کسان رہنما مہندر سنگھ ٹکیت دائمی سفر پر روانہ

ڈاکٹر اسلیم جمشید پوری
الوداع اے کسانوں! ہم تو سفر کرتے ہیں۔ اب تم کو اپنی زمینوں اور فصلوں کی حفاظت خود کرنی ہے۔ ایک طرف نوئیڈا کے بھٹہ پار سول میں کسا نوں پر مظا لم کا پہا ڑ ٹوٹ رہا تھا، انگریزی حکومت کی یا د تا زہ کر نے وا لے ظلم و بربریت کے نظا رے زندہ ہو رہے تھے۔دوسری طرف عظیم کسان رہنما، موت کے پنجے میں گرفتار، بے بس، نا توانی ٔ جسم کا شاکی، مرغِ بسمل کی طرح تڑپ رہا تھا۔ اس کے کسان سا تھیوں کو بے دریغ گولیوں کا نشا نہ بنایا جارہا تھا۔ ان کی زمینوں کو اونے پو نے دا موں چھینا جارہا تھا۔ یہ منظر 1857 کا نہیں، نہ ہی بے قصور کسا نوں پر گو لیاں داغنے وا لا کوئی جنرل ڈائر تھا۔ اپنی ہی زمینوں کی وا جب قیمت مانگنے وا لے کسا نوں کو ان کے ہی گھر میں گھس کر لاٹھی، ڈنڈوں اور گولیوں سے بری طرح مارا گیا، کئی کسان لقمۂ اجل بن گئے۔ بہت سے زخمی ہوئے۔ ان سب کا گہرا اثر کسان رہنما پر ہوا۔ وہ اتنا بے بس کبھی نہیں تھا۔ اس کی بر وقت مداخلت سے صو بائی تو صو بائی، مرکزی حکومت کو بھی ان کے آ گے جھکنا پڑا تھا۔ ان شدید گہرے زخموں کی تاب نہ لاتے ہو ئے چودھری مہندر سنگھ ٹکیت نے 15؍ مئی کی صبح آخری سانس لی۔ جاتے جاتے کسان رہنما کی آ نکھیں اپنے کسان سا تھیوں سے شاید یہی کہہ رہی تھیں۔’’الوداع اے کسانوں! ہم تو سفر کرتے ہیں۔ اب تم کو اپنی زمینوں اور فصلوں کی خود حفاظت کرنی ہے۔‘‘
چودھری ٹکیت(1936-2011) کے انتقال سے کسان سیاست کے ایک سنہرے دور کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ انہوں نے اپنی محنت اور ہمت سے میرٹھ، مظفر نگر کو ایک نئی پہچان دی۔اپنی سا دگی اور خا لص دیہاتی زبان کے بل پر انہوں نے ہم عصر کسان لیڈران کو کا فی پیچھے چھوڑ دیا تھا۔ ان کی ایک آواز پر لاکھوں کسان، مزدور اور عام انسان جمع ہو جاتے تھے۔ انہوں نے کھیتوں کھلیا نوں، دھول بھری سڑکوں، چو را ہوں، گا ئوں کی گلیوں میں اپنا خون پسینہ بہا کر اپنے کسان ساتھیوں کا ساتھ دیا۔ دیگر کسان لیڈروں کی طرح اے سی بنگلوں، اے سی کا روں میں بیٹھ کر کسان سیاست نہیں کی۔ انہوں نے کسا نوں کے ہر درد، غم اور خو شی میں ان کا سا تھ دیا۔ کبھی سیا ست، اعلیٰ عہدوں، ایوا نوں میں کرسی ہتھیانے کی کوشش نہیں کی۔ اسی سبب ان کی الگ شناخت قائم ہو ئی۔ انہوں نے گندی سیاست سے خود کو دور رکھا۔ قول و فعل کے پکے، کسا نوں اور مظلوموں کے لیے ہر وقت تیار رہنے وا لے عظیم رہنما کی سادگی نے انہیں جو ہر دلعزیزی عطا کی تھی وہ صدیوں میں اکا دُکا لوگوں کے نصیب میں آ تی ہے۔ لیکن یہ ہر دلعزیزی اچا نک آسمان سے نہیں اترتی۔ انسان کا خلوص، اخلاق اور اعمال اسے اس راہ پر لے جاتے ہیں۔ چودھری ٹکیت جنہوں نے1986 ء میں بھارتیہ کسان یونین کی کمان سنبھا لی اور تب سے شاید ہی کو ئی دن ایسا گزرا ہو، جب انہوں نے اُ ٹھتے بیٹھتے کسانوں کے بارے میں نہ سو چا ہو۔ زندگی کا پہلا میدان عمل کرمو کھیڑی تھا۔ کسا نوں کے حق کی وہ لڑا ئی لڑی جو ہمیشہ سنہرے حرفوں میں لکھی جائے گی۔عدم تشدد کے حا می چودھری ٹکیت کی زندگی کا نظریہ یہ تھا’’ تشدد نہ اپنا ئو، لیکن اتنے بھی نہ جھکو کہ ریڑ ھ کی ہڈی بھی جواب دے جائے۔‘‘ تمام زندگی اسی اصول پر عمل کرتے رہے۔ 80 ء کی دہا ئی میں اتر پردیش کے سا بق وزیر اعلیٰ ویر بہادر سنگھ کی ہیکڑی ڈھیلی کرنے کا معا ملہ ہو، 87 ء میں کرمو کھیڑی میں کسانوں کے بجلی بل میں تخفیف کے لیے سرکار کو مجبور کر نے کا واقعہ ہو،88ء میں میرٹھ کمشنری اور سی ڈی اے میدان پر لاکھوں کسا نوں کے ساتھ25 دن کا تاریخی دھرنا ہو، بوٹ کلب پر لا کھوں کسانوں کی قوت کا مظا ہرہ ہو،89ء میں نعیمہ کانڈ کو لے کر اتر پردیش حکومت کے خلاف بھوپا کنگ نہرپر39 دن کا کامیاب دھرنا ہو یا پھر2008ء میں بجنور کے ایک جلسۂ عام میں وزیر اعلیٰ مایا وتی کو برا بھلا کہنے اور پھر سرکاری عملے اور انتظا میہ کے سسولی گائوں میں ٹکیت کو پکڑ نے کی ناکام کو شش کا معا ملہ ہو، ٹکیت کبھی بھی ظلم اور ظا لم کے آ گے نہیں جھکے۔ انہوں نے ظا لموں کو بے نقاب کر نے کا کام کیا۔ کسا نوں پر ہو نے وا لے ظلم و ستم کے خلاف ہمیشہ کمر بستہ رہے۔ مظفر نگر کے گا ئوں سسولی(Sisoli) کی خاک سے اُ ڑنے وا لا یہ ذرّہ آ فتاب بن کر چمکا۔ نہ صرف مغربی اتر پردیش، بلکہ مشرقی اتر پردیش، دہلی، پنجاب، ہریانہ، راجستھان، مدھیہ پردیش اور یہاں تک کہ مہا راشٹر کے کسا نوں کے معا ملات اور مسا ئل کو لے کر ٹکیت نے جدو جہد کی۔ ہمیشہ سر کاروں سے ٹکرا ئو ہو تا تھا۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ ایماندار تھے، تحریک کے تئیں وفادار تھے، ورنہ سیاسی لالچ اور ہوس ہر وقت انہیں گھیرنے کے فراق میں رہتی تھی۔
ٹکیت ایک عظیم انسان بھی تھے۔ ان کی عظمت کی گواہ ان کی ریلیوں اور دھرنوں میں ان کی موجود گی، وہ بھی سادگی بھری زندگی، کسا نوں کے بیچ بیٹھے حُقہ پی رہے ہیں، بھوک لگی تو سب مل کر مکئی کی رو ٹی اور ساگ کھا رہے ہیں اور پھر وہیں زمینوں پر لیٹ گئے۔ کبھی دھول اور مٹی سے نفرت نہیں کی۔ ویسے تو وہ کسا نوں کے لیڈر کے طور پر پو رے ملک میں اور بیرون ملک بھی جانے جاتے تھے، لیکن انہوں نے سماج کے ہر طبقے کی لڑائی میں اپنی حصہ داری نبھا ئی۔ طالب علموں نے بھی جب جب انہیں اپنے مسائل کے لیے یاد کیا وہ ہمیشہ آ گے آ ئے۔2006ء میں میرٹھ یونیورسٹی کے مشہور کاپی کانڈ کے بعد جب طالب علم دھرنے پر بیٹھے تھے تو مہندر سنگھ ٹکیت نے اسٹو ڈینٹس کے درمیان آکر اُ ن کی بات سنی اور سا بق وا ئس چانسلر ایس پی اوجھا سے سخت لہجے میں بات کی۔ پرو فیسر اوجھا بغلیں جھانکنے لگے تھے۔ اسی طرح پرو فیسر ایس کے کاک کے ہاسٹل خالی کرا نے کی تحریک کی مخالفت میں طلبا و طالبات دھرنے پر تھے تو چودھری ٹکیت یو نیورسٹی آ ئے تھے۔ طا لب علموں کے مسائل سن کر، وا ئس چانسلر کے پاس گئے اور وائس چانسلر کی بات سن کر(جو کہ انہیں صحیح لگی) طالب علموں کو ہی سمجھایا تھا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ کبھی غلط کا ساتھ نہیں دیتے تھے اور نہ ہی غلط بات کو پانی دیتے۔
چو دھری ٹکیت نے کبھی بھی سیا ست کو اہمیت نہ دی۔ ہمیشہ متعدد سیاسی پارٹیوں نے انہیں سیاسی جوڑ گھٹائو میں لا نے کی کوشش کی۔ لیکن وہ ہمیشہ کسا نوں کی لڑا ئی کو ہی ترجیح دیتے رہے۔ حقہ ان کی لڑا ئی کی علا مت کے طور پر جانا جاتا ہے۔ کہیں بھی جاتے حقہ ساتھ ہو تا۔حقہ جہاں ان کے زمینی رشتے کی گوا ہی دیتا تھا وہیں کسا نوں کی قربت کی نشانی بھی تھا۔ چو دھری ٹکیت کی زندگی کے سنگ میل درج ذیل ہیں، جن کو عبور کر کے ہی ایک معمولی کسان سے وہ عظیم کسان لیڈر بنے۔
n    17؍ اکتوبر1986ئ:   سسولی میں ایک مہا پنچایت کا اہتمام کیا۔ جس میں سبھی ذا توں، مذہبوں اور کھاپوں کے چو دھریوں اور کسا نوں اور کسان رہنما ئوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی تھی۔اس تاریخی اجلاس ہی میں’’بھارتیہ کسان یو نین‘‘ کی تشکیل ہو ئی اور پہلی بار چو دھری ٹکیت کو اس کا صدر منتخب کیا گیا۔
n    یکم اپریل1987ئ:   ٹکیت کی رہنما ئی میں بجلی کی قیمتوں میں اضا فے کے خلاف بھا رتیہ کسان یونین نے مظفر نگر کے کرمو کھیڑی گائوں کے بجلی گھر کا گھیرا ئو کیا تھا۔ اس میں لگ بھگ تین لاکھ کسا نوں نے شر کت کی تھی۔یہ ایک بڑا گھیرا ئو تھا۔ اس وقت کی سرکار کو ٹکیت کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پڑے تھے اور بالآخر بجلی کی قیمتوں میں اضافے کو وا پس لینا پڑا تھا۔
n    11؍ اکتوبر1987ئ:   سسولی میں تنظیم کا ایک عظیم الشان جلسہ منعقد ہوا۔ اس میں تقریباً30 لاکھ کسان پہلی بار کسی گائوں میں جمع ہو ئے تھے۔ اس جلسے میں اس وقت کے وزیر اعلیٰ ویر بہادر سنگھ بھی شریک ہو ئے تھے۔
n    27؍ جنوری1988ئ:   میرٹھ کا تاریخی کمشنری گھرائو عمل میں آیا۔ یہ گھیرا ئو تقریباً25دنوں تک چلا تھا۔ اس گھیرا ئو کا مقصد تھا، کسا نوں کوسستے دا موں بجلی اور نہر کا پانی دستیاب ہو۔ کسا نوں کے مقدمے وا پس ہوں، زراعتی آلات سستے کیے جائیں۔ کسا نوں کو24 گھنٹے بجلی ملے۔ میرٹھ میں 25 دنوں تک چلنے وا لے اس تاریخی دھرنے کی کمان خود چودھری ٹکیت نے سنبھا لی تھی۔ اس تحریک میں تقریباً10 کسان شہید ہو ئے تھے۔ بالآ خر سر کار کو ٹکیت کے آگے جھکنا پڑا تھا۔ اس تحریک کی کامیابی ہر خا ص و عام کا دھرنے میں شامل ہو نا تھی۔
n    23؍ مارچ1988ئ:   بھارتیہ کسان یو نین کی جانب سے رجب پور ستیہ گرہ تحریک چلا ئی گئی۔
n    25-31؍ اکتوبر1988ئ:   نئی دہلی کے بوٹ کلب میں ایک ہفتہ تک بڑا دھرنا دیا گیا۔ اس دھرنے کو ہٹا نے کے لیے اس وقت کے وزیر اعظم را جیو گاندھی نے کافی طاقت کا استعمال کیا تھا۔ خود ٹکیت بھی لاٹھیوں کی زد میں آئے تھے۔ اس دھرنے کا ایک جملہ جو ٹکیت نے اپنے خطاب میں استعمال کیا تھا، بہت مشہور ہوا تھا۔’’انڈیا والو خبر دار، اب بھا رت دلّی میں آ گیا ہے۔‘‘
n    3؍ اگست1989ء :   چو دھری ٹکیت کی رہنما ئی میں بھا رتیہ کسان یو نین نے نعیمہ اغوا معاملے کو لے کر اتر پردیش حکومت کے خلاف39 دنوں تک بھو پا گنگ نہر پر دھرنا دیا تھا۔ اس میں بھی سرکار کو جھکنا پڑا تھا اور فتح ٹکیت اور ان کے سا تھیوں کی ہو ئی تھی۔
ان عظیم دھرنوں اور جلسے جلوسوں نے ٹکیت کو عظیم کسان لیڈر کے طور پر مستحکم کردیا تھا۔ چو دھری چرن سنگھ کے بعد، چو دھری ٹکیت نے اس خلا کو پُر کیا۔ ٹکیت کو متعدد بار جیل کی بھی ہوا کھا نی پڑی۔ ہر بار جیل سے باہر آ کر نئی قوت کے ساتھ کسانوں کی لڑا ئی لڑتے رہے۔
NH-58 کی لڑا ئی میں کسا نوں کی جیت بھی ٹکیت کی ہی محنت کا نتیجہ ہے۔ شاہراہ کے لیے کھتو لی کے کسا نوں کو مناسب ادائیگی نہ ہو نے کے خلاف ٹکیت نے دھرنا دیا تھا۔
میرٹھ کے حا لیہ وکٹو ریہ پارک آتشزدگی معا ملے کے متاثرین کو بھی ٹکیت نے نہ صرف علاج معالجے کی سہولیات فراہم کیں بلکہ انہیں معاوضہ بھی دلوا یا۔سردھنہ میں دورالہ چو راہا پر لگنے وا لے سینکڑوں ٹھیلے جب انتظا میہ نے ہٹا دیے اور مقا می لیڈران نے اس کے لیے دھرنا دیا تو ٹکیت نے دھرنے پر آ کر ایس ڈی ایم سے ٹھیلے وا لوں کی روزی روٹی کا انتظام کروا یا اور پھر ٹھیلے پہلے ہی کی طرح لگنے لگے۔
چودھری مہندر سنگھ ٹکیت کے کا رنا موں کی تفصیل خا صی طویل ہے، جس کے لیے ایک بھر پور مقالے کی گنجائش ہے۔ لیکن اس عظیم رہنما کی بے بسی دیکھئے، کہ عمر کے آخری ایام، بھٹہ پارسول کے کسا نوں پر ہو رہے مظا لم کو دیکھتے ہوئے گزرے۔ لیکن کسان ٹکیت کے نام کو زندہ رکھیں گے۔ وہ ان کے لیے ہر ظلم کے خلاف آواز اُ ٹھا ئیں گے۔ جب جب ظلم و جبر بڑھے گا ، انہی عام کسا نوں میں سے ٹکیت پیدا ہوں گے کیوں کہ یہ تو فطرت کا اصول ہے کہ ہر فرعون کو موسیٰ سے مقابلہ کرنا ہو تا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *