جب بھی کبھی ضمیر کا سودا ہو دوستو ،ڈٹ جائو تم حسین کے انکار کی طرح : مولانا کلب رشید

گزشتہ 4 جون کو دہلی کے رام لیلا میدان میں مشہور یوگا گرو بابا رام دیو نے ملک میں کالے دھن کی واپسی کے مدعے پر ایک ریلی کی، جس میں ہزاروں لوگوں ک مجمع اکٹھا ہوا۔ کانگریس کی قیادت والی یو پی اے حکومت نے اپنے خلاف عوام کے بڑھتے ہوئے غم و غصہ کو بھانپ کر، پہلے تو اس ریلی میں موجود لوگوں پر پولس کی طرف سے لاٹھی چارج کروایا اور پھر بابا رام دیو کو پکڑ کر ایک ہیلی کاپٹر کے ذریعہ انہیں زبردستی ہریدوار بھجوادیا گیا۔ 4 تاریخ کو بابا رام دیو کے ساتھ رام لیلا میدان کے اسٹیج پر دن کے ڈیڑھ بجے تک مشہور شیعہ عالم دین، مولانا کلب روشید رضوی صاحب بھی موجود تھے اور انہوں نے بھی ریلی سے خطاب کیا تھا۔ اب دہلی پولس کی طرف سے ان کے خلاف وارنٹ جاری کیا گیا ہے کہ انہوں نے اُس دن اپنی تقریر کے ذریعہ لوگوں کو بھڑکانے کی کوشش کی۔ اس سلسلے میں چوتھی دنیا کے خصوصی نامہ نگار ڈاکٹر قمر تبریز نے مولاناکلب روشید صاحب سے بات کی اور پورے واقعہ پر ان کی رائے جاننے کی کوشش کی۔ انٹرویو کے اقتباس قارئین کی خدمت میں پیش کیے جاتے ہیں۔

   ایک بات یہ بتائیے کہ کیا آپ کو معلوم تھا کہ اسٹیج پر سادھوی رتھمبرا بھی موجود ہوں گی؟
جواب  :  نہیں بالکل بھی نہیں۔ نہ مجھے یہ معلوم تھا کہ اسٹیج پر سادھوی رتھمبرا ہوں گی، نہ ہی مجھے یہ معلوم تھا کہ سادھوی رتھمبرا پر شہید بابری مسجد کا کوئی کیس چل رہا ہے یا انہوں نے ایسا کوئی گھناؤنا کام کیا ہے۔ میں بالکل نہیں جانتا تھا۔
گزشتہ 4 جون کو دہلی کے رام لیلا میدان میں آپ سادھوی رتھمبرا کے ساتھ اسٹیج پر موجود تھے، جس کو لے کر آپ کے خلاف سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔ آپ اپنی طرف سے کوئی صفائی دینا چاہیں گے؟
جواب :  ہمیشہ مسلمانوں کو پیسے کے نظریے سے پس ماندہ دکھانے کی کوشش نہیں کی جاتی ہے بلکہ نظریے کے لحاظ سے بھی انہیں پس ماندہ دکھانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ وہ وقت سے کافی پیچھے ہیں۔ مجھ سے سوال کیا جاتا ہے کہ آپ بابا رام دیو کے ساتھ منچ پر سادھوی رتھمبرا کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔ مجھے ان کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا۔ یہ سوال تو بابا رام دیو سے کیا جانا چاہیے کہ انہوں نے سادھوی رتھمبرا کو کیوں بلایا؟ قرآن میں یہ کہیں نہیں لکھا ہوا ہے کہ علماء کی سب عزت کریں اور علماء کسی کی عزت نہ کریں۔ میں نظریۂ قرآنی کی بات کر رہا ہوں۔ اگر ہم یہ مانتے ہیں کہ اسلام اخلاقِ محمدیؐ سے پھیلا ہے۔ تو آپ صلے اللہ علیہ وسلم کا اخلاق یہ تھا کہ جب آپ اپنے زمانے کے علمائِ یہود، علائِ نصاریٰ، علمائِ نجران سے باتیں کیا کرتے تھے تو عمومی طور پر آپ انہیں اپنے ساتھ کھانے کی دعوت دیا کرتے تھے، اور بہتیرے مقامات پر روایت میں صاف لکھا ہے، شیعہ اور سنی دونوں روایات میں یہ لکھا ہوا ہے کہ وہ اپنی عباء خود بچھا دیا کرتے تھے اور سبقت کیا کرتے تھے کہ آپ ہماری عبا پر بیٹھیں۔ ہمارے تو یہ اخلاقیات ہیں۔ پھر یہ ذہنیت کہاں سے آ گئی کہ میں کسی کے بازو میں کیوں؟ یہ انحرافِ دین ہے؟ دراصل، یہ ذہنیت ہماری نہیں ہے، بلکہ ہندو اِزم سے یہ ذہنیت ہمارے یہاں آگئی ہے۔ ہندواِزم کی یہ پرابلم ہے کہ وہاں پر ایک سادھو کو سیاست کی اجازت نہیں ہے جب کہ اسلام میں ایک مولوی کو سیاست کی اجازت ہے، کیوں کہ قرآن میں کہا گیا ہے کہ ’تم ایک بہترین امت ہو، لوگوں کے لیے باہر نکلو تاکہ تم حق کی تعلیم دے سکواور برائی سے انہیں روک سکو‘۔ اب ہم اسلامی قانون کے حساب سے ملک کی خدمت کرنے کے لیے بہت آزاد ہیں، اس میں رتھمبرا کہیں نہیں آتی ہیں بیچ میں۔ اور اگر کوئی رتھمبرا کو بیچ میں کھینچ کر لاتا ہے تو یہ اسلام کی پرابلم نہیں ہے بلکہ وہ ہندوستانی سوجھ بوجھ کا شکار ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا مولانا کلب روشید کا وہاں جانا غلط تھا۔ نہیں، کیوں کہ مولانا وہاں کسی مذہبی منچ پر نہیں تھے بلکہ وہ ایک سوشل منچ پر تھے جو ملک میں کالا دھن واپس لانے اور ملک سے بدعنوانی مٹانے کی مہم کا ایک حصہ تھے۔ میں نے وہاں کچھ غلط نہیں کیا۔ میں نے وہاں پر جو تقریر کی اس پر قوم کو کوئی اعتراض نہیں ہے۔ یہ صحیح ہے کہ رتھمبرا وہاں موجود تھی، لیکن مجھے نہیں معلوم تھا کہ رتھمبرا کون ہے، اور اس نے بابری مسجد کو شہید کیا۔ حالانکہ میں نے پہلے ہی بابا رام دیو سے کہہ دیا ہے کہ آپ کو یہ نہیں کرنا چاہیے تھا، مجھے بتانا چاہیے تھا، آپ سے یہ غلطی ہوئی ہے۔ اور اگر آپ چاہیں تو چاہ کر بھی رتھمبرا کی امیج کو سدھار نہیں سکتے۔ اس لیے نہیں کہ کوئی پارٹی ان کی امیج کے خلاف کھڑی ہے یا ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ پارٹی کے علاوہ عوام بھی معنی رکھتے ہیں، ملک بھی معنی رکھتا ہے۔ عوام کی آنکھوں نے انہیں مسجد کی اینٹیں سجاتے نہیں بلکہ مسجد کی اینٹیں توڑتے دیکھا ہے، تو اس کی وہ گنہگار ہیں۔ ہندوستان کی عدالت بھی اسے مانتی ہے۔ تو بابا رام دیو میری بات مانے اور انہوں نے کہا کہ ہاں، مجھ سے یہ غلطی ہوئی ہے، لیکن اس کے گنہگار آپ کہیں نہیں ہیں۔ میں نے ان سے کہا کہ میں ایک سچے مشن کو سپورٹ کرنے آیا تھا، میں اس کی حمایت میں کھڑا تھا اور آئندہ بھی کھڑا رہوں گا چاہے اس کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے یا کچھ اور کیا جائے۔
دہلی پولس نے آپ کے خلاف وارنٹ جاری کیا ہے کہ آپ نے فساد برپا کرنے کی کوشش کی۔ آپ نے یہ بھڑکاؤ تقریر کیوں کی؟
جواب  :  اپنا انداز ہی کچھ ایسا ہے کہ جب ہم کہتے ہیں تو دل سے کہتے ہیں اور جب دل سے کہتے ہیں تو لوگ اسے بہت پیار سے سنتے ہیں اور ان کا پیار دیکھ کر لوگوں کو یہ لگتا ہے کہ ارے، اس نے تو بے جان لوگوں میں جان ڈال دی۔ میں نے بے جان لوگوں میں جان نہیں ڈالی۔ میرے الفاظ کی سچائیاں وہ دوا بن جاتی ہیں جس سے سننے والوں کا سویا ہوا ضمیر کہیں نہ کہیں جاگ جاتا ہے۔ ان کی تالیوں میں ، ان کی چیخ و پکار میں عوام کو جو اسے باہر سے سن رہے ہیں، ان کو یہ لگتا ہے کہ یہ لوگ تو بپھر گئے ہیں، یہ لوگ تو جاگ چکے ہیں، تو وہ لاکھوں عوام کو تو ٹارگیٹ نہیں کر سکتے، ایک کلب روشید کو ضرور ٹارگیٹ کیا جاسکتا ہے۔
تو آپ نے بابا رام دیو سے پوچھا نہیں کہ انہوں نے رتھمبرا کو کیوں بلایا؟ یا انہوں نے آپ کو بتایا کیوں نہیں؟ یا اگر انہوں نے سادھوی رتھمبرا کو بلایا تھا تو آپ کو کیوں بلایا؟
جواب  :   میرے خیال سے آپ کو یہ سوال بابا رام دیو سے پوچھنا چاہیے کہ اگر آپ نے ان کو بلایا، تو کیوں بلایا، اور اس کے بعد بھی کلبِ روشید کو بلایا تو کیوں بلایا؟ بابام رام دیو نے مجھے اپنے لیے نہیں بلایا تھا، مجھے رام دیو نے دیش کے ان حالات کو ٹھیک کرنے کے لیے، جن حالات میں ہمارا دیش کئی پریشانیوں سے دوچار ہے، اس بات کے لیے بلایا تھا۔ میں جو وہاں پہنچا تھا، سادھوی رتھمبرا کے لیے نہیں پہنچا تھا ، میں رام دیو کے لیے بھی نہیں پہنچا تھا، میں اس بات کے لیے پہنچا تھا جو بات میرے دیش کی تھی اور میرے دیش کی سوا کروڑ جنتا کی تھی۔
لیکن مسلمانوں کے درمیان تو یہی تاثر گیا کہ سادھوی رتھمبرا کے ساتھ اتنے بڑے اسلامی اسکالر کیسے بیٹھ سکتے ہیں؟
جواب  :  دیکھئے، مسلمان جانتا ہے کہ اسلام اخلاق سے پھیلا ہے تلوار سے نہیں پھیلا۔ اور اخلاق کا تقاضا یہ ہے کہ آپ یہ دیکھیں کہ آپ کی ذمہ داری کیا ہے۔ میں نے اپنی پوری ذمہ داری اپنی عباء اور اپنے دائرہ کو سمیٹتے ہوئے نبھائی ہے اور مجھے بالکل شرمندگی نہیں ہے اور ہماری قوم پوری طرح ہمارے ساتھ ہے، چونکہ قوم اس بات کو جانتی ہے کہ مولانا کلبِ روشید وہاں دیش کے لیے گئے تھے، بدعنوانی مٹانے کے لیے گئے تھے، کالا دھن لانے کی بات کو منوانے کے لیے گئے تھے، اور اس کام میں جہاں تک میری ذمہ داری تھی میں نے وہ ذمہ داری پوری طرح نبھائی ہے اور مجھے کوئی شرمندگی نہیں ہے۔
میں یہ سوال اس لیے پوچھ رہا ہوں کیوں کہ بابا رام دیو کی جو زعفرانی تقریر، زعفرانی لباس، زعفرانی سوچ، زعفرانی طریقہ، اور ان کے آس پاس کے جو لوگ ہیں، ان کے رشتے سنگھ پریوار سے ہیں، اسے تو کوئی جھٹلانہیں سکتا؟
جواب  :  بہت اچھا سوال آپ نے کیا۔ سب کے ذہن میں یہی آتا ہے، اور سب کو یہی لگتا ہے۔ میری بابا سے اس پر بات ہوئی ہے۔ آپ اس دن کے انگریزی اخبار کو اٹھاکر دیکھیں، تو انہوں نے میرے بیان کا حوالہ دیا تھا۔ میں نے کہا تھا کہ یہ ملا عمر کا طالبان نہیں ہے کہ جہاں من مانی چلے گی۔ یہ ہمارا ہندوستان ہے، یہاں قانون کی سپرمیسی چلے گی اور کسی کی من مانی نہیں چل سکتی ہے۔ تو جب میں مسلم کٹرپنتھی کو برداشت نہیں کروں گا، حالانکہ وہ ہوتی نہیں ہے، تو میں ہندو توا کی کٹر پنتھی کو کہاں سے برداشت کر لوں گا۔ میں وہاں ملک کے لیے گیا تھا۔ ملک میں آج بھی جو لوگ زندہ ہیں، ضمیروں کے زندہ ہیں، فکروں کے زندہ ہیں صرف بدن ہاتھ کے زندہ نہیں، وہ اس بات کو جانتے ہیں کہ یہ ملک صرف اور صرف سیکولراِزم کے سایے میں چل سکتا ہے۔
میں ایک سوشل منچ پر گیا تھا، میں کسی مذہبی منچ پر نہیں گیا تھا۔ اور سوشل منچ پر بات ہو رہی تھی ملک کی، کسی مذہب اور دھرم کی بات نہیں ہو رہی تھی۔ کوئی بھی کپڑے والا وہاں آسکتا تھا، کالے کپڑے والا، سفید کپڑے والا، پیلے کپڑے والا، نیلے کپڑے والا، گیروئے کپڑے والا وہاں آسکتا تھا، لباسوں کی بات وہاں نہیں ہونی تھی، مذہب کی بات نہیں ہونی تھی، وہاں تو ملک کی بات ہونی تھی۔ کسی کے خلاف وہاں بات نہیں ہونی تھی۔ اپنے درد کی بات ہونی تھی۔ میری پوری تقریر آپ سن لیجئے۔ میں نے واضح الفاظ میں کہا تھا کہ نہ میں کسی کے خلاف ہوں نہ میں کسی کے ساتھ ہوں۔ میں اس آواز کے ساتھ ہوں جو آواز دیش کے ساتھ ہے۔
آپ بابا رام دیو کے بہت قریبی ساتھیوں میں سے ہیں۔ جب انا ہزارے کی ٹیم کی طرف سے یہ سننے کو ملتا ہے کہ ہم بابا رام دیو سے بات چیت کریں گے، لیکن ہماری کچھ شرطیں ہیں۔ اس خبر کو سن کر یا پڑھ کر آپ لوگ آپس میں کیا باتیں کرتے ہیں؟
جواب  :  دیکھئے، میں سمجھتا ہوں کہ آپ کے لیے بہت خوش قسمتی کی بات ہوتی ہے کہ ملک آپ کو امید سے دیکھتا ہے، کیوں کہ عام طور پر جب آپ کسی لائق نہیں ہوتے تو ملک آپ کو پالتا رہتا ہے، آپ کی پرورش کرتا رہتا ہے۔ بہت کم لوگوں کو یہ موقع ملتا ہے کہ وہ ملک کو اس کی پرورش میں کچھ مدد کر سکیں۔ اور جب کسی کی زندگی میں یہ موقع آئے تو بدنصیب آدمی وہ ہوگا جو شرطوں کی بات کرے۔
چار تاریخ کی رات کو بابا رام دیو نے جس طرح بھاگ دوڑ کی، کیا وہ آپ کی نظر میں صحیح تھا؟
جواب  :  میں چار تاریخ کو ڈیڑھ بجے دن تک وہاں موجود تھا، اس کے بعد کیا ہوا اس کے بارے میں میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔ بابا رام دیو نے جو کچھ کیا اس کی صفائی وہ دے چکے ہیں۔ میں یہ مانتا ہوں کہ بابا رام دیو سے کچھ غلطیاں ہوئی ہیں۔ اور وہ غلطیاں اس لیے بھی ہوئی ہیں کہ بابانے چیزوں کو بہت عزت کی نظر سے ، بہت آبرو کے انداز سے کرنا چاہا۔ وہ اس بات کو بھول گئے کہ جو ان کا مد مقابل ہے وہ عزت کی زبان، آبرو کی زبان نہیں سمجھے گا، وہ صرف سیاست کی زبان سمجھے گا۔ تو کہیں نہ کہیں بابا سے کچھ غلطی ہوئی ہے۔ لیکن اس سے بابا کی عزت میں کوئی کمی نہیں آئے گی، بلکہ ان کا احترام اور بڑھے گا۔
بدعنوانی اور کالے دھن کے خلاف ملک میںجو تحریک چل رہی ہے، اس میں مسلمانوں کی اتنی تعداد ہمیں دیکھنے کو نہیں مل رہی ہے جتنی کہ نظر آنی چاہیے۔ اس کی کیا وجہ ہے؟
جواب  :  رام لیلا میدان میں جو لوگ آئے تھے، وہ عام جنتا نہیں تھی، بلکہ اس میں وہ لوگ آئے تھے جو ’بھارت سوابھیمان‘ سے جڑے جو پچھلے پانچ سالوں سے پتنجلی یوگ پیٹھ کے ممبر ہیں۔ بابا رام دیو کے 2000 سنٹر سے جڑے لوگ رام لیلا میدان میں آئے تھے۔ لیکن اس بھیڑ میں بہت سے لوگ آر ایس ایس وغیرہ کے بھی تھے۔ یہ سب بابا رام دیو کو استعمال کرنے کی اور انہیں بدنام کرنے کی ایک سازش تھی۔ اس ریلی میں مسلمانوں کی طرف سے بھی تقریریں کی گئیں، ان میں بریلی علماء، دیوبندی علماء نے تقریر کی، نظامی کی طرف سے تقریر ہوئی اور شیعوں کی طرف سے تو میں تھا ہی۔ اس طرح دیکھا جائے تو اس ریلی میں مسلمانوں کی بھی نمائندگی ہوئی۔ ہماری مسلم قوم حکومت کی قابل اعتراض اسکیموں کے خلاف ہے، چاہے وہ حکومت کسی بھی پارٹی کی ہو۔ مسلمانوں کو اب اور نہیں بہکا یا جاسکتا۔ مسلمان اپنی مرضی کے خود مالک ہیں، ان کی جانوں کا مالک خدا ہے اور ان کے ارادوں کا مالک بھی خدا ہے، اب وہ یہ فیصلہ لے سکتے ہیں کہ انہیں کہاں جانا ہے اور کہاں نہیں۔ مسلمان بابا رام دیو کی فکر کے ساتھ ہیں اور آگے بھی رہیں گے، کیوں کہ بدعنوانی کے سب سے زیادہ شکار خود مسلمان ہوئے ہیں۔
دہشت گردی کے خلاف مسلم تنظیموں کی طرف سے تحریک چلائی گئی، لیکن بدعنوانی اور کالے دھن کے خلاف مسلمانوں کی طرف سے کوئی تحریک نہیں چلائی جارہی ہے۔ اس کی کیا وجہ ہے؟
جواب :  دیکھئے مسلمان تو پہلے سے ہی پچھڑے ہوئے ہیں، اگر وہ ایسی کوئی تحریک چلاتے تو ان کی آواز کو کب کا دبادیا جاتا۔ بابا رام دیو تو بڑے آدمی ہیں، وہ 1200 کروڑ کی پراپرٹی کے مالک ہیں، اس کا اعلان وہ خود کر رہے ہیں۔ کانگریس اور بی جے پی کے وزراء ان کے پاؤں چھوتے ہیں۔ تو کسی کی آواز بھی تو قد کے حساب سے سنی جاتی ہے، مسلمانوں میں اتنا بڑا قد تو کسی کا نہیں ہے تو وہ بیچارے ایسی تحریک کیسے چلائیں؟ ہاں وہ اس تحریک کے ساتھ پوری طرح کھڑے ہیں کیوں کہ بدعنوانی کے سب سے زیادہ شکار خود مسلمان ہوئے ہیں، ان کا حق چھین لیا گیا اور ان کے ساتھ بہت زیادتی کی گئی ہے، تو مسلمان ہمیشہ ایسی فکر اور ایسی تحریک کے ساتھ رہیں گے۔
عام مسلمان اس مہم کے ساتھ کیوں نہیں جڑ رہا ہے؟
جواب : آپ اس بات کو ایسے رکھ سکتے ہیں کہ سونار کی بڑی دکانیں ہیں سونے بازار میں، وہاں مسلمان کی دکان کیوں نہیںہے ؟ ہیرابازار میں ہیرے کی بہت سی دکانیں ہیں، وہاں مسلمانوں کی دکانیں کیوں نہیں ہیں؟ کروڑ پتی لوگوں کے جہاں محل ہیں، کروڑوں روپے کی عمارتیں بنی ہوئی ہیں، وہاں مسلمانوں کے گھر کیوں نہیں ہیں؟ مسلمان ہمارا پچھلے پچاس سال میں بہت پچھڑا ہے، مسلمانوں سے فوراً ری ایکشن کی امید کرنا صحیح نہیں ہے۔
یہ بات صحیح ہے کہ مسلمان سب سے زیادہ اس کے شکار ہوئے ہیں۔ آپ مسلمانوں کو اس پوری تحریک میں کیسے شامل کریں گے؟
جواب  :   میں اس ملک کے مسلمانوں کا شکرگزار ہوں۔ اس ملک میں 30 کروڑ مسلمان ہیں۔ یہ سارے کے سارے مسلمان ہمارے ساتھ ہیں۔ چاہے میری پونہ کی تقریر ہو، چاہے میری گڑگاؤں کی تقریر ہو، چاہے وہ رائے پور کی تقریر ہو، چاہے وہ میری جنتر منتر کی تقریر ہو یا پھر 4 جون کی تقریر ہو، میرے پاس جو فیڈ بیک آتے ہیں جو فون آتے ہیں، اس میں ہم سے یہی کہا جاتا ہے کہ سارا دیش آپ کے ساتھ ہے، ساری قوم آپ کے ساتھ ہے، سارے مسلمان آپ کے ساتھ ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ ملک کی آزادی میں جیسے مسلمانوں نے حصہ لیا، ملک کو آگے بڑھانے میں جیسے مسلمانوں نے اپنے سپوتوں کو ملک کاخادم بناکر پیش کیا، اسی طرح اگر ملک میں کوئی نئی تبدیلی آتی ہے، ملک میں کوئی پاکیزگی کا جذبہ پیدا ہوتا ہے یا پھر ملک میں ترقی کے لیے کوئی انقلاب آتا ہے، تو ملک کے مسلمان بھی ویسے ہی ساتھ رہنا چاہتا ہے جیسے اس میں دوسری قومیں ساتھ رہنا چاہتی ہیں۔
تاریخ یہ بتاتی ہے کہ کوئی بھی تحریک ملک کے اندر مسلمانوں کے تعاون کے بغیر کبھی کامیاب نہیں ہوئی۔ آپ اس تحریک کے حوالے سے مسلمانوں کو کیا پیغام دینا چاہیں گے؟
جواب  :   میں مسلمانوں کو یہ پیغام دینا چاہوں گا کہ وہ دامے، درمے، قدمے، سخنے ہر طرح سے اس تحریک کی حمایت کریں۔ ہر وہ حق کی آواز جو نکل رہی ہو یا آرہی ہو، اسے نہ دبائیں اور نہ دبنے دیں    ؎
جب بھی کبھی ضمیر کا سودا ہو دوستو……….. ڈٹ جاؤ تم حسین کے انکار کی طرح

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *