کیا یمن پھر سے دو حصوں میں تقسیم ہو جائے گا؟

سدھارتھ آغا
ایک جان لیوا حملے میں بال بال بچے یمن کے صدر علی عبداللہ صالح اپنی چھاتی پر آنے والے زخموں کے علاج کے لیے سر دست سعودی عرب کے ملٹری اسپتال میں بھرتی ہیں۔ یمن کی راجدھانی صنعا میں جشن کا ماحول ہے جہاں ہزاروں مخالفین سڑکوں پر یمنی پرچم لہراتے ہوئے اور صدر صالح کی حکمرانی کے خاتمے کی خوشی مناتے ہوئے پائے جا رہے ہیں۔ اگرچہ صدر صالح کے ہمراہ ان کی اہلیہ اور خاندان کے 35 اراکین سعودی عرب پہنچے ہیں، لیکن معاملے کے واقف کار ایک سعودی اہل کار نے واضح کیا ہے کہ صدر کا اقتدار سے دست بردار ہونے کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور وہ صحت یاب ہونے کے بعد یمن واپس لوٹ جائیں گے۔ ان کی غیر موجودگی میں ان کے صاحبزادے اور دو بھتیجے (تینوں ہی یمنی فوج کے افسر ہیں)، ان کے لیے گدی کو گرم رکھیں گے۔
تو کیا یمن کے سیاسی منظر نامہ پر 69 سالہ صدر صالح سب سے اہم کردار کی شکل میں مستقبل میں بھی نظر آتے رہیں گے یا پھر حزب اختلاف ان کو یمن واپس آنے سے ہمیشہ کے لیے روکنے میں کامیاب رہے گا؟ بہر حال اس میں تو کوئی شک نہیں ہے کہ انقلاب کی زد میں آئے شمالی افریقہ کے اس ملک کے صدر اپنے 13 ملین عوام کا اعتماد کھو چکے ہیں۔ 1978 میں شمالی یمن کا اقتدار سنبھالنے کے بعد صدر صالح نے 1990 میں جنوبی یمن کے ساتھ الحاق کرنے میں نمایاں رول ادا کیا اور خلیج عرب کی سب سے زیادہ آبادی والے اس ملک کی کمان اپنے ہاتھوں میں لے لی۔
کہنے کے لیے یمن میں 1999 اور 2006 میں عام انتخابات ہوئے جس میں صدر صالح 96 فیصد رائے دہندگان کی حمایت کے ساتھ فاتح قرار پائے۔ ’’وار آن ٹیرر‘‘ میں یمن میں آباد القاعدہ تنظیم کے کئی ماڈیول کا مقابلہ کرنے میں امریکہ اور مغربی طاقتوں کا کلیدی ساتھی ہونے کے سبب صدر صالح ان طاقتوں کی خوشنودی کے حقدار رہے ہیں اور بلا شبہ چوطرفہ احتجاج و مظاہرے اور عوامی غم و غصے کے باوجود ان کا اقتدار میں بنے رہنا بہت حد تک مغربی طاقتوں کی حمایت کا متقاضی ہے۔
یقینا یمن کی صورت حال نازک اور فیصلہ کن دور میں پہنچ گئی ہے۔ خلیجی تعاون کونسل کی ثالثی میں طے پانے والے معاہدے پر حامی بھرنے کے بعد صدر صالح نے تین بار دستخط کرنے سے انکار کر دیا ہے اور پر امن طور پر اقتدار کی منتقلی کی سعودی کوششیں ناکام کر دی ہیں۔ ثالثی کی تیسری اور آخری کوشش کے بعد خلیجی تعاون کونسل نے مزید کوئی کوشش نہ کرنے کے عزم کا اظہار کیا تھا لیکن بدلے ہوئے حالات میں کوئی تعجب نہیں ہوگا اگر صدر صالح پر معاہدے کے تحت اقتدار سے الگ ہونے کے لیے پھر سے دباؤ ڈالا جائے۔ امریکہ اور مغربی ممالک بھی اب زیادہ دیر تک عوامی امنگوں کے برخلاف صدر صالح کی حمایت کرتے نظر نہیں آسکتے۔ خاص طور پر جب یکساں حالات میں شام میں صدر بشار الاسد اور لیبیا میں معمر قذافی پر مسلسل عہدے سے دست بردار ہونے کی مانگ تیز ہوتی جا رہی ہے۔
صدر صالح کی غیر موجودگی میں حکومت کی باگ ڈور نائب صدر منصور ہادی کے ہاتھوں میں ہے جو صدر صالح کے وفادار مانے جاتے ہیں۔ خبریں گشت کر رہی ہیں کہ امریکی اہل کار ان سے براہِ راست رابطہ میں ہیںاور اگر امریکہ اور آل سعود خاندان کے درمیان قربتوں کو ملحوظ خاطر رکھا جائے تو یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ یمن میں جو بھی رہنما ہوگا وہ امریکہ کی رضا و رغبت سے ہوگا۔
بہرصورت، یمن کی داخلی صورت حال کو مزید بگڑنے سے روکنا اور ملک کو خانہ جنگی سے بچانا اس وقت کی اہم ضرورت ہے۔ صدر صالح کے منظر نامہ سے ہٹنے سے، عارضی طور پر ہی سہی، متحارب دھڑوں کو یہ موقعہ ملا ہے کہ کسی جارحانہ پیش قدمی سے گریز کرتے ہوئے ثالثی خلیجی تعاون کونسل اور دوسرے دوست ممالک کو افہام و تفہیم پر منحصر تمام فریق کو قابل قبول کوئی حل ڈھونڈ نکالنے کا وقت دیا جائے۔ ایک مثبت پیش رفت کے تحت یمن کی پارلیمنٹ میں حزب مخالف کے رہنما محمد قحطان نے نائب صدر سے تعاون کی یقین دہانی کی ہے بشرطیکہ صدر صالح کے صاحبزادے کی طرف سے بلا وجہ مداخلت نہ کی جائے۔ اُدھر نامہ نگاروں کے مطابق یمنی فوج اور صدر صالح کے مخالف الاحمر قبیلہ کے افراد کے درمیان جھڑپوں میں شدت آنے کے بعد ایک بار پھر جنگ بندی قائم ہوگئی ہے جس کا چہار سو خیر مقدم کیا جا رہا ہے۔
اونٹ آخر کس کروٹ بیٹھتا ہے، یہ کچھ دن میں واضح ہو جائے گا۔ صدر صالح معہ خاندان یا تنہا یمن لوٹتے ہیں یا ان کا علاج معالجہ طویل رخ اختیار کر لیتا ہے، مستقبل کے حوالے سے یہ اشارے معنی خیز ہوں گے۔ بوئے یاسمین ہنوز معطر کرنے کی طاقت رکھتی ہے اور کسی طرح کا سیاسی خلا بھی ملک و عوام کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق تمام مخالف دھڑوں اور قبیلوں میں متحد ہوکر عبوری حکومت تشکیل دینے پر اتفاق ہوگیا ہے اور مخالفین کے زیر اقتدار کئی شہروں میں اس کو نافذ کیا جارہا ہے۔ قرین قیاس ہے کہ یہ درپردہ امریکی ایما پر ہو رہا ہے۔ اگر صدر صالح کو یمن لوٹنے سے روکا جاسکتا ہے تو یہ صورت حال میں بہتری لانے کا ایک راستہ ہو سکتا ہے ورنہ لیبیا کی طرز پر یمن میں پھر سے دو حصوں میں تقسیم ہونے کا خطرہ لاحق ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *