حضرت خواجہ غریب نواز ہندوئوں اور مسلمانوں میں جذباتی یکجہتی کے پل

فیروز بخت احمد
جہاں تک چشتیہ ، نقشبندیہ ، قادریہ وغیرہ سلسلوں کا تعلق ہے ، ان تمام صوفیائے کرام کی خانقاہوں و جماعت خانوں میں ہر مذہب کے لوگ جاتے تھے اور بلا کسی قوم و فرقہ کی تفریق کے ، سبھی کے لیے لنگر تقسیم ہوا کرتا تھا۔ اجمیر میںحضرت خواجہ شیخ معین الدین چشتیؒ،دہلی میں خواجہ حضرت نظام الدین اولیائؒ، حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکیؒ، حضرت خواجہ چراغ دہلویؒ،اجودھن میں حضرت بابا فرید ؒ ، کشمیرمیں نند رشی نور الدین ولی ؒ ، گلبرگہ میں حضرت خواجہ گیسو دراز ؒ وغیرہ سبھی وہ صوفیائے کرام تھے کہ جن کی خانقاہوں میں خیر سگالی کے پر سکون ماحول میں تعلیمات کا سلسلہ چلتا تھا اور جہاں صوفیوں ، قلندروں اور یوگیوں کی ایک بڑی تعداد کے علاوہ عام لوگوں کی بھی بہت بڑی تعداد موجود ہوتی تھی۔
حضرت خواجہ شیخ معین الدین چشتی ؒکا 795واں عرس جولائی کے دوسرے ہفتہ میں ان کی درگاہ میں اجمیر شریف میں شروع ہونے والا ہے جس کی زوردار تیاریاں چل رہی ہیں۔ اجمیراور اس کے اطراف میں مہینہ بھر پہلے سے ہی لوگوں کی آمد شروع ہو گئی ہے ۔ چونکہ حضرت خواجہ غریب نواز کے چاہنے والے ہر مذہب وطبقہ ودنیا کے ہر خطہ سے تعلق رکھتے ہیں تو آنے والوں کا اژدہام لاکھوں میں پہنچ جاتا ہے۔ صوفیائے کرام مانتے ہیں کہ حضرت محمد ؐ خود سب سے بڑے صوفی تھے۔ان صوفیائے کرام کی نورانی محفل میں کس قسم کی مذہبی روادار اور باہمی ہم آہنگی کا ماحول رہتا تھا،روحانیت و تصوف کی بات چلتی تھی، اس کی مثال ہمیں اس چھوٹے سے واقعہ سے مل جاتی ہے۔ ایک مرتبہ کی بات ہے کہ حضرت خواجہ شیخ نظام الدین اولیا ؒ کی درگاہ پر ان کے محبوب ترین مرید اور جانے مانے صوفی حضرت امیر خسرو ؒ سے کسی نے کہا کہ ہندوؤں کی بت پرستی پر ان کا کیا خیال ہے تو ان کا جوا ب تھا ، ’’اے کہ طعنہ زبت بہ ہندو بری، ہم زِوے آموز پرستش گری‘‘یعنی کہ اے شخص کہ جو ہندؤں کے بتوں پرطعنہ زنی کرتا ہے کاش ان سے یہ بھی سیکھے کہ پرستش کس طرح کی جاتی ہے۔
بقول حضرت خواجہ حسن ثانی نظامی، صوفیائے کرام کی نورانی دنیا میںحضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ اس وجہ سے بھی عظیم المرتبت مانے جاتے ہیں کہ انہوں نے وہ مختلف مقامی رسم و رواج کہ جو شریعت کے خلاف نہیں تھے،اپنا کر مذہبی ومعاشرتی رواداری کا بہترین نمونہ قائم کر ہندو مسلم بھائی چارے کو فروغ دیا۔ یہی نہیں صوفیائے کرام نے عبادت کے بہت سے ایسے طریقے بھی اپنائے کہ جو غیر اسلامی نہ تھے اورجن سے مختلف قومیں بھی جڑیں۔ خواجہ غریب نوازؒنے موسیقی کو سما ع کے ذریعہ رائج کیا۔ موسیقی ہندوستانی تہذیب کا ایک حصہ ہے۔
آپ کے زمانہ میں درگاہ میں گروہوں میں غیر مسلم لوگ آکر یہاں بھجن اور غزلوں کا سماع باندھتے تھے۔ اس قسم کی سماع نے صوفیانہ کلام کی روح کو نہ صرف غذائیت بخشی بلکہ موسیقی کے ساتھ اس کو ہندوؤں اور مسلمانوں میں جذباتی یکجہتی کا پُل بھی بنا دیا۔ اس کے بعد ایک وقت ایسا بھی آیا کہ حضرت امیر خسرو ؒ نے اس قسم کے مختلف راگ ایجاد کیے جو ہندوستانی کلاسیکی موسیقی کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ سماع ، قوالی ،بھجن وغیرہ عبادت کا وہ حصہ ہیں جن سے انسان دنیا و مافیہا بھول کر خدا کی یاد میں ایسا کھو جاتا ہے کہ اسے کسی چیز کی خبر نہیں رہتی۔ موسیقی میں جو مستی خدا کو یاد کر کے حاصل ہوتی ہے، وہ دیگر کسی قسم کے معاملہ میں نہیں ہوتی۔
جہاں تک خواجہ غریب نواز ؒ کا تعلق ہے ان کی سحر انگیز شخصیت اور قرآن و حدیث پر سختی سے پابندی نے عوام الناس کے ذہن پر دیر پا اثر چھوڑا۔ قانونِ شریعت خواجہ غریب نواز کا اوڑھنا بچھونا تھا۔ خواجہ صاحب کی خانقاہ ذات پات سے پاک ایک ایسی جگہ تھی جہاں ہر مذہب کے لوگ آتے تھے۔
وہ ان سے بڑی سختی کے ساتھ اپنے مذہب پر کار بند رہنے اور دوسروں کے مذاہب کو برا نہ کہنے کی تلقین کرتے۔ مہاتما گاندھی، راجا رام موہن رائے، مارٹن لوتھر کنگ وغیرہ جیسے بین الاقوامی اہمیت کے حامل رہنما ؤں سے قبل خواجہ غریب نواز نے ذات، برادری، رنگ وغیرہ کی تفریق کے خلاف سب سے پہلے ہندوستان میں آج سے 800 سال قبل آواز بلند کی کیونکہ پورا سماج اس وقت چھوٹی بڑی ذاتوں میں بٹا ہوا تھا اور لوگ چھوت چھات میں یقین رکھتے تھے۔ انہیں بڑی تکلیف ہوتی تھی جب وہ یہ دیکھتے تھے کہ اونچی ذات والے لوگ نچلی ذات والے غریب و معصوم لوگوں کے ساتھ غلاموں کا سا برتاؤ کرتے تھے ۔ آ پ فرمایا کرتے تھے کہ جس شخص میں دریا کی سی سخاوت، آفتا ب کی سی شفقت اورزمین کی سی تواضع شامل ہے ، اس شخص کو اللہ عزیز رکھتا ہے۔ انہوں نے وحدت اوراتحاد کا سبق اپنی آنکھوں سے سکھایا کہ دونوں الگ الگ ہیں لیکن ان کی بینائی ایک ہی سی ہے یعنی : ’’یگانہ بودن ویکتا شدن ز چشم آموز، کہ ہر دو چشم جداوجد نمی نگر ند ۔‘‘
خواجہ صاحب کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جس وقت آپ اجمیر میں قیام کررہے تھے تو صوفی درویش حمید الدین ناگوریؒنے دریافت کیا کہ اگر ایک شخص دنیا کو ترک کرنا چاہتا ہے تو اسے کیا کرنا ہوگا ۔اس پر آپ نے فرمایا کہ اس کے لیے9باتوں پر عمل کرنا ضروری ہے تاکہ درویش مکمل طور سے طریقت پر پابند رہے ۔ پہلی یہ کہ دولت کمانے سے بچو۔ دوسری کہ کبھی کسی سے ادھار نہ لو۔ تیسری کہ اگر سات دن کے فاقے سے بھی ہو تو بھی کسی سے نہ تو کچھ کہو اورنہ کوئی مدد حاصل کرو۔ چوتھی یہ کہ کسی کو بددعا مت دو اوراگر کسی کو بہت زیادہ تکلیف پہنچی ہے تو خدا سے دعا کرے کہ وہ اسے نیکی کی توفیق دے۔ پانچویں بات اگر اچھی مقدار میں کھانا، روپیہ ، اناج ، کپڑے وغیرہ حاصل ہو جائیں تو دوسرے دن کے لیے ان میں سے کچھ بھی اپنے پاس نہ رکھو اوردے دلا دو ۔ چھٹی بات یہ کہ چونکہ شریعت بلا ضرورت بات کرنے اور وقت پر خاموش رہنے دونوں ہی چیزوں کو پسند نہیں کرتی، لہٰذا ناپ تول کر بولو اور انہی الفاظ کا استعمال کرو جو اللہ کو پسند ہوں اور غرور و تکبر والے الفاظ سے بچو۔ ساتویں بات یہ کہ دن بھر روزہ رکھو اور رات عبادت میںگزارو۔ آٹھویں بات یہ کہ اگر کوئی غلطی ہو جائے تو اس کے لیے خود کو ذمہ دار مانو اور آگے کے لیے محتاط رہو ، خدا سے توبہ کرو۔ نویں اور آخری بات یہ کہ جب بھی کوئی نیک عمل کرنا ہے تو یہ سوچو کہ یہ محمد ؐ کے طفیل ہے اور پیرو مرشد کی مہربانی و خدا کی رحمت کا نتیجہ ہے۔
ان تمام تعلیمات کے بعد آج جب ہم صوفیائے کرام کی درگاہوں پر یہ دیکھتے ہیں کہ کس طرح سے لوگ ان کے نام پر کاروبار کر رہے  ہیں ان کی جگہوں پر قبضہ کر رہے ہیں ، ان کی تعلیمات کو اپنی شرمناک حرکات سے پامال کر رہے ہیں تو دل کو بڑی تکلیف پہنچتی ہے۔ 1955میں سرکار نے ایک اجمیر درگاہ کمیٹی کا انعقاد کیا تھا جس میں 9 ممبران رکھے جاتے ہیں ۔ یہ کمیٹی اس وجہ سے بنائی گئی تھی کہ درگاہ پر جانے والے زائرین نے بدانتظامی کی شکایات کی تھیں۔ اس سے قبل درگاہ کا تمام انتظام خدام حضرات کی انجمن دیکھا کرتی تھی ۔ خدام حضرات کہتے ہیں کہ ان کا شجرہ حضرت خواجہ معین الدی چشتی ؒ سے جاکر ملتا ہے اورجس کی بنیاد پر انہیں کورٹ میں ریلیف بھی ملا ہے ۔
در اصل حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ کے ساتھ دو خدمتگار رہا کرتے تھے جو ان کے ساتھ ہندوستان بھی آئے۔ ان کے نام تھے خواجہ سید فخر الدین اور شیخ محمدیادگار۔ خدام حضرات کا شجرہ انہی خدمتگار ان سے ملتا ہے۔ آج خدام حضرات کے خاندانوں کا خرچہ درگاہ میں آئے نذرانوں سے چل رہا ہے۔ یہ خواجہ غریب نواز کی دعاؤں اور اللہ کی رحمت کا نتیجہ ہی ہے کہ اجمیر میں تقریباً5000 خاندان ِ خدامان اوربہت سے دیگر لوگوںکا خرچہ ان کی درگاہ پر آئے نذرانوں سے چل رہا ہے ۔
اور بھی اچھا ہوتا کہ اگر یہ خدام حضرات اس رقم کو ملّی کاموں میں لگاتے جیسے اسکول ، کالج، اسپتال، ڈسپنسریاں ، یتیم خانے وغیرہ کی تعمیر کرنا۔ پھر اس سے آئے پیسہ کو مزید اچھے کاموں میں لگانااور مارکیٹنگ کا ایک ایسا سلسلہ بنانا کہ جس سے نہ صرف ان کو فیض پہنچے بلکہ ہر مستحق شخص کی مدد کی جا سکے بھلے ہی اس میں وہ غریب لوگ ہوں کہ جو بیمار ہیںجو علاج کا پیسہ نہیں دے سکتے، وہ بیوائیں کہ جن کا کوئی ذریعۂ معاش نہیں یا وہ طالب علم ہیں کہ جن کے پاس مزید فیس دینے کو نہیںہے، بہتر ہوتا۔ اگر خدامان حضرات اس سلسلہ پر سوچیں ، اچھے انگریزی میڈیم اسکولوں کی بنیاد ڈالیں اور خواجہ غریب نواز کے نام میں ایک اعلیٰ معیاری یونیورسٹی راجستھان میں کھولیں تو وہ لوگ خواجہ غریب نوازؒ کے خوابوں کی تعبیر کا سبب بنیں گے لیکن اگر محض نذرانوں کو خرچ کرتے رہیں بجائے اس کے کہ اپنی جیب سے کچھ لگائیں، تو یہ مناسب سی بات نہیں دکھائی دیتی۔
آج خواجہ غریب نواز کی درگاہ کمیٹی کے خلاف ہزاروں شکایتیں موصول ہو رہی ہیں، درگاہ کمیٹی کی کارگزاریوں کی تفتیش کرنے کے لیے دلی ہائی کورٹ کے کہنے پر وزارت برائے اقلیتی امور کی جانب سے جو انکوائری کمیٹی بنی تھی، اس نے اپنی 69صفحات اور489ثبوت والے صفحات پر مبنی اپنی رپورٹ راقم السطور کے ذریعہ جو کہ اس کمیٹی کا کنوینر بھی تھا، 15اپریل 2007کو حکومت کو سونپ دی ہے۔ اب انتظار اس بات کا ہے کہ حکومت جلد ایکشن لے اور غلط معاملات میں ملوث تمام ممبران کو ہٹا کر ملت کا درد رکھنے والے خواجہ غریب نوازؒ سے محبت کرنے والے اور ایماندار لوگوں کو اس نئی کمیٹی میں لے کر آئے تاکہ آنے والے 795ویں عرس میں زائرین کو کوئی مسائل پیش نہ آئیں۔

Share Article

One thought on “حضرت خواجہ غریب نواز ہندوئوں اور مسلمانوں میں جذباتی یکجہتی کے پل

  • February 22, 2012 at 8:50 am
    Permalink

    بحق خواجہ عٹمان ھارون مدد کن یا معین الدین چشتی

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *