صنف نازک اسلام کی نظر

محمد احمد اللہ کلیم
زمانۂ جاہلیت میںعورتوں کی حیثیت ایک گھریلو استعمال کی شے سے زیادہ نہ تھی، چوپایوں کی طرح اس کی خرید وفروخت ہوتی تھی، اس کو اپنی شادی بیاہ میں کسی قسم کاکوئی اختیار نہ تھا ، عورت کو اپنے رشتہ داروں کی میراث میں کوئی حصہ نہ ملتا تھا بلکہ وہ خود گھریلو اشیاء کی طرح مالِ وراثت سمجھی جاتی تھی، وہ مردوں کی ملکیت تصور کی جاتی تھی ، اس کی ملکیت کسی چیز پر نہ تھی اور جوچیزیں عورت کی ملکیت کہلاتی تھیں ان میں بھی مردوں کی اجازت کے بغیر کسی قسم کاتصرف کا اختیار نہ تھا، اس کے شوہر کو ہر قسم کا اختیار ہوتا تھاکہ اس کے مال کوجہاں چاہے اورجس طرح چاہے خرچ کر ڈالے ، اس کو پوچھنے کا بھی حق نہ تھا، اگر شوہر مر جائے تو بیوی کو بھی اس کی لاش کے ساتھ جلا کر ستی کردیا جاتا تھا ،یہاں تک کہ یوروپ کے وہ ممالک جوآج کل دنیا کے سب سے زیادہ متمدن سمجھے جاتے ہیں ،ان میں بعض لوگ اس حد کوپہنچے ہوئے تھے کہ عورت کے انسان ہونے کو بھی تسلیم نہ کرتے تھے۔
روماؔ کی بعض مجلسوں میں باہمی مشورہ سے یہ طے کیا گیا تھا کہ وہ ایک ناپاک جانور ہے جس میں روح نہیں، اسی وجہ سے باپ کے لیے لڑکی کا قتل اور اس کوزندہ درگور کردینا جائز سمجھاجاتا تھا ، عورت کے قتل کرنے سے کسی پر نہ تو قصاص اور نہ دیت واجب ہوتی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت سے پہلے 586ء میں فرانس نے عورت پر یہ احسان کیا کہ بہت سے اختلافات کے بعد یہ قرار داد پاس کی کہ عورت انسان تو ہے مگر وہ صرف مرد کی خدمت کے لیے پیدا کی گئی ہے۔الغرض پوری دنیا اور اس میں بسنے والی تمام اقوام ومذاہب نے عورت کے ساتھ ایسا رویہ اپنا رکھا تھا جس کو سن کر انسانیت کے اشک بہنے لگتے ہیں۔
لیکن خدا عزو جل نے اس بے چاری مخلوق پر احسان کیا کہ جناب رحمۃ للعالمینؐ  کو معبوث فرمایا اور آپ کے لائے ہوئے دین اسلام کے ذریعہ دنیا کی آنکھیں کھولیں ،انسان کو انسانیت کی قدر سکھائی، عد ل وانصاف کا قانون جاری کیا ، عورتوں کے حقوق ، مردوں پر ایسے ہی لازم کیے جیسے عورتوں پر مردوں کے ، اس کو آزاد وخود مختار بنایا ، وہ اپنی جان ومال کی ایسی ہی مالک قرار دی گئی جیسے مرد۔ کوئی شخص خواہ باپ داداہی ہو بالغ عورت کو کسی شخص کے ساتھ نکاح پر مجبور نہیں کرسکتا اور نکاح اس کی اجازت پر موقوف رہتاہے۔ اس کے اموال میں کسی مرد کو بغیر اس کی رضا واجازت کے کسی تصرف کا کوئی حق نہیں دیا، شوہر کے مرنے یا طلاق دینے کے بعد اس کو خود مختاری عطا کی، اس کے رشتہ داروں کی میراث سے اس کو بھی ایسا ہی حصہ دلایا جیسا مردوں کو ملتا ہے، اس پر خرچ کرنے اور اس کو راضی رکھنے کو شریعت محمدیہؐ نے ایک عبادت قرار دیا ، شوہر اس کے حقوق واجبہ ادا نہ کرے تو وہ اسلامی عدالت کے ذریعہ اس کو ادائے حقوق پرمجبور ورنہ طلاق پر مجبور کرنے کا اختیار دیا۔
عورت کواس کے حقوق نہ دینا ظلم وجور اور قساوت وشقاوت تھی جس کو اسلام نے مٹایا ، اسی طرح اس کو کھلے مہار چھوڑدینا اور مردوں کی نگرانی وسیادت سے آزاد کردینا ، اس کو اپنے گزارے اور معاش کا خو د کفیل بنانا بھی اس کی حق تلفی اور بربادی ہے اورنہ ہی اس کی ساخت اس کی متحمل ہے ، البتہ گھریلوکاموں کی ذمہ داری اور اولاد کی تربیت کا عظیم الشان کام جوفطرتاً اس کے سپرد ہے، اس کی وہ متحمل ہے۔
علاوہ ازیں مردوں کی سیادت ونگرانی سے نکل کر عورت پورے انسانی معاشرہ کے لیے خطرۂ عظیم ہے ، جس سے دنیا میں فساد و خوں ریزی اور طرح طرح کے فتنے پیدا ہونا لازمی اور روز مرہ کا مشاہدہ ہے، اس لیے قرآن کریم نے پہلے عورتوں کے حقوقِ واجبہ کو بیان فرمایا  :  ’’ان کے حقوق مردوں کے ذمہ ہیں جیسے ان کے ذمہ مردوں کے حقوق ہیں معروف طریقے کے ساتھ۔‘‘ پھر اس کے بعد ارشاد فرمایا : ’’ مردوں کا درجہ عورتوں سے بڑھا ہوا ہے۔‘‘(سورہ بقرہ: 228)۔ اس کا مشہور مطلب تو یہی ہے کہ حقوق طرفین مساوی ہونے کے باوجود حق تعالیٰ نے مردوں کو عورتوں پر ایک درجہ کا تفوق اور حاکمیت عطا فرمادی ہے تاکہ دنیاوی امور میں مرد اس کی رہنمائی کرسکے اور اس درجہ میں بڑی حکمتیں ہیں ۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مردوں کو عورتوں کے مقابلہ میں بڑا درجہ دیا ہے اس لیے ان کو زیادہ تحمل سے کام لینا چاہیے ، لیکن یہاں یہ واضح رہنا چاہیے کہ یہ درجہ صرف دنیوی معاملات کی حد تک ہے کیوں کہ فضلیت عند اللہ کا تمام تر مدار ایمان اور عمل صالح پر ہے ۔
جس طرح اسلام سے پہلے معاشرہ میں عورتوں کی کوئی حیثیت نہ تھی ،موجودہ دور میں بھی زمانۂ جاہلیت کا طریقہ عود کر آیا ہے۔ موجودہ وقت میں پہلی غلطی کا رد عمل اس کے بالمقابل دوسری غلطی کی صورت میں کیا جارہا ہے کہ عورتوں پر مردوں کی اتنی سیادت سے چھٹکارا حاصل کرنے اور کرانے کی سعی مسلسل جاری ہے ، جس کے نتیجے میں فحش وبے حیائی عام ہوگئی ، دنیا جھگڑوں اور فساد کا گھر بن گئی ،قتل و خوں ریزی کی اتنی کثرت ہوگئی کہ جاہلیت اولیٰ بھی مات کھا گئی۔
آج کی حکومتیں دنیا میں قیام ِ امن کے لیے روز نئے نئے قانون بناتی ہیں ،اس کے لیے نئے نئے ادارے قائم کرتی ہیں ، کروڑوں روپیہ ان پر صرف ہوتا ہے، لیکن فتنے جس چشمے سے پھوٹ رہے ہیں اس کی طرف دھیان نہیں دیتیں۔ آگر آج کوئی کمیشن اس تحقیق کے لیے بٹھایا جائے کہ فساد وخوں ریزی اور باہمی جنگ وجدل کے اسباب کی تحقیق کرے تو خیال یہ ہے کہ پچاس فیصد سے زائد ایسے جرائم کا سبب عورت اور اس کی بے مہا ر آزادی نکلے گی ، مگر آج کی دنیا میں نفس پرستی کے غلبہ نے بڑے بڑے حکماء کی آنکھوں کو خیرہ کردیا ہے ،خواہشات نفسانی کے خلاف کسی مصلحانہ قدغن کو گوارا نہیں کیا جاتا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *