممکن ہوجائے گا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *