فاربس گنج پولس فائرنگ نیشن کمار حکومت پر ایک کلنک

عابد انور
ہندوستان میں مسلمانوںکا خون اس قدر ارزاں ہے کہ کوئی بھی اورکسی بھی وقت ان کا قتل کرسکتا ہے اور قاتل کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا ہے۔ سوائے معدودے چند واقعات کے جس میں کچھ پرمقدمہ چلا ہے لیکن نتائج کا اب بھی انتظار ہے۔ ہمارے پاس مسلمانوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کی ایک طویل فہرست ہے جس میں مسلمانوں کے ساتھ ظلم برپا کرنے والے اونچے عہدے پر پہنچے، کانسٹبل انسپکٹر بن گیا ہے اور انسپکٹر ڈی ایس پی اور ایس پی یا پولیس کمشنر ڈائرکٹر جنرل پولیس کے عہدے سے ریٹائر ہوا ۔ یہ انعامات انہیں مسلمانوں کے قتل عام کرانے کے عوض دئے گئے تھے۔ مثال کی کوئی کمی نہیں میرٹھ ملیانہ کے فسادات کو پچیس سال ہوگئے لیکن کسی پولیس والا کابال بھی باکا نہیں ہوا۔ ممبئی فسادات کو تقریباً اٹھارہ سال ہوگئے لیکن آج اس میں کسی کو سزا نہیں ملی، اسی طرح گجرات قتل عام کے مقدمات کی انکوائری کچھوے کی چال سے چل رہی ہے لیکن مسلمانوں کے خلاف فسادیوں یا ظلم کرنے والوں کو خواہ کسی بھی پارٹی کی حکومت ہو منشا اور عزم یکساں رہا ہے۔ کانگریس اور بی جے پی اس معاملے میں ایک دوسرے کے شانہ بشانہ چل رہی ہیں خواہ بی جے پی کو کتنا ہی مسلم دشمن اور فرقہ پرست کہہ لیں لیکن کانگریس سے بھی اس معاملے میں بی جے پی سے کمتر نہیں ۔ ۹۳۔۱۹۹۲ کا ممبئی فساد کانگریس کے دور حکومت میں ہوا تھا اور درمیانی پانچ سال کے عرصے کو چھوڑ کر کانگریس اور این سی پی ہی حکمراں ہے اور ہر انتخابات میں اس وعدے پر مسلمانوں کا ووٹ لیتی ہے کہ وہ اگر اقتدار میں آگئی تو شری کرشنا کمیشن کا نفاذ کرے گی اور فسادیوں کو کیفر کردار تک پہنچائے گی مگر انتخابات میں فتح حاصل کرتے ہی بے وفا اور ہرجائی محبوب کے وعدے کا سماں پیش کرتی ہے۔ چند زرخرید اور ضمیر فروش مسلمانوں کو بے وقعت وزارت مل جاتی ہے جس سے وہ خوش ہوکر مسلمانوں کی فلاح بہبود اور حقوق کی بازیابی کے لئے آواز اٹھانے کی بجائے پارٹی کی حاشیہ بردار ی میں ساری توجہ صرف کرتے ہیں اور اس معاملے میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے میں مصروف ہوجاتے ہیں۔ بے چارے مسلمان مسائل کے دلدل پھنسے رہ جاتے ہیں اورسدھ لینے والا کوئی نہیں ہوتا۔
بہار کے سرحدی اورصنعتی شہر فاربس گنج سے متصل گاوَں بھجن پور میں گزشتہ ۳ جون کو پولیس نے فائرنگ کرکے چھ معصوم کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ ایسی بربریت کی کہانی بہت کم سننے کو ملتی ہے۔ اس فائرنگ نے نتیش کمار حکومت کے گڈ گورنینس (سوشاسن) کے دعوے کی پول کھول دی ہے۔ اس میں انصاف کی امید کم نظر آرہی ہے کیوں کہ جب اس کے نائب وزیر اعلی ہی اس معاملے میں ملوث ہیں تو مظلوموں کو انصاف کیسے ملے گا۔اس واقعہ میں پولیس سپرنٹنڈنٹ اور فیکٹری مالک اوربی جے پی ایم ایل سی اشوک اگروال کے شہہ پر پولیس نے اندھا دھند فائرنگ کرکے موقع پر ہی چار نوجوانوں کو موت کے گھاٹ سلا دیا۔ بعد ایک چھ ماہ کی بچی جسے دوا ئی دلانے اس کی ماں ڈاکٹر کے پاس لے جارہی تھی اسے بھی گولی مار دی گئی۔ تصاویر اور ویڈیو فوٹیج سے اندازہ ہوتا ہے کہ پولیس نے ان لوگوں کو قتل کرنے کے ارادہ سے ہی گولی چلائی تھی کیوں کہ تقریباً سبھی ہلاک شدگان کو سینے، سر، آنکھ اور پیٹ میں گولیاں ماری گئی ہیں۔ جس سڑک کے سلسلے میں گائوں والے مظاہرہ کر رہے تھے وہ تقریباً پچاس ساٹھ سال پرانی ہے۔گائوں کی تین چار پیڑھی اسی راستے سے فاربس گنج جاتی آتی رہی ہے ۔ اس روڈ پر فاربس گنج کے سابق ایم ایل اے ذاکرنے اپنے سرکاری فنڈ سے اس پر کام بھی کروایا تھا اور بعد میں پنچایت فنڈ سے بھی کام ہوا۔ اس زرخیز زمین کو جو ۱۱۰ ؍ایکڑ پر مشتمل ہے اور گائوں والوں کی روزی روٹی کا ذریعہ تھی، ۸۵۔۱۹۸۴ میں حکومت بہار نے انڈسٹریل ایریا قائم کرنے کے لئے ایکوائر کیا تھا جس کا بہت ہی معمولی معاوضہ ۱۶ ہزار روپے فی ایکڑ ادا کیا گیا تھا جو گائوں والے لینے کو تیار نہیں اس وقت اس کی بازار کی قیمت ایک لاکھ روپے ایکڑ سے زائد تھی کیوں کہ یہ زمین فاربس گنج شہر سے متصل ہے۔ حکام کے سمجھانے اور وعدے کرنے کے بعدکہ معاوضہ بڑھایا جائے گا، گائوں والوںنے ’’اعتراض‘‘ کے ساتھ معاوضہ لے لیا تھا جس کے بعد مقدمہ کا ایک طویل دور چلا اور بالآخر گائوں والوں کے حق میں فیصلہ آیا لیکن ابھی تک بڑھا ہوا معاوضہ نہیں ملا ہے ۔ اس کے بعد اس انڈسٹریل ایریا میںصنعت قائم کرنے کے لئے مختلف لوگوں کو زمین الاٹ کی گئی اور کچھ لوگوں کے اس پر کچھ کام شروع بھی اور کچھ نے اسے گھیر لیا لیکن معاملہ اس وقت خراب ہوا جب ایک روڈ کو اقتدار کے نشے میںدھت بی جے پی کے ایم ایل سی اشوک اگروال نے بہار کے نائب وزیر اعلی سشیل کمار مودی کی حمایت سے سڑک کو بند کروادیا۔ گائوں والوں نے اس پر احتجاج کیا اور سڑک کھولنے کا مطالبہ کیا ۔ کچھ گفت و شنید ہوئی لیکن وہ سڑک کھولنے کے لئے وہ تیار نہیں ہوئی ۔ اسٹارچ گلوکوز نامی فیکٹری کے مالکان میں جہاں اشوک اگروال ہیں وہیں دربھنگہ کے وجے کمار چودھری بھی  پارٹنر ہیں۔ اشوک کمار اگروال کٹیہار کے ایک تیل مافیا ہیں۔ اس کا سیاسی گلیاروں میں کافی اثر و رسوخ بھی ہے اس کے علاوہ یہ بھی کہا جارہا ہے اشوک اگروال کے لڑکے اور سشیل کمار کی لڑکی کی شادی بھی ہونے والی ہے جس کی وجہ سشیل کمار مودی کھل کراشوک اگروال کی حمایت کر رہے ہیں اور پولیس فائرنگ اور اس بربریت کے پیچھے یہی وجہ بتائی جارہی ہے۔ گاوَں والوں اور عینی شاہدین نے یہ بھی الزام لگایا ہے کہ فائرنگ کرنے والوں اشوک اگروال بھی شامل تھے۔ اس کے علاوہ اس فائرنگ کے پس پشت بی جے پی کے ارریہ سے ممبر پارلیمنٹ پردیپ کمار اور فاربس گنج کے ایم ایل ے اور مشہور ہندی ادیب پھنیشور ناتھ رینو کے بیٹے پدم پراگ رینو کی شہہ بھی بتائی جاتی ہے۔اس شہہ کو اس بات سے بھی تقویت ملتی ہے کہ تمام پارٹیوں کے اعلی رہنما ئوں نے فاربس گنج کا دورہ کیا ،گاوَں والوں کی پریشانیوں کو سمجھنے کی کوشش کی لیکن یہ دونوں وہاں ایک بار بھی نہیں گئے۔ ذاکر انور کے علاوہ جو خوش قسمتی سے ایک بار فاربس گنج کے ایم ایل اے ہوگئے تھے گاوَں میں کچھ کام ہوا تھا اس کے علاوہ آزادی کے بعدسے اب تک جتنے بھی اس علاقے سے ایم پی اور ایم ایل اے ہوئے انہوں نے اس گاوَں میں جو کہ شہر سے متصل ہے کوئی کام نہیں کروایا۔
حیرانی کی بات یہ ہے کہ پولیس فائرنگ کے بعد آج تک بی جے پی کا کوئی بھی لیڈر جھانکنے تک نہیں آیا ۔ بھٹہ پارسول کے معاملہ میں جہاں کانگریس کے جنرل سکریٹری راہل گاندھی اور دگ وجے سنگھ دھرنے پر بیٹھ گئے اور راجناتھ سمیت کئی لیڈروں نے وہاں جانے کی کوشش کی لیکن فاربس گنج  پولیس فائرنگ کے معاملے میں کانگریس وہ فعالیت کہیںبھی نظرنہیں آئی۔ بہار کانگریس کے صدر محبوب علی قیصر وہاں گئے بھی تو پانچویں روز ۔ کسی پارٹی نے کسی طرح کاایسا احتجاج نہیں کیا ہے کہ جس سے بہار حکومت کو کوئی پریشانی لاحق ہواور وہ مظلوموں کی آواز کو سن سکیں۔ کہیں اس طرح دلدوز واقعہ ہوا ہوتا سارے وزیر اورتمام بڑے سیاست داں انصاف ملنے تک دھرنا بیٹھنے کا اعلان کرچکے ہوتے لیکن فاربس گنج معاملے میں ایسا نہیںہورہا ہے کیوں کہ اس وقت بہار میںاس وقت کوئی انتخاب نہیں ہے اور پنچایت انتخابات ابھی حال ہی میں اختتام پذیر ہوا ہے کہ جب کہ ریاستی اسمبلی انتخابات کو چھ ماہ ہوئے ہیں اس لئے کسی پارٹی کی زیادہ دلچسپی نہیں ہے۔
اس واقعہ نے بہار حکومت اور خاص طور پر بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار کے چہرے سے سیکولرزم کا نقاب الٹ دیا ہے۔ وہ مسلمانوں کی فلاح و بہبود کا دم بھرتے ہیں لیکن سارا کام بی جے پی اور آر ایس ایس کے اشارے پر کام کرتے ہیں۔ انہوں نے بی جے پی کی خوشنودی کے لئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان نہیں کیا اور نہ ہی مقامی انتظامیہ کے خلاف کوئی کارروائی کی ہے ۔اس واقعہ کو پورے منصوبہ بندی کے ساتھ انجام دیا گیا۔ ۹۲ مئی کو سشیل کمار مودی کی مقامی انتظامیہ کے ساتھ میٹنگ ہوئی تھی جیسا کہ بہار اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر عبدالباری صدیقی نے الزام لگایا ہے کہ سشیل کمار مودی اس واقعہ میں براہ راست ملوث ہیں اور انہوں نے حکومت بہارسے مطالبہ کیا کہ عدالتی انکوائری کا دائرہ سشیل کمار مودی تک وسیع کیا جائے۔ اس کا ثبوت اس رویے سے ملتا ہے کہ بہار کا کوئی وزیر جائے واقعہ کا دورہ نہیں کیا اور نہ ہی کسی نے اس کی سدھ لینے کی کوشش کی۔مسلمانوں کے تقریباً تمام پارٹیوں کا رویہ یکساں رہتا ہے۔ دہلی میں رام دیو کی دھرنے کو ختم کرنے کے لئے کی گئی پولیس کارروائی پر بی جے پی چیخ چیخ کر آسمان سر پر اٹھارہی ہے جب یہاںکسی کی ہلاکت تک نہیں ہوئی جب کہ فاربس گنج میں چھ لوگوں کی ہلاکت ہوئی ہے لیکن اس کے باوجود اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جارہی ہے۔ سپریم کورٹ نے خود ہی اس کا نوٹس لیتے ہوئے دہلی، پولیس، دہلی حکومت اور مرکزی حکومت سے جواب طلب کیا ہے لیکن بہار کے فاربس گنج میں پولیس نے بربریت کا ننگا ناچ کیا ہے اور زخمیوں کو جوتے اور بندوق کے کندے سے مار مار چہرہ مسخ کیا لیکن کسی کی نظر اس پر نہیں گئی اور نہ ہی کسی عدالت نے خود پہل کرتے ہوئے کوئی کارروائی کی۔
بھٹہ پارسول میںپولیس کی کارروائی میں ہلاک ہونے والے کسانوں کو معاوضہ کی رقم تک تقسیم کردی گئی اور پولیس اہلکار سمیت سینئر پولیس افسران کو معطل کردیا گیاہے لیکن فاربس گنج میں اس طرح کا کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا آخر کیوں کہ اس لئے وہ ہلاک شدگان مسلمان ہیں؟۔ عدالتی انکوائری کا اعلان کرکے نتیش کمار حکومت نے اس واقعہ کو ٹھنڈے بستے میں ڈالنے کی کوشش کی ہے تاکہ لنگڑی لولی دلیل دی جاسکے انکوائری کے بعد کارروائی کی جائے گی۔ ان خاطی افسران کی موجودگی میں کیا منصفانہ انکوائری ممکن ہے؟۔ چھ ماہ قبل ہونے والے اسمبلی انتخابات میں مسلمانوں کو نتیش کمار کو ووٹ دیا مگر مسلمانوں نے یہ امید کبھی نہیں کی ہوگی کہ اس کا بدلہ اس قدر سفاکانہ ہوسکتا ہے۔ میڈیا رپورٹ پہلے ۱۵۰ رائونڈ فائرنگ کی بات کہی تھی جب کہ گائوں والوں کا کہنا ہے کہ کم از کم ۲۵۰ رائونڈ فائر کی گئیں اور پولیس نے گائوں والوں کو کھدیڑ کھدیڑ کر گولیاں برسائیں اور دو گھنٹے تک فائرنگ کی آواز گونجتی رہی۔ ایک پولیس والا شدید زخمی نوجوان کو اپنے جوتے سے کچلتا رہا لیکن سارے پولیس والے خاموش تماشائی بنے رہے۔ بہار کے ہوم سکریٹری عامر سبحانی اور ایڈیشنل ڈائرکٹر جنرل راجیہ وردھن شرما کی ابتدائی انکوائری بھی مایوس کن رہی اور ان لوگوں کے ملزمین کی ہی پیروی کی ہے۔
اس پورے واقعہ کی ذمہ دار ڈی ایم ،ایس پی اورایس ڈی او کوبرخاست کئے بغیر آزادانہ اور منصفانہ عدالتی انکوائری ممکن نہیں ہے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ اس واقعہ کے اتنے دن گزر جانے کے باوجود حکمراں طبقہ کا کوئی وزیر جائے واقعہ کا دورہ نہیں کیا ہے۔ ایک بی جے پی مسلمانوں کو قریب لانے کی بات کرتی ہے تو دوسری طرف اس کے لیڈر فائرنگ میں ملوث ملزموں کا ساتھ دے رہے ہیں۔ یہ بھی ایک افسوسناک پہلو ہے کہ مرکزی وزیر داخلہ جو چھوٹے سے چھوٹے واقعہ اپنا بیان جاری کرتے ہیں انہوں نے بھی اس اندوہناک واقعہ پر اپنابیان جاری نہیں کیا اور نہ ہی کسی طرح کے افسوس کا اظہار کیا۔ سونیا گاندھی اور محترم وزیر اعظم کی بات تو جانے دیجئے کسی مرکزی وزیر نے بھی اس واقعہ کا نوٹس نہیں لیا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *