وعدوں کا مارا بندیل کھنڈ

سریندر اگنی ہوتری
بندیل کھنڈ میں چتر کوٹ کے گھاٹ پر نہ تو سنتوں کا ہجوم ہے اور نہ چندن پیسنے کے لیے تلسی داس جی ہیں لیکن ہاں بندیل کھنڈ کا درد سننے کے لیے وزیر اعظم منموہن سنگھ اور کانگریس کے جنرل سکریٹری راہل گاندھی ضرور باندہ آئے۔ انھوں نے پانی کی سہولت کے لیے دو سو کروڑ روپے دینے کا وعدہ کر کے آنسو پونچھنے کی کوشش کی ہے، لیکن یہاں کے عوام کے دکھ درد دور ہوتے نظر نہیں آرہے ہیں۔ رو رو کر اپنا حال بتانے والوں میں بھوک اور قرض کے تلے دب کر مرے ہوئے کسانوں کے اہل خانہ تھے، پنشن اور راشن کے لیے بھٹک رہے ضعیف تھے، روزگار گارنٹی سے دھوکہ کھائے مزدور تھے اور دبنگوں، دلالوں کی لاٹھی بندوقوں کے سائے تلے جینے والے ایسے لوگ بھی تھے، جنہیں اپنے اور سماج کے حق کے لیے دخل اندازی کے گناہ میں رسوخ داروں نے پولس سے ساز باز کر کے جیل بھجوایا تھا۔ کھیتی نے پیسہ تو لے لیا، لیکن کھانے کے لیے اناج پیدا نہیںہوپایا۔ گھرمیں فاقہ کشی کی نوبت آ گئی۔ روزی روٹی کے لیے مہاجنوں سے قرض لینا پڑا۔شوہر فکر میں بھوکے سوتے تھے۔ بچے بھوک سے بلکتے تو وہ دکھی ہو کر رات رات بھر روتے رہتے تھے۔خود کشی ان سب سے نجات کا راستہ بن گئی۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ گزشتہ سالوں میں خود کشی کرنے والے لوگوں میں بیشتر کسان ہی تھے، لیکن سرکاری افسران ہمیشہ جھوٹ بولتے رہے۔ بندیل کھنڈ میں غریبی کے سبب لوگوں کا جینا دشوار ہے۔ خشک سالی اس علاقہ کا  مقدر بن گئی ہے۔گزشتہ پانچ سالوں سے مسلسل خشک سالی سے دو چار لوگوں کی حالت سے لگتا ہے کہ صورتحال دھیرے دھیرے 19ویں صدی کی ہولناک قحط سالی جیسی بنتی جا رہی ہے۔مانسون نے بندیل کھنڈ میں اپنے گزشتہ تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ بیشتر کسان خشک سالی کی مار جھیل رہے ہیں اور حکومت مرہم لگانے کی بجائے چابک چلا رہی ہے۔حکومت جب تک زمینی حقیقت تک نہیں پہنچے گی، تب تک پانی کی قلت برقرار رہے گی۔یہاں کے چیک ڈیم لیڈران کی جیبیں بھر رہے ہیں۔ اس لیے کروڑوں روپے خرچ کرنے کے بعد بھی بندیل کھنڈ میں خشک سالی ہے اور یہاں کا کسان بھوکا ہے۔
جھانسی میں بینک کا قرض ادا نہ کرپانے کے صدمہ میں ایک کسان نے ٹرین سے کٹ کر خود کشی کر لی۔ اطلاع ملتے ہی ضلع انتظامیہ سرگرم ہوئی اور افسران نے مہلوک کی بیوی کو مالی امداد دی۔تھانہ بڑا گائوں کے گائوں چھپرا کے رہنے والے ماتا دین اہریوار کا گود لیا ہوا بیٹا رام بابو(42)کسان تھا۔گڑھ مئو ریلوے اسٹیشن سے کچھ ہی دور اس نے ٹرین کے سامنے آ کر خود کشی کر لی ۔ اس کے بھائی ہری موہن نے بتایا کہ رام بابو کے پاس پانچ ایکڑ زراعتی زمین تھی، جسے گروی رکھ کر اس نے اسٹیٹ بینک سے تقریباً 6لاکھ روپے کا قرض لیا تھا۔ اس بار اس نے کھیت میں گیہوں بویا تھا، لیکن پانی نہ ملنے کے سبب بیشتر فصل برباد ہو گئی۔ وہ دو تین مہینہ سے صدمہ میں تھا۔ اسے بینک کے قرض کی فکر ستا رہی تھی جبکہ باندہ ضلع کے نہری گائوں میں غریبی اور قرض کے سبب ہوئی دو موتوں کے سلسلہ میں ضلع انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ان معاملات میں خود کشی کی وجہ بیماری اور گھریلو جھگڑے تھے۔ واضح ہو کہ 27اپریل کو نرینی علاقہ کے گائوں نہری کے رہنے والے جگ پرساد نے پھانسی لگا کر خود کشی کر لی تھی۔ وہیں 29اپریل کو ہیرا من ولد منی رام کی موت ہو گئی۔ چتر کوٹ سے ملحق بندیل کھنڈ کے مدھیہ پردیش حصہ کے ستنا ضلع کے گائوں اٹما تیر میں ایک ضعیفہ کی بھوک سے موت ہو گئی۔ سر پنچ اونکار پرساد شکلا نے ضعیفہ کیس کلی کی موت کی وجہ فاقہ کشی بتائی۔کیس کلی بے سہارا تھی اور گزشتہ چار مہینوں سے ضعیفی پنشن نہ ملنے سے پریشان تھی۔چار پانچ دنوں سے اسے کھانا نصیب نہیں ہوا تھا۔ جالون ضلع کے ہمت پور گائوں کے 65سالہ اروند سنگھ کی کہانی کسی کو بھی فکر مند کر سکتی ہے۔اروند سنگھ کی حالت زار پہلے اتنی قابل رحم نہیں تھی۔ دوسروں کا بھلا کرنے کے جنون میں وہ اس حد تک آگے بڑھ گئے کہ انھوں نے قرض لینے سے بھی پرہیز نہیں کیا۔ سود خوروں کے چنگل میں پھنس کر وہ اپنی پوری آٹھ بیگھا زمین گنوا بیٹھے۔ ان کے پاس نہ راشن کارڈ ہے نہ انہیں ضعیفی پنشن ملتی ہے۔
کس وکاس کے کھل گئے ، یاروں آج کواڑ
ڈرے ڈرے ہت پربھ کھڑے جنگل، ندی پہاڑ
اشوک انجم کا مذکورہ قطعہ بندیل کھنڈ کی کہانی پر صادق ہو رہاہے۔ خشک کنویں، خالی تالاب اور آدھے ادھورے ڈیم دیکھ کر یہاں کے کسان بدحواس گھومتے ہیں۔ قدرت کے قہر اور انتظامیہ کی بے اعتنائی نے انہیں اس قدر بے بس کر دیا ہے کہ وہ جان سے پیاری اپنی زمین کو خدا کے بھروسہ چھوڑ کر دو جون کی روٹی کی تلاش میں نقل مکانی کر رہے ہیں۔جو کہیں نہیں جانا چاہتے، انہیں جینے کے لیے روز جنگ لڑنی پڑ رہی ہے۔انہیں میں چتر کوٹ ضلع کے ڈیولپمنٹ بلاک مانک پور کے بگرہا گائوں کے ساکن کول قبائلی خاتون کیس کلی ہے، جو معذور ہے اور راشن کارڈ، پنشن اور رہائش وغیرہ کی سہولیات سے محروم ہے۔20سال قبل اپنے شوہر کو کھو چکی کیس کلی کی زندگی میں دکھوں کا پہاڑ ٹوٹا ہے۔ڈیڑھ بیگھا زمین مسلسل چار سالوں کی خشک سالی کے بعد بنجر پڑی ہے۔ گائوں میں بھیک مانگ کر وہ کب تک زندہ رہے گی، کہنا مشکل ہے۔اسی ضلع میں میادین ولد مہاویر گائوں بناڑی کا باشندہ ہے۔ بھوک اور قرض کی فکر میں بھائی رام سمیر کی موت ہو گئی۔ اس کے بعد اس کی زمین کی تین بار نیلامی ہوئی۔24اپریل، 2006کو 22بیگھا 5بسوا زمین کی بولی محض 2لاکھ 90ہزار روپے لگائی گئی۔ دوسری بار 20بیگھا زمین کی بولی 7لاکھ 56ہزار روپے اور پھر تیسری بار 9بیگھا 9بسوا کی بولی 3لاکھ 90ہزار روپے لگی اور وہ نیلام ہو گئی۔ میادین نے بتایا کہ اسی دن تحصیل دار کروی نے اسے زبردستی 2گھنٹے لاک اپ میں بند رکھا۔ زمین نیلام ہونے کے باوجود بینک سے مسلسل نوٹس آتے رہے۔
ضلع چتر کوٹ کے صدر دفتر سے 16کلو میٹر دور پہاڑ کے کنارے بسا ترائوں گائوں بنیادی سہولیات سے کوسوں دور ہے۔ بارش پر منحصر ہونے کے سبب زراعتی نظام درہم برہم ہے۔گائوں میں50فیصد آبادی دلتوں کی ہے، جن میں بیشتر بے زمین ہیں۔جن کے پاس زمین ہے، وہ بھی زیادہ سے زیادہ بیگھا یا دو بیگھا۔ پتھریلی زمین ہونے سے زراعتی کام ٹھیک سے ہو ہی نہیں پاتا۔ روزگار کے مواقع نہ ہونے کے سبب فی سال بڑی تعداد میں لوگ نقل مکانی کرتے ہیں۔ فی الوقت 55کنبوں میں سے 100لوگ نقل مکانی کر چکے ہیں۔ ترائوں کی تلسا، راج رانی، چرئیا ،کنور سوتی، ارمیلا ، ہیرا منی، کملا ، ستیہ نارائن، دبیا اور رام ملن وغیرہ کہتے ہیں کہ جب تک کام ملتا ہے، تب تک ہی چولہا جلتا ہے۔ اگر کام نہیں تو کھانا نہیں ہے۔ ہم لوگوں نے سنا تھا کہ روزگار گارنٹی اسکیم کے تحت 100دنوں کا کام ملے گا اور محنتانہ کی ادائیگی ایک یا دو ہفتوں کے اندر ہو جائے گی، لیکن ہمارے گائوں میں تو اس کا الٹا ہو رہا ہے۔ روزگار گارنٹی اسکیم کے تحت ہم لوگ بھی کام کرنے گئے تو پردھان نے ہمیں بھگادیا اور کہا کہ تمہیں جہاں جانا ہے جائو،میرے پاس تمہارے لیے کام نہیں ہے۔جب ہم نے کہا کہ ہمارے پاس جاب کارڈ ہے تو انھوں نے کہا کہ جاب کارڈ تو پورے گائوں کے بنے ہیں، میں سبھی کو کام پر نہیں لگا سکتا۔ کام کرنا ہے تو راجستھان، پنجاب اورسورت چلے جائو، یہاں کام نہیں ہے۔ ستیہ نارائن نے کہا کہ روزگار گارنٹی اسکیم کے تحت تالاب کے کنارے شجر کاری کے کام کے لیے پردھان نے گڑھے کھدوائے ، لیکن آدھا درجن مزدوروں کو پیسہ ابھی تک نہیں ملا۔پردھان اور سکریٹری کہتے ہیں کہ ابھی پیسہ نہیں آیا ہے۔ اب ہم لوگ فاقہ کشی کے دہانے پر کھڑے ہیں اور قرض لے کر نقل مکانی کرجائیں گے۔سماجی کارکن گوپال بھائی کہتے ہیں کہ بندیل کھنڈ کی بدحالی کے بنیادی اسباب پر دھیان دیے بغیر کوئی بھی راحت یہاں مستقل تبدیلی نہیں لا سکتی۔ بھارتیہ کسان یونین کے بورڈ چیئر مین ہردت پانڈے کہتے ہیں کہ 2004سے مسلسل خشک سالی اور قدرتی آفات کے سبب کسان  برباد ہو چکا ہے۔ ہاڑ توڑ محنت کے باوجود بیج تک واپس نہیں ہو پا رہا ہے۔ آبپاشی کے فقدان میں فصلیں سوکھ گئیں، وہیں ژالہ باری نے اور کمر توڑ دی۔ اس لیے بینکوں کی وصولی پر روک لگائی جائے۔ اولا پڑنے سے تباہ ہوئی فصلوں کا معاوضہ پندرہ ہزار روپے فی ہیکٹئر ہر کسان کو دلایا جائے۔ رگھویر سنگھ نے مطالبہ کیا کہ علاقہ کے تالاب جلد از جلد بھرے جائیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *