بی جے پی میں بہت دم ہے ۔۔۔۔

ڈاکٹر منیش کمار
بھارتیہ جنتا پارٹی اب ’پارٹی وِد ڈیفرنس‘ کی بجائے ’پارٹی اِن ڈائلیما‘ بن گئی ہے۔ دوسری پارٹیوں سے الگ ہونے کا دَم بھرنے والی پارٹی اب کشمکش میں مبتلا ہو چکی ہے۔ وہ سنگین گروہ بندی کی چپیٹ میں ہے، جس کی وجہ سے پارٹی کارکن عام جنتا سے دور ہوتے جارہے ہیں اور پارٹی کے لیڈروں اور کارکنوں میں دوریاں بڑھ گئی ہیں۔ پارٹی کی اندرونی کھینچا تانی کا حال یہ ہے کہ حزب اختلاف کی لیڈر کا کوئی بیان آتا ہے تو پارٹی کے دوسرے لیڈر ناراض ہو جاتے ہیں۔ حزب اختلاف کی لیڈر اور پارٹی صدر کے درمیان مہینوں بات چیت ہی نہیں ہوتی۔ صدر سب کی رائے سننے کے چکّر میں کوئی فیصلہ نہیں کر پاتے۔ کوئی صوبائی صدر کچھ بیان دے دیتا ہے تو پوری پارٹی اس کے پیچھے لگ جاتی ہے۔ کوئی نوجوان لیڈر کوئی تحریک چلانا چاہتا ہے تو اسے بڑے لیڈر ہائی جیک کر لیتے ہیں۔ ہر لیڈر دوسرے لیڈر کو ٹھکانے لگانے میں مصروف ہے۔ جس سے حساب چکانا ہے، اسے پہلے ذمہ داری دے دی جاتی ہے، پھر پیچھے سے اسے ناکام کرنے کی سازش رچی جاتی ہے۔ ملک کے اہم حزب اختلاف کا حال ایسا ہے کہ اس کے کارکن پارٹی دفتر میں بیٹھ کر پارٹی کو ہی کوستے رہتے ہیں۔
بھارتیہ جنتا پارٹی کی مدھیہ پردیش اکائی کے صدر پربھات جھا نے ایک خط لکھا۔ صحیح لکھا۔ یہ خط صدر پرتبھا پاٹل کے نام تھا۔ اس خط میں پربھات جھا نے مہنگائی کو موت کے برابر بتاتے ہوئے اپنی خواہش سے موت کی مانگ کی تھی۔ انہوں نے لکھا کہ مسلسل بڑھتی مہنگائی میں زندہ رہنا مشکل ہو گیا ہے، لہٰذا انہیں اپنی خواہش سے مرنے کی اجازت دی جائے، کیوں کہ اب ان کے سارے راستے بند ہو چکے ہیں اور مخالفت کا یہی طریقہ بچتا ہے۔ پربھات جھا نے دلیل دی کہ کانگریس کے اتحاد والی سرکار نے 100 دنوں میں مہنگائی کم کرنے کا بھروسہ دلایا تھا، مگر اقتدار حاصل کرنے کے سات سال بعد بھی مہنگائی پر قابو نہیں پایا جاسکا، بلکہ مہنگائی موت کا متبادل بن چکی ہے۔ ملک کے 115 کروڑ لوگ مہنگائی کی مار جھیل رہے ہیں۔ اتنا ہی نہیں، ان کے لیے یہ مہنگائی مسئلہ بن چکی ہے اور اس سے چھٹکارہ پانے کے لیے وہ اپنی خواہش سے مرنا چاہتے ہیں۔ پربھات جھا نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے علاوہ اپنی پارٹی کے صدر نتن گڈکری، لوک سبھا میں حزب اختلاف کی لیڈر سشما سوراج، راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کے لیڈر ارون جیٹلی کو بھی اس خط کی کاپی بھیج دی۔ اس خط سے سیاسی حلقے اور میڈیا میں ہنگامہ برپا ہوگیا۔ اخباروں میں طرح طرح کی باتیں لکھی گئیں۔ کسی نے کہا نوٹنکی ہے، کسی نے کہا ڈرامہ ہے اور کسی نے اسے مہنگائی کے مدعے پر پبلسٹی بٹورنے کے لیے نیا شگوفہ بتایا۔ کانگریس پارٹی اس خط کا مذاق اڑائے، میڈیا اپنے طریقے سے اس کی تشریح کرے، یہ تو سمجھ میں آتا ہے، لیکن حیرانی کی بات تو یہ ہے کہ پربھات جھا کو اس خط کو لے کر اپنی ہی پارٹی میں مخالفت جھیلنی پڑ رہی ہے۔
دراصل، اس خط کے پیچھے ایک کہانی ہے۔ جب پٹرول، ڈیزل، کیروسن اور رسوئی گیس کے دام بڑھائے گئے تو پربھات جھا جذباتی ہوگئے۔ انہوں نے پارٹی صدر نتن گڈکری سے بات کی۔ انہوں نے یہ خواہش ظاہر کی کہ وہ صدر کے نام اس طرح کا ایک خط لکھنا چاہتے ہیں۔ نتن گڈکری نے انہیں اجازت دے دی، لیکن خط آتے ہی پارٹی کے اندر ہنگامہ برپا ہوگیا۔ یہ خط پارٹی کے اُن لیڈروں کو چبھ گیا، جو دہلی کے صدر دفتر میں بیٹھ کر پارٹی کی حکمت عملی طے کرتے ہیں۔ انہیں لگا کہ پربھات جھا ایسا کرکے پبلسٹی بٹورنا چاہتے ہیں۔ 9، اشوک روڈ (بی جے پی کے صدر دفتر) کی روایت کے مطابق میڈیا کو آف دی ریکارڈ بریفنگ ہونے لگ گئی۔ لیڈروں نے نامہ نگاروں کو یہ بتانا شروع کیا کہ سیاست کرنے کا یہ اچھا طریقہ نہیں ہے۔ میڈیا نے اس خط کا مذاق اڑا دیا۔ حالانکہ اس بات کا کون جواب دے کہ خط میں لکھی گئی بات سو فیصدی سچ ہے۔ ملک کے 75 فیصد سے زیادہ لوگوں کی آمدنی 40-50 روپے فی دن ہے۔ ان کی آمدنی کا تقریباً پورا حصہ زندہ رہنے کے لیے ضروری کھانے پر خرچ ہوتا ہے۔ ایسے میں جب کھانے پینے کا سامان مہنگا ہو جاتا ہے تو ملک کی یہ آبادی کیا کرے، کیسے زندہ رہے۔ پارٹی کو پربھات جھا کے خط کا مذاق بنانے کی بجائے اس کی حمایت کرنی چاہیے تھی، لیکن پارٹی نے اس خط کو ہی سنسر کر دیا۔ پارٹی تنظیم میں یہ بات پہنچا دی گئی کہ اس خط کا کہیں بھی ذکر نہیں ہونا چاہیے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی خانہ جنگی کی شکار تو ہے ہی، ساتھ ہی پارٹی میں ایک روایت بنتی جا رہی ہے کہ جو بھی عوام کے قریب جاتا ہے، جو عوام کے دکھ درد کو بانٹنے جاتا ہے، جو عوام کے مدعوں کو اٹھانا چاہتا ہے، جو عوام کے بھروسے کو جیتنے کی کوشش کرتا ہے، اسے پارٹی میں درکنار کر دیا جاتا ہے۔ جتنے بھی زمینی لیڈر تھے، وہ درکنار کردیے گئے ہیں۔ جو ابھرنا چاہتے ہیں، انہیں سائڈ لائن کر دیا جاتا ہے۔ پربھات جھا جب سے مدھیہ پردیش اکائی کے صدر بنے ہیں، تب سے وہ لوگوں کے درمیان گھوم گھوم کر کام کر رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ سے زیادہ میڈیا کوریج پربھات جھا کو مل رہا ہے۔ پربھات جھا کی شکل میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو ایک زمینی سطح کا قومی لیڈر مل سکتا ہے۔ شاید پارٹی کو ایسے لیڈروں کی ضرورت نہیں ہے، اس لیے ان کے خط کا مذاق اڑا دیا گیا۔ پربھات جھا کے خط کو کوئی ڈرامہ تو کہہ سکتا ہے، لیکن یہ کون جھٹلا سکتا ہے کہ مہنگائی نے ملک کے غریب عوام کو موت کے دہانے پر کھڑا کر دیا ہے۔ اس واقعہ سے پارٹی کی ذہنیت سمجھ میں آتی ہے کہ کیوں ملک کے سلگتے مدعوں پر وہ صرف نام کے لیے احتجاجی مظاہرہ کرتی ہے۔ پارٹی کے رویہ سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ وہ کسانوں کی تحریک میں کھل کر حصہ کیوں نہیں لیتی، کیوں مہنگائی پر عوام کے ساتھ کھڑی نظر نہیں آتی، بدعنوانی مٹانے کے لیے ملک گیر مہم کیوں نہیں چلاتی اور کالے دھن کے مدعے پر صرف ٹی وی چینلوں پر بحث کیوں کرتی ہے؟ لگتا تو یہی ہے کہ ملک کی اہم اپوزیشن پارٹی عوام سے دوری بنانے میں یقین کرنے لگی ہے۔ دہلی میں بیٹھے لیڈروں کے پاس کارکنوں کے لیے وقت نہیں ہے اور کارکن عام جنتا کے سامنے جاتے نہیں، کیوں کہ ان میں حوصلہ نہیں بچا ہے۔ پارٹی میں دَم نہیں رہا۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ پارٹی زمین سے کٹ گئی ہے۔
یہ ملک کی عوامی جمہوریت کے لیے سب سے خطرناک اشارہ ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی فکر مند، بدگمان اور بکھری نظر آرہی ہے۔ لیڈروں کا دھیان مہنگائی، بدعنوانی، گھوٹالے، کالا دھن، لوک پال جیسے مدعوں پر نہیں ہے۔ اڈوانی کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی میں وزیر اعظم کے عہدہ کا امیدوار کون ہوگا، اسی بات کو لے کر پارٹی میں سرد جنگ چل رہی ہے۔ اس جنگ کو چار اہم واقعات سے سمجھا جاسکتا ہے۔ پہلا تنازع سشما سوراج سے جڑا ہوا ہے، جب انہوں نے سی وی سی پی جے تھامس کی تقرری کو لے کر بیان دیا تھا۔ دوسرا تنازع مہاراشٹر کے لیڈر گوپی ناتھ مُنڈے سے جڑا ہے، جب انہوں نے پارٹی چھوڑنے کی دھمکی دی۔ تیسرا معاملہ ہے راج ناتھ سنگھ کو اترپردیش کا انتخابی انچارج بنانے کا اور چوتھا اوما بھارتی کی واپسی۔ کچھ وقت پیچھے چلتے ہیں، جب بھارتیہ جنتا پارٹی انتخاب ہار گئی۔ اڈوانی جی کا خواب چکنا چور ہوگیا، تب آر ایس ایس نے کہا کہ پارٹی کو سرجری کی ضرورت ہے۔ اس لیے اس نے نتن گڈکری کو پارٹی کا صدر بنایا۔ یہ سوچ کر بنایا کہ پارٹی میں آئڈیالوجی کو دوبارہ قائم کیا جائے گا، گڈکری پارٹی کی تنظیم کو مضبوط کریں گے اور پارٹی کے اندر کی لڑائی کو ختم کریں گے۔ نتن گڈکری کو اب صدر بنے کافی وقت گزر چکا ہے، لیکن پارٹی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ ایک ہی مدعے پر الگ الگ اسمبلیوں میں بی جے پی کا الگ الگ اسٹینڈ ہوتا ہے۔ یہ اس لیے، کیوں کہ راجیہ سبھا اور لوک سبھا کے لیڈر آف اپوزیشن ارون جیٹلی اور سشما سوراج میں اب تک تال میل نہیں بیٹھ پایا ہے۔ نتن گڈکری دونوں میں صلح کرانے میں کامیاب نہیں رہے۔
سشما سوراج اور ارون جیٹلی کے درمیان کافی وقت سے سرد جنگ چل رہی ہے۔ دونوں اڈوانی کا جانشین بننے کی خواہش رکھتے ہیں۔ ارون جیٹلی اور نریندر مودی کی دوستی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہار انتخاب کے دوران ایک بار سشما سوراج نے کہہ دیا تھا کہ نریندر مودی کا جادو گجرات میں ہی چلتا ہے۔ سشما کے بیان پر مودی ناراض تھے۔ اس بات کو لے کر مودی نے پارٹی صدر نتن گڈکری سے بھی شکایت کی تھی۔ اس تنازع پر نہ تو اڈوانی کچھ بولے اور نہ نتن گڈکری۔ اب صورت حال بدل چکی ہے۔ نتن گڈکری اب ارون جیٹلی کی بات سنتے ہیں۔ اسی وجہ سے سشما سوراج کے خیمے کو اب صرف اڈوانی جی ہی سنتے ہیں۔ سشما سوراج نے سی وی سی پی جے تھامس کی تقرری کو لے کر یہ بیان دیا تھا کہ جب سرکار نے غلطی مان لی ہے تو یہ معاملہ اب ختم ہو گیا ہے۔ اگلے ہی دن نتن گڈکری نے میڈیا کو بتایا کہ وہ اس معاملہ کو عوام کے درمیان لے کر جائیں گے اور یہ معاملہ ختم نہیں ہوا ہے۔ ویسے گڈکری یا بھارتیہ جنتا پارٹی اس معاملہ کو لے کر عوام کے درمیان نہیں گئی، لیکن یہ پیغام ضرور دے دیا گیا کہ سشما سوراج کی باتوں کی اہمیت پارٹی میں نہیں ہے۔ گڈکری اور سشما سوراج کے رشتے میں  کڑواہٹ ہے۔ بی جے پی کے کارکن بتاتے ہیں کہ سشما سوراج، اننت کمار اور گوپی ناتھ منڈے کا ایک الگ کیمپ ہے اور نتن گڈکری، ارون جیٹلی اور اوما بھارتی کا دوسرا خیمہ ہے۔ اس لیے گوپی ناتھ منڈے کا معاملہ اٹھا تھا۔ ان کی شکایت یہ تھی کہ ان کی باتوں کو پارٹی میں کوئی نہیں سنتا ہے۔ سشما سوراج کی کمزوری یہ ہے کہ انہیں آر ایس ایس کی حمایت حاصل نہیں ہے۔ انہیں اڈوانی جی کی سفارش پر لوک سبھا میں حزب اختلاف کا لیڈر بنایا گیا تھا۔ گوپی ناتھ منڈے مہاراشٹر کے لیڈر ہیں، پارٹی کے واحد بڑے اوبی سی لیڈر ہیں۔ وہ آنجہانی پرمود مہاجن کے بہنوئی بھی ہیں۔ پرمود مہاجن کی موت کے بعد پارٹی میں ان کے رتبہ میں کمی آئی ہے۔ نتن گڈکری کا قد گوپی ناتھ منڈے سے چھوٹا تھا، لیکن اب وہ پارٹی صدر بن چکے ہیں۔ نتن گڈکری کا مہاراشٹر کی سیاست میں دخل دینا فطری ہے۔ دونوں میں سرد جنگ چل رہی ہے۔ اس سے اوما بھارتی کی واپسی کا راز سمجھ میں آتا ہے۔ اوما بھارتی کی واپسی کی مخالفت شیو راج سنگھ چوہان سے زیادہ سشما سوراج کر رہی تھیں۔ ارون جیٹلی اور نتن گڈکری نے اوما بھارتی کی واپسی کے ذریعہ ایک ہی تیر سے کئی نشانے لگائے۔ سشما سوراج اور گوپی ناتھ منڈے کو سائڈ لائن کر دیا گیا، کیوں کہ پارٹی کو اوما بھارتی کی شکل میں ایک عورت اور ایک او بی سی لیڈر مل گیا۔ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کو خوش کر دیا گیا، کیوں کہ وہ کئی مہینے سے اوما بھارتی کو واپس لینے کا دباؤ بنا رہا تھا۔
اوما بھارتی کی واپسی سے جیٹلی کیمپ نے اتر پردیش میں کنفیوژن پھیلا دیا۔ اڈوانی کا جانشین بننے کے ایک اور دعویدار ہیں راج ناتھ سنگھ۔ بہت دنوں بعد اتر پردیش میں کل راج مشر اور راج ناتھ سنگھ کے ٹون مل رہے تھے۔ راج ناتھ سنگھ اس کوشش میں تھے کہ کل راج مشر کو اترپردیش میں آگے رکھا جائے۔ اس کے پیچھے راج ناتھ سنگھ کی یہ منشا ہوسکتی ہے کہ وہ پارٹی کے قومی صدر رہ چکے ہیں، اس لیے ریاستوں کے انتخاب کا ذمہ کل راج مشر کو دینے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ ارون جیٹلی نے پہلے اوما بھارتی کو اتر پردیش میں لگا دیا۔ صوبائی سطح کے کئی لیڈر ناراض ہوئے، پھر راج ناتھ سنگھ کو انتخابی انچارج بنا دیا گیا۔ کل راج مشر ناراض ہوگئے۔ انہوں نے حالیہ دنوں ایک انٹرویو دیا، جس میں کہا کہ اتر پردیش کے عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کا وزیر اعلیٰ عہدہ کا امیدوار کون ہے۔ عجیب و غریب صورتِ حال ہے۔ اب اتر پردیش میں تین تین شہ سوار موجود ہیں تو ایگو کلیش ہونا فطری ہے۔ ویسے بھی بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکمت عملی بنانے والوں کو پتہ ہے کہ اتر پردیش میں من مطابق نتیجے آنے والے نہیں ہیں۔ یہی ارون جیٹلی کی حکمت عملی ہے کہ انتخابی نتائج آنے کے بعد راج ناتھ سنگھ پر ہار کا ٹھیکرا پھوڑ دیا جائے گا اور وہ اڈوانی کا جانشین بننے کی دوڑ سے باہر ہو جائیں گے۔ سشما سوراج اور باقی لوگ تو پہلے سے ہی سائڈ لائن کر دیے گئے ہیں۔
کسی بھی سیاسی پارٹی میں لیڈروں کے درمیان مقابلہ آرائی اچھی بات ہے۔ یہ مقابلہ آرائی مثبت ہو تو پارٹی کے لیے بہتر ہے۔ اس سے پارٹی مضبوط ہوتی ہے، لیکن اس کے لیے بھی ایک وقت ہوتا ہے۔ آج ملک کا ہر آدمی بدعنوانی، گھوٹالے اور مہنگائی سے پریشان ہے۔ ملک ایک ایسے دور سے گزر رہا ہے، جہاں تبدیلی ناگزیر ہے۔ تاریخ بہت ظالم ہوتی ہے، وہ کسی کو نہیں چھوڑتی۔ اس رسہ کشی میں جو اپنی ضد پر قائم رہے گا، وہ تاریخ میں مذاق کا باعث بنے گا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کو یہ سمجھنا پڑے گا کہ اس دور میں وہ اپنی معتبریت کھو رہی ہے۔ اگر وہ بضد رہی تو انتخاب جیتنا تو دور، اس کے وجود کے لیے خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔ کارکن پارٹی کی طرف امید بھری نگاہوں سے دیکھ رہے ہیں کہ کوئی بڑا فیصلہ ہوگا اور پارٹی ملک میں تبدیلی کے لیے کوئی بڑی تحریک چلائے گی۔ سیاست کو جو بھی سمجھتے ہیں، انہیں پتہ ہے کہ یہ عوام کے حقوق کے لیے لڑنے کا وقت ہے۔ کسان، مزدور، آدیواسی، اقلیتی طبقہ کے لوگ اور نوجوان سبھی غم و غصے میں ہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کو سمجھنا ہوگا کہ یہ وقت آپس میں لڑنے کا نہیں، بلکہ عوام کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر میدان میں اترنے کا ہے۔

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Latest posts by ڈاکٹر منیش کمار (see all)

Share Article

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *